কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৩ টি
হাদীস নং: ৩৩০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨) تعلیقًا، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٦٥) مطولا، سنن الترمذی/النکاح ٣١ (١١٢٦) مطولا، (تحفة الأشراف : ١٣٥٣٩) ، مسند احمد (٢/٤٢٦، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3296
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جاسکتی تو شعبی نے کہا : میں نے یہ حدیث جابر (رض) سے سنی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٥) ، مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3297
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الشَّعْبِيِّكِتَابًا فِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، قَالَ: سَمِعْتُ هَذَا مِنْ جَابِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے شادی کی جائے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3298
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَخَالَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٨٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3299
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو رشتے (ماں کے پیٹ سے) پیدا ہونے سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے (عورت کا) دودھ پینے سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/النکاح ٧ (٢٠٥٥) ، سنن الترمذی/الرضاع ١ (١١٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٤٤) ، موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٥) ، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ٦٦، ٦٦، ٧٢، ١٠٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نکاح کے حرام ہونے میں رضاعت اور ولادت کا ایک ہی حکم ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3300
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے (عائشہ سے) فرمایا : ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤) ، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٦) ، النکاح ٢٢ (٥١٠٣) ، ١١٧ (٥٢٣٩) ، الأدب ٩٣ (٦١٥٦) ، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٥) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١) ، مسند احمد (٦/٢١٧) ، ویأتي عند المؤلف ٣٣٢٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ جب حقیقی چچا سے پردہ نہیں ہے تو رضاعی چچا سے بھی پردہ نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3301
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠٢) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3302
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نسلی حقیقی رشتے سے جو لوگ حرام ہوتے ہیں وہی لوگ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3303
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور (ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں) آپ ہمیں چھوڑ رہے (اور نظر انداز فرما رہے) ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی (شادی کے لائق) ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! حمزہ (رض) کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٣ (١٤٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٧١) ، مسند احمد (١/٨٢، ١١٤، ١٢٦، ١٣٢، ١٥٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3304
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: وَعِنْدَكَ أَحَدٌ ؟قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے حمزہ (رض) کی بیٹی (سے شادی) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں : اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٥) ، والنکاح ٣٥ (٥١٠٠) ، صحیح مسلم/الرضاع ٣ (١٤٤٧) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٧٨) ، مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٧٥، ٢٩٠، ٣٢٩، ٣٣٩، ٣٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور دودھ بھائی کی بیٹی سے شادی حرام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3305
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتُ حَمْزَةَ، فَقَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا سَمِعَهُ قَتَادَةُ مِنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دودھ کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوجاتے ہیں
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حمزہ (رض) کی بیٹی سے شادی کرلینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا : وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہوجاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٣٠٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3306
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ، فَقَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ (حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا) عشر رضعات معلومات يحرمن (دس (واضح) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کردیں گے) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کردیا گیا (یعنی خمس رضعات معلومات) ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٦ (١٤٥٢) ، سنن ابی داود/النکاح ١١ (٢٠٦٢) ، سنن الترمذی/الرضاع ٣ (١١٥٠) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٧) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آپ کے انتقال کے قریبی زمانہ میں پانچ گھونٹ کی بھی آیت منسوخ ہوگئی، لیکن جنہیں بروقت اس کے منسوخ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے اس کے پڑھے جانے کا ہی ذکر کردیا ہے۔ پھر جب انہیں منسوخ ہونے کا علم ہوگیا تو انہوں نے بھی اس کا پڑھنا ( و لکھنا ) ترک کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3307
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْحَارِثُ: فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے رضاعت (یعنی دودھ پلانے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ایک بار اور دو بار کا پلانا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۔ قتادہ اپنی روایت میں الإملاجة ولا الإملاجتان کی جگہ المصة والمصتان کہتے ہیں، یعنی ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٥ (١٤٥١) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٥١) ، مسند احمد (٦/٣٣٩، ٣٤٠) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3308
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَيُّوبُ، عَنْصَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ، فَقَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٨١) ، مسند احمد (٤/٤، ٥) (صحیح، انظر ما بعدہ ٣١٠٢ ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3309
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٥ (١٤٥٠) ، سنن ابی داود/النکاح ١١ (٢٠٦٣) ، سنن الترمذی/الرضاع ٣ (١١٥٠) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٨٩) ، مسند احمد ٦/٣١، ٩٥، ٢١٦، ٢٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پی لینے سے اس سے نکاح کی حرمت کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3310
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس (خط) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود (رض) دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت (نکاح) ثابت ہوجائے گی، اور ان کی کتاب (تحریر) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : ایک بار یا دو بار اچک لینے (یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠١٢٤، ١٦١٣٣) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3311
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ ؟ فَكَتَبَ، أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ، كانا يقولان: يحرم من الرضاع قليله وكثيره، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کتنا دودھ پی لینے سے حرمت ہوتی ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے (اس وقت) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا : اللہ کے رسول ! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا : اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں (جبکہ دودھ ہی غذا ہو) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٧) ، النکاح ٢٢ (٥١٠٢) ، صحیح مسلم/الرضاع ٨ (١٤٥٥) ، سنن ابی داود/النکاح ٩ (٢٠٥٨) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٥ (١٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨) ، مسند احمد (٦/٩٤، ١٣٨، ١٧٤، ٢٤١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3312
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ: انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ وَمَرَّةً أُخْرَى انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے ، میں نے کہا : اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رضاعت (دودھ کا رشتہ) ویسے ہی (نکاح کو) حرام کرتا ہے جیسے ولادت (نسل) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٦) ، الخمس ٤ (٣١٠٥) ، النکاح ٢٠ (٥٠٩٩) ، صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠٠) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (١) ، مسند احمد (٦/٤٤، ٥١، ١٧٨، سنن الدارمی/النکاح ٤٩ (٢٢٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3313
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّعَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلًا يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا (ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے) ، پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں (گھر میں) آنے کی اجازت دو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢ (١٤٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٧٥) ، مسند احمد (٦/٢٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3314
أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّعَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي أَبُو الْجَعْدِ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَرَدَدْتُهُ، قَالَ: وَقَالَ هِشَامٌ: هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنِي لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کے دودھ پلانے سے مرد (شوہر) سے بھی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں ، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا : وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٣٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3315
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ بَعْدَ آيَةِ الْحِجَابِ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ائْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ.
তাহকীক: