আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৯ টি
হাদীস নং: ১৬৯২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سفر کے احکام کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر بھی ایک قسم کا عذاب ہے۔ روک دیتا ہے آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے تو جب تم میں سے کوئی اپنے کام کیلئے سفر کرے اور وہ کام پورا ہوجائے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مملوک ( غلام لونڈی) کو کپڑا اور کھانا ملے گا موافق دستور کے اور کام اس سے نہ لیا جائے طاقت سے زیادہ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن الخطاب ہر ہفتے کے روز مدینے کے آس پاس گاؤں میں جایا کرتے تھے جب کسی غلام کو ایسے کام میں مشغول پاتے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتا تو کم کردیتے تھے۔
بَاب الْأَمْرِ بِالرِّفْقِ بِالْمَمْلُوكِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يُكَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ فَإِذَا وَجَدَ عَبْدًا فِي عَمَلٍ لَا يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنا
مالک بن ابی عامر اصبحی نے حضرت عثمان بن عفان سے سنا وہ خطبے میں فرماتے تھے کہ جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس کو مجبور مت کرو کمائی پر کیونکہ جب تم اس کو مجبور کرو گے کمائی پر تو وہ غلط کام (حرام کاری) سے کمائی گی اور نابالغ غلام کو کمائی پر مجبور مت کرو کیونکہ وہ جب مجبور ہوگا تو چوری کرے گا اور جب اللہ تمہیں اچھی طرح روزی دیتا ہے تو تم بھی ان کو محنت معاف کردو جیسے اللہ نے تمہیں معاف کیا ہے اور لازم کرو وہ کمائی جو حلال ہے
عَنْ مَالِک عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ لَا تُکَلِّفُوا الْأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوهَا ذَلِکَ کَسَبَتْ بِفَرْجِهَا وَلَا تُکَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْکَسْبَ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمْ اللَّهُ وَعَلَيْکُمْ مِنْ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غلام جب اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت بھی کرے تو اس کو دوہرا ثواب ہوگا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی کی تربیت اور وضع کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کی ایک لونڈی تھی اس نے آزاد عورتوں کی وضع بنائی تھی حضرت عمر نے اس کو دیکھا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام المومنین حفصہ کے پاس گئے اور کہا میں نے تیرے بھائی کی لونڈی کو دیکھا جو آزاد عورتوں کی وضع بنا کو لوگوں میں پھرتی ہے اور حضرت عمر نے اس کو برا جانا
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَمَةً کَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ فَدَخَلَ عَلَی ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ جَارِيَةَ أَخِيکِ تَجُوسُ النَّاسَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ وَأَنْکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیعت کا بیان
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے ماننے اور طاعت کرنے پر تو شفقت اور رحمت سے آپ ﷺ فرماتے کہ جہاں تک تم کو طاقت ہو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیعت کا بیان
امیمہ بنت رقیقہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ کے پاس آئی بہت سی عورتوں میں جو بیعت کرنے کو آئی تھیں دین اسلام پر ان عورتوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ ﷺ سے بیعت کرتی ہیں اس بات پر کہ شریک نہ کریں گی ساتھ اللہ کے کسی چیز کو اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو ماریں گی اور نہ بہتان باندھیں گی اپنی اپنی طرف سے اسی پر اور نہ آپ ﷺ کی نافرمانی کریں گی شروع کے کام میں رسول اللہ ﷺ نے کمال شفقت اور محبت سے فرمایا جہاں تک تمہاری طاقت یا قدرت ہے
عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ بَايَعْنَهُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُکَ عَلَی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيَکَ فِي مَعْرُوفٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قَالَتْ فَقُلْنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ کَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیعت کا بیان
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کو لکھا بیعت نامہ اس مضمون سے بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جل جلالہ کے بندے سلام ہو تجھ پر میں تعریف کرتا ہو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور اقرار کرتا ہوں تیری بات سننے اور اطاعت کرنے کا اللہ جل جلالہ کے حکم کے موافق اور اس کے رسول کی سنت کے موافق جہاں تک کہ مجھے قدرت ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ فَکَتَبَ إِلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَمَّا بَعْدُ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ سَلَامٌ عَلَيْکَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأُقِرُّ لَکَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَی سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بری بات چیت کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ کَافِرٌ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بری بات چیت کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو سنے کسی کو یہ کہتے ہوئے کہ لوگ تباہ ہوگئے تو وہ سب سے زیادہ تباہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَکَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَکُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بری بات چیت کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے زمانے کو برا نہ کہے کیونکہ اللہ خود زمانہ ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بری بات چیت کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سامنے ایک سور آیا راہ میں، آپ نے فرمایا چلا جا سلامتی سے، لوگوں نے کہا آپ سور سے اس طرح فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بری بات چیت کی عادت نہ ہوجائے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَهُ انْفُذْ بِسَلَامٍ فَقِيلَ لَهُ تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ فَقَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي الْمَنْطِقَ بِالسُّوئِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بات سمجھ بو جھ کر کہنا۔
بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی ایک بات کہہ دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے اللہ اپنی رضا مندی قیامت تک اس بندے سے لکھ دیتا ہے اور ایک ایسی بات کہتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے قیامت تک اللہ اپنی نارا ضگی اس بندے کیلئے لکھ دیتا ہے۔
عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا کَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَکْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَی يَوْمِ يَلْقَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بات سمجھ بو جھ کر کہنا۔
ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، آدمی بےسمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بے ہودہ گوئی کی مذمت
ز ید بن اسلم سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے انہوں نے خطبہ پڑھا لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے آپ نے فرمایا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مت باتیں کرو بےکار سوائے یاد الٰہی کے کہ کہیں سخت ہوجائیں دل تمہارے اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم رب ہو۔ اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عائشہ (رض) بعد نماز عشاء کے اپنے لوگوں سے کہلا بھیجتیں کیا اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنْ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ قَالَ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ کَانَ يَقُولُ لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَيْرِ ذِکْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنْ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِيدٌ فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًی وَمُعَافًی فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَائِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَی الْعَافِيَةِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلَا تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غبیت کا بیان
مطلب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے غیبت کس کو کہتے ہیں آپ نے فرمایا کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو، وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ سچ ہو آپ نے فرمایا اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے۔
عَنْ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْغِيبَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْکُرَ مِنْ الْمَرْئِ مَا يَکْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ کَانَ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِکَ الْبُهْتَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زبان کے گناہ کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ بچا دے دو چیزوں کی برائی سے وہ جنت میں جائے گا۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم کو نہیں بتاتے وہ دو چیزیں کیا ہیں ؟ آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص یہی بولا اور آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا یعنی آپ ہم کو نہیں بتاتے ؟ پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص بولا آپ ہم کو نہیں بتاتے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا جاتا تھا اتنے میں ایک دوسرے شخص نے اس کو چپ کرا دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرمایا جس کو اللہ دو چیزوں کے شر سے بچا دے وہ جنت میں جائے گا ایک وہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے بیچ میں ہے یعنی زبان دوسری وہ جو اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں ہے (شرم گاہ) تین بار آپ نے اس کو ارشاد فرمایا۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ أَيْضًا ثُمَّ ذَهَبَ الرَّجُلُ يَقُولُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَی فَأَسْکَتَهُ رَجُلٌ إِلَی جَنْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زبان کے گناہ کا بیان
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر گئے ابوبکر کے پاس اور وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر نے کہا ٹھہرو بخشے اللہ تم کو ابوبکر صدیق نے کہا اسی نے مجھ کو تباہی میں ڈالا ہے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دَخَلَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَهْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار کے ساتھ تھا عبداللہ بن عمر سے کان میں کچھ کہنا چاہا اور عبداللہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا عبداللہ بن عمر نے ایک اور شخص کو بلایا اب ہم چار آدمی ہوگئے پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا ذرا ہٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ فَجَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلًا آخَرَ حَتَّی کُنَّا أَرْبَعَةً فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ اسْتَأْخِرَا شَيْئًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی ایک کو چھوڑے کر کانا پھوسی اور نہ سرگوشی نہ کریں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو دو مل کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں تیسرے کو چھوڑ کر۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
তাহকীক: