আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৬৩২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابوقتادہ (رض) انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میرے بال کندھوں تک ہیں ان میں کنگھی کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر ابوقتادہ کبھی کبھی ایک دن میں دو بار تیل ڈالتے اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا فَکَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَکْرِمْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص نجس بال سر اور داڑھی کے پریشان تھے آیا آپ ﷺ نے اس کو اشارہ کیا یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ وہ شخص درست کر کے پھر آیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر جیسے شیطان۔
عَنْ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ اخْرُجْ کَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلَاحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُکُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ شَيْطَانٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کے رنگنے کے بیان میں
ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ عبدالرحمن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سب سفید تھے ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر تو لوگوں نے کہا یہ اچھا ہے وہ بولا میری ماں حضرت عائشہ (رض) نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا اور بیان کیا کہ ابوبکر (رض) بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔ کہا مالک نے سیاہ خضاب میں میں نے کوئی حدیث نہیں سنی اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے اور خضاب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خضاب نہیں لگایا اگر لگایا ہوتا تو حضرت عائشہ (رض) عبدالرحمن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ قَالَ وَکَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَکَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ قَالَ فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ هَذَا أَحْسَنُ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ يَصْبُغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِکَ شَيْئًا مَعْلُومًا وَغَيْرُ ذَلِکَ مِنْ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ وَتَرْکُ الصَّبْغِ کُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَی النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَرْسَلَتْ بِذَلِکَ عَائِشَةُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
خالد بن ولید نے کہا رسول اللہ ﷺ سے کہ میں ڈرتا ہوں سوتے میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کر پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے اس کے غصے اور عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے۔
عَنْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرَوَّعُ فِي مَنَامِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
یحییٰ بن سعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ ﷺ نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ ﷺ کی طرف چلا آتا تھا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا میں آپ ﷺ کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ ﷺ ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں سکھاؤ جبرائل نے کہا کہو اعوذ بوجہ اللہ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ کُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَفَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَی فَقَالَ جِبْرِيلُ فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْکَرِيمِ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنْ السَّمَائِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا میں رات کو نہیں سویا، آپ ﷺ نے پوچھا کیوں کس وجہ سے ؟ وہ بولا مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا اعوذب کلمات اللہ التامات من شرماخلق (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے) تو بچھو تجھے کچھ ضرر نہ دیتا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ فَقَالَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے لوگوں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں کعب نے کہا یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ سے جو بڑی عظمت ولا ہے نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنی سے جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا پیدا کیا اور پھیلایا۔
عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ أَنَّ کَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ لَوْلَا کَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا هُنَّ فَقَالَ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْئٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِأَسْمَائِ اللَّهِ الْحُسْنَی کُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৩৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ ارشاد فرمادے گا دن قیامت کے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو آپس میں دوستی رکھتے تھے میری بزرگی کے واسطے آج کے دن میں ان کو سائے میں رکھوں گا یہ وہ دن ہے جس دن کہیں سایہ نہیں سوائے میرے سائے کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بدفعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہیں ہوئی
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّی يَعُودَ إِلَيْهِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَی ذَلِکَ وَتَفَرَّقَا وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بیشک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِيلَ قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ (قَالَ مِثْلَ ذَلِکَ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خدا کے واسطے دوستی رکھنے والوں کا بیان
ابو ادریس خولانی سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں گیا وہاں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو سفید دندان تھا اس کے ساتھ والے لوگ جب کسی بات میں اختلاف کرتے ہیں تو جو وہ کہتا ہے اسی کی سند پکڑتے ہیں اور اس کے قول پر تھم جاتے ہیں میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے لوگوں نے کہا معاذ بن جبل ہیں جب دوسرا روز ہوا تو میں بہت سویرے گیا دیکھا تو وہ مجھ سے آگے آئے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں میں ٹھہرا رہا جب نماز پڑھ چکے تو میں ان کے سامنے آیا اور سلام کیا پھر میں نے کہا میں تم کو اللہ جل جلالہ کے واسطے چاہتا ہوں اور محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا اللہ کے واسطے ؟ میں نے کہا ہاں اللہ کے واسطے انہوں نے پھر کہا اللہ کے واسطے ؟ میں کہا ہاں اللہ کے واسطے پھر انہوں نے میری چادر کا کونا پکڑ کے مجھے گھسیٹا اور کہا خوش ہوجا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ جل جلالہ فرماتے ہے واجب ہوئی محبت میری ان لوگوں سے جو میرے واسطے دوستی اور محبت رکھتے ہیں اور میرے واسطے مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے واسطے اپنی جان اور مال صرف کرتے ہیں اور میرے واسطے ایک دوسرے کی ملاقات کو جاتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں میانہ روی اور نرمی اور اچھی سج دھج ایک جز ہے نبوت کے پچیس جزوں میں سے۔
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًی شَابٌّ بَرَّاقُ الثَّنَايَا وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْئٍ أَسْنَدُوا إِلَيْهِ وَصَدَرُوا عَنْ قَوْلِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ لِلَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ فَقَالَ أَاللَّهِ فَقُلْتُ أَاللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الْقَصْدُ وَالتُّؤَدَةُ وَحُسْنُ السَّمْتِ جُزْئٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب نیک بخت آدمی کا نبوت کا ایک جز ہے چھیالس جزوں میں سے۔ ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فارغ ہوتے صبح کی نماز سے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے اور فرماتے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا سوائے اچھے خواب کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا وَيَقُولُ لَيْسَ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ نہ رہے گا مگر مبشرات، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مبشرات کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھے خواب جس کو نیک بخت آدمی دیکھے یا دوسرا اس کے واسطے دیکھے یہ جز ہے نبوت کے چھیالیس جزوں میں سے۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يَبْقَی بَعْدِي مِنْ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَقَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب کا بیان
ابو قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے تو جب کوئی تم میں سے برا خواب دیکھے تو چاہئے کہ بائیں طرف تھتکار دے تین بار اور پناہ مانگے اللہ سے اس کے شر سے پھر وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا اگر اللہ چاہئے ابوسلمہ نے کہا پہلے میں خواب ایسے دیکھتا جن کا بوجھ میرے اوپر پہاڑ سے بھی زیادہ رہتا جب سے میں نے اس حدیث کو سنا ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔
عَنْ أَبِی قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ الشَّيْئَ يَکْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنْ الْجَبَلِ فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا کُنْتُ أُبَالِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب کا بیان
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ یہ جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا ان کے واسطے خوشخبریاں ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس سے مراد نیک خواب ہیں جس کو آدمی خود دیکھے یا کوئی اس کے واسطے دیکھے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمْ الْبُشْرَی فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چوسر یا شطرنج کا بیان
ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے چوسر کھیلا تو اس نے نافرمانی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی۔
عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چوسر یا شطرنج کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے آپ ﷺ نے سنا ان کے پاس شطرنج ہے تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کردو میرے گھر سے نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا اور برا جانا اس کو۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا کَانُوا سُکَّانًا فِيهَا وَعِنْدَهُمْ نَرْدٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ دَارِي وَأَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چوسر یا شطرنج کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے کہا یحییٰ نے سنا میں نے مالک سے شطرنج کھلینا بہتر نہیں ہے نہ اس میں کوئی فائدہ بھلائی ہے اور مکروہ جانتے تھے اس کو اور سنا میں نے مالک سے کہتے تھے شطرنج کھلینا اور لغو بےہودہ کھیل سب مکروہ ہیں اور پڑھتے تھے اس آیت کو پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ وَکَسَرَهَا قَالَ يَحْيَی و سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ لَا خَيْرَ فِي الشَّطْرَنْجِ وَکَرِهَهَا وَسَمِعْتُهُ يَکْرَهُ اللَّعِبَ بِهَا وَبِغَيْرِهَا مِنْ الْبَاطِلِ وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سلام کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلام کرے سوار پیادے کو اور جب ایک آدمی قوم میں سے سلام کرے تو ان سب سے کافی ہوجائے گا۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي وَإِذَا سَلَّمَ مِنْ الْقَوْمِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ
tahqiq

তাহকীক: