আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৬৫২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کا بیان
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عباس کے پاس اتنے میں ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور بولا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ اور اس پر بھی کچھ زیادہ کیا ابن عباس (رض) کی ان دنوں بینائی جاتی رہی تھی انہوں نے کہا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ وہی یمن کا رہنے والا ہے جو آیا کرتا ہے آپ کے پاس اور پتہ دیا اس کا یہاں تک کہ ابن عباس پہچان گئے اس کو ابن عباس نے کہا سلام ختم ہوگیا وبرکاتہ پر اس سے زیادہ نہ بڑھانا چاہئے کہا یحییٰ نے سوال ہوا مالک سے مرد سلام کرے عورت پر انہوں نے کہا بڑھیا پر تو کچھ قباحت نہیں لیکن جوان پر اچھا نہیں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِکَ أَيْضًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْيَمَانِي الَّذِي يَغْشَاکَ فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَی إِلَی الْبَرَکَةِقَالَ يَحْيَی سُئِلَ مَالِک هَلْ يُسَلَّمُ عَلَی الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلَا أَکْرَهُ ذَلِکَ وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلَا أُحِبُّ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ یہودی اور نصرانی کے سلام کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم کہتے ہیں تم بھی علیک کہا کرو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقُلْ عَلَيْکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کی مختلف احادیث کا بیان
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے مسجد میں لوگ آپ ﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں تین آدمی آئے دو تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور ایک چلا گیا جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو سلام کیا اور ایک شخص ان میں سے حلقے میں جگہ پا کر بیٹھ گیا اور ایک پیچھے بیٹھا رہا اور تیسرا تو پہلے ہی چلا گیا تھا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ان تینوں آدمیوں کا حال نہ بتلاؤں ؟ ایک تو ان میں سے اللہ کے پاس آیا اللہ نے بھی اس کو جگہ دی ایک نے ان میں سے شرم کی اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور ایک نے ان میں سے منہ پھیرلیا اللہ نے بھی اس طرف سے منہ پھیرلیا۔
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَی فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَی إِلَی اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کی مختلف احادیث کا بیان
انس بن مالک نے سنا حضرت عمر (رض) سے ان کو ایک شخص نے سلام کیا حضرت عمر (رض) نے اس کا جواب دیا پھر اس سے مزاج پوچھا اس نے کہا شکر کرتا ہوں اللہ کا حضرت عمر (رض) نے کہا میرا یہی مطلب تھا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ کَيْفَ أَنْتَ فَقَالَ أَحْمَدُ إِلَيْکَ اللَّهَ فَقَالَ عُمَرُ ذَلِکَ الَّذِي أَرَدْتُ مِنْکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کی مختلف احادیث کا بیان
طفیل بن ابی بن کعب عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر (رض) ہر ایک ردی ودی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر نے کہا اے پیٹ والے بازار میں سلام کرنے کو جاتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے اس کو سلام کرتے ہیں۔
عَنْ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَی السُّوقِ قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَی السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَی سَقَاطٍ وَلَا صَاحِبِ بِيعَةٍ وَلَا مِسْکِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ الطُّفَيْلُ فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَی السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَی الْبَيِّعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السِّلَعِ وَلَا تَسُومُ بِهَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ قَالَ وَأَقُولُ اجْلِسْ بِنَا هَاهُنَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَا أَبَا بَطْنٍ وَکَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلَی مَنْ لَقِيَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کی مختلف احادیث کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سلام کیا عبداللہ بن عمر (رض) کو تو کہا السلام علیکم و (رح) وبرکاتہ والغایات الرائحات عبداللہ بن عمر نے کہا وعلیک الفا اور اس طرح کہا جیسے کہ اس کو برا جانا۔ امام مالک کو پہنچا کہ جب کوئی آدمی ایسے گھر میں جائے جو خالی پڑا ہو تو کہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحیں یعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ وَالْغَادِيَاتُ وَالرَّائِحَاتُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَلَيْکَ أَلْفًا ثُمَّ کَأَنَّهُ کَرِهَ ذَلِکَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ إِذَا دُخِلَ الْبَيْتُ غَيْرُ الْمَسْکُونِ يُقَالُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ایک شخص نے کیا اجازت مانگوں میں اپنی ماں سے گھر جاتے وقت ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ بولا میں تو اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا وہ بولا میں تو اس کی خدمت کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اجازت لے کر جا کیا تو چاہتا ہے کہ اس کو ننگا دیکھے وہ بولا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا پس اجازت لے کر جا۔ ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّي فَقَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي خَادِمُهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً قَالَ لَا قَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گھر میں جاتے وقت اذن لینے کا بیان
ربیعہ بن سبی عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ انہوں نے بہت سے علماء سے سنا کہ ابوموسیٰ اشعری نے اجازت چاہی اندر آنے کی حضرت عمر کے مکان پر تین بار جب تینوں بار جواب نہ ملا تو وہ لوٹ گئے حضرت عمر نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا جب وہ آئے تو ان سے کہا تم اندر کیوں نہ آئے ابوموسیٰ اشعری نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ حضرت عمر نے کہا تمہارے سوا اور کسی نے یہ حدیث سنی ہے اس کو لے کر آؤ اگر نہ لاؤ گے تو میں تم کو سزا دوں گا ابوموسیٰ نکلے اور مسجد میں بہت سے آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ایک مجلس میں جس کو مجلس انصار کہتے تھے اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ میں نے یہ حدیث حضرت عمر سے بیان کی انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور نے یہ حدیث سنی ہو تو ان کو لے کر آؤ نہیں تو میں تم کو سزا دوں گا اگر تم میں سے کسی نے یہ حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ چلے لوگ ابوسعید ابوموسیٰ کے ساتھ آئے اور حدیث حضرت عمر سے بیان کی حضرت عمر نے ابوموسیٰ سے کہا میں نے تم کو جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا ایسا نہ ہو کہ لوگ آنحضرت پر باتیں جوڑ لیا کریں
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ جَائَ يَسْتَأْذِنُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا ثُمَّ رَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي أَثَرِهِ فَقَالَ مَا لَکَ لَمْ تَدْخُلْ فَقَالَ أَبُو مُوسَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِکَ لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَخَرَجَ أَبُو مُوسَی حَتَّی جَائَ مَجْلِسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقَالُ لَهُ مَجْلِسُ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي أَخْبَرْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلَّا فَارْجِعْ فَقَالَ لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا فَإِنْ کَانَ سَمِعَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنْکُمْ فَلْيَقُمْ مَعِي فَقَالُوا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُمْ مَعَهُ وَکَانَ أَبُو سَعِيدٍ أَصْغَرَهُمْ فَقَامَ مَعَهُ فَأَخْبَرَ بِذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي مُوسَی أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْکَ وَلَکِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چھینک کا جواب دینے کا بیان
محمد بن عمر بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص چھینکے تو اس کا جواب دو پھر اگر چھینکے تو جواب دو پھر چھینکے تو جھٹ کہہ دو تجھ زکام ہوگیا ؟ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا معلوم نہیں کہ تیسری کے بعد آپ نے یہ کہا یا چوتھی کے بعد۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَقُلْ إِنَّکَ مَضْنُوکٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چھینک کا جواب دینے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کو جب چھینک آتی اور کوئی یرحمک اللہ کہتا تو وہ یرحمنا اللہ وایاکم و یغفرلنا و لکم کہتے یعنی اللہ ہم پر رحم کرے اور تم پر بھی اور ہم کو بخشے اور تم کو بھی۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا عَطَسَ فَقِيلَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ قَالَ يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاکُمْ وَيَغْفِرُ لَنَا وَلَکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
رافع بن اسحاق سے جو مولیٰ ہیں شفا کے روایت ہے کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ مل کر ابوسعید خدری کے پاس گئے ان کے دیکنے کو وہ بیمار تھے ابوسعید نے کہا مجھ سے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں یا مورتیاں ہوں اسحاق کو شک ہے کہ ابوسعید نے ان دونوں میں سے کیا کہا ،۔
عَنْ رَافِعَ بْنَ إِسْحَقَ مَوْلَی الشِّفَائِ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ شَکَّ إِسْحَقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری کی عیادت کو گئے وہاں سہل بن حنیف کو بھی دیکھا ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا میرے نیچے سے شطرنجی نکال لے سہل نے کہا کیوں ابوطلحہ نے کہا اس میں تصویروں کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ ہے اگر نقشی ہو کپڑے وغیرہ پر تو کچھ قباحت نہیں ابوطلحہ نے کہا ہاں یہ سچ ہے مگر میری خوشی یہی ہے کہ ہر قسم کی تصویر سے پرہیز کرو۔
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِهِ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَ فَقَالَ سَهْلٌ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَی وَلَکِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تصویروں اور مورتیوں کا بیان میں
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ ﷺ نے اس کو دیکھا تو آپ ﷺ حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ (رض) نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ (رض) نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ ﷺ اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ قَالَتْ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میمونہ بنت حارث کے مکان میں گئے وہاں گوہ دیکھا سفید اور آپ ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید تھے آپ ﷺ نے پوچھا یہ گوشت کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ بنت حارث نے بھیجا تھا آپ ﷺ نے عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ ﷺ نہیں کھاتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی آیا کرتے ہیں میمونہ نے کہا ہم آپ ﷺ کو دودھ پلادیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، جب آپ ﷺ دودھ پی چکے تو پوچھا یہ کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ نے تحفہ بھیجا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنی لونڈی کو جس کے آزاد کرنے کے واسطے تم نے مجھ سے مشورہ کیا تھا اپنی بہن کو دے دو اور قرابت کی رعایت کرو وہ اس کی بکریاں چرایا کرے تو مناسب ہے اور بہتر ہے تیرے واسطے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَإِذَا ضِبَابٌ فِيهَا بَيْضٌ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ كُلَا فَقَالَا أَوَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي تَحْضُرُنِي مِنْ اللَّهِ حَاضِرَةٌ قَالَتْ مَيْمُونَةُ أَنَسْقِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا فَقَالَ نَعَمْ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتِكِ جَارِيَتَكِ الَّتِي كُنْتِ اسْتَأْمَرْتِينِي فِي عِتْقِهَا أَعْطِيهَا أُخْتَكِ وَصِلِي بِهَا رَحِمَكِ تَرْعَى عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کا بیان
خالد بن ولید بن مغیرہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ کے گھر میں گئے وہاں ایک گوہ بھنا ہوا آیا رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا کھانے کو عورتوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کو بتادو جس کا یہ گوشت ہے آپ ﷺ نے ہاتھ کھینچ لیا، میں نے کہا کیا حرام ہے یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس واسطے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے خالد نے کہا میں نے اس کو اپنی طرف کھیینچ کر کھایا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَی إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْکُلَ مِنْهُ فَقِيلَ هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَلَکِنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَکَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پکار کر کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ گوہ کے گوشت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا نَادَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَی فِي الضَّبِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِآکِلِهِ وَلَا بِمُحَرِّمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کتوں کے حکم
سفیان بن زہیر سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے مسجد نبوی کے دروازے پر انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ فرماتے تھے جو شخص کتا پالے نہ کھیت کی حفاظت کے واسطے نہ بکریوں کی حفاظت کے واسطے تو ہر روز اس کے اعمال میں ایک قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوا کرے گا، سائب نے سفیان سے کہا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی۔
عَنْ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کتوں کے حکم
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کتا پالے سوائے شکاری کتے کے یا کھیت کے کتے کے تو ہر روز اس کے عمل میں سے دو قیراط کے برابر کمی و نقصان ہوگا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا إِلَّا کَلْبًا ضَارِيًا أَوْ کَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کتوں کے حکم
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کتوں کے قتل کا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑا کفر مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹ والوں میں ہے جو بلند آواز رکھتے ہیں جنگل میں رہتے ہیں اور عاجزی اور تواضع بکری والوں میں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأْسُ الْکُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ
tahqiq

তাহকীক: