আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৬৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
عمرو بن محمد ناقد، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ تنعیم کے پہاڑ سے مکہ والوں کے اسی آدمی جو کہ اسلحہ سے مسلح تھے رسول اللہ ﷺ پر اترے وہ لوگ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) کو غفلت میں رکھ کر آپ ﷺ پر حملہ کرنا چاہتے تھے آپ ﷺ نے ان لوگوں کو پکڑ کر پھر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی اور وہی ہے جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ هَبَطُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے غزوہ حنین کے دن ان کے پاس جو خنجر تھا وہ لیا۔ حضرت ابوطلحہ (ام سلیم کے ہاتھ میں خنجر) دیکھا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ ام سلیم ہیں جن کے پاس ایک خنجر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) سے فرمایا یہ خنجر کیسا ہے حضرت ام سلیم (رض) نے عرض کیا اگر مشرکوں میں سے کوئی مشرک میرے پاس آئے گا تو میں اس کے ذریعہ سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے ام سلیم (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے طلقاء میں سے وہ لوگ کہ جنہوں نے آپ ﷺ سے شکست کھائی ہے کیا میں ان کو قتل کردوں یعنی جو فتح مکہ کے موقع پر مکہ والوں میں سے مسلمان ہوئے ان کے شکست کھا جانے کے وجہ سے ام سلیم نے ان کو منافق سمجھا اس لئے ان کو قتل کرنے کا عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم بیشک اللہ کافی ہے اور اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَکَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْخِنْجَرُ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَائِ انْهَزَمُوا بِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، اس سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رض) نے ام سلیم (رض) کا یہ واقعہ نبی ﷺ سے روایت کیا ثابت کی حدیث کی طرح۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جہاد کرتے تو ام سلیم اور انصار کی کچھ عورتیں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَائَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دار می، عبداللہ بن عمر، ابومعمر منقری، عبدالوارث، عبدالعزیز، ابن صہیب، انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن صحابہ (رض) میں سے بعض صحابہ (رض) شکست کھا کر نبی ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ابوطلحہ (رض) نبی ﷺ کے سامنے ڈھال سے آپ ﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھے اور ابوطلحہ بہت زبردست تیر انداز تھے اور اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑیں تھیں اور جب کوئی آدمی آپ ﷺ کے پاس سے تیروں کا ترکش لئے گزرتا تو آپ ﷺ فرماتے انہیں ابوطلحہ کے لئے بکھیر دو اور اللہ کے نبی ﷺ گردن اٹھا اٹھا کر قوم کو دیکھ رہے تھے تو ابوطلحہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ گردن نہ اٹھائیں کہیں دشمنوں کے تیروں میں سے کوئی آپ ﷺ کو نہ لگ جائے اور میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے رہے انس (رض) کہتے ہیں تحقیق ! میں نے حضرت عائشہ (رض) بنت ابوبکر (رض) اور ام سلیم (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنے دامن اٹھائے تھیں کہ میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیبوں کو دیکھا اور وہ دونوں اپنی پشتوں پر مشکیزے بھر کر لا رہی تھیں اور صحابہ (رض) کے منہ میں ڈال کر لوٹ آتیں پھر بھرتیں پھر آتیں اور صحابہ (رض) کے منہ میں ڈال دیتی تھیں اور اس دن ابوطلحہ (رض) کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ نیند کی وجہ سے تلوار گرگئی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ قَالَ وَکَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَکَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنْ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَی الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْکَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِکَ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَی خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَی مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنْ النُّعَاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز (رض) سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو ابن عباس (رض) نے کہا اگر مجھے علم چھپانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہ لکھتا، ان کی طرف نجدہ نے لکھا کہ آپ مجھے خبر دیں کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان کے لئے حصہ مقرر فرماتے تھے اور کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ کس کا حق ہے۔ ابن عباس (رض) نے اس کی طرف (جواباً ) تحریر فرمایا تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا، کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں جہاد میں ساتھ لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطا بھی کیا جاتا تھا بہرحال مال غنیمت میں سے ان کے لئے حصہ مقرر نہ کیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کرنا اور تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوجاتی ہے، تو میری عمر کی قسم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی داڑھی نکل آتی ہے لیکن وہ اپنے لینے اور دینے میں کمزور ہوتے ہیں پس جب وہ باسلیقہ لوگوں کی طرح اپنا فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجائے گی اور تو نے مجھ سے مال غنیمت میں پانچواں حصہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اس کا حقدار کون ہے ہم کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا حق ہے لیکن قوم نے ہمیں یہ حق دینے سے انکار کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلَا أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ کَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَهَلْ کَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ کَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی وَيُحْذَيْنَ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَائِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَی عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم بن اسماعیل، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، اس سند سے یہ حدیث مروی ہے حضرت یزید بن ہرمز سے ہے کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور اس نے چند باتوں کے بارے میں پوچھا باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کیا کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے بھی وہ علم حاصل ہوجائے جو حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں عطا ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کردیا دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ تو مومن کی تمیز کر کافر کو قتل کر دے اور جو مومن ہو اسے چھوڑ دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید مقبری، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز (رض) سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس (رض) سے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ دونوں مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربی کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو ابن عباس (رض) نے یزید سے کہا اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہوجائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا لکھو تو نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں بھی کچھ ملے گا ان کے لئے سوائے عطیہ کے کوئی حصہ نہیں ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل نہیں کیا اور تو بھی انہیں قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے وہ علم ہوجائے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی (حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگیا تھا جنہیں انہوں نے قتل کیا اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ یتیم سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے یتیم سے یتیمی کا نام اس کے بالغ ہونے تک ختم نہیں ہوتا اور سمجھ کے آثار کے نمودار ہونے تک اور تو نے مجھ سے ذوالقربی کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ وہ کون ہیں ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے بارے میں اس بات کا انکار کردیا۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اکْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ اکْتُبْ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْئٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّی يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
عبدالرحمن بن بشر عبدی، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید بن ابوسعید، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس کو لکھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، وہب، ابن جریر، ابن حازم، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر (رض) نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور اس میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر تھا جب انہوں نے اس کے خط کو پڑھا اور اس کا جواب لکھا ابن عباس (رض) نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو یعنی کسی برے کام میں پڑجائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا اور نہ اس کی آنکھیں خوش ہوتیں پس ابن عباس نے نجدہ کی طرف لکھا کہ تو نے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے میں پوچھا (جن کا اللہ نے ذکر فرمایا) کہ وہ کون ہیں ہم نے خیال کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے ہم لوگ ہی مراد ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے اس خیال کو ماننے سے انکار کردیا اور تو نے یتیم کے بارے میں پوچھا ہے کہ اس کی مدت یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ جب وہ نکاح کے قابل ہوجائے اور اس سے سمجھداری محسوس ہونے لگے تو اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجاتی ہے اور تو نے پوچھا ہے کیا رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا اور تو بھی ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے ان کے بارے میں وہی علم ہوجائے جو خضر (علیہ السلام) کو بچے کے بارے میں اس کے قتل کے وقت ہوا تھا اور تو نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کیا ان کا حصہ مقرر شدہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کے لئے کوئی مقرر شدہ حصہ مال غنیمت میں سے نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کے مال غنیمت میں سے انہیں کچھ بطور ہدیہ وعطیہ دید یا جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ کِتَابَهُ وَحِينَ کَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّکَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی الَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّکَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدْ انْقَضَی يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِکِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ کَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوکریب، ابواسامہ، زائدہ، سلیمان، اعمش، مختار بن صیفی، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) کو لکھا اور پھر کچھ حدیث ذکر کی اور پورا قصہ ذکر نہیں کیا جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ذکر کیا گیا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ کَإِتْمَامِ مَنْ ذَکَرْنَا حَدِيثَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ انصاریہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں گئی میں مجاہدین کے پیچھے والے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا بناتی اور زخمیوں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَی وَأَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان، حضرت ہشام بن حسان نے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید (رض) لوگوں کو استسقاء کی نماز پڑھانے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر بارش کی دعا مانگی راوی کہتے ہیں کہ اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم (رض) سے ہوئی اور میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے غزوات میں شرکت کی انہوں نے کہا انیس غزوات میں آپ ﷺ شریک ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کتنے غزوات میں ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا سترہ غزوات میں، میں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کا سب سے پہلا غزوہ کونسا تھا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُسَيْرِ یا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُشَيْرِ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَی قَالَ فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَقَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ کَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ کَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَالَ ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوْ الْعُشَيْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، زہیر، ابواسحاق، زید بن ارقم، حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیئس غزوات میں شرکت کی اور آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد ایک حج کیا حجہ الوداع کے علاوہ آپ ﷺ نے اور کوئی حج نہیں کیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ سَمِعَهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَحَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انیس غزوات میں شریک تھا حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر اور احد کے غزو وں میں شریک نہیں ہوا کیونکہ مجھے میرے باپ نے روک دیا تھا تو جب حضرت عبداللہ (رض) غزوہ احد میں شہید ہوگئے تو پھر میں کسی بھی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، سعید بن محمد حرمی، ابوتمیلہ، حسین بن واقد، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انیس غزوات میں شریک ہوئے آپ ﷺ نے ان انیس غزوات میں سے آٹھ غزوات میں قتال کیا ابوبکر نے مِنْهُنَّ کا لفظ نہیں کہا اور انہوں نے اپنی حدیث میں عن کی جگہ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ کہا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَکْرٍ مِنْهُنَّ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
احمد بن حنبل، معتمر، ابن سلیمان، کہمس، ابن بریدہ، حضرت ابن بریرہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ کَهْمَسٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور جو لشکر آپ ﷺ بھیجتے ان میں میں نو مرتبہ نکلا ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت ابوبکر (رض) تھے اور ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید (رض) تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنْ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَکْرٍ وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، حاتم، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں حدیثوں میں بھی غزوات کا ذکر ہے۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي کِلْتَيْهِمَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ
তাহকীক: