কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ১৪২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قنوت پڑھنے کا بیان
حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو ابی بن کعب (رض) کی امامت پر جمع کردیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب (رض) کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت پڑھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠) (ضعیف) (حسن بصری اور عمر بن خطاب (رض) کے درمیان سند میں انقطاع ہے ) وضاحت : ١ ؎ : جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1429 حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيٌّ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ فِي الْوِتْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کے بعد کی دعا
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وتر میں سلام پھیرتے تو سبحان الملک القدوس کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٤٨ (١٧٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 1430 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ، قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کے بعد کی دعا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسے پڑھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٥ (الوتر ٩) (٤٦٥) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٢ (١١٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١، ٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں، جیسا کہ بعض روایتوں میں رات کے وظیفہ کے بارے میں آیا ہے کہ اگر رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں قضا کرے۔
حدیث نمبر: 1431 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا : چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٤٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التہجد ٣٣ (١١٧٨) ، والصیام ٦٠ (١٩٨١) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢١) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٧٨) ، والصیام ٧٠ (٢٣٧١) ، ٨١ (٢٤٠٧) ، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٣، ٢٥٤، ٢٥٨، ٢٦٠، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٧٧، ٣٢٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٥) ، والصوم ٣٨ (١٧٨٦) (صحیح) دون قولہ : ” في سفر ولاحضر “ وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ نے ابوہریرہ (رض) کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہوجایا کرے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
حدیث نمبر: 1432 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٥) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ١٣(٧٢٢) ، مسند احمد (٦/٤٤٠، ٤٥١) (صحیح) (مگر حضر و سفر کا لفظ صحیح نہیں ہے ، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے )
حدیث نمبر: 1433 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) سے پوچھا : تم وتر کب پڑھتے ہو ؟ ، انہوں نے عرض کیا : میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ ﷺ نے عمر (رض) سے پوچھا : تم کب پڑھتے ہو ؟ ، انہوں نے عرض کیا : آخر شب میں، آپ ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1434 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَتَى تُوتِرُ، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَتَى تُوتِرُ، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا وقت
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ وتر کب پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٢(٩٩٦) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١٨ (الوتر ٤) (٤٥٧) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٠ (١٦٨٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢١(١١٨٦) ، مسند احمد (٦/ ٤٦، ١٠٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٥، ٢٠٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1435 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنْ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا وقت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٦ (٤٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٨١٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥٠) ، مسند احمد ١(٢/٣٧، ٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1436 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا وقت
عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا : انہوں نے کہا : کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا : آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی ؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ (رض) کی مراد غسل جنابت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٢ (٤٤٩) ، فضائل القران ٢٣ (٢٩٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٢١ (١٦٦٣) ، مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٩، ١٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1437 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا وقت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٥١) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٠، ١٠٢، ١٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1438 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر دو مرتبہ نہیں پڑھے جا سکتے
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی (رض) رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے روزہ افطار کیا، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا : اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٧ (الوتر ١٣) (٤٧٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 1439 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کرتے ہوئے کہا : اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا، چناچہ ابوہریرہ (رض) ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٧) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٢٧٦) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٨ (١٠٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٢١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصلاة ٤(١٩) ، مسند احمد (٢/٢٥٥، ٣٣٧، ٤٧٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 1440 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَيَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
براء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔ ابن معاذ نے صلاة المغرب (نماز مغرب میں بھی) کا بھی اضافہ کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠١) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٩ (١٠٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٨٥، ٢٩٩، ٣٠٠) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 1441 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ. ح حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا: كُلُّهُمْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ. زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ: وَصَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے :اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتک على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں پڑا تھا) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ (اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ) آ چکے ہیں ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین (٦٧٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٨ (٨٠٤) ، والاستسقاء ٢ (١٠٠٦) ، والجہاد ٩٨ (٢٩٣٢) ، والأنبیاء ١٩ (٣٣٨٦) ، و تفسیر آل عمران ٩ (٤٥٦٠) ، و تفسیر النساء ٢١ (٤٥٩٨) ، والدعوات ٥٨ (٦٣٩٣) ، والإکراہ ١ (٦٩٤٠) ، والأدب ١١٠ (٦٢٠٠) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الاقامة ١٤٥ (١٢٤٤) ، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٥، ٢٧١، ٤١٨، ٤٧٠ ، ٥٠٧، ٥٢١) (صحیح) دون قولہ : ” فذکرت “
حدیث نمبر: 1442 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں سمع الله لمن حمده کہتے تو آپ ﷺ بنی سلیم کے قبائل : رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٢٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٠١) (حسن )
حدیث نمبر: 1443 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا : رکوع سے پہلے یا بعد میں ؟ تو انہوں نے کہا : رکوع کے بعد میں ١ ؎۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٧ (١٠٠١) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧) ، سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٠ (١١٨٢ و ١١٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٥٣) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٣٧) ، مسند احمد (٣/١١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قنوت کی دو قسمیں ہیں : قنوت نازلہ اور قنوت وتر یہاں حدیث میں قنوت نازلہ مراد ہے اور یہ رکوع کے بعد فرض نماز میں دشمنان اسلام کے لئے بددعا کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ ٢ ؎ : یہ مدت ایک مہینہ پر مشتمل تھی۔
حدیث نمبر: 1444 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٨٤، ٢٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 1445 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَنَتَ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وتر میں دعا قنوت پڑھنے کا بیان
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٦٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 1446 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر میں نفل پڑھنے کی فضلیت
زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کردی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ ﷺ ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا : لوگو ! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کردی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ١ ؎ سوائے فرض نماز کے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظرحدیث رقم (١٠٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم تمام نفلی نماز کو شامل ہے البتہ اس حکم سے وہ نماز مستثنیٰ ہے جس کا شمار شعائر اسلام میں سے ہے مثلاً عیدین، استسقا اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی نماز۔
حدیث نمبر: 1447 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَصَلَّوْا مَعَهُ لِصَلَاتِهِ، يَعْنِي رِجَالًا، وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا بَابَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر میں نفل پڑھنے کی فضلیت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی نماز میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو، اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (١٠٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٨١٤٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 1448 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.
তাহকীক: