আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৬১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت ایاس بن سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا سامنے سے دشمن کا ایک آدمی آیا میں نے اسے تیر مارا تو وہ مجھ سے چھپ گیا اور میں نہ جان سکا کہ اس نے کیا کیا ہے میں نے (دشمن) قوم کو دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور نبی ﷺ کا مقابلہ ہوا تو نبی ﷺ کے صحابہ (رض) نے پشت پھیری اور میں بھی شکست کھا کر لوٹا اور مجھ پر دو چادریں تھیں ایک کو میں نے باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھا ہوا تھا میری تہ بند کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کرلیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے شکست خوردہ لوٹا اور آپ ﷺ اپنے شہباء خچر پر سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن اکوع نے گھبرائے ہوئے دیکھا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو (دشمنوں نے) گھیر لیا تو آپ ﷺ خچر سے اترے پھر زمین سے ایک مٹھی مٹی کی بھری اور دشمن کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا چہرے برے ہوگئے اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کو اس مٹھی کی مٹی سے بھر دیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنْ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَی عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَی فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلَّی صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَی فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ الشَّهْبَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَی ابْنُ الْأَکْوَعِ فَزَعًا فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنْ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ طائف کے بیان میں
س ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان، زہیر، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابن عباس، شاعر اسعمی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو فرمایا ہم انشاء اللہ لوٹ جائیں گے آپ ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا ہم بغیر فتح کے لوٹیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تم کل صبح جنگ کرنا چناچہ صبح ان پر حملہ کردیا اور زخمی ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے اس بات کو پسند کیا تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْدُوا عَلَی الْقِتَالِ فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِکَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ بدر کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مشورہ فرمایا جب ابوسفیان کے آنے کی خبر آپ ﷺ کو پہنچی حضرت ابوبکر (رض) نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر عمر نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ ﷺ کی مراد ہم سے ہے اے اللہ کے رسول ﷺ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اگر آپ ﷺ ہمیں ان کے سینے برک الغماد سے ٹکرا دینے کا حکم دیں تو ہم کر گزریں گے پس رسول اللہ ﷺ نے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو بلایا اور چلے یہاں تک کہ مقام بدر پر جا کر اترے اور ان پر قریش کے پانی پلانے والے گزرے اور ان میں بنو حجاج کا سیاہ فام غلام بھی تھا صحابہ نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں لیکن ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف یہ سامنے ہیں جب اس نے یہ کہا تو صحابہ نے اسے مارا تو اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کی خبر دیتا ہوں کہ ابوسفیان یہ ہے صحابہ نے اسے چھوڑ دیا پھر پوچھا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں بلکہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں ہیں اس نے جب یہ کہا تو صحابہ (رض) نے اسے پھر مارا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب نبی ﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب یہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب تم سے جھوٹ کہتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ فلاں (کافر) کی قتل گاہ ہے اور رسول اللہ ﷺ زمین پر اس، اس جگہ اپنا ہاتھ مبارک رکھتے تھے انس کہتے ہیں ان میں سے کوئی بھی (کافر) رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے ادھر ادھر متجاوز نہ ہوا۔ (عین اسی جگہ جہنم رسید ہوا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَهَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا قَالَ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّی نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَيَقُولُ مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ ضَرَبُوهُ فَقَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُکُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَکُوهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ انْصَرَفَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَتْرُکُوهُ إِذَا کَذَبَکُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ قَالَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی الْأَرْضِ هَاهُنَا هَاهُنَا قَالَ فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کے بیان میں
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت بنانی، عبداللہ بن رباح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ (رض) کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ (رض) ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں۔ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ ﷺ (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ ﷺ نے زبیر کو اور دوسری جانب خالد کو بھیجا اور ابوعبیدہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ ﷺ الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے۔ آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو ۔ پس وہ سب آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا : ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو، تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ ﷺ کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ (رض) نے کہا آپ ﷺ پر وحی آئی اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس (انصار) روتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ ﷺ روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونے میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونا آپ ﷺ پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونا چبھونا شروع کردیا اور فرماتے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا جب آپ ﷺ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد وثناء شروع کردی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِيَةَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ فَکَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُکْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَی رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنْ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُکُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِکُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کَتِيبَةٍ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَائِ فَإِنْ کَانَ لَهُمْ شَيْئٌ کُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ حَتَّی تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا قَالَ فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ثُمَّ قَالَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَائَ الْوَحْيُ وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَی عَلَيْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ فَلَمَّا انْقَضَی الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ قَالُوا قَدْ کَانَ ذَاکَ قَالَ کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْکُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ کَانُوا يَعْبُدُونَهُ قَالَ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ يَدْعُوَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کے بیان میں
عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیمان بن مغیرہ اس سند بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے اسی طرح کہا آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی احْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، حماد بن سلمہ، ثابت بن عبداللہ بن رباح، حضرت عبدالرحمن بن رباح (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن ابوسفیان کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ (رض) بھی تھے اور ہم میں سے ایک آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا پکاتا تھا میری باری تھی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آج میری باری ہے۔ پس وہ (سب ساتھی) گھر آگئے لیکن کھانا ابھی تک تیار نہ ہوا تھا۔ تو میں نے کہا اے ابوہریرہ ! کاش آپ ہمیں کھانا تیار ہونے تک رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کردیتے۔ تو انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو دائیں طرف لشکر پر اور زبیر کو بائیں طرف کے لشکر پر اور ابوعبیدہ کو پیدل لشکر پر امیر مقرر کر کے وادی کے اندر روانہ فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم قریش کے کمینے لوگوں کو دیکھ رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا انہیں دیکھ لو جب کل تم ان سے مقابلہ کرو تو انہیں کھیتی کی طرح کاٹ دینا۔ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور فرمایا تمہارے ملنے کی جگہ صفا ہے اس دن ان کا جو شخص بھی انصار کو ملا اسے انصار نے سلا دیا اور رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور انصار نے حاضر ہو کر صفا کو گھیر لیا۔ پس ابوسفیان نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قریش کی تمام جماعتیں ختم ہوگئیں آج کے بعد کوئی قریشی نہ ہوگا ابوسفیان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اسے امن ہوگا اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہوگا اور جو اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی بحفاظت رہے گا۔ انصار نے کہا (آپ ﷺ ایسے آدمی ہیں جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ نرمی اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اللہ کے رسول پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے یہ کہا تھا کہ اس آدمی ﷺ کو اپنے خاندان کے ساتھ نرمی کرنے اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے۔ کیا تم جانتے ہو اس وقت میرا نام کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا کہ میں محمد ﷺ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میرا جینا تمہارے ساتھ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ انصار نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت کی حرص میں ہی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَکَانَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ فَکَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي فَجَائُوا إِلَی الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِکْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يُدْرِکَ طَعَامُنَا فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَی وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَی وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَائُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَأَخْفَی بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَی شِمَالِهِ وَقَالَ مَوْعِدُکُمْ الصَّفَا قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا وَجَائَتْ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح، مجاہد ابومعمر، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی انہیں چبھونا شروع کردی اور فرما رہے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا بیشک باطل جانے ہی والا ہے حق آگیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے ابن ابی عمر (رض) نے فتح مکہ کے دن اضافہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ وَحَوْلَ الْکَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ کَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا جَائَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، ابن ابی نجیح، اس سند سے بھی یہ حدیث آپ ﷺ کے قول مبارک زَهُوقًا تک مروی ہے اور اس میں دوسری آیت مبارکہ مذکور نہیں اور انہوں نے نصب کی جگہ ضم کہا ہے۔
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ زَهُوقًا وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَةَ الْأُخْرَی وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، وکیع، زکریا، شعبی، حضرت عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَوَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان
ابن نمیر، ابوزکریا، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ قریش کے عاصی نام والوں میں سے کوئی بھی مسلمان نہ ہوا سوائے مطیع کے اور اس کا نام بھی عاصی تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام مطیع رکھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ کَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابوشعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) نے صلح حدیبیہ کے دن نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہونے والا معاہدہ صلح لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے لکھا ہے تو مشرکین نے کہا آپ رسول اللہ ﷺ نہ لکھیں کیونکہ اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ﷺ سے جنگ نہ کرتے۔ نبی ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا اسے مٹا دو انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا پس نبی ﷺ نے خود اپنے ہاتھ مبارک سے مٹا دیا اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہوں تو صرف تین دن قیام کرسکیں گے اور مکہ میں اسلحہ کے بغیر آئیں گے ہاں اگر اسلحہ نیام میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا کَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ فَکَتَبَ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا لَا تَکْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ امْحُهُ فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ قَالَ وَکَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَکَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ قَالَ الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے مصالحت کی تو علی (رض) نے ان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تحریر کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ لکھا باقی حدیث معاذ کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ کَتَبَ عَلِيٌّ کِتَابًا بَيْنَهُمْ قَالَ فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ذَکَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، اسحاق، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بیت اللہ کے نزدیک گھیر لیا گیا تو اہل مکہ نے آپ ﷺ سے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ ﷺ لے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ ﷺ کے ساتھ آئے ہوں آپ ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کردو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ آپ سے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ ﷺ کی اتباع کرلیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو۔ آپ ﷺ نے علی (رض) کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں تو اسے نہ مٹاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس (لفظ) کی جگہ مجھے دکھاؤ۔ حضرت علی (رض) نے آپ ﷺ کو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ ﷺ نے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَکَّةَ عَلَی أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْکُثُ بِهَا مِمَّنْ کَانَ مَعَهُ قَالَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِکُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرِنِي مَکَانَهَا فَأَرَاهُ مَکَانَهَا فَمَحَاهَا وَکَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ کَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِکَ فَقَالَ نَعَمْ فَخَرَجَ و قَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَکَانَ تَابَعْنَاکَ بَايَعْنَاکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جن قریشیوں نے نبی کریم ﷺ سے صلح کی ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا لکھو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سہیل نے کہا کہ بسم اللہ تو ہم نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے البتہ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ لکھو جسے ہم جانتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے۔ (کفار) نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول جانتے تو آپ ﷺ کی پیروی کرتے بلکہ آپ ﷺ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں نبی ﷺ نے فرمایا محمد بن عبداللہ کی طرف سے لکھو انہوں نے نبی ﷺ سے یہ شرط باندھی کہ تم میں سے جو ہمارے پاس آجائے گا ہم اسے واپس نہ کریں گے اور اگر تمہارے پاس ہم میں سے کوئی آئے گا تو تم اسے ہمارے پاس واپس کردو گے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بھی لکھ دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن ہم میں سے جو ان کی طرف جائے گا اللہ اسے (اسلام سے) دور کر دے گا اور جو ان میں سے ہمارے پاس آئے گا اللہ عنقریب اس کے لئے کوئی راستہ اور کشائش پیدا فرما دیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَکِنْ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِيکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَاشْتَرَطُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْکُمْ وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَکْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَائَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبدالعزیز بن سیاہ، حبیب بن ابی ثابت حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو ! اپنے آپ کو غلط تصور کرو تحقیق ! ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو ضرور کرتے اور یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر (رض) نے عرض کیا کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر (رض) نے عرض کیا پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ اور ذلت کیوں قبول کریں اور حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن خطاب میں اللہ کا رسول ہوں اللہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرمائے گا حضرت عمر (رض) سے صبر نہ ہوسکا اور غصہ ہی کی حالت میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور کہا اے ابوبکر ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ کہنے لگے کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، عمر (رضی اللہ عنہ) کہنے لگے پھر ہم کس وجہ سے اپنے دین میں کمزوری قبول کریں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا ابوبکر (رض) نے کہا اے ابن خطاب ! آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ پر سورت فتح نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے عمر (رض) کو بلوایا اور انہیں سے وہ آیات پڑھوائیں تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ فتح ہے آپ نے فرمایا جی ہاں حضرت عمر (رض) دلی طور پر خوش ہو کر لوٹ گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَی قِتَالًا لَقَاتَلْنَا وَذَلِکَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي کَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ فَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
ابوکریب، محمد بن علاء، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، حضرت شقیق (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ صفین میں سنا انہوں نے کہا اے لوگو ! اپنی رائے کو غلط سمجھو اللہ کی قسم ابوجندل کے دن (صلح حدیبیہ) کا واقعہ میرے سامنے ہے اگر مجھ میں رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے لوٹا دینے کی طاقت ہوتی تو میں آپ ﷺ کو لوٹا دیتا اللہ کی قسم ہم نے اپنی تلواریں کسی کام کے لئے اپنے کندھوں پر کبھی نہیں رکھیں مگر یہ کہ ان تلواروں نے ہمارے کام کو ہمارے لئے آسان بنادیا البتہ یہ معاملہ (آسان) نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُا بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَی عَوَاتِقِنَا إِلَی أَمْرٍ قَطُّ إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَی أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَکُمْ هَذَا لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَی أَمْرٍ قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق، جریر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، یہی حدیث مبارکہ اس سند سے بھی مروی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ کوئی دشوار کام بھی اس طرح نہیں ہوا۔
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَی أَمْرٍ يُفْظِعُنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابی حصین حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ میں سنا اپنی رائے کو اپنے دین کے معاملہ میں غلط تسلیم کرو تحقیق ! میں نے ابوجندل کے دن دیکھا اگر میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو رد کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور رد کردیتا ہم اس کی ایک گرہ کھول نہیں پاتے کہ دوسری گرہ ہم پر خود بخود کھل جاتی ہے۔
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ يَقُولُا اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ عَلَی دِينِکُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
نصر بن علی جہضمی، خلاد بن حارث، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَ قِيْمًا۔ وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَ صْرًا عَزِيْزًا۔ هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْ ا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِ يْمًا حَكِ يْمًا۔ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا) 48 ۔ الفتح) تک نازل ہوئی تو آپ ﷺ واپس آرہے تھے اور صحابہ غم اور دکھ سے پریشان ہو رہے تھے اور تحقیق آپ ﷺ نے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا پھر ارشاد فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ إِلَی قَوْلِهِ فَوْزًا عَظِيمًا مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْکَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح حدیبیہ کے بیان میں
عاصم بن نضر تیمی، معتمر، ابوقتادہ، انس بن مالک، ابن مثنی، ابوداؤد، ہمام، عبد بن حمید، یونس، ابن محمد، شیبان، قتادہ، انس، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
তাহকীক: