আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৬৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وعدوں کو پورا کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ولید بن جمیع، ابوطفیل، حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ مجھے جنگ بدر میں حاضر ہونے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں اور میرا باپ حسیل باہر نکلے ہوئے تھے کہتے ہیں ہمیں کفار قریش نے گرفتار کرلیا انہوں نے کہا کہ تم محمد کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا ہم آپ ﷺ کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ہم تو مدینہ جانا چاہتے تھے تو انہوں نے ہم سے اللہ کا یہ وعدہ اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ واپس چلے جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہ کریں پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس واقعہ و وعدہ کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کے معاہدہ کو پورا کریں گے اور اللہ سے ان کے خلاف مدد مانگیں گے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَيْشٍ قَالُوا إِنَّکُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ خندق کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر، جریر، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ (رض) نے کہا تم ایسے کرتے تحقیق ! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو قوم کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان کافروں کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے حذیفہ کھڑے ہوجاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ ﷺ نے میرا نام لے کر پکارا تو میرے لئے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں جب میں آپ ﷺ سے پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا پس میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کا قول یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا میں واپس لوٹا اور میں حمام ہی کی طرح میں چل رہا تھا جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا آپ ﷺ کو قوم کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ ﷺ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا۔ پس جب صبح ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بہت سونے والے اٹھ جا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِکَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّی أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي کَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَائَةٍ کَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی أَصْبَحْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ قُمْ يَا نَوْمَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، علی بن زید، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب آپ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگیا پھر بھی کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہوگی یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے (قریشی) ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔
و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت عبدالعزیز بن ابوحازم (رض) کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ سہل بن سعد (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے غزوہ احد کے دن زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور آگے سے ایک دانت ٹوٹ گیا اور خود آپ ﷺ کے سر مبارک میں ٹوٹ گئی تھی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنت رسول اللہ ﷺ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی (رض) بن ابوطالب ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے دیکھا کہ پانی سے خون میں کمی نہیں بلکہ زیادتی ہو رہی ہے انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا یہاں تک کہ راکھ بن گئی پھر اسے زخم پر لگا دیا جس سے خون رک گیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَی رَأْسِهِ فَکَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَکَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْکُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَائَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا کَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّی صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن قاری، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا سنو اللہ کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کو کس نے دھویا اور کس نے پانی ڈالا اور کس چیز سے آپ ﷺ کے زخم کا علاج کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی اس میں اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور هُشِمَتْ کی جگہ کُسِرَتْ بیان کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ کَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ يَسْکُبُ الْمَائَ وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَکَانَ هُشِمَتْ کُسِرَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد یعنی ابن مطرف، ابی حازم، سہل بن سعد، ان اسناد سے بھی یہ حدیث معمولی فرق سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کا دانت ٹوٹ گیا اور سر مبارک میں زخم ہوگیا اور آپ ﷺ اس زخم سے خون پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے جو اپنے نبی ﷺ کو زخمی کرتی ہے اور انہوں نے اس کے سامنے کے دانت کو توڑا ہے اور وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اللہ رب العزت نے ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ) نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ کَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَکَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی کا قصہ بیان فرما رہے تھے کہ انہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے تھے اے میرے پروردگار میری قوم کی بخشش فرمانا وہ جانتے نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْکِي نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن بشر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنی پیشانی مبارک سے خون پونچھتے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ احد کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی ناراضگی اس قوم پر زیادہ ہوگی جس نے اللہ کے رسول کے ساتھ یہ معاملہ کیا اور آپ ﷺ اس وقت اپنے دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول ﷺ نے فرمایا اس آدمی پر بھی اللہ کا غصہ زیادہ ہوگا جسے اللہ کا رسول اللہ رب العزت کے راستہ میں قتل کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَی رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی، عبدالرحیم ابن سلیمان، زکریا، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ کل ایک اونٹنی کو ذبح کیا گیا تھا ابوجہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو بنی فلاں کی اونٹنی کی اوجھڑی کو اٹھا لائے اور اسے محمد ﷺ کے دونوں کندھوں پر رکھ دے جب وہ سجدہ کریں پس قوم میں سے سب سے بدبخت اٹھا اور اوجھڑی کو اٹھا لایا اور جب نبی کریم ﷺ نے سجدہ فرمایا تو اس نے آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی پھر انہوں نے ہنسنا شروع کردیا اور اتنا ہنسے کہ ایک دوسرے پر گرنے لگے اور میں کھڑا دیکھ رہا تھا کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ میں اسے رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک سے دور کردیتا اور نبی ﷺ سجدہ میں تھے کہ اپنے سر مبارک کو اٹھا نہ سکتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ (رض) کو اطلاع دی پس وہ آئیں اور کم سن تھیں انہوں نے (اوجھڑی کو) آپ ﷺ سے دور کیا پھر کافروں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہا جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز کو پورا کرلیا تو آپ ﷺ نے باآواز بلند ان کے لئے بد دعا کی اور آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب آپ ﷺ دعا فرماتے تو تین مرتبہ کرتے پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ قریش کی گرفت فرما جب انہوں نے آپ ﷺ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی ختم ہوگئی اور آپ ﷺ کی دعا سے ڈرنے لگے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما اور ساتویں کا ذکر کیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے تحقیق ! میں نے ان لوگوں کو جن کا آپ ﷺ نے نام لیا تھا بدر کے دن مردہ دیکھا پھر انہیں کنویں میں ڈال دیا گیا ابواسحاق نے کہا اس حدیث میں ولید بن عقبہ غلط ہے۔ (صحیح ولید بن عتبہ ہے) ۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ أَيُّکُمْ يَقُومُ إِلَی سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي کَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ فَاسْتَضْحَکُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَی بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ کَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّی انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَائَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَکَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمْ الضِّحْکُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَذَکَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّی صَرْعَی يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَی الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کرنے والے تھے اور قریش آپ ﷺ کے ارد گرد تھے کہ عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ مبارک پر پھینک دیا جس سے آپ ﷺ سر مبارک نہ اٹھا سکتے تھے پس حضرت فاطمہ (رض) آئیں اور اسے (اوجھڑی) آپ ﷺ کی پشت مبارک سے اٹھایا اور ایسی بیہودہ حرکت کرنے والوں کے لئے بددعا کی آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ قریش کے سردار ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف پر گرفت فرما عبداللہ کہتے ہیں تحقیق میں نے انہیں دیکھا کہ بدر کے دن قتل کئے گئے اور سوائے امیہ یا ابی کے سب کو کنوئیں میں ڈال دیا گیا (اس لئے) کہ اس کا جوڑ جوڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَی مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاکُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، سفیان، ابواسحاق، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ تین مرتبہ (دعا فرمانے) کو پسند فرماتے تھے فرمایا اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اے اللہ قریش پر گرفت فرما اور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی فرمایا اور شک مذکور نہیں ابواسحاق نے کہا سا تو اں میں بھول گیا ہوں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ وَکَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا يَقُولُ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثًا وَذَکَرَ فِيهِمْ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُکَّ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَنَسِيتُ السَّابِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، زہیر، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف رخ فرما کر قریش کے چھ آدمیوں کے لئے بد دعا کی جن میں ابوجہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں مقام بدر پر مرے ہوئے دیکھا اور سورج نے ان کا حلیہ بدل دیا تھا اور یہ دن سخت گرمی کا دن تھا۔
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَی سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَی عَلَی بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ وَکَانَ يَوْمًا حَارًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحیی، عمرو بن سواد عامری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زوجہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ﷺ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی سخت آیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں تیری قوم سے عقبہ کے دن کی سختی سے بھی زیادہ تکلیف اٹھا چکا ہوں جب میں نے اپنے آپ ﷺ کو عبد یا لیل بن عبد کلاں کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری مرضی کے مطابق میری بات کا جواب نہ دیا میں اپنے رخ پر غم زدہ ہو کر چلا اور قرآن الثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے ایک بادل دیکھا جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا پس اس میں سے جبرائیل نے مجھے آواز دی اس نے کہا اللہ رب العزت نے آپ کی قوم کی بات اور ان کا آپ ﷺ کو جواب دینا سن لیا اور آپ ﷺ کے پاس پہاڑوں پر مامور فرشتے کو بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ اسے ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پس مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد ! ﷺ تحقیق ! اللہ نے آپ ﷺ کی قوم کی گفتگو سنی اور میں پہاڑوں پر مامور فرشتہ ہوں اور مجھے آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ اپنے معاملہ میں جو چاہیں مجھے حکم دیں اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر بچھا دوں رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی اولاد میں سے ایسی قوم کو پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَتَی عَلَيْکَ يَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِکِ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَی ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَی وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رُدُّوا عَلَيْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ قَالَ فَنَادَانِي مَلَکُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَأَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّکَ إِلَيْکَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِکَ فَمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمْ الْأَخْشَبَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، یحیی، ابوعوانہ، اسود بن قیس، حضرت جندب بن سفیان (رض) سے روایت ہے کہ ان جنگوں میں سے کسی جنگ میں رسول اللہ ﷺ کی انگلی مبارک خون آلود ہوگئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور تو نے جو شدت اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، اسود بن قیس، اس سند سے بھی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ایک لشکر میں تھے اور آپ ﷺ کی انگلی مبارک زخمی ہوگئی تھی۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنُکِبَتْ إِصْبَعُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
اسحاق بن ابراہیم، سفیان، اسود بن قیس، حضرت جندب (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل (علیہ السلام) کو (وحی لانے میں) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لئے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد ﷺ کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں : " چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ ﷺ کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے "۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُا أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، اسحاق، یحییٰ بن آدم، زہیر، اسود بن قیس، حضرت جندب بن ابوسفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ بیمار ہوگئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا اے محمد ! میں امید کرتی ہوں کہ آپ ﷺ کے شیطان نے آپ ﷺ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ میں نے اسے دو یا تین راتوں سے آپ ﷺ کے پاس نہیں دیکھا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں " چاشت کے وقت کی قسم اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ ﷺ کے پروردگار نے نہ آپ ﷺ کو چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ شَيْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ لَمْ أَرَهُ قَرِبَکَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی ان تکالیف کے بیان میں جو آپ ﷺ کو مشرکین اور منافقین کی طرف سے دی گئیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا
তাহকীক: