আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৭১২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سچ اور جھوٹ کا بیان۔
صفو ان بن سیلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول ﷺ سے کہا میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے اور وہ شخص بولا میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لئے یوں کر دوں گا یہ بنا دوں گا آپ نے فرمایا اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے لازم جانوں تم سچ بولنے کو کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور بچو تم جھوٹ سے کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت لقمان سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی ؟ لقمان نے کہا سچ بولنے سے امانت داری سے اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے پھر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَيْرَ فِي الْکَذِبِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جُنَاحَ عَلَيْکَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ صَدَقَ وَبَرَّ وَكَذَبَ وَفَجَرَ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ فَقَالَ لُقْمَانُ صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْكَاذِبِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سچ اور جھوٹ کا بیان۔
صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہوسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَيَکُونُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا فَقَالَ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان
ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ (رض) سنا) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بےجا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْضَی لَکُمْ ثَلَاثًا وَيَسْخَطُ لَکُمْ ثَلَاثًا يَرْضَی لَکُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَکُمْ وَيَسْخَطُ لَکُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مال کو برباد کرنے کا (یعنی اسراف کا بیان) اور ذوالوجہین ( دوغلے) کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے و ہاں انہی کی سی بات کہہ دے جب دوسرے گروہ میں آئے و ہاں ان کی بات کہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا
حضرت ام المومنین ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جب گناہ بہت ہونے لگیں۔
عَنْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کا تباہ ہونا
عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب عذاب کے مستحق ہوں گے۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ کَانَ يُقَالُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ وَلَکِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْکَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ کُلُّهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے ڈرنے کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو سنا اور میں ان کے ساتھ تھا آپ ایک باغ میں تھے اور میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل تھی آپ فرماتے تھے واہ واہ اے خطاب کے بیٹے ڈر اللہ سے، نہیں تو اللہ عذاب کرے گا تجھ کو۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَخٍ بَخٍ وَاللَّهِ لَتَتَّقِيَنَّ اللَّهَ أَوْ لَيُعَذِّبَنَّکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭১৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اللہ سے ڈرنے کا بیان
قاسم بن محمد کہتے تھے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ باتوں پر فریفیہ نہیں ہوتے تھے۔
عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَقُولُ أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَمَا يَعْجَبُونَ بِالْقَوْلِ قَالَ مَالِک يُرِيدُ بِذَلِکَ الْعَمَلَ إِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَی عَمَلِهِ وَلَا يُنْظَرُ إِلَی قَوْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بادل گر جنے کے وقت کیا کہنا چایے
عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے کہ پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے ایک فرشتہ جو مقرر ہے ابر (بادل) پر اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوئی اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے پھر کہتے تھے کہ یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ کَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَکَ الْحَدِيثَ وَقَالَ سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِيفَتِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ هَذَا لَوَعِيدٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان
حضرت ام المومینن عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں نے بعد آپ کی وفات کے چاہا کہ حضرت عثمان کو ابوبکر صدیق کے پاس بھجیں اور اپنا ترکہ طلب کریں تو حضرت عائشہ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے وارث ترکہ کو تقسم نہ کریں گے جو میں چھوڑ جاؤں اپنی بیبیوں کی خوراک کے اور عامل کے خرچ کے بعد وہ سب صدقہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دَنَانِيرَ مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جہنم کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آدمیوں کی آگ جس کو وہ سلگاتے ہیں ایک جز ہے ستر جزوں میں سے جہنم کی آگ کا ( یعنی جہنم کی آگ میں اس آگ سے انہتر حصے زیادہ جلن اور تیزی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ آگ دنیا ہی کی کافی تھی ( جلانے کو) آپ نے فرمایا وہ آگ اس آگ سے انہتر حصے زیادہ ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِيَةً قَالَ إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جہنم کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کیا تم جہنم کی آگ کو سرخ سمجھتے ہو جیسے دنیا کی آگ۔ وہ قار سے بھی زیادہ سیاہ ہے اور قار کو زفت کہتے ہیں۔ (تارکول)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَتُرَوْنَهَا حَمْرَائَ کَنَارِکُمْ هَذِهِ لَهِيَ أَسْوَدُ مِنْ الْقَارِ وَالْقَارُ الزِّفْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقے کی فضیلت کا بیان
سعد بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص حلال مال سے صدقہ دے اور اللہ جل جلالہ نہیں قبول کرتا مگر مال حلال کو تو وہ اس صدقے کو اللہ جل جلالہ کی ہتھلی میں رکھتا ہے اور پروردگار اس کو پرورش کرتا ہے جیسے کوئی تم میں سے پالتا ہے اپنے بھپیرے (اونٹ کے بچے کو) کو اور وہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ کَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا کَانَ إِنَّمَا يَضَعُهَا فِي کَفِّ الرَّحْمَنِ يُرَبِّيهَا کَمَا يُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقے کی فضیلت کا بیان
انس بن مالک کہتے تھے کہ ابوطلحہ سب انصاریوں سے زیادہ مالدار تھے مدینے میں یعنی کھجور کے درخت سب سے زیادہ ان کے پاس تھے اور سب مالوں میں ان کو ایک باغ بہت پسند تھا جس کو بیر حاء کہتے تھے اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں جایا کرتے تھے اور وہاں کا صاف پانی پیا کرتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ " 3 ۔ ال عمران : 92) یعنی تم نیکی کو نہ پہنچو گے جب تک کہ تم خرچ نہ کرو گے اس مال میں سے جس کو تم چاہتے ہو تو ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ارشاد فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون اور مجھے اپنے سب مالوں میں بیر حاء پسند ہے وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں اللہ سے اس کی بہتری اور جزاء چاہتا ہوں اور وہ بیر حاء ذخیرہ ہے اللہ کے پاس آپ نے فرمایا واہ واہ یہ مال تو بڑا اجر لانے والا ہے یا بڑے نفع والا ہے اور میں سن چکا ہوں جو تم نے اس مال کے بارے میں کہا ہے میرے نزدیک تم اس مال کو اپنے عزیزوں میں بانٹ دو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ بانٹ دوں پھر ابوطلحہ نے اس کو تقسیم کردیا اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں۔
عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقے کی فضیلت کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو وسائل کو اگرچہ آئے وہ گھوڑے پر۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْطُوا السَّائِلَ وَإِنْ جَائَ عَلَی فَرَسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقے کی فضیلت کا بیان
مالک، زید بن اسلم، عمرو بن معاذ اشہلی انصاری سے روایت ہے کہ ان کی دادی فرماتی تھیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اے مسلمان عورتو ! نہ حقیر کرے کوئی تم میں سے کسی ہمسائی اپنی کو اگرچہ وہ ایک کھر بھیجے بکری کا جلا ہوا۔ حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا اور آپ روزہ دار تھیں اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ نے اپنی لونڈی سے کہا یہ روٹی فقیر کو دیدے وہ بولی آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے آپ نے کہا دیدے لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کردی شام کو ایک گھر سے حصہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا حضرت عائشہ نے لونڈی کو بلا کر کہا کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔ امام مالک نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا حضرت عائشہ (رض) اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے انہوں نے ایک آدمی سے کہا ایک دانا انگور کا اٹھا کر اس کو دے وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا حضرت عائشہ نے کہا ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا۔
و حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ أَنْ تُهْدِيَ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلَّا رَغِيفٌ فَقَالَتْ لِمَوْلَاةٍ لَهَا أَعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَتْ لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَعْطِيهِ إِيَّاهُ قَالَتْ فَفَعَلْتُ قَالَتْ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ أَوْ إِنْسَانٌ مَا كَانَ يُهْدِي لَنَا شَاةً وَكَفَنَهَا فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كُلِي مِنْ هَذَا هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ مِسْكِينًا اسْتَطْعَمَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا عِنَبٌ فَقَالَتْ لِإِنْسَانٍ خُذْ حَبَّةً فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَعْجَبُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَتَعْجَبُ كَمْ تَرَى فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭২৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے ان کو دیا پھر انہوں نے سوال کیا آپ ﷺ نے پھر دیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا تمام ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جہاں تک مال ہوگا میں تم سے دریغ نہ کروں گا لیکن جو سوال سے بچے گا تو اللہ بھی اس کو بچائے گا اور جو قناعت کر کے اپنی تونگری ظاہر کرے گا تو اللہ اس کو غنی کر دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ثُمَّ قَالَ مَا يَکُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی هِيَ السَّائِلَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوال سے بچنے کا بیان
عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَائٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ رَدَدْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ذَلِکَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُکَهُ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَأْتِينِي شَيْئٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ
tahqiq

তাহকীক: