আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৯২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
جابر بن عبداللہ اسلمی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بند کر دروازے کو اور منہ باندھا کرو مشک کا اور بند رکھا کرو برتن کو اور بجھا دیا کرو چراغ کو کہ شیطان دروازہ کو نہیں کھولتا اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا اور برتن نہیں کھولتا اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْکُوا السِّقَائَ وَأَکْفِئُوا الْإِنَائَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَائَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِکَائً وَلَا يَکْشِفُ إِنَائً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَی النَّاسِ بَيْتَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
ابی شریح الکعبی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہئے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہئے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے اور تین رات دن تک جو کچھ خاطر ہو کھلائے اور زیادہ اس سے ثواب ہے اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْکَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَضِيَافَتُهُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّی يُحْرِجَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا اس کو بہت شدت سے پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں دیکھا اس میں اتر کر پانی پیا جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ جل جلالہ اس سے خوش ہوگیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کے جگر میں ثواب ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ حَتَّی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ فِي کُلِّ ذِي کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا ساحل دریا کی طرف اور ان پر حاکم مقر کیا ابوعیبدہ بن جراح کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے میں بھی ان میں شریک تھا راہ میں کھانا ختم ہوچکا ابوعبیدہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے ابوعبیدہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصہ میں آنے لگی پھر وہ بھی تمام ہوگئی وہب بن کیسان کہتے ہیں میں نے جابر سے پوچھا ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا ؟ انہوں نے کہا جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ دریا کے کنارے پر ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا پھر ابوعیبدہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ قَالَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّهُ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ قَالَ فَکَانَ يُقَوِّتُنَاهُ کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی فَنِيَ وَلَمْ تُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهُ ذَلِکَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
عمر بن سعد بن معاذ کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمان عورتو ! نہ ذلیل کرے کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو اگرچہ وہ ایک کھر جلا ہوا بکری کا بھیجے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تباہ کرے اللہ یہود کو حرام ہوا ان پر چربی کا کھانا تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کے دام کھائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے تھے کہ اے بنی اسرائیل تم پانی پیا کرو اور ساگ پات جو کی روٹی کھایا کرو اور گیہوں کی روٹی نہ کھاؤ اس کا شکر ادا نہ کر سکوگے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں آئے وہاں ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب کو پایا ان سے پوچھا تم کیسے آئے انہوں نے کہا بھوک کی وجہ سے آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی اسی سبب سے نکلا پھر تینوں آدمی ابوالہیثم ابن تیہان انصاری کے پاس گئے انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کرنے پر مستعد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا دودھ والی کو چھوڑ دے انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہی نعیم ہے جس کے بارے میں اس روز تم پوچھے جاؤ گے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ نُهُوا عَنْ أَکْلِ الشَّحْمِ فَبَاعُوهُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ يَقُولُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَيْكُمْ بِالْمَاءِ الْقَرَاحِ وَالْبَقْلِ الْبَرِّيِّ وَخُبْزِ الشَّعِيرِ وَإِيَّاكُمْ وَخُبْزَ الْبُرِّ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَقُومُوا بِشُكْرِهِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا أَخْرَجَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے ایک بدو آیا آپ نے اس کے بلایا وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا حضرت عمرب نے فرمایا بڑا ندیدہ ہے اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا حضرت عمر (رض) نے کہا میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہوجائے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَأْکُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ فَقَالَ عُمَرُ کَأَنَّکَ مُقْفِرٌ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَکَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُکْتُ أَکْلًا بِهِ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عُمَرُ لَا آکُلُ السَّمْنَ حَتَّی يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ فَيَأْکُلُهُ حَتَّی يَأْکُلَ حَشَفَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے سے متعلق مختلف احادیث کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) سے ٹڈی کے بارے میں (حلال ہے یا حرام) پوچھا گیا تو کہا حضرت عمر (رض) نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قَفْعَةً نَأْکُلُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابوہریرہ (رض) کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے حمید نے کہا کہ ابوہریرہ (رض) نے مجھ سے کہا میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ حمید نے کہا انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا اور میرے سر پر لادھ دیا، میں ابوہریرہ (رض) کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ابوہریرہ (رض) نے دیکھ کر کہا اللہ اکبر اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا جب وہ چلے گئے تو ابوہریرہ (رض) نے مجھ سے کہا اے بیٹے میرے بھائی کے اچھی طرح رکھ بکریوں کو اور پونچھتا رہ ناک ان کی اور صاف کر جگہ ان کی اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں قسم اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَی دَوَابٍّ فَنَزَلُوا عِنْدَهُ قَالَ حُمَيْدٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اذْهَبْ إِلَی أُمِّي فَقُلْ إِنَّ ابْنَکِ يُقْرِئُکِ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا قَالَ فَوَضَعَتْ ثَلَاثَةَ أَقْرَاصٍ فِي صَحْفَةٍ وَشَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَمِلْحٍ ثُمَّ وَضَعَتْهَا عَلَی رَأْسِي وَحَمَلْتُهَا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا وَضَعْتُهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ کَبَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا مِنْ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَکُنْ طَعَامُنَا إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ الْمَائَ وَالتَّمْرَ فَلَمْ يُصِبْ الْقَوْمُ مِنْ الطَّعَامِ شَيْئًا فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْسِنْ إِلَی غَنَمِکَ وَامْسَحْ الرُّعَامَ عَنْهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي نَاحِيَتِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ تَکُونُ الثُّلَّةُ مِنْ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَی صَاحِبِهَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا آیا اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر۔
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِّ اللَّهَ وَکُلْ مِمَّا يَلِيکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
یحییٰ بن سعید نے کہا میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہا میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے اس کے اونٹ ہیں کیا میں دودھ ان کا پیوں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اس کے گمے ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے تو دودھ ان کا پی مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے اور نسل کو ضرر پہنچے یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ إِنَّ لِي يَتِيمًا وَلَهُ إِبِلٌ أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا وَتَلُطُّ حَوْضَهَا وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ وَلَا نَاهِکٍ فِي الْحَلْبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ لَا يُؤْتَی أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ حَتَّی الدَّوَائُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ إِلَّا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُکَ بِکُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا وَأَمْسَيْنَا بِکُلِّ خَيْرٍ فَنَسْأَلُکَ تَمَامَهَا وَشُکْرَهَا لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا شَائَ اللَّهُ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوشت کھانے کا بیان
حضرت عمر (رض) نے کہا بچو تم گوشت سے کیونکہ گوشت کی طلب ہوجاتی ہے جیسے شراب پینے سے اس کی طلب ہوجاتی ہے۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِيَّاکُمْ وَاللَّحْمَ فَإِنَّ لَهُ ضَرَاوَةً کَضَرَاوَةِ الْخَمْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوشت کھانے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے جابر بن عبداللہ انصاری کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا حضرت عمر (رض) نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا حضرت عمر (رض) نے کہا کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے یا چچا کے بیٹے کو کھلائے کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو یعنی اٹھالیئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں اور خوب فائدہ اٹھائے تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب آخر آیت تک۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَکَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَرِمْنَا إِلَی اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَقَالَ عُمَرُ أَمَا يُرِيدُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوْ ابْنِ عَمِّهِ أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْکُمْ هَذِهِ الْآيَةُ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِکُمْ فِي حَيَاتِکُمْ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبَذَهُ وَقَالَ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا قَالَ فَنَبَذَ النَّاسُ بِخَوَاتِيمِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ انگوٹھی پہننے کا بیان
صدقہ بن یسار نے سعید بن مسیب سے پوچھا انگوٹھی پہننے کی بابت انہوں نے کہا پہن ! اور لوگوں سے کہہ دے میں نے تجھے پہننے کو کہا ہے۔
عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ لُبْسِ الْخَاتَمِ فَقَالَ الْبَسْهُ وَأَخْبِرْ النَّاسَ أَنِّي أَفْتَيْتُکَ بِذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کے گلے سے پٹے اور گھنٹے نکالنے کا بیان
عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے۔
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَقِيلِهِمْ لَا تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ ﷺ ، تو رسول اللہ ﷺ سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اس کے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً کَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ قَالَ وَکَانَ سَهْلٌ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَائَ قَالَ فَوُعِکَ سَهْلٌ مَکَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْکُهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلًا وُعِکَ وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي کَانَ مِنْ أَمْرِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس کی نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گرپڑے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر بیان کیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم اللہ کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہوگئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَی عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَکَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَقَالَ هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا قَالُوا نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّکْتَ اغْتَسِلْ لَهُ فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُکْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
তাহকীক: