আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৯ টি
হাদীস নং: ১৭৩২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ ﷺ کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ ﷺ سے سوال کر رہا ہے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت ﷺ سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کردیا ہم کو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْکُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْکُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيکَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّکَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِک وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّی أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا قَالَ الْأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ مَالِك وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
علاء بن عبدالرحمن کہتا ہے کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کردیتا ہے۔
و عَنْ مَالِك عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ قَالَ مَالِك لَا أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقہ مکروہ ہے اس کا بیان
امام مالک کو پنہچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ درست نہیں ہے صدقہ محمد ﷺ کی آل کو کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقہ مکروہ ہے اس کا بیان
ابوبکر بن محمد، عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ ﷺ سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا) آپ غصے ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ معلوم ہوا اور آپ ﷺ کے غصے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ ﷺ کی سرخ ہوجاتیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعض آدمی مانگتے ہیں مجھ سے جو لائق نہیں دیتا اس کو نہ مجھ کو اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی برا معلوم ہوتا ہے ( کیونکہ) سخاوت آپ ﷺ کی طبیعت خلقی تھی اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں وہ شخص بولا یا رسول اللہ اب میں کوئی چیز اس میں سے نہ مانگوں گا۔
عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ وَکَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَإِنْ مَنَعْتُهُ کَرِهْتُ الْمَنْعَ وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَسْأَلُکَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقہ مکروہ ہے اس کا بیان
اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ ادْلُلْنِي عَلَی بَعِيرٍ مِنْ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ جَمَلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلًا بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَکَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاکَهُ فَشَرِبْتَهُ قَالَ فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ علم حاصل کرنے کا بیان
حضرت لقمان فرماتے تھے اپنے بیٹے سے (مرتے وقت اس بیٹے کا نام شکو تھا یا اسم) کہ اے میرے بیٹے عالموں کے پاس بیٹھا کر اور اپنے گھٹنے ان سے ملادے کیونکہ اللہ جل جلالہ جلاتا (آباد کرتا) ہے دلوں کو حکمت کے نور سے جیسے جلاتا (آباد کرتا) ہے مری ہوئی زمین کو بارش سے۔
عَنْ لُقْمَانَ الْحَکِيمَ أَوْصَی ابْنَهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّ جَالِسْ الْعُلَمَائَ وَزَاحِمْهُمْ بِرُکْبَتَيْکَ فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ کَمَا يُحْيِي اللَّهُ الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مظلوم کی بد دعا سے بچنے کا بیان
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے مولیٰ کو جس کا نام ہنی تھا عامل مقرر کیا حمی پر (حمی وہ احاطہ ہے جہاں صدقے کے جانور جمع ہوتے ہیں) اور کہا کہ اے ہنی اپنا بازو روکے رہ لوگوں سے، ظلم مت کر کیونکہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور جس کے پاس تیس اونٹ ہیں یا چالیس بکریاں ان کو چرانے سے مت روک اور بچا رہ عثمان نعم بن عضان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں پر رعایت کرنے سے کیونکہ اگر ان کے جانور تباہ ہوجائیں گے تو وہ اپنے باغات اور کھتیوں میں چلے آئیں گے اور تیس اونٹ والا اور چالیس والا اگر تباہ ہوجائے گا تو وہ اپنی اولاد کو لے کر میرے پاس آئے گا اور کہے گا اے امیرالمومنین اے امیرالمومنیں پھر کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا ان کی خبر گیری نہ کروں گا، تیرا باپ نہ ہو (یہ ایک بد دعا ہے عرب کے محاورے میں) پانی اور گھاس دینا آسان ہے مجھ پر سونا چاندی دینے سے قسم اللہ کی وہ جانتا ہے کہ میں نے ان پر ظلم کیا حالانکہ وہ ان کی زمین ہے اور انہی کا پانی ہے، جس پر لڑے زمانہ جاہلیت میں پھر مسلمان ہوئے اسی زمین اور پانی پر، قسم اللہ کی اگر یہ صدقہ کے جانور نہ ہوتے جو انہی کے کام میں آتے ہیں اللہ کی راہ میں تو ان کی زمین سے ایک بالشت بھر بھی نہ لیتا۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَهُ يُدْعَی هُنَيًّا عَلَی الْحِمَی فَقَالَ يَا هُنَيُّ اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنْ النَّاسِ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَی الْمَدِينَةِ إِلَی زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِکْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِکُهُمْ أَنَا لَا أَبَا لَکَ فَالْمَائُ وَالْکَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناموں کا بیان
محمد بن جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں، محمد (بہت سراہا ہوا) احمد (سب مخلوقات سے زیادہ تعریف کے لائق) ماحی (کفر کو مٹانے والا) میرے ہاتھ سے اللہ کفر کو مٹائے گا اور حاشر سب کا حشر میرے قدم پر ہوگا، (پانچواں) عاقب ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَائٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ
তাহকীক: