কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ২১৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی يسألونک عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو (سورۃ البقرہ : ٢٢٢) ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ : یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چناچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں ؟ یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چناچہ دونوں آپ ﷺ کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آگیا، تو آپ ﷺ نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظرحدیث رقم (٢٥٨) ، ( تحفة الأشراف : ٣٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2165 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ ﷺ کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2166 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، وَإِنْ أَصَابَ، تَعْنِي ثَوْبَهُ، مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان
عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض (٣٠٣) ، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٣٥، ٣٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2167 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حالت حیض میں جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ کیا دے؟
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھتا ہے فرمایا : وہ ایک یا آدھا دینار (بطور کفارہ) صدقہ ادا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظرحدیث رقم : ٢٦٤، ( تحفة الأشراف : ٦٤٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2168 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْمِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر حالت حیض میں جماع کر بیٹھے تو اس کا کفارہ کیا دے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اگر دوران خون صحبت کی تو ایک دینار، اور خون بند ہوجانے پر صحبت کی تو آدھا دینار (کفارہ) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٦٥) ، ( تحفة الأشراف : ٦٤٩٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2169 حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا أَصَابَهَا فِي الدَّمِ فَدِينَارٌ، وَإِذَا أَصَابَهَا فِي انْقِطَاعِ الدَّمِ فَنِصْفُ دِينَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عزل ١ ؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے ؟ (یہ آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قزعہ، زیاد کے غلام ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ والتوحید ١٨ (٧٤٠٩) تعلیقًا، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨) ، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٨) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٠ (١٩٢٦) ، ( تحفة الأشراف : ٤١٤١، ٤٢٨٠) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/النکاح ٥٥ (٣٣٢٩) ، موطا امام مالک/الطلاق ٣٤ (٩٥) ، مسند احمد (٣/٢٢، ٢٦، ٤٧، ٤٩، ٥١، ٥٣، ٥٩، ٦٨) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ٢ ؎ : اس سے مطلقاً عزل کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آزاد عورت سے بغیر اس کے اذن کے مکروہ ہے اور لونڈیوں سے بغیر اذن کے بھی درست ہے۔
حدیث نمبر: 2170 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْعَزْلَ، قَالَ: فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان
ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور مرد ہونے کے ناطے مجھے شہوت ہوتی ہے، حالانکہ یہود کہتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی چھوٹی شکل ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : یہود جھوٹ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنا منظور ہوگا، تو تم اسے پھیر نہیں سکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٤٠٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٣، ٥١، ٥٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2171 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رِفَاعَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ َأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارِيَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرِّجَالُ، وَإِنَّ الْيَهُودَ تُحَدِّثُ أَنَّ الْعَزْلَ مَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، قَالَ: كَذَبَتْ يَهُودُ، لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان
عبداللہ بن محیریز کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہوا تو میں نے ابو سعید خدری (رض) کو دیکھا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، ان سے عزل کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں کچھ عربی لونڈیاں ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہم پر گراں گزرنے لگا ہم ان لونڈیوں کو فدیہ میں لینا چاہ رہے تھے اس لیے حمل کے ڈر سے ہم ان سے عزل کرنا چاہ رہے تھے، پھر ہم نے اپنے (جی میں) کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں تو آپ سے اس بارے میں پوچھنے سے پہلے ہم عزل کریں (تو یہ کیونکر درست ہوگا) چناچہ ہم نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نہ کرو تو تمہارا کیا نقصان ہے ؟ قیامت تک جو جانیں پیدا ہونے والی ہیں وہ تو ہو کر رہیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٠٩ (٢٢٢٩) ، العتق ١٣ (٢٥٤٢) ، المغازی ٣٢ (٤١٣٨) ، النکاح ٩٦ (٥٢١٠) ، القدیر ٦ (٦٦٠٣) ، التوحید ١٨ (٧٤٠٩) ، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨) ، ( تحفة الأشراف : ٤١١١) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/العتق (٥٠٤٤) ، مسند احمد (٣/٦٣، ٦٨، ٧٢، ٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2172 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، ثُمَّ قُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ : میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : چاہو تو عزل کرلو، جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا ، ایک مدت کے بعد وہ شخص آ کر کہنے لگا، کہ لونڈی حاملہ ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ : میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧١٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠ (٨٩) ، مسند احمد (٣/٣١٢، ٣٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2173 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ: اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کے سامنے جماع کا حال بیان کرنا جائز نہیں
ابونضرہ کہتے ہیں : مجھ سے قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے بیان کیا کہ مدینہ میں میں ایک بار ابوہریرہ (رض) کا مہمان ہوا میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی کو بھی مہمانوں کے معاملے میں ان سے زیادہ چاق و چوبند اور ان کی خاطر مدارات کرنے والا نہیں دیکھا، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں ان کے پاس تھا، وہ اپنے تخت پر بیٹھے تھے ان کے ساتھ ایک تھیلی تھی جس میں کنکریاں یا گٹھلیاں تھیں، نیچے ایک کالی کلوٹی لونڈی تھی، آپ (رض) ان کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے، جب (پڑھتے پڑھتے) تھیلی ختم ہوجاتی تو انہیں لونڈی کی طرف ڈال دیتے، اور وہ انہیں دوبارہ تھیلی میں بھر کردیتی ابوہریرہ (رض) کہنے لگے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنا ایک واقعہ نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، ضرور بتائیے، انہوں نے کہا : میں مسجد میں تھا اور بخار میں مبتلا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے اور کہنے لگے : کس نے دوسی جوان (ابوہریرہ) کو دیکھا ہے ؟ یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا، تو ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! وہ یہاں مسجد کے کونے میں ہیں، انہیں بخار ہے، چناچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا، اور مجھ سے بھلی بات کی تو میں اٹھ گیا، اور آپ چل کر اسی جگہ واپس آگئے، جہاں نماز پڑھاتے تھے، اور لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ دو صف مردوں اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صف عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر نماز میں شیطان مجھے کچھ بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز بھولے نہیں اور فرمایا : اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو ، پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر امابعد کہا اور پہلے مردوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اپنی بیوی کے پاس آ کر، دروازہ بند کرلیتا ہے اور پردہ ڈال لیتا ہے اور اللہ کے پردے میں چھپ جاتا ہے ؟ ، لوگوں نے جواب دیا : ہاں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد وہ لوگوں میں بیٹھتا ہے اور کہتا ہے : میں نے ایسا کیا میں نے ایسا کیا ، یہ سن کر لوگ خاموش رہے، مردوں کے بعد آپ ﷺ عورتوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے بھی پوچھا کہ : کیا کوئی تم میں ایسی ہے، جو ایسی باتیں کرتی ہے ؟ ، تو وہ بھی خاموش رہیں، لیکن ایک نوجوان عورت اپنے ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہو کر اونچی ہوگئی تاکہ آپ ﷺ اسے دیکھ سکیں اور اس کی باتیں سن سکیں، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! اس قسم کی گفتگو مرد بھی کرتے ہیں اور عورتیں بھی کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جانتے ہو ایسے شخص کی مثال کیسی ہے ؟ ، پھر خود ہی فرمایا : اس کی مثال اس شیطان عورت کی سی ہے جو گلی میں کسی شیطان مرد سے ملے، اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے، اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔ خبردار ! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ظاہر ہو رنگ ظاہر نہ ہو اور خبردار ! عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو بو ظاہر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے موسیٰ اور مومل کے یہ الفاظ یاد ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : خبردار ! کوئی مرد کسی مرد اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک بستر میں نہ لیٹے مگر اپنے باپ یا بیٹے کے ساتھ لیٹا جاسکتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ بیٹے اور باپ کے علاوہ ایک تیسرے آدمی کا بھی ذکر آپ ﷺ نے کیا جو میں بھول گیا وہ مسدد والی روایت میں ہے، لیکن جیسا یاد رہنا چاہیئے وہ مجھے یاد نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (٢٧٨٧) ، سنن النسائی/الزینة ٣٢ (٥١٢٠، ٥١٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٦) ویأتی ہذا الحدیث فی الحمام (٤٠١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٥٤١) (حسن لغیرہ) (اس کا ایک راوی شیخ طفاوة مبہم ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : صحیح الترغیب ٤٠٢٤ )
حدیث نمبر: 2174 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، كُلُّهُمْ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ طُفَاوَةَ، قَالَ: تَثَوَّيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى أَوْ نَوًى وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ وَهُوَ يُسَبِّحُ بِهَا حَتَّى إِذَا أَنْفَدَ مَا فِي الْكِيسِ، أَلْقَاهُ إِلَيْهَا فَجَمَعَتْهُ فَأَعَادَتْهُ فِي الْكِيسِ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُوعَكُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ ذَا يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي: مَعْرُوفًا، فَنَهَضْتُ فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى مَقَامَهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ وَمَعَهُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ، أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَقَالَ: إِنْ أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الْقَوْمُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ، قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا، فَقَالَ: مَجَالِسَكُمْ مَجَالِسَكُمْ، زَادَ مُوسَى هَا هُنَا، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرِّجَالِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ فَأَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ سِتْرَهُ وَاسْتَتَرَ بِسِتْرِ اللَّهِ ؟قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ يَجْلِسُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا فَعَلْتُ كَذَا ؟قَالَ: فَسَكَتُوا، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ ؟فَسَكَتْنَ، فَجَثَتْ فَتَاةٌ، قَالَ مُؤَمَّلٌ فِي حَدِيثِهِ: فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا، وَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَرَاهَا وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ ذَلِكَ ؟فَقَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانَةٍ لَقِيَتْ شَيْطَانًا فِي السِّكَّةِ فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، أَلَا وَإِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ، أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ رِيحُهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمِنْ هَا هُنَا حَفِظْتُهُ عَنْ مُؤَمَّلٍ وَ مُوسَى، أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ، وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَأُنْسِيتُهَا، وَهُوَ فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ، وَلَكِنِّي لَمْ أُتْقِنْهُ كَمَا أُحِبُّ، وقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الطُّفَاوِيِّ.
তাহকীক: