আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৬৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ ذات الرقاع کے بیان میں
ابوعامر، عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن علاء ہمدانی، ابی عامر، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے اور ہم چھ چھ آدمیوں کے حصہ میں ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے جس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے میرے پاؤں زخمی ہوگئے اور میرے (پاؤں کے) ناخن گرگئے اور ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپٹتے تھے جس کی وجہ سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھ دیا گیا ابوبردہ نے کہا ابوموسی نے یہ حدیث بیان کی پھر اس کی روایت کو اس طرح ناپسند کیا گویا کہ وہ اپنے عمل میں سے کسی عمل کو ظاہر کرنے کو ناپسند کرتے ہوں۔ ابواسامہ نے کہا برید کے علاوہ باقی راویوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ اللہ اس محنت کا اجر وثواب عطا کرے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ قَالَ فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي فَکُنَّا نَلُفُّ عَلَی أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا کُنَّا نُعَصِّبُ عَلَی أَرْجُلِنَا مِنْ الْخِرَقِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَی بِهَذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ کَرِهَ ذَلِکَ قَالَ کَأَنَّهُ کَرِهَ أَنْ يَکُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں کافر سے مدد طلب کرنے کی کراہت کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مالک، ابوطاہر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے جب آپ ﷺ حرہ الوبرہ (مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر) پہنچے تو آپ ﷺ کو ایک آدمی ملا جس کی اجرت وبہادری کا تذکرہ کیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی للہ عنہم نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا میں آپ ﷺ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ ﷺ کے ساتھ دشمن سے لڑوں اور آپ ﷺ کے ساتھ مال غنیمت میں مجھے بھی کچھ حصہ دیا جائے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا لوٹ جا میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں مانگوں گا سیدہ (رض) فرماتی ہیں آپ ﷺ آگے چلے یہاں تک کہ ہم مقام شجرہ پہنچے تو وہی شخص پھر حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے وہی بات کہی جو اس نے پہلی مرتبہ کہی تھی اور نبی ﷺ نے بھی اسے وہی فرمایا جو پہلی مرتبہ فرمایا تھا آپ ﷺ نے فرمایا لوٹ جا میں ہرگز کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کروں گا وہ پھر لوٹ گیا اور پھر مقام بیداء پر آپ ﷺ سے ملا آپ ﷺ نے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہہ چکا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَکَهُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ يُذْکَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ فَلَمَّا أَدْرَکَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتُ لِأَتَّبِعَکَ وَأُصِيبَ مَعَکَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ قَالَتْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَکَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَکَهُ بِالْبَيْدَائِ فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلِقْ
তাহকীক: