আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৫২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
عطا بن عبداللہ (رض) خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا مصافحہ کرو ایک دوسرے سے دل کا کینہ جاتا رہے گا ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کی دوست ہوجاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَافَحُوا يَذْهَبْ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبْ الشَّحْنَائُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جنت کے دروازے کھل جائے ہیں پیر اور جمعرات کے روز تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) نے کہا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ مل جائیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ کُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا أَوِ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑے زینت کے واسطے پہننے کا بیان
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے غزوہ بن انمار میں تو ہم ایک درخت کے تلے اترے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ ﷺ دکھائی دئے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ سائے میں آئے آپ ﷺ آکر اتر میں اپنی زنبیل کو دیکھنے گیا اس میں ڈھونڈنے لگا تو ایک ککڑی ملی میں اس کو توڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لے گیا آپ ﷺ نے پوچھا یہ کہاں سے آئی جابر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہم اس کو لے کر نکلے تھے پھر جابر کہتے ہیں ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا سامان سفر ہم نے کردیا تھا وہ ہمارے جانور چراتا تھا جب وہ پیٹھ موڑ کر جانور چرانے جانے لگا تو وہ چادریں اوڑھے ہوئے تھا جو پھٹ کر چندی چندی ہوگئی تھیں رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں جابر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہیں گٹھری میں بندھے ہیں میں نے اس کو پہننے کے لئے دئیے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ وہ کپڑے پہن لے میں نے اس کو بلایا اس نے وہ کپڑے گٹھری سے نکال کر پہن لئے جب پھرجانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا تھا اللہ اس کی گردن مارے اب کیا اچھا معلوم نہیں ہوتا اس کو اس شخص نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ کی راہ میں میری گردن ماری جائے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی راہ میں پھر وہ شخص شہید ہوا اللہ کی راہ میں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عالم کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھوں۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ قَالَ جَابِرٌ فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَی الظِّلِّ قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَی غِرَارَةٍ لَنَا فَالْتَمَسْتُ فِيهَا شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّائٍ فَکَسَرْتُهُ ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَکُمْ هَذَا قَالَ فَقُلْتُ خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ جَابِرٌ وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ يَذْهَبُ يَرْعَی ظَهْرَنَا قَالَ فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلَقَا قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ فَقُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ کَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا قَالَ فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا قَالَ فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّی يَذْهَبُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا لَهُ قَالَ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَنْظُرَ إِلَی الْقَارِئِ أَبْيَضَ الثِّيَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑے زینت کے واسطے پہننے کا بیان
حضرت عمر (رض) نے کہا کہ جب اللہ تم کو وسعت دے تو اپنے اوپر بھی وسعت کرو اپنے کپڑے بنالو۔
عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ فَأَوْسِعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ رنگین کپڑے پہننے اور سونا پہننے کا بیان
کہا مالک نے مردوں کو کسم سے رنگی ہوئی چادریں اوڑھنا گھر یا اس کے گرداگرد میں حرام نہیں سمجھتا لیکن نہ پہننا میرے نزدیک بہتر اور اس سوائے اس کے اور لباس پہننا اچھا ہے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَلْبَسُ الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْمِشْقِ وَالْمَصْبُوغَ بِالزَّعْفَرَانِ قَالَ يَحْيَى و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ يَلْبَسَ الْغِلْمَانُ شَيْئًا مِنْ الذَّهَبِ لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ فَأَنَا أَكْرَهُهُ لِلرِّجَالِ الْكَبِيرِ مِنْهُمْ وَالصَّغِيرِ قَالَ يَحْيَى و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الْمَلَاحِفِ الْمُعَصْفَرَةِ فِي الْبُيُوتِ لِلرِّجَالِ وَفِي الْأَفْنِيَةِ قَالَ لَا أَعْلَمُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا حَرَامًا وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنْ اللِّبَاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اون اور ریشم کے کپڑے پہننے کا بیان
حضرت عائشہ (رض) نے عبداللہ بن زبیر کو ایک کپڑا پہناتا جس میں اون اور ریشم تھا اور حضرت عائشہ بھی اس کو پہنا کرتی تھیَ
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَسَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ مِطْرَفَ خَزٍّ کَانَتْ عَائِشَةُ تَلْبَسُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
مرجانہ سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر عائشہ (رض) کے پاس گئیں ایک باریک سر بند اوڑھ کر حضرت عائشہ (رض) نے اس کو پھار ڈالا اور موٹے کپڑے کا سر بند اوڑھا دیا۔
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَکَسَتْهَا خِمَارًا کَثِيفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑا پہنے ہوئے ہیں لیکن ننگی ہیں خود بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں اور خاوند کو بھی ہٹا دیتی ہیں جنت میں نہ جائیں گی بلکہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی راہ سے آتی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار ہوئے اسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ رات کو اللہ جل جلالہ نے کتنے ایک خزانے کھولے اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی ہوشیار کردو ان کو ٹھریوں والیوں کو۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَائِ فَقَالَ مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا وَقَعَ مِنْ الْفِتَنِ کَمْ مِنْ کَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص اپنا کپڑ لٹکائے گا تکبر کے طور پر تو قیامت کے روز اللہ جل جلالہ اس کی طرف نظر تک نہ کرے گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ جل جلالہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا کپڑا لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑا بے کار لٹکانے کا بیان
عبدالرحمن بن یعقوب سے روایت ہے کہ کہتے ہیں ابوسعید خدری (رض) سے پوچھا ازار کا حال انہوں نے کہا مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرو اور گھمنڈ کے طور پر۔
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ الْإِزَارِ فَقَالَ أَنَا أُخْبِرُکَ بِعِلْمٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَی أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْکَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنا کپڑا لٹکا دے تو کیا حکم ہے ؟
ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ازار لٹکانے کا ذکر کی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ عورت کیا کرے آپ ﷺ نے فرمایا ایک بالشت ازار نیچے رکھے ام سلمہ نے کہا اتنی تو کھل جائے گی آپ ﷺ نے فرمایا ایک ہاتھ نیچے رکھے اس سے زیادہ نہیں۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ حِينَ ذُکِرَ الْإِزَارُ فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُرْخِيهِ شِبْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِذًا يَنْکَشِفُ عَنْهَا قَالَ فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جوتی پہننے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر چاہئے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُکُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جوتی پہننے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے چاہے کہ داہنے پیر میں اول پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَکُنْ الْيُمْنَی أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جوتی پہننے کا بیان
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری کعب الاحبار نے کہا تم نے کیوں جوتیاں اتاریں شاید تو نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علی نبینا سے جب وہ طور پر جانے لگے فرمایا اتار جوتیاں اپنی مگر تو جانتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں کا ہے کی تھیں۔ کہا مالک نے مجھ معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا کعب نے کہا حضرت موسیٰ کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔
عَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّ رَجُلًا نَزَعَ نَعْلَيْهِ فَقَالَ لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْکَ لَعَلَّکَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی قَالَ ثُمَّ قَالَ کَعْبٌ لِلرَّجُلِ أَتَدْرِي مَا کَانَتْ نَعْلَا مُوسَی قَالَ مَالِک لَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ کَعْبٌ کَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑے پہننے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے دو لباسوں سے اور دو بیعوں سے ایک بیع ملامسہ اور دوسرے بیع منابذہ سے اور ایک کپڑے اوڑھ کر اختباء کرنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہوا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَعَنْ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَی فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْئٌ وَعَنْ أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ عَلَی أَحَدِ شِقَّيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کپڑے پہننے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کاش آپ ﷺ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ ﷺ کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کپڑا حضرت عمر (رض) کو دیا حضرت عمر (رض) نے کہا یا رسول اللہ ﷺ پہلے تو آپ ﷺ نے عطارد کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے پھر حضرت عمر (رض) نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَی حُلَّةً سِيَرَائَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَکْسُکَهَا لِتَلْبَسَهَا فَکَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِکًا بِمَکَّةَ
তাহকীক: