আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৯ টি
হাদীস নং: ১৬১২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نظر کے منتر کا بیان
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ ﷺ ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَکِّيِّ أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَيْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلَّا أَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُوَافِقُکَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَيْئٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نظر کے منتر کا بیان
عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے۔
عَنْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْکِي فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ قَالَ عُرْوَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَهُ مِنْ الْعَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے ثواب کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسے خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے بعد اس کے، فرماتا ہے اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلالوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَی إِلَيْهِ مَلَکَيْنِ فَقَالَ انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ فَإِنْ هُوَ إِذَا جَائُوهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ رَفَعَا ذَلِکَ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ فَيَقُولُ لِعَبْدِي عَلَيَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ وَأَنْ أُکَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے ثواب کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مومن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یزید نے کہا مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے قص اور کفر میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةُ إِلَّا قُصَّ بِهَا أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيُّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے ثواب کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصبتیں ڈالتا ہے۔
عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے ثواب کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مرگیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص بولا واہ کیا اچھی موت ہوئی نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ آپ ﷺ نے فرمایا بھلا یہ کیا کہتا ہے تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر جل جلالہ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ وَمَا يُدْرِيکَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ يُکَفِّرُ بِهِ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
عثمان بن ابی عاص (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ان کے ایسا درد ہوتا تھا جس سے قریب ہلاکت کے تھے آپ ﷺ نے فرمایا داہنا ہاتھ اپنے درد کے مقام پر سات بار پھیر اور کہہ " اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد " عثمان کہتے ہیں میں نے یہی کہا اللہ نے میرا درد دور کردیا پھر میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دیا کرتا۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ وَبِي وَجَعٌ قَدْ کَادَ يُهْلِکُنِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا کَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهَا أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو قل ہو اللہ احدا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ جب آپ ﷺ بیمار ہوئے تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی برکت کے واسطے
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی يَقْرَأُ عَلَی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفِثُ قَالَتْ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ کُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَمِينِهِ رَجَائَ بَرَکَتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں تعویذ منتر کرنے کا بیان
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ابوبکر (رض) حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئے وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر پڑھ کر پھونک رہی تھی حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کلام اللہ پڑھ کر پھونک۔
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَکِي وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ارْقِيهَا بِکِتَابِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیما کے علاج کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زخم لگا اور خون وہاں آکر بھر گیا تو اس شخص نے دو شخصوں کو بلایا بنی انمار میں سے ان دونوں نے آکر دیکھا رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ تم دونوں میں سے کون طب زیادہ جانتا ہے وہ بولے یا رسول اللہ ﷺ طب میں بھی کچھ فائدہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوا بھی اسی نے اتاری ہے جس نے بیماری اتاری ہے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَهُ جُرْحٌ فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي أَنْمَارٍ فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا أَيُّکُمَا أَطَبُّ فَقَالَا أَوَ فِي الطِّبِّ خَيْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْزَلَ الدَّوَائَ الَّذِي أَنْزَلَ الْأَدْوَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیما کے علاج کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن زرارہ نے داغ لیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خناق کی بیماری میں تو مرگئے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ اکْتَوَی فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الذُّبْحَةِ فَمَاتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیما کے علاج کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے داغ لیا لقوہ میں اور متنر کیا بچھو کا
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اکْتَوَی مِنْ اللَّقْوَةِ وَرُقِيَ مِنْ الْعَقْرَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بخار میں پانی سے غسل کرنا۔
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر (رض) کے پاس جب کوئی عورت آتی جو بخار میں مبتلا ہوتی تو پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ حکم دیتے تھے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا پانی سے۔
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ کَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ وَقَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا أَخَذَتْ الْمَائَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْرِدَهَا بِالْمَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بخار میں پانی سے غسل کرنا۔
عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بخار جہنم کا جوش ہے اس کو ٹھنڈا کرو پانی سے ،۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّی مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیمار پرسی اور فال بد کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّی إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ أَوْ نَحْوَ هَذَا عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلْ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَائَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أَذًی
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے مونڈنے اور داڑھیوں کے چھوڑ دینے ( بڑھانے) کا حکم دیا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا بیان
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابوسفیان سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے انہوں نے ایک بالوں کا چٹلا اپنے خادم کے ہاتھ سے لیا اور کہتے تھے کہ اے مدینہ والو کہاں ہیں علماء تمہارے ؟ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے منع کرتے تھے اس سے اور فرماتے تھے کہ تباہ ہوئے بنی اسرائیل جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے رہے ایک مدت تک بعد اس کے مانگ نکالنے لگے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا بیان
عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے خصی کرنے کو اور کہتے تھے کہ خصیے رکھنے میں پیدائش کو پورا کرنا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَکْرَهُ الْإِخْصَائَ وَيَقُولُ فِيهِ تَمَامُ الْخَلْقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا بیان
صفوان بن سلیم کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں یتیم کا پالنے والا خواہ یتیم کا عزیز ہو یا غیر، بہشت میں ایسے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیان جبکہ پرہیزگاری کرے اور آپ ﷺ نے اشارہ کیا کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگی کی طرف۔
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا وَکَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ کَهَاتَيْنِ إِذَا اتَّقَی وَأَشَارَ بِإِصْبُعَيْهِ الْوُسْطَی وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ
তাহকীক: