আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب مختلف بابوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৩২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بحث کی آدم اور موسیٰ علیہما السلام نے تو غالب ہوئے آدم موسیٰ پر موسیٰ نے کہا تو وہی آدم ہے کہ گمراہ کیا تو نے لوگوں کو اور نکالا ان کو جنت سے آدم نے کہا کہ تو وہی موسیٰ ہے کہ اللہ نے تجھے علم دیا ہر چیز کا اور برگزیدہ کیا رسالت سے انہوں نے کہا ہاں پھر آدم نے کہا باوجود اس کے تو مجھے ملامت کرتا ہے ایسے کام پر جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا قبل میرے پیدا ہونے کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی قَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ پر اور اولاد نکالی فرمایا میں نے ان کو جہنم کے لئے پیدا کیا اور یہ جہنموں کے کام کریں گے ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب پیدا کرتا ہے کسی بندے کو جنت کے واسطے تو اس سے جنیتوں کے کام کراتا ہے اور موت کے وقت بھی وہ نیک عمل کرکے مرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنیموں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ موت بھی اسے برے کام پر آتی ہے تو اسے جہنم میں داخل کرتا ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ النَّارَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَکْتُ فِيکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا کِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
طاؤس الیمانی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے چند صحابہ کو پایا کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے طاؤس نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہتے تھے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عاجزی اور ہوشیاری بھی۔
عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ قَالَ طَاوُسٌ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَيْسِ أَوْ الْکَيْسِ وَالْعَجْزِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر سے سنا خطبہ میں فرماتے تھے کہ اللہ ہی ہدایت کرنے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْهَادِي وَالْفَاتِنُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت
ابی سہیل بن مالک عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ جا رہے تھے انہوں نے پوچھا ابوسہیل سے کہ تمہاری کیا رائے ہے قدریہ کے بارے میں ابوسہیل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان سے توبہ کراؤ توبہ کرلیں تو بہتر، نہیں تو قتل کئے جائیں عمر بن عبدالعزیز نے کہا میری رائے بھی یہی ہے مالک نے کہا میری بھی یہی رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں۔
عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ مَا رَأْيُکَ فِي هَؤُلَائِ الْقَدَرِيَّةِ فَقُلْتُ رَأْيِي أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَی السَّيْفِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَذَلِکَ رَأْيِي قَالَ مَالِک وَذَلِکَ رَأْيِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چاہے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی تاکہ خالی کرے پیالہ اس کا بلکہ نکاح کرلے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے اس کو ملے گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْکِحَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے منبر پر کہا اے لوگوں جو اللہ جل جلالہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور کسی طاقت والے کی طاقت کام نہیں آتی جس شخص کو اللہ بھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور علم فقہ دیتا ہے پھر کہا معاویہ نے میں نے ان کلمات کو رسول اللہ ﷺ سے سنا انہیں لکڑیوں پر۔ امام مالک سے روایت ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ یوں کہا کرتے تھے کہ سب خوبیاں اس اللہ کی ہیں جس نے پیدا کیا عرش کو جیسے چاہے جو وقت مقرر کردیا ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہوسکتی کافی ہے مجھ کو اللہ اور کافی ہے ایسا کافی ہے کہ سنتا ہے اللہ جو اس کو پکارے اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جس سے دعا کیا جائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ پہلے زمانے میں یوں کہا جاتا تھا کہ کوئی آدمی نہیں مرے گا جب تک کہ اس کا رزق پورا نہ ہو پس اختصار کرو طلب معاش میں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَی اللَّهُ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ هَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی هَذِهِ الْأَعْوَادِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يَنْبَغِي الَّذِي لَا يَعْجَلُ شَيْءٌ أَنَاهُ وَقَدَّرَهُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَكَفَى سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ دَعَا لَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمَى و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِنَّ أَحَدًا لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৩৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا یہ تھی کہ اے معاذ خوش خلقی کر لوگوں سے۔
بَاب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ نے آسان امر کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے اور رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی بہتریوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بےکار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھی گھر میں آپ ﷺ نے فرمایا برا آدمی ہے یہ پھر آپ ﷺ نے اس کو آنے کی اجازت دی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ابھی تو آپ ﷺ نے اس کو برا کہا تھا ابھی آپ ﷺ اس سے ہنسنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
کعب احبار نے کہا کہ جب تم کسی بندہ کا حال جاننا چاہو اس کے پروردگار کے پاس تو دیکھو لوگ اس کو کیسا کہتے ہیں۔
عَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَعْلَمُوا مَا لِلْعَبْدِ عِنْدَ رَبِّهِ فَانْظُرُوا مَاذَا يَتْبَعُهُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَائِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ پہنچا کہ آدمی حسن خلق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر پیاسے رہنے والے کا درجہ حاصل کرتا ہے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَرْئَ لَيُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ الظَّامِي بِالْهَوَاجِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৪
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوش خلقی کے بیان میں
سعید بن مسیب نے کہا کیا میں بہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے لوگوں نے کہا بتاؤ سعید نے کہا ایک دوسرے کے بیچ صلح کرادیں اور بچو تم بغض اور عدوات سے یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس واسطے بھیجا گیا کہ اخلاق کی خوبیوں کو پورا کردوں
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرٍ مِنْ کَثِيرٍ مِنْ الصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَی قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِيَّاکُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৫
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حیا یعنی شرم کے بیان میں
زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیاء ہے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُکَانَةَ يَرْفَعُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ دِينٍ خُلُقٌ وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَائُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حیا یعنی شرم کے بیان میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا ایک شخص کو نصیحت کر رہا تھا اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا جانے دے کیونکہ حیاء ایمان میں سے ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی رَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَائَ مِنْ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غضب کے بیان میں
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور بولا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے چند باتیں بتاد یجئے جن سے میں نفع اٹھاؤں اور بہت باتیں نہ بتانا میں بھول جاؤں گا آپ ﷺ نے فرمایا تو غصہ مت کیا کر۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي کَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلَا تُکْثِرْ عَلَيَّ فَأَنْسَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْضَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৮
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غضب کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ وہ آدمی وزر آور نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے وزر آور ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو غصے کے وقت۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِکُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৯
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی ملاقات ترک کرے یعنی اس کو چھوڑ دے تین دن سے زیادہ یا یہ ملے تو وہ نہ دیکھے یا وہ ملے تو نہ دیکھے بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام علیک کرے۔
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫০
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مت بغض کرو مر حسد کرو مت پیٹھ پھیرو ایک دوسرے سے بلکہ ہوجاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی نہیں درست ہے کسی مسلمان کو کہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے تین راتوں سے زیادہ۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫১
کتاب مختلف بابوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بچو تم بدگمانی سے کیونکہ بدگمانی بڑا جھوٹ ہے اور مت کھوج لگاؤ اور مت تفتیش کرو اور مت حرص کرو دنیا کی اور مت حسد کرو نہ بغض کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو بلکہ ہوجاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
tahqiq

তাহকীক: