আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৭২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑے پہننے کا بیان
انس بن مالک نے کہا میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا جب کہ وہ امیر المومنی تھے ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے ایک کے اوپر ایک۔
قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ کَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلَاثٍ لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیہ شریف کا بیان
انس بن مالک کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نہ لمبے تھے بہت نہ ٹھگنے تھے سفید تھے چونے کی طرح نہ بہت گندمی اور بال آپ ﷺ کے بہت گھونگریالے بھی نہ تھے اور بہت سیدتے بھی نہ تھے جب آپ ﷺ کا سن چالیس برس کا ہوا تو اللہ جل جلالہ نے آپ ﷺ کو نبوت عطا فرمائی پھر بعد بنوت کے آپ ﷺ مکہ میں دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس رہے اور ساٹح برس کی عمر میں آپ ﷺ نے وفات ہوئی اس وقت آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ ہوں گے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَی رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَکَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَائَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عیسی بن مریم (علیہ السلام) اور دجال کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو (رض) پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ لِي هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مومنوں کے طریقے کا بیان۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنت ہیں ایک ناخن کاٹنا دوسرے مونچھیں کتروانا تیسرے بغل کے بال اکھاڑنا چوتھے زیر ناف کے بال مونڈنا پانچویں ختنہ کرنا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَالْاخْتِتَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مومنوں کے طریقے کا بیان۔
سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت ابراہیم ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ کیا ہے اللہ جل جلالہ نے فرمایا یہ عزت اور وقار ہے، حضرت ابراہیم نے کہا تو اے پروردگار زیادہ عزت دے مجھ کو۔ کہا مالک نے مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ النَّاسِ ضَيَّفَ الضَّيْفَ وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ الشَّارِبَ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَی الشَّيْبَ فَقَالَ يَا رَبِّ مَا هَذَا فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ يَا رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا عَنْ مَالِک يَقُولُ يُؤْخَذُ مِنْ الشَّارِبِ حَتَّی يَبْدُوَ طَرَفُ الشَّفَةِ وَهُوَ الْإِطَارُ وَلَا يَجُزُّهُ فَيُمَثِّلُ بِنَفْسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا بائیں ہاتھ سے کھانے کو اور ایک جوتا پہن کر چلنے کا اور ایک کپڑا سر سے پاؤں تک لپیٹ لینے کو اور ایک کپڑا اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھنے کو اس طرح کہ شرم گاہ کھلی رہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَأْکُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّائَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ کَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب کوئی کھائے تم میں سے تو اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے پئے اس واسطے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَأْکُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْکُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مسکین کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ ﷺ مسکیں کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہیں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْکِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يَفْطُنُ النَّاسُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مسکین کا بیان
ام بجید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ دو مسکین کو اگرچہ جلا ہوا کھر ہو۔
عَنْ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْحَارِثِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُدُّوا الْمِسْکِينَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کافر کی آنتوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ الْمُسْلِمُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَأْکُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کافر کی آنتوں کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کافر آیا مہمان ہو کر آپ ﷺ نے ایک بکری کے دودھ دوہنے کا حکم کیا وہ سب پی گیا پھر دوسری بکری کو دوہا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری بکری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا پھر دوسرے دن صبح کو وہ شخص مسلمان ہوگیا آپ ﷺ نے بکری کا دودھ اس کے پینے کو دیا وہ پی نہ سکا تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ کَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَهُ حَتَّی شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَی فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں
ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پئے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ ڈالتا ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت اور پانی میں پھونکنے کی مانعت کے بیان میں
ابو مثنی جہنی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا مروان بن حکم کے پاس کہ اتنے میں ابوسعید خدری آئے مروان نے ان سے کہا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ منع کیا ہے آپ نے پانی میں پھونکنے سے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا ہاں ! ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرکے سانس لے لیا کر پھر وہ شخص بولا میں پانی میں کوڑا دیکھوں تو کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہادے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور عثمان بن عفان کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔
عَنْ أَبِي الْمُثَنَّی الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرْوَی مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فَاکَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنِّي أَرَی الْقَذَاةَ فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانُوا يَشْرَبُونَ قِيَامًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اور سعد بن ابی وقاص کھڑے ہو کر پانی پینے میں کچھ قباحت نہیں جانتے تھے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَا لَا يَرَيَانِ بِشُرْبِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ قَائِمٌ بَأْسًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان
ابو جعفر قاری نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر (رض) کھڑے کر پانی پیتے تھے۔
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَشْرَبُ قَائِمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان
عبداللہ بن زبیر (رض) کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کے پاس دودھ آیا جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا اور داہنی طرف آپ ﷺ کے بدوی تھا اور بائیں طرف ابوبکر (رض) تھے تو آپ ﷺ نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا پہلے داہنی طرف والے کو دو پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَائٍ مِنْ الْبِئْرِ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَی الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پانی یا شربت پلانا شروع کرنا داہنی طرف سے۔
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا آپ ﷺ نے پیا آپ ﷺ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے آپ ﷺ نے لڑکے سے فرمایا اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں ؟ جو بائیں طرف تھے، لڑکے نے کہا نہیں ! اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ میں اپنا حصہ آپ ﷺ کے جو ٹھے میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا تو رسول اللہ ﷺ نے اسی لڑکے کو دے دیا۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَائِ فَقَالَ الْغُلَامُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْکَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے ام سلیم سے : کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی۔ تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی ام سلیم نے کچھ روٹیاں جو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں کھڑا ہو رہا آپ ﷺ نے خود پوچھا کیا تجھ کو ابا طلحہ نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کھانے کے واسطے ؟ میں نے کہا ہاں ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا سب اٹھو ! سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور ابوطلحہ کو جا کر خبر کی، ابوطلحہ نے ام سلیم سے کہا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں ام سلیم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ابوطلحہ نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے آکر ملے یہاں تک کہ ابوطلحہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں مل کر آئے آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ ! ام سلیم وہی روٹیاں لے آئیں آپ ﷺ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا پھر ام سلیم نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی وہ ملیدہ بن گیا اس کے بعد جو اللہ جل جلالہ کو منظور تھا وہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا دس کو اور بلاؤ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسی (80) سب سیر ہوگئے۔
عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتْ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ لِلطَّعَامِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنْ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّی لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُکَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ بِالدُّخُولِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَعَامُ الْاثْنَيْنِ کَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ کَافِي الْأَرْبَعَةِ
tahqiq

তাহকীক: