কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১৪০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ سورة ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/سجود القرآن ٣ (١٠٦٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٨ (الجمعة ٥٣) (٥٧٧) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٨ (٩٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1409 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْجُدُ فِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورة کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ سجدہ دراصل ایک نبی ١ ؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چناچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف : ٤٢٧٦) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح ) وضاحت : وضاحت : اس سے مراد داود (علیہ السلام) ہیں۔
حدیث نمبر: 1410 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف : ٨٤٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے )
حدیث نمبر: 1411 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سورة پڑھ کر سناتے (ابن نمیر کی روایت میں ہے) نماز کے علاوہ میں (آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں) ، پھر آپ ﷺ (سجدہ کی آیت آنے پر) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/سجود القرآن ٨ (١٠٧٥) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٠٠٨، ٨٠١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٥٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1412 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو الله أكبر کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں الله أكبر کا ذکر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٧٧٢٦) (منکر) (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے ، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے )
حدیث نمبر: 1413 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کی دعا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٠ (الجمعة ٥٥) (٥٨٠) ، والدعوات ٣٣ (٣٤٢٥) ، سنن النسائی/التطبیق ٧٠ (١١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠، ٢١٧) (صحیح) ( ترمذی اور نسائی کے یہاں سند میں عن رجل (مجہول راوی) نہیں ہے ، اور خالد الخداء کی روایت ابوالعالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں )
حدیث نمبر: 1414 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص صبح کی نماز کے بعد آیت سجدہ تلاوت کرے تو وہ سجدہ کب کرے؟
ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور (سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر (رض) نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧١١٠) ، وقد أخرجہ : (حم (٢/٢٤، ١٠٦) (ضعیف) ( اس کے راوی ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1415 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَسْجُدُ، فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے قرآن والو ! ١ ؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦، (٤٥٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٥ (١٦٧٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٩) ،(تحفة الأشراف : ١٠١٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٠، ١١٥، ١٢٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح) (ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے ، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ ﷺ نے اعرابی سے ليس لک ولا لأصحابک جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1416 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے : ایک اعرابی نے کہا : آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢٧) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1417 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر (طاق) پڑھنا سنت ہے
خارجہ بن حذافہ عدوی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١٥، الوتر ١ (٤٥٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٥٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) (لیکن هي خير لکم من حمر النعم کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں ، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے ، اس کے راوی عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
حدیث نمبر: 1418 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تارک وتر کے بارے میں وعید
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : وتر حق ہے ١ ؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے الوتر حق وليس بواجب یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
حدیث نمبر: 1419 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تارک وتر کے بارے میں وعید
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا : وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا : میں یہ سن کر عبادہ بن صامت (رض) کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا : ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہوگا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہوگی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہوگا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصلاة ٦ (٤٦٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠١) ، (تحفة الأشراف : ٥١٢٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٤) ، مسند احمد (٥/٣١٥، ٣١٩، ٣٢٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ ﷺ اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔
حدیث نمبر: 1420 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں رکعات کی تعداد
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩) ، سنن النسائی/ قیام اللیل ٣٢ (١٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٠، ٥٨، ٧١، ٧٦، ٧٩، ٨١، ١٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہوگا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد ( اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنادینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہیں ، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے ، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔
حدیث نمبر: 1421 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا: مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں رکعات کی تعداد
ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧١) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٣ (١١٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ٥/٤١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٠(١٦٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 1422 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل للذين کفروا (یعنی قل ياأيها الکافرون ) اور الله الواحد الصمد (یعنی قل هو الله أحد ) پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠، ١٧٠١، ١٧٠٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ مستحب ہے اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں مذکورہ سورتوں کے علاوہ دوسری سورتیں پڑھے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔
حدیث نمبر: 1423 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا و اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ قل هو الله أحد اور معوذتین (یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (الوتر ٩) (٤٦٣) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢٧) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبدالعزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ (رض) سے ثابت نہیں )
حدیث نمبر: 1424 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان
حسن بن علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جو اس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں ) وہ کلمات یہ ہیں : اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، و بارک لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تبارکت ربنا وتعاليت ١ ؎۔ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٤ (الوتر ٩) (٤٦٤) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٧ (١١٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٩٩، ٢٠٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٤ (١٦٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے وصلى الله على النبي محمد کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (١/٦٦) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (١٠٩٧) میں ابی بن کعب (رض) کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر (رض) کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح اسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی ﷺ (١٠٧) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 1425 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان
اس طریق سے بھی ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور أقولهن في الوتر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 1426 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: هَذَا يَقُولُ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک، وبمعافاتک من عقوبتک، وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب (رض) سے اور ابی نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب (رض) کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تخريج : سنن الترمذی/الدعوات ١١٣ (٣٥٦٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٨) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٤١ (١٧٣٩) سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٧ (١١٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٧) ، وقد أخرجہ : حم (١/٩٦، ١١٨، ١٥٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1427 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ، يَعْنِي فِي الْوِتْرِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ. رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ. رَوَاهُ وَشُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ زُبَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِإِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ، عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب (رض) نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٩) (ضعیف) (ابی بن کعب (رض) سے روایت کرنے والے بعض اصحاب مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 1428 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَمَّهُمْ، يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.
তাহকীক: