কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ২১৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کو مارنے کا بیان
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں (تنہا) چھوڑ دو ۔ حماد کہتے ہیں : یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف : ١٥٥٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧٢) (حسن )
حدیث نمبر: 2145 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي النِّكَاحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کو مارنے کا بیان
ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، چناچہ عمر (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : (آپ کے اس فرمان کے بعد) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ (مار پیٹ کرنے والے) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٥١ (١٩٨٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٦٧) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٦٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 2146 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کو مارنے کا بیان
عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٥١ (١٩٨٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٤٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٦٧) ، مسند احمد (١/٢٠) (ضعیف )
حدیث نمبر: 2147 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنی نظر پھیر لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الآداب ١٠ (٢١٥٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٢٨ (٢٧٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١) ، سنن الدارمی/الاستئذان ١٥ (٢٦٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر قصداً شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہگار ہوگا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے : ” آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے “۔
حدیث نمبر: 2148 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: اصْرِفْ بَصَرَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رض) سے کہا : علی ! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٢٨ (٢٧٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٠٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٥٩، ٥/٣٥١، ٣٥٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہوگی اس لئے اس پر گناہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 2149 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١١٨ (٥٢٤١) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٨ (٢٧٩٢) ، ( تحفة الأشراف : ٩٢٥٢) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٩٢٣١) ، مسند احمد (١/٣٨٧، ٤٤٠، ٤٤٣، ٤٦٢، ٤٦٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2150 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش (رض) کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا : عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ١ ؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آجائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢ (١٤٠٣) ، سنن الترمذی/الرضاع ٩ (١١٥٨) ، ( تحفة الأشراف : ٢٩٧٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٢١) ، مسند احمد (٣/٣٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بےپردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2151 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) لمم (چھوٹے گناہ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ (رض) سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چناچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ١٢ (٤٢٤٣) ، و القدر ٩ (٢٦١٢) ، صحیح مسلم/القدر ٥ (٢٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 2152 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٦٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٤٣، ٥٣٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
حدیث نمبر: 2153 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نگاہ نیچی رکھنے کا بیان
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٢٨٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2154 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَالْأُذُنُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے
ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی : والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں (سورۃ النساء : ٢٤) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٩ (١٤٥٦) ، سنن الترمذی/ النکاح ٣٦ (١١٣٢) ، تفسیر سورة النساء (٣٠١٦) ، سنن النسائی/النکاح ٥٩ (٣٣٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٤٤٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٧٢، ٨٤) ، سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2155 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْأَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24، أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے
ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے ، لوگوں نے کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہوجائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ٢٣ (١٤٤١) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٩٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٩٥، ٦/٤٤٦) ، سنن الدارمی/السیر ٣٨ (٢٥٢١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2156 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا، فَقَالَ: لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا : کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٣٩٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨، ٦٢، ٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2157 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا : سنو ! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے : اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے ، (آپ ﷺ کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کرلے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٣٤ (١١٣١) ، ( تحفة الأشراف : ٣٦١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠٨، سنن الدارمی/السیر ٣٧ (٢٥٢٠) ، ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (حسن )
حدیث نمبر: 2158 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْحَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ، يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنگ میں پکڑی ہوئی کافر قیدی عورتوں سے جماع جائز ہے
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کرلے ، اس میں بحيضة کا اضافہ ہے، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید (رض) کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے : اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف : ٣٦١٥) (حسن )
حدیث نمبر: 2159 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَحَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ، زَادَ فِيهِ: حَيْضَةٍ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ: وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے مختلف مسائل کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے : اللهم إني أسألک خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بک من شرها ومن شر ما جبلتها عليه اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں، جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے، اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٧ (١٩١٨) ، ( تحفة الأشراف : ٨٧٩٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الیوم واللیلة (٢٤٠) (حسن )
حدیث نمبر: 2160 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ فِي الْمَرْأَةِ وَالْخَادِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے مختلف مسائل کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے : بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٨ (١٤١) ، بدء الخلق ١ (٣٢٨٣) ، النکاح ٦٦ (٥١٦١) ، الدعوات ٥٥ (٦٣٨٨) ، التوحید ١٣ (٧٣٩٦) ، صحیح مسلم/النکاح ١٨ (١٤٣٤) ، سنن الترمذی/النکاح ٨ (١٠٩٢) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٧ (١٩١٩) ، ( تحفة الأشراف : ٦٣٤٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٠، ٢٤٣، ٢٨٣، ٢٨٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٢٩ (٢٢٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 2161 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی بیوی کی دبر (پاخانہ کے مقام) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٩ (١٩٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٢٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩٠١٥) ، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٣٤٤، ٤٤٤، ٤٧٩) ، سنن الدارمی/الطہارة ١١٤(١١٧٦) (حسن )
حدیث نمبر: 2162 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے مختلف مسائل کا بیان
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہوگا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم (سورۃ البقرہ : ٢٢٣) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة ٣٩ (٤٥٢٨) ، صحیح مسلم/النکاح ١٩(١٤٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٣٠٢٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/التفسیر ٣ (٢٩٧٨) ، سنن ابن ماجہ/ النکاح ٢٩ (١٩٢٥) ، سنن الدارمی/الطہارة ١١٣ (١١٧٢) ، النکاح ٣٠ (٢٦٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کھڑے اور بیٹھے ، آگے سے اور پیچھے سے، چت لٹا کر یا کروٹ بشرطیکہ دخول فرج میں ہو نہ کہ دبر میں۔
حدیث نمبر: 2163 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ: إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ فِي فَرْجِهَا مِنْ وَرَائِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے مختلف مسائل کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ ابن عمر (رض) کو بخشے ان کو أنى شئتم کے لفظ سے وہم ہوگیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود (جو کہ اہل کتاب ہیں کے) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی، چناچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کردیتے تھے اور آگے سے، پیچھے سے، اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے، مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی (مشہور) آسن رائج ہے، لہٰذا یا تو اس طرح کرو، ورنہ مجھ سے دور رہو، جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی خبر لگ گئی چناچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے، اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٦٣٧٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : کیوں کہ کھیتی اس مقام کو کہیں گے جہاں سے ولادت ہوتی ہے نہ کہ دبر کو جو نجاست کی جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 2164 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ أَوْهَمَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ مَعَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ يَهُودَ وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَكَانُوا يَرَوْنَ لَهُمْ فَضْلًا عَلَيْهِمْ فِي الْعِلْمِ فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ إِلَّا عَلَى حَرْفٍ وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ، فَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ الْأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْهُمُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَهَبَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْهُ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَى عَلَى حَرْفٍ، فَاصْنَعْ ذَلِكَ وَإِلَّا فَاجْتَنِبْنِي، حَتَّى شَرِيَ أَمْرُهُمَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، أَيْ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ، يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ.
তাহকীক: