কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১৪৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٩٠٥، ١٨٦٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٧٢، ١٧٥، ١٧٩) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٤ (٣٥٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں : ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے : قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر : ١٤٧٢) ، تیسرے : عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔
حدیث نمبر: 1469 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَعْنَاهُ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْسَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: هُوَ فِي كِتَابِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے
اس سند سے بھی سعد (رض) سے اسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٩٠٥، ١٨٦٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1470 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنْ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ (رض) کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا : وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے : جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا : اے ابو محمد ! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٩٠٥) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 1471 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ ؟ قَالَ: يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ (دیگر کتب یا ادیان سے) بےنیاز ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1472 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرائت میں کس طرح سے ترتیل کرنا مستحب ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٩ (٥٠٢٤) ، والتوحید ٣٢ (٧٤٨٢) ، ٥٢ (٧٥٤٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٤ (٧٩٢) ، سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧١، ٢٨٥، ٤٥٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧١ (١٥٢٩) ، و فضائل القرآن ٣٣ (٣٥٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1473 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، وَحَيْوَةُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن حفظ کرنے کے بعد اس کو بھلا دینے پر وعید
سعد بن عبادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ١ ؎ ہو کر ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٨٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥، ٣٢٣) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣ (٣٣٨٣) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں ، نیز : عیسیٰ نے اسے براہ راست سعد بن عبادہ (رض) سے نہیں سنا ہے ) وضاحت : ١ ؎ : کوڑھ کے سبب جس کے ہاتھ کٹ کر گرگئے ہوں۔
حدیث نمبر: 1474 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید سات طرح پر نازل ہونے کا بیان
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام (رض) کو سورة الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ١ ؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے انہیں سورة الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہشام سے فرمایا : تم پڑھو ، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا : تم پڑھو ، میں نے بھی پڑھا، آپ ﷺ نے فرمایا : اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر فرمایا : قرآن مجید سات حرفوں ٢ ؎ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخصومات ٤ (٢٤١٩) ، و فضائل القرآن ٥ (٤٩٩٢) ، ٢٧ (٥٠٤١) ، والمرتدین ٩ (٦٩٣٦) ، والتوحید ٥٣ (٧٥٥٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤٨ (٨١٨) ، سنن الترمذی/القراء ات ١١ (٢٩٤٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٨، ٩٣٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٩١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ القرآن ٤ (٥) ، مسند احمد (١/ ٤٠، ٤٢، ٤٣، ٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی انہیں قرات سے روک دوں۔ ٢ ؎ : علامہ سیوطی نے ” الاتقان “ میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جو عرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
حدیث نمبر: 1475 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْفَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِيَ: اقْرَأْفَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید سات طرح پر نازل ہونے کا بیان
زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف (اگرچہ بظاہر مختلف ہوں) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح )
حدیث نمبر: 1476 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ لَيْسَ تَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید سات طرح پر نازل ہونے کا بیان
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابی ! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک حرف پر یا دو حرف پر ؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا : کہو : دو حرف پر، میں نے کہا : دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا : دو حرف پر یا تین حرف پر ؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا : کہو : تین حرف پر، چناچہ میں نے کہا : تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم سميعا عليما کہو یا عزيزا حكيما جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف : ٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥ /١٢٤، ١٢٧، ١٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1477 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُبَيُّ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفٍ أَوْ حَرْفَيْنِ ؟، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ؟، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، إِنْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا عَزِيزًا حَكِيمًا مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن مجید سات طرح پر نازل ہونے کا بیان
ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا : اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا : اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٤٨ (٨٢١) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1478 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍفَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا کا بیان
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دعا عبادت ہے ١ ؎، تمہارا رب فرماتا ہے : مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا (سورۃ غافر : ٦٠) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر البقرة ٣ (٢٩٦٩) ، تفسیر المؤمن ٤١ (٣٢٤٧) ، الدعوات ١ (٣٣٧٢) ، ن الکبری/ التفسیر (١١٤٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١ (٣٨٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دعا جب عبادت ہے تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہوگا، کیونکہ عبادت و بندگی کی جملہ قسمیں اللہ ہی کو زیب دیتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1479 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60.
তাহকীক: