কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ২১২৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو صحبت کرنے سے پہلے اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب علی (رض) نے فاطمہ (رض) سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : اسے کچھ دے دو ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : تمہاری حطمی زرہ ١ ؎ کہاں ہے ؟ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ٧٦ (٣٣٧٨) ، ( تحفة الأشراف : ٦٠٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ” حطمي “: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔ ٢ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2125 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهَا شَيْئًا، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو صحبت کرنے سے پہلے اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ (رض) سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اپنی زرہ ہی دے دو ، چناچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٥٦٦٨) (ضعيف )
حدیث نمبر: 2126 حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهَا دِرْعَكَ، فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو صحبت کرنے سے پہلے اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے
اس سند سے ابن عباس (رض) سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٦١٨٤) (ضعيف )
حدیث نمبر: 2127 حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو صحبت کرنے سے پہلے اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ (رض) سے نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٤ (١٦٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٦٩) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کردیا ہے )
حدیث نمبر: 2128 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَ خَيْثَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو صحبت کرنے سے پہلے اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہوگی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا (انعام وغیرہ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ٦٧ (٣٣٥٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٥) ، ( تحفة الأشراف : ٨٧٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٢) (ضعیف) (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی ١٠٠٧ )
حدیث نمبر: 2129 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَّةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دولھا کو مبارک باد کس طرح دینی چاہیے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے : بارک الله لک و بارک عليك وجمع بينكما في خير اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٧ (١٠٩١) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٣ (١٩٠٥) ، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٥٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٦٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨١) ، سنن الدارمی/النکاح ٦ (٢٢١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 2130 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نکاح کے بعد عورت کو حاملہ پائے تو کیا کرے؟
بصرہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور (پیدا ہونے والا) بچہ تمہارا غلام ہوگا، اور جب وہ بچہ جن دے - (حسن کی روایت میں) تو تو اسے کوڑے لگا (واحد کے صیغہ کے ساتھ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ (جمع کے صیغہ کے ساتھ) ، یا آپ ﷺ نے فرمایا : اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے : آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنادیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢٠٢٤ و ١٨٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
حدیث نمبر: 2131 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، يُقَالُ لَهُ: بَصْرَةُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ، قَالَ الْحَسَنُ: فَاجْلِدْهَا، وقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ: فَاجْلِدُوهَا، أَوْ قَالَ: فَحُدُّوهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَرْسَلُوهُ كُلُّهُمْ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نکاح کے بعد عورت کو حاملہ پائے تو کیا کرے؟
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ٢١٢٤، ١٨٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن نعیم لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 2132 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، زَادَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤١) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٩٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٩٥، ٣٤٧، ٤٧١) ، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 2133 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤٠) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٣٩٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (حماد بن زید اور دوسرے زیادہ ثقہ رواة نے اس کو عن ابی قلابة عن النبی ﷺ مرسلا روایت کیا ہے )
حدیث نمبر: 2134 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ. قال أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي الْقَلْبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا : میرے بھانجے ! رسول اللہ ﷺ ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ ﷺ سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ (رض) عمر رسیدہ ہوگئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں الگ کردیں گے تو کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ (رض) کے لیے رہے گی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ (رض) کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ : وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا (سورۃ النساء : ١٢٨) نازل کی : اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٠٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/النکاح ٩٩ (٥٢١٢) ، صحیح مسلم/التفسیر ١ (٣٠٢٢) ، مسند احمد (٦/١٠٧) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 2135 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، قَالَتْ: نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى، وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ، قَالَ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا سورة النساء آية 128.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ آیت کریمہ : ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں (سورۃ الاحزاب : ٥١) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول ﷺ اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں ؟ کہنے لگیں : میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٧ (٤٧٨٩) ، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٦) ، سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٨٩٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٧٦، ١٥٨، ٢٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2136 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51، قَالَتْ مَعَاذَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا : اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چناچہ ان سب نے آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١٧٦٨٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٤ (١٦١٨) ، مسند احمد (٦/٣١ ١٨٧، ٢٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2137 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ تَعْنِي فِي مَرَضِهِ فَاجْتَمَعْنَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ، فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي فَأَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں میں برابری کرنے کا بیان
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر (رض) نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ ﷺ نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ (رض) کے انہوں نے اپنی باری عائشہ (رض) کو دے رکھی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣) ، والنکاح ١٧ (٥٠٩٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٧٠٣، ١٦٦٧٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧٠) ، سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٨٩٢٣) ، مسند احمد (٦/ ١١٧، ١٥١، ١٩٧، ٢٦٩) ، سنن الدارمی/الجہاد ٣١ (٢٤٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2138 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّعَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر عورت کو دوسرے ملک میں نہ لے جانے شرط کرے
عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشروط ٦ (٢٧٢١) ، والنکاح ٥٣ (٥١٥١) ، صحیح مسلم/النکاح ٨ (١٤١٨) ، سنن الترمذی/النکاح ٢٢ (١١٢٧) ، سنن النسائی/النکاح ٤٢ (٣٢٨٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤١ (١٩٥٤) ، ( تحفة الأشراف : ٩٩٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٤، ١٥٠، ١٥٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٢١ (٢٢٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نکاح کے وقت یہ طے ہو کہ بیوی اپنے میکے ہی میں رہے گی اور شوہر اس شرط کو قبول کرلے تو ظاہر حدیث کے مطابق اب اس کو اس کے میکے سے نکالنے کا حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2139 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت پر شوہر کا حق کیا ہے
قیس بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول ! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا : بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١١٠٩٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ١٥٩ (١٥٠٤) (صحیح) (قبر پر سجدہ کرنے والا جملہ صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 2140 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: رَسُولُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ ؟قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا،لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ، لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَقِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت پر شوہر کا حق کیا ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٧) ، والنکاح ٨٥ (٥١٩٤) ، صحیح مسلم/النکاح ٢٠ (١٤٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٤٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٣٩، ٤٨٠) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٨ (٢٢٧٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 2141 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَلَمْ تَأْتِهِ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر پر عورت کا کیا حق ہے
معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ١ ؎ اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولا تقبح کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے قبحک الله نہ کہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٣(١٨٥٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٣٩٦) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٧١) ، مسند احمد (٤/٤٤٧، ٥/٣) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگاؤ گھر ہی میں رکھو بطور سرزنش صرف بستر الگ کر دو ۔
حدیث نمبر: 2142 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ أَوِ اكْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَا تُقَبِّحْ، أَنْ تَقُولَ: قَبَّحَكِ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر پر عورت کا کیا حق ہے
حدیث نمبر : 2143 معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : اپنی کھیتی ١ ؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو، اور نہ ہی اس کو مارو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعبہ نے أطعمها إذا طعمت واکسها إذا اکتسيت کے بجائے تطعمها إذا طعمت وتکسوها إذا اکتسيت روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١١٣٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (٩١٦٠) ، مسند احمد ( ٥/٣، ٥) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی قبل (شرمگاہ) میں جس طرف سے بھی چاہو آؤ، نہ کہ دبر (پاخانہ کے راستہ) میں کیونکہ دبر حرث ” کھیتی “ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ: ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ، وَأَطْعِمْهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تُقَبِّحْ الْوَجْهَ وَلَا تَضْرِبْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى شُعْبَةُ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر پر عورت کا کیا حق ہے
معاویہ قشیری (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ، اور نہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف : ١١٣٩٥) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (٩١٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2144 أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُهَلَّبِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْدَاوُدَ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا ؟ قَالَ: أَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْتَسُونَ، وَلَا تَضْرِبُوهُنَّ وَلَا تُقَبِّحُوهُنَّ.
তাহকীক: