কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم نماز دیر سے پڑھائے تو کیا کرنا چاہیے؟
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ابوذر ! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ؟ یا فرمایا : نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو (دوبارہ) پڑھ لیا کرو ١ ؎، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (١٧٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٥٠) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠) ، ٥٥ (٨٦٠) ، مسند احمد (٥/١٦٨، ١٦٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٥ (١٢٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، اور بعض لوگوں نے اس حدیث کو ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب کو دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 431 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ؟ أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم نماز دیر سے پڑھائے تو کیا کرنا چاہیے؟
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل (رض) رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہوگئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے ؟ (تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) ہیں) چناچہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے ؟ ، تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٤٨٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤) ، سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٥) ، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٥٥، ٤٥٩) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں : ایک تو یہ کہ نماز اوّل وقت میں پڑھنا افضل ہے، دوسرے یہ کہ جماعت کے لئے اسے مؤخر کرنا جائز نہیں، تیسرے یہ کہ جو نماز پڑھ چکا ہو اس کا اسی دن اعادہ (دہرانا) جائز ہے بشرطیکہ اس اعادہ کا کوئی سبب ہو، ایک ہی نماز کو ایک ہی دن میں دوبارہ پڑھنے کی جو ممانعت آئی ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کا کوئی سبب نہ ہو، چوتھے یہ کہ پہلی نماز فرض ہوگی اور دوسری جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہے نفل ہوگی۔
حدیث نمبر: 432 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ، قَالَ: فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي، فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا ؟ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم نماز دیر سے پڑھائے تو کیا کرنا چاہیے؟
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کردیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو ۔ سفیان نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے : اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو اگر تم چاہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٥١ (١٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣١٥، ٣٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 433 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَالْمَعْنَى، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: إِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم نماز دیر سے پڑھائے تو کیا کرنا چاہیے؟
قبیصہ بن وقاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہوگی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قبلہ رخ وہی نماز پڑھتا ہے جو مسلمان ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ نماز پڑھتے اور اسے قائم کرتے رہیں وہ مسلمان ہیں، نیک کاموں میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
حدیث نمبر: 434 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ يَعْنِي الزَّعْفَرَانِيَّ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوْا الْقِبْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ ﷺ نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال (رض) سے فرمایا : (تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا ، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا : اے بلال ! انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ١ ؎، پھر نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : نماز قائم کرو جب یاد آئے ۔ یونس کہتے ہیں : ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی للذکرى لیکن مشہور قرأت :أقم الصلاة للذکرى (سورۃ طہٰ : ١٢) ہے) ۔ احمد کہتے ہیں : عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں للذکرى کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں : الكرى نعاس (اونگھ) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/التفسیر ٢٠ (٣١٦٣) ، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٩، ٦٢٠) ، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٦(٢٥ مرسلاً ) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وہاں سے سواریوں کو ہانک کرلے جانے اور کچھ دور جا کر نماز پڑھنے کی وجہ کیا تھی ؟ اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، اصحاب رائے کا کہنا ہے کہ ایسا اس وجہ سے کیا تھا کہ سورج اوپر چڑھ آئے اور وہ وقت ختم ہوجائے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے، ان کے نزدیک فوت شدہ نماز بھی ان وقتوں میں پڑھنی جائز نہیں لیکن ائمہ دین : مالک، اوزاعی، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ کے نزدیک چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہر وقت جائز ہے، ممنوع اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت نفل نماز کے ساتھ خاص ہے، چناچہ اس کی تاویل ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ آپ ﷺ اس جگہ سے ہٹ کر نماز پڑھنی چاہتے تھے جہاں آپ کو غفلت و نسیان لاحق ہوا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 435 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ، قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ، فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0، قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ عَنْبَسَةُ يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لِذِكْرِي، قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوہریرہ (رض) سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ١ ؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ٢ ؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٣٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس روایت میں اذان کا اضافہ ہے، یونس والی روایت میں اذان کا ذکر نہیں، چھوٹی ہوئی نماز کے لئے اذان دی جائے گی یا نہیں اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، امام احمد کی رائے میں اذان اور اقامت دونوں کہی جائے گی ، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے، امام شافعی کا مشہور قول یہ ہے کہ صرف تکبیر کہی جائے گی اذان نہیں۔ ٢ ؎ : یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین (رض) سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ (رض) کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آرہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 436 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، لم يذكر أحد منهم الأذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم أحد، إلا الأوزاعي، وأبان العطار، عَنْ مَعْمَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : دیکھو، (یہ کون آ رہے ہیں) ؟ ، اس پر میں نے کہا : یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم ہماری نماز کا (یعنی نماز فجر کا) خیال رکھنا ، اس کے بعد انہیں نیند آگئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چناچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال (رض) نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے : ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٨٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٧) ، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٨) ، مسند احمد (٥/٣٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 437 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: انْظُرْ، فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ، حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلَاةٍ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری (رض) نے جو رسول اللہ ﷺ کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا (اور پھر یہی قصہ بیان کیا) ، اس میں ہے : تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ٹھہرو، ٹھہرو، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں ، چناچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، اذان دی گئی پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ١٢٠٨٩) (شاذ) (اس کے راوی خالد بن سمیر وہم کے شکار ہوجاتے تھے اور اس حدیث میں ان سے کئی جگہ وہم ہوا ہے جو بقیہ احادیث سے واضح ہے )
حدیث نمبر: 438 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ الْمَدِينَةِ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَلَمْ تُوقِظْنَا إِلَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا، حَتَّى إِذَا تَعَالَتِ الشَّمْسُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَرْكَعْهُمَا، فَقَامَ مَنْ كَانَ يَرْكَعُهُمَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَرْكَعُهُمَا فَرَكَعَهُمَا، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادَى بِالصَّلَاةِ فَنُودِيَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أَلَا إِنَّا نَحْمَدُ اللَّهَ أَنَّا لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا يَشْغَلُنَا عَنْ صَلَاتِنَا، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَرْسَلَهَا أَنَّى شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيَقْضِ مَعَهَا مِثْلَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوقتادہ (رض) سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، چناچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٣٥ (٥٩٥) ، سنن النسائی/الإمامة ٤٧ (٨٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 439 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ، وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ. فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوقتادہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے : تو آپ ﷺ نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 440 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٧) ، سنن النسائی/المواقیت ٥٣(٦١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 441 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٧ (١٧٨) ، سنن النسائی/المواقیت ٥١ (٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٣٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/المواقیت ٣٧ (٥٩٧) ، مسند احمد (٣/١٠٠، ٢٤٣، ٢٦٦، ٢٦٩، ٢٨٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٦ (١٢٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 442 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر (کی فرض نماز) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر (مؤذن نے) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٨١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التیمم ٦ (٣٤٤) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٢) (کلا ھما من غیر طریق الحسن) ، مسند احمد (٤/٤٣١، ٤٤١، ٤٤٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 443 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَامُوا عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَاسْتَيْقَظُوا بِحَرِّ الشَّمْسِ، فَارْتَفَعُوا قَلِيلًا حَتَّى اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
عمرو بن امیہ ضمری (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا : اس جگہ سے کوچ کر چلو ، پھر آپ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ ﷺ نے انہیں فجر پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٩١، ١٣٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 444 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
ذی مخبر حبشی (رض) (خادم رسول اللہ ﷺ ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ ﷺ نے بلال (رض) کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال (رض) سے کہا : نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ ﷺ نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة ہے اور عبید کی روایت میں يزيد بن صليح کے بجائے يزيد بن صالح. ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٨) ، وقد أخرجہ : (٤/٩٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 445 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَامُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: أَقِمْ الصَّلَاةَ. ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، قَالَ: عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ، وقَالَ عُبَيْدٌ: يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٨) (شاذ) (ولید بن مسلم مدلس ہیں اور دیگر رواة کی مخالفت کرتے ہوے اذان کی بابت بھی وھو غیر عجل بڑھا دیا ہے )
حدیث نمبر: 446 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا : رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا ؟ ، بلال (رض) نے کہا : میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے ۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں : چناچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المواقیت ٥٤ (٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦، ٣٩١، ٤٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے ، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہوگی۔
حدیث نمبر: 447 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَكْلَؤُنَا، فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد بنانے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٢ (٧٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 448 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد بنانے کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المساجد ٢ (٦٩٠) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ٢ (٧٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٣٤، ١٧٥، ٢٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک دوسرے پر فخر کرے گا کہ میری مسجد بلند، عمدہ اور مزین ہے، ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش اور زیادہ روشنی شرعاً ممنوع اور ناپسندیدہ ہے، مسجد کی اصل زینت اور آرائش یہ ہے کہ وہاں پنچ وقتہ اذان و اقامت اور سنت کے مطابق نماز اپنے وقت پر ہو۔
حدیث نمبر: 449 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد بنانے کا بیان
عثمان بن ابی العاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٣ (٧٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابن عیاض لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 450 حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَوَاغِيتُهُمْ.
তাহকীক: