আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৬৭২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کا بیان
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قریب ہے کہ بہترین مال مسلمان کا چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے گا یا کسی وادی کے اندر بھاگے گا فتنوں سے اپنا دین بچانے کو۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کا بیان
ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے بھی ؟ فرمایا کہ میں نے بھی۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ وَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَی غَنَمًا قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قرأت سنا کرتے اپنے گھر میں اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھالیتے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَرَّبُ إِلَيْهِ عَشَاؤُهُ فَيَسْمَعُ قِرَائَةَ الْإِمَامِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَلَا يَعْجَلُ عَنْ طَعَامِهِ حَتَّی يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چوہا گھی میں گر پڑے تو یا کرنا چاہئے اور کھانا بھی آجائے اور نماز کا وقت بھی آجائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے۔
حضرت ام المومنین میمونہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ اگر چوہا گھی میں گرپڑے تو کیا کرنا چاہئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو نکال ڈالو اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دو ۔
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ انْزِعُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ کَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْکَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَو حَدَّثَنِي مَالِک
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی ہے
و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس کی نحوست سے بچنا چاہیے۔
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مرگئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ ﷺ نے فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَکَنَّاهَا وَالْعَدَدُ کَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا ذَمِيمَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو نام برے ہیں ان کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس اونٹی کا دودھ کون دوہے گا ؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا تیرا کیا نام ہے ؟ وہ بولا مرہ آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا آپ نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا ؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا حرب۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا ؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا یعیش آپ نے فرمایا جا دوھ۔ یعیش نام آپ نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے آپ فال نیک بہت لیا کرتے تھے
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مُرَّةُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ حَرْبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُکَ فَقَالَ يَعِيشُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلُبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو نام برے ہیں ان کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے ؟ وہ بولا جمرہ (انگارہ) انہوں نے پوچھا باپ کا نام ؟ کہا ابن شہاب (شعلہ) ، پوچھا کس قبیلے سے ؟ کہا حرقہ سے جس کے معنے جنے کے ہیں، پوچھا کہاں رہتا ہے ؟ کہا حرۃ النار میں، پوچھا کون سی جگہ میں ؟ کہا ذات لظی میں، ان کے معنے بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں، حضرت عمر نے کہا جا اپنے لوگوں کی خبر لے وہ سب جل گئے راوی نے کہا جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو حضرت عمر نے کہا تھا یعنی سب جل گئے تھے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ مَا اسْمُکَ فَقَالَ جَمْرَةُ فَقَالَ ابْنُ مَنْ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ مِمَّنْ قَالَ مِنْ الْحُرَقَةِ قَالَ أَيْنَ مَسْکَنُکَ قَالَ بِحَرَّةِ النَّارِ قَالَ بِأَيِّهَا قَالَ بِذَاتِ لَظًی قَالَ عُمَرُ أَدْرِکْ أَهْلَکَ فَقَدْ احْتَرَقُوا قَالَ فَکَانَ کَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
انس بن مالک نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے ابوطیبہ کے ہاتھ سے پھر آپ ﷺ نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کردیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی تو وہ پچھنے ہوتے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پھپنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
ابن محیصہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے ؟ (کیونکہ ان کے غلام ابوطبیہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں) آپ ﷺ نے منع کیا مگر یہ ممانعت تنزیہا ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ ہمیشہ پوچھا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔
عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّی قَالَ اعْلِفْهُ نُضَّاحَکَ يَعْنِي رَقِيقَکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پورب کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اشارہ کرتے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جانا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَی الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَی الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ کَعْبُ الْأَحْبَارِ لَا تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّائُ الْعُضَالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
ابو لبابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہیں
عَنْ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
سائبہ مولا سائبہ جو مولا تھے حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کردیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
ابو سائب سے مولیٰ ہشام بن زہرہ کے روایت ہے (کہتے ہیں) کہ میں ابوسعید خدری (رض) کے پاس گیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا اتنے میں، میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے میں اس کے مارنے کو اٹھا ابوسعید نے اشارہ کیا بیٹھ جا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں ابوسعید خدری (رض) نے کہا اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ خندق میں گیا پھر وہ یکایک آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجیے میں نے شادی کی ہے آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور فرمایا ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریضہ کا خوف ہے وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا وہ بولی جلدی مت کر اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے وہ گھر میں گیا دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھونے پر بیٹھا ہوا ہے وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کردیا وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مرگیا معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے جب رسول اللہ ﷺ سے قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا مدینہ میں جن مسلمان ہوگئے ہیں۔ تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اسے آگاہ کیا کرو اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَی هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيکًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنْ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَی بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَی هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّهُ قَدْ کَانَ فِيهِ فَتًی حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْخَنْدَقِ فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَی يَسْتَأْذِنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ خُذْ عَلَيْکَ سِلَاحَکَ فَإِنِّي أَخْشَی عَلَيْکَ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الْفَتَی إِلَی أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَأَهْوَی إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَکَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّی تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِکَ فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَی فِرَاشِهِ فَرَکَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَی مَيِّتًا فَمَا يُدْرَی أَيُّهُمَا کَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَی أَمْ الْحَيَّةُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سفر کی دعا کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے سفر کے قصہ سے تو فرماتے کہ اللہ کے نام سے سفر کرتا ہوں اے پروردگار تو رفیق ہے سفر میں اور خلیفہ ہے میرے اہل و عیال میں اے پروردگار نزدیک کر دے ہم کو زمین جہاں ہم جاتے ہیں اور آسان کر ہم پر سفر اے پروردگار پناہ مانگتا ہوں میں تجھ سے سفر کی تکلیف سے اور برے لو ٹنے اور برے حال اور مال کے خولہ بنت حکیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی منزل میں اترے اور کہے کہ پناہ مانگتے ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ہر مخلوق کے شر سے تو اس کو کسی چیز سے نقصان نہ ہوگا کوچ کے وقت تک
بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْكَلَامِ فِي السَّفَرِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ يَقُولُ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَمِنْ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ و حَدَّثَنِي مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
عبداللہ بن عمر بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اکیلا سفر کرنے والا شیطان ہے اور دو مل کر سفر کرنے والے دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاکِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَکْبٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان قصد کرتا ہے ایک دو پر جب آدمی ہوں تو ان پر قصد نہیں کرتا
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالْاثْنَيْنِ فَإِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اکیلے سفر کرنے کی ممانعت مرد اور عورت کے واسطے۔
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس کو درست نہیں سفر کرنا ایک دن رات کا مگر اپنے محرم کے ساتھ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سفر کے احکام کا بیان
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نرمی کرتا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے نرمی کرنے پر اور مدد کرتا ہے نرمی پر وہ جو نہیں کرتا سختی پر جب تم چڑھو ان بےزبان جانوروں پر تو اتارو ان کو ان کی منزلوں پر اگر زمین صاف ہو جہاں گھاس نہ ہو تو جلدی سے نکال لے جاؤ تاکہ اس میں گودار ہے اور لازم کرلو رات کا چلنا کیونکہ رات کے چلنے میں جیسے راہ کٹتی ہے ویسی دن کو نہیں کٹتی تو رات کو جب اترو تو راستے میں نہ اترو کیونکہ وہاں جانور آتے جاتے ہیں اور سانپ بھی رہا کرتے ہیں۔
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ يَرْفَعُهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَی بِهِ وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَی الْعُنْفِ فَإِذَا رَکِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا فَإِنْ کَانَتْ الْأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا وَعَلَيْکُمْ بِسَيْرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَی بِالنَّهَارِ وَإِيَّاکُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَی الطَّرِيقِ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَی الْحَيَّاتِ
tahqiq

তাহকীক: