কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৩ টি
হাদীস নং: ৩৩২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٢٢ (٥١٠٣) ، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٧) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (٣) ، مسند احمد (٦/١٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3316
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَهُوَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا : انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے (وہ میرے محرم کیسے ہوگئے) ، آپ نے فرمایا : تم انہیں (اندر) آنے کی اجازت دو ، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے (تمہیں نہیں معلوم ؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٨ (١٩٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٤٣، ١٦٩٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3317
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح (میرے پاس گھر میں آنے کی) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا : میں جب تک خود نبی اکرم ﷺ سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا : (نہیں) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا : مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا : (بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے) تم انہیں آنے دو ، وہ تمہارے چچا ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٣٠٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3318
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، وَإِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ، يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں (اپنے شوہر) ابوحذیفہ (رض) کے چہرے پر (ناگواری) دیکھتی ہوں (اور ان کا آنا ناگزیر ہے) ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم انہیں دودھ پلا دو ، میں نے کہا : وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، (بچہ تھوڑے ہیں) ، آپ نے فرمایا : (پھر بھی) دودھ پلا دو ، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ (رض) کے چہرے پر جو تم (ناگواری) دیکھتی ہو وہ ختم ہوجائے گی ، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ (رض) کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٤١) ، مسند احمد (٦/١٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابوحذیفہ سہلہ رضی الله عنہا کے شوہر تھے، انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب متبنی کے سلسلہ میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی، پھر جب تبنی حرام قرار پایا تو ابوحذیفہ رضی الله عنہ کو یہ چیز ناپسند آئی کہ سالم ان کے گھر میں پہلے کی طرح آئیں، یہی وہ مشکل تھی جسے حل کرنے کے لیے سہلہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3319
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْضِعِيهِقُلْتُ: إِنَّهُ لَذُو لِحْيَةٍفَقَالَ: أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور کہا : میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے (اپنے شوہر) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ (تبدیلی و ناگواری) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا : تم انہیں اپنا دودھ پلا دو ، انہوں نے کہا : میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے (عمر والے) آدمی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں ، اس کے بعد وہ (دودھ پلا کر پھر ایک دن) آئیں اور کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٣) ، سنن النسائی/النکاح ٣٦ (١٩٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٨٤) ، مسند احمد (٦/٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3320
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، قَالَ: فَأَرْضِعِيهِقَالَتْ: وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَقَالَ: أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌثُمَّ جَاءَتْ بَعْدُ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (ناگواری) ختم ہوجائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ (بچے نہیں) پورے مرد تھے۔ ربیعہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں : یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٤٥٢) ، مسند احمد (٦/٢٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کسی دوسرے بڑے شخص کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3321
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے (اب وہ بڑا ہوگیا ہے) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے (اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے) آپ نے فرمایا : تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہوجائے گی ۔ ابن ابی ملیکہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی (اور اس کا ذکر آیا) تو انہوں نے کہا : اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں (شرماؤ) اور ڈرو نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٦٤) ، مسند احمد (٦/٢٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3322
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَقَدْ عَقَلَ مَا يَعْقِلُ الرِّجَالُ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، قَالَ: أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ بِذَلِكَ، فَمَكَثْتُ حَوْلًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَلَقِيتُ الْقَاسِمَ، فَقَالَ: حَدِّثْ بِهِ وَلَا تَهَابُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی (بچوں) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی (سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہوگیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آگئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ (کھٹک) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے دودھ پلا دو ، تو تم اس پر حرام ہوجاؤ گی تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چناچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو (خدشہ) تھا وہ دور ہوگیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس (دوبارہ) آئیں اور (آپ سے) کہا : میں نے (آپ کے مشورہ کے مطابق) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہوگئی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3323
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ، فَأَتَتْ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَعَقَلَ مَا عَقَلُوهُ، وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَإِنِّي أَظُنُّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ، فَأَرْضَعْتُهُ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ، فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ١ ؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر (گھر کے اندر) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : قسم اللہ کی ! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے سہلہ بنت سہیل کو (سالم کو دودھ پلانے کا) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی ! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : النکاح ١٠ (٢٠٦١) مطولا، (تحفة الأشراف : ١٨٣٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عائشہ رضی الله عنہا کے علاوہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3324
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضْعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُرِيدُ رَضَاعَةَ الْكَبِيرِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضْعَةِ وَلَا يَرَانَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بڑے کو دودھ پلانے سے متعلق
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت (یعنی بڑے کی رضاعت) کو دلیل بنا کر ان کے پاس (یعنی کسی بھی عورت کے پاس) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : قسم اللہ کی ! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ ﷺ نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٧ (١٩٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٧٤) ، مسند احمد (٦/٣١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3325
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ تَقُولُ: أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخَلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذِهِ إِلَّا رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِسَالِمٍ، فَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا يَرَانَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بچے کو دودھ پلانے کے دوران بیوی سے صحبت کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا ارادہ ہوا کہ غیلہ سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسحاق (راوی) کی روایت میں یصنعہ کی جگہ یصنعونہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢) ، سنن ابی داود/الطب ١٦ (٣٨٨٢) ، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦ (٢٠١١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٦) ، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦) ، مسند احمد (٦/٣٦١، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3326
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّجُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ يَصْنَعُهُ، وَقَالَ إِسْحَاق: يَصْنَعُونَهُ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بارے میں
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا، تو آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ (ذرا تفصیل بتاؤ) ہم نے کہا : آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے، (ایسے ہی) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ٢ ؎، آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١١٣) ، مسند احمد (٣/١١) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عزل جماع کے دوران شرمگاہ سے باہر منی خارج کرنا۔ ٢ ؎: اس لیے جماع کے دوران جب انزال کا وقت آتا ہے تو وہ شرمگاہ سے باہر انزال کرتا ہے تاکہ اس کی منی بچہ دانی میں داخل نہ ہو سکے کہ جس سے وہ حاملہ ہوجائے یہ کام کیسا ہے ؟۔ ٣ ؎: بچے کی پیدائش یا عدم پیدائش میں عزل یا غیر عزل کا دخل نہیں بلکہ یہ تقدیر کا معاملہ ہے۔ اگر کسی بچے کی پیدائش لکھی جا چکی ہے تو تم اس کے وجود کے لیے موثر نطفے کو باہر ڈال ہی نہ سکو گے، اس کا انزال شرمگاہ کے اندر ہی ہوگا، اور وہ حمل بن کر ہی رہے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3327
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَرَدَّ الْحَدِيثَ حتى رده إلى أبي سعيد الخدري، قَالَ: ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا ذَاكُمْقُلْنَا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُصِيبُهَا وَيَكْرَهُ الْحَمْلَ، وَتَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بارے میں
ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا : میری بیوی دودھ پلاتی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رحم میں جس کا آنا مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کر رہے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٠٤٥) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چاہے تم عزل کرو یا نہ کرو اس لیے عزل کر کے بےمزہ ہونا اچھا نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3328
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ الزُّرَقِيَّ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَا قَدْ قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رضاعت کا حق اور اس کی حرمت سے متعلق حدیث
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کرسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : شریف غلام یا شریف لونڈی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/النکاح ١٢ (٢٠٦٤) ، سنن الترمذی/الرضاع ٦ (١١٥٣) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) ، سنن الدارمی/النکاح ٥٠ (٢٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن حجاج “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یعنی شریف ولائق غلام یا شریف ولائق لونڈی دے دو تاکہ وہ اس کی خدمت کرے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3329
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، قَالَ: غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ رضاعت میں گواہی کے متعلق
عقبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو ہمارے پاس ایک حبشی عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا کہ میں نے فلان بنت فلاں سے شادی کی ہے پھر میرے پاس ایک حبشی عورت آئی، اس نے کہا : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، (یہ سن کر) آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیرلیا ١ ؎ تو میں پھر آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا اور میں نے کہا : وہ جھوٹی ہے، آپ نے فرمایا : تم اسے کیسے جھوٹی کہہ سکتے ہو، جب کہ وہ بیان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تو اس کو چھوڑ کر اپنے سے الگ کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٦ (٨٨) ، البیوع ٣ (٢٠٥٢) ، الشہادات ٤ (٢٦٤٠) ، ١٣ (٢٦٥٩) ، ١٤ (٢٦٦٠) ، والنکاح ٢٣ (٥١٠٤) ، سنن ابی داود/الأقضیة ١٨ (٣٦٠٤) ، سنن الترمذی/الرضاع ٤ (١١٥١) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٠٥) ، مسند احمد (٤/٧، ٨، ٣٨٤، سنن الدارمی/النکاح ٥١ (٢٣٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آپ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ یہ شخص اس بات سے آگاہ ہوجائے کہ ایسی صورت میں کسی عقلمند کے لیے مناسب نہیں کہ اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھے چہ جائیکہ اس کے متعلق کوئی سوال کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3330
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ والد کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنے والے شخص سے متعلق حدیث
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کردینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرلی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢٧ (٤٤٥٦) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٥ (١٣٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٥ (٢٦٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٣٤) ، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥، ٢٩٧) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٣ (٢٢٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: راوی ( براء ) کو شک ہوگیا ہے کہ ماموں نے أن أضرب عنقہ میں اس کی گردن مار دوں کہا یا أقتلہ میں اسے قتل کر دوں کہا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3331
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فقلت أين تريد ؟ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ والد کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنے والے شخص سے متعلق حدیث
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے کہا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی ہے۔ مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال اپنے قبضہ میں کرلوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٣٣٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ اگر کسی نے مرتد کو قتل کیا ہے تو اس مرتد کا مال بشکل فئی قاتل کو ملے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3332
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَبْتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ ؟بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ|"والمحصنت من النساء الا ماملکت ایمانکم|" کی تفسیر کا بیان
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا ١ ؎ وہاں ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوگئی، اور انہوں نے دشمن کا بڑا خون خرابہ کیا، اور ان پر غالب آگئے، انہیں ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے، چناچہ مسلمانوں نے ان قیدی باندیوں سے صحبت کرنا مناسب نہ سمجھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (النساء : ٢٤) یعنی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٩ (١٤٥٦) ، سنن ابی داود/النکاح ٤٥ (٢١٥٥) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة النسائ ٥ (٣٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اوطاس طائف میں ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3333
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ، وَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24، أَيْ هَذَا لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لڑکی یا بہن کے مہر کے بغیر نکاح کرنے کی ممانعت سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٢٨ (٥١١٢) ، الحیل ٤ (٦٩٦٠) مطولا، صحیح مسلم/النکاح ٧ (١٤١٥) ، سنن ابی داود/النکاح ١٥ (٢٠٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤١) ، مسند احمد (٢/٧، ١٩، ٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نکاح شغار یعنی کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کو دوسرے کی نکاح میں اس کی بہن یا بیٹی سے اپنے ساتھ نکاح کرنے کے عوض میں بلا مہر دیدے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3334
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنِ الشِّغَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لڑکی یا بہن کے مہر کے بغیر نکاح کرنے کی ممانعت سے متعلق
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے، اور جس کسی نے کسی طرح کا لوٹ کھسوٹ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ٧٠ (٢٥٨١) ، سنن الترمذی/النکاح ٣٠ (١١٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٩٣) مسند احمد (٤/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٣، ٤٤٥) ویأتي بأرقام ٣٦٢٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جلب زکاۃ اور گھوڑ دوڑ دونوں میں ہوتا ہے، جلب گھوڑوں میں یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگالے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، جب کہ زکاۃ میں جلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا کسی جگہ بیٹھ جائے اور زکاۃ دینے والوں سے کہے کہ مال میرے پاس لاؤ تاکہ زکاۃ لی جاسکے، چونکہ اس میں زکاۃ دینے والوں کو مشقت و پریشانی لاحق ہوگی اس لیے اس سے منع کیا گیا۔ اور جنب یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوجائے، جب کہ زکاۃ میں جنب یہ ہے کہ صاحب مال اپنا مال لے کر دور چلا جائے تاکہ زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ کی طلب میں تکلیف و مشقت میں پڑجائے۔ نکاح شغار یعنی کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کو دوسرے کی نکاح میں اس کی بہن یا بیٹی سے اپنے ساتھ نکاح کرنے کے عوض میں بلا مہر دیدے۔۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3335
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক: