আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ৪৬৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (ایک دن) گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور آپ ﷺ کے نیچے فدک کی ایک چادر تھی اور آپ ﷺ نے اپنے پیچھے اسامہ کو سوار کرلیا اور آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کے لئے جا رہے تھے تھے اور یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے یہاں تک کہ ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جہاں مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہود وغیرہ اکٹھے بیٹھے تھے ان میں عبداللہ بن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی بیٹھے تھے جب مجلس پر جانور کے پاؤں کا غبار چھا گیا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا پھر کہا ہم پر غبار نہ ڈالو پس نبی ﷺ نے ان کو سلام کیا پھر ٹھہر گئے اور (سواری سے) اتر کر انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی تو عبداللہ بن ابی نے کہا اے آدمی اس (کلام) سے بہتر کوئی کلام نہیں اگر جو کچھ تم کہہ رہے ہو سچ ہو تو بھی ہم کو ہماری مجلس میں تکلیف نہ دو اور اپنی سواری کی طرف لوٹ جاؤ اور ہم میں سے جو تیرے پاس آئے اسے یہ قصہ سنانا۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا آپ ﷺ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں یہ بات پسند ہے پھر مسلمان مشرکین اور یہود ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے یہاں تک کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے مگر نبی ﷺ نے ان کا جوش ٹھنڈا کردیا پھر اپنی سواری پر سوار ہوگئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس پہنچے تو فرمایا اے سعد ! کیا تم نے ابوحباب عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے ؟ اس نے اس اس طرح کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اسے معاف فرما دیں اور درگزر فرمائیں اللہ کی قسم اللہ نے جو کچھ آپ ﷺ کو عطا فرمایا وہ عطا فرما ہی دیا ہے اس آبادی والوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا تھا کہ وہ اس کو تاج پہنچائیں اور بادشاہت کی پگڑی اس کے سر پر باندھیں لیکن اللہ نے ان کے فیصلے کو حق عطا کرنے کے ساتھ رد کردیا تو (ابو حباب) حسد میں مبتلا ہوگیا پس اس نے اس وجہ سے یہ معاملہ کیا پس نبی کریم ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِکَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَکِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَائَهُ أُسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَاکَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِکِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَی اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَيُّهَا الْمَرْئُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَائَکَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّی هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَکِبَ دَابَّتَهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاکَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاکَ وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاکَهُ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان
محمد بن رافع، حجین، ابن مثنی، لیث، عقیل، حضرت ابن شہاب سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ ابھی تک عبداللہ اسلام نہیں لائے تھے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا دعوت اسلام دینا اور اس پر منافقوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کا بیان
محمد بن عبدالاعلی قیسی، معتمر، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کاش آپ ﷺ عبداللہ بن ابی کے پاس دعوت اسلام کے لئے تشریف لے جائیں آپ ﷺ اس کی طرف گدھے پر سوار ہو کر چلے اور مسلمان بھی چلے اور یہ شور والی زمین تھی جب نبی کریم ﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا مجھ سے دور رہو اللہ کی قسم تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ پاکیزہ ہے پس عبداللہ کی قوم میں ایک آدمی غصہ میں آگیا پھر دونوں طرف کے ساتھیوں کو غصہ آگیا اور انہوں نے چھڑیوں ہاتھوں اور جوتوں سے ایک دوسرے کو مارنا شروع کردیا راوی کہتا ہے ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور اگر مومنین کی دو جماعتیں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَکِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبَخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْکَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِکَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْکَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ فَکَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَبِالنِّعَالِ قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو جہل کے قتل کے بیان میں
علی بن حضر سعدی، اسماعیل بن علیہ، سلیمان تیمی، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم میں سے کون ہے جو ابوجہل کو ختم کر کے دکھائے تو حضرت ابن مسعود گئے تو انہوں نے عفراء کے بیٹوں کو دیکھا کہ انہوں نے ابوجہل کو مار دیا ہے اور وہ ٹھنڈا ہونے والا ہے ابن مسعود نے اس کی داڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ابوجہل ہے اس نے کہا کیا تم نے اتنے بڑے کسی اور آدمی کو بھی قتل کیا ہے ؟ یا اس نے کہا اس کی قوم نے قتل کیا ہے ؟ ابومجلز کہتے ہیں کہ ابوجہل کہنے لگا کاش کہ مجھے کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی بَرَکَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ قَالَ وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَلَوْ غَيْرُ أَکَّارٍ قَتَلَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو جہل کے قتل کے بیان میں
حامد بن عمر بکراوی، معتمر، حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کون جانتا ہے کہ ابوجہل کا کیا ہوا مجھے بتائے آگے حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ کَمَا ذَکَرَهُ إِسْمَعِيلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر کش یہودی کعب بن اشرف کے قتل کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن مسور، زہری، ابن عیینہ، زہری، سفیان، عمر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ﷺ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں (مصلحتا) اسے جو کہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہہ لے وہ اس (کعب بن اشرف) کے پاس آئے اور اس سے کہا اور اپنے اور حضور ﷺ کے درمیان ایک فرضی بیان کیا اور کہا یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے جب کعب نے سنا تو اس نے کہا اللہ کی قسم ابھی اور لوگ بھی اس سے تنگ ہوں گے ابن مسلمہ نے کہا اب تو ہم ان کی اتباع کرچکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملہ کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے مزید کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ تو مجھے کچھ دے دے کعب نے کہا تم میرے پاس رہن کیا چیز رکھو گے ابن مسلمہ نے کہا جو تم چاہو گے کعب نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا تو تو عرب کا خوبصورت آدمی ہے کیا ہم تیرے پاس اپنی عورتیں رہن رکھیں کعب نے کہا اچھا تم اپنی اولاد گروی رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا ہمارے بیٹوں کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا وہ دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھا گیا ہے البتہ ہم اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے آئے گا پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اسے اس کی بیوی نے کہا میں آواز سنتی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہے اور معزز آدمی کو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو اسے بھی قبول کرلیتا ہے محمد (رض) نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ جب وہ آئے گا میں اس کے سر کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھاؤں گا جب میں اسے قبضہ میں لے لوں تو تم حملہ کردینا پس جب نیچے اترا تو اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ان حضرات نے کہا ہم آپ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں اس نے کہا ہاں میری بیوی فلاں ہے جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے ابن مسلمہ نے کہا کیا تو مجھے خوشبو سونگھنے کی اجازت دے گا اس نے کہا سونگھو پھر دوبارہ کہا کیا تو مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دے گا اس مرتبہ انہوں نے اس کے سر کو قابو میں لیا اور کہا حملہ کردو پس انہوں نے اسے قتل کردیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِلزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَقُلْ قَالَ قُلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ وَذَکَرَ مَا بَيْنَهُمَا وَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَقَدْ عَنَّانَا فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدْ اتَّبَعْنَاهُ الْآنَ وَنَکْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَيِّ شَيْئٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ قَالَ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِي سَلَفًا قَالَ فَمَا تَرْهَنُنِي قَالَ مَا تُرِيدُ قَالَ تَرْهَنُنِي نِسَائَکُمْ قَالَ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنَرْهَنُکَ نِسَائَنَا قَالَ لَهُ تَرْهَنُونِي أَوْلَادَکُمْ قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ وَلَکِنْ نَرْهَنُکَ اللَّأْمَةَ يَعْنِي السِّلَاحَ قَالَ فَنَعَمْ وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ فَجَائُوا فَدَعَوْهُ لَيْلًا فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا کَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ قَالَ إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْکَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَی طَعْنَةٍ لَيْلًا لَأَجَابَ قَالَ مُحَمَّدٌ إِنِّي إِذَا جَائَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِي إِلَی رَأْسِهِ فَإِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْهُ فَدُونَکُمْ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ فَقَالُوا نَجِدُ مِنْکَ رِيحَ الطِّيبِ قَالَ نَعَمْ تَحْتِي فُلَانَةُ هِيَ أَعْطَرُ نِسَائِ الْعَرَبِ قَالَ فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ فَشُمَّ فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَعُودَ قَالَ فَاسْتَمْکَنَ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ دُونَکُمْ قَالَ فَقَتَلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ خیبر کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے جنگ کی پس ہم نے خیبر کے قریب پہنچ کر فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلی اللہ کے نبی ﷺ اور ابوطلحہ (رض) سوار ہوگئے اور ابوطلحہ (رض) کے پیچھے میں سوار ہوگیا اللہ کے نبی ﷺ نے سواری خیبر کی گلیوں کی طرف دوڑائی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران سے لگ جاتا تھا نبی کریم ﷺ کی ران سے چادر جدا ہوگئی تھی اور میں نے اللہ کے نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھی پس جب آپ ﷺ بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا کیونکہ ہم جب کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے اس جملہ کو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اور اہل خیبر اس وقت اپنے اپنے کاموں کی طرف نکلے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا محمد ﷺ آگئے اور بعض راویوں نے کہا کہ آپ ﷺ اور لشکر آگئے اور ہم نے اسے زبردستی فتح کرلیا۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَی أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسَ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ خیبر کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ (رض) کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم کو لگ رہا تھا پس ہم ان کے پاس اس وقت آئے جب سورج نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنے جانوروں کو نکال لیا تھا اور خود درانیتاں اور ٹوکریاں اور درختوں پر چڑھنے کے لئے رسیاں لے کر باہر نکل رہے تھے انہوں نے کہا محمد ﷺ بمع لشکر آگئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا کیونکہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ خیبر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب ہم کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو وہ ان جن لوگوں کو (اللہ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے) ان کے لئے بہت برا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ خیبر کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید مولیٰ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع (رض) سے کہا آپ ﷺ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر (رض) شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے پس تو ہمیں معاف کر دے یہی ہماری طلب ہے اور ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو آواز دی جاتی ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور آواز دینے کے ساتھ ہی لوگ ہم پر بھروسہ کرلیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ہنکانے والا کون ہے صحابہ نے عرض کیا عامر ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس پر رحمت واجب ہوگئی کاش آپ ﷺ ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کرلیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کردیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آگ کیسی ہے اور کس چیز پر تم جلا رہے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا گوشت، آپ ﷺ نے فرمایا کونسا گوشت صحابہ نے عرض کیا گھریلو گدھے کا گوشت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے انڈیل دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو ایک صحابی نے عرض کیا کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا کرلو جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی پس وہ اس سے فوت ہوگئے پس جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ (رض) نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، لوگوں نے گمان کیا ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہوگئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ بات کہی جھوٹ کہا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے جو اس راستہ میں اسی طرح چلا ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ وَکَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَائً لَکَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرٌ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّی أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْکُمْ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَی النَّاسُ مَسَائَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا کَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ فَقَالُوا عَلَی لَحْمٍ قَالَ أَيُّ لَحْمٍ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا وَاکْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ أَوْ ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ کَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُکْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاکِتًا قَالَ مَا لَکَ قُلْتُ لَهُ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ مَنْ قَالَهُ قُلْتُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَی بِهَا مِثْلَهُ وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَکِينَةً عَلَيْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ خیبر کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن، ابن وہب، ابن عبداللہ بن کعب بن مالک، سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ خبیر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سخت جنگ کی پس اس کی اپنی تلوار لوٹ کر اس کو لگی جس سے وہ شہید ہوگئے تو اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں گفتگو کی اور ایسے آدمی کی شہادت میں شک کیا جو اپنے اسلحہ سے وفات پا جائے اور اسی طرح اس کے بعض حالات میں شک کیا سلمہ نے کہا جب رسول اللہ ﷺ خبیر سے لوٹے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کو کچھ رجزیہ اشعار سناؤں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی حضرت عمر (رض) بن خطاب نے کہا جو کچھ کہو سوچ سمجھ کر کہو تو میں نے یہ شعر کہا اللہ کی قسم اگر اللہ ہمیں ہدایت عطا نہ فرماتا تو ہم نہ زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا اور ہم پر رحمت نازل فرما اور اگر ہم مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھو اور مشرکین نے تحقیق ہم پر زیادتی کی ہوئی ہے جب میں اپنے اشعار پورے کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اشعار کا کہنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا انہیں میرے بھائی نے کہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بعض لوگ اس کی نماز جنارہ ادا کرنے میں ہچکچاتے رہے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ایسا شخص ہے جو اپنے اسلحہ سے شہید ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کی اطاعت اور جہاد میں کوشش کرتے ہوئے شہید ہوا ہے ابن شہاب نے کہا پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اپنے باپ سے مجھے بیان کی اور اس میں یہ کہا جب میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں ہچکچا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہوں نے جھوٹ کہا ہے بلکہ وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد شہید ہوا ہے اور اس کے لئے دوہرا اجر وثواب ہوگا اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَشَکُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ وَشَکُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَکَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقْتَ وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ قَالَهُ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احزاب کے دن ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور مٹی کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیٹ کی سفیدی اٹی ہوئی تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَی التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَی قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابواسحاق، اس سند کے ساتھ حضرت براء (رض) سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور حال یہ کہ ہم خندق کھود رہے تھے اور کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَی أَکْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ، ابن قرہ، حضرت انس (رض) بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو انصار اور مہاجرین پر کرم فرما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَکْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، شیبان بن فروخ، یحیی، شیبان، عبدالوارث، ابوتیاح، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے ساتھ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما اور شیبان کی حدیث میں فانصر کی جگہ فاغفر ہے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ (رض) خندق کے دن کہہ رہے تھے جب تک ہماری زندگی باقی ہے ہم نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی ہے اور نبی ﷺ فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَی الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَوْ قَالَ عَلَی الْجِهَادِ شَکَّ حَمَّادٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں پہلی اذان سے قبل باہر نکلا کہ ذی قرد میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں چر رہیں تھیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اور اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو پکڑ لیا گیا ہے تو میں نے اس غلام سے پوچھا کس نے پکڑی ہیں غلام نے کہا غطفان نے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے چیخ چیخ کر تین مرتبہ یاصباحاہ کہا مدینہ کے دونوں کناروں تک میری آواز سنی گئی پھر میں سامنے کی طرف چلا یہاں تک کہ میں نے ذی قرد میں غطفان کے لوگوں کو پکڑ لیا وہ لوگ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے میں نے اپنے تیروں سے انہیں مارنا شروع کردیا اور میں تیر مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن تو کمی لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ تو میں یہ رجز پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور ان سے تین چادریں بھی لے لیں راوی کہتے ہیں نبی ﷺ اور صحابہ تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے اس قوم کے لوگوں کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ یہ لوگ پیاسے ہیں آپ ﷺ ان کی طرف ابھی لوگ بھیجیں آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن اکوع تم نے اپنی چیزیں تو لے لیں ہیں اب انہیں چھوڑ دو راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہوگئے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ يَقُولُا خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَی وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِي قَرَدٍ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْهِي حَتَّی أَدْرَکْتُهُمْ بِذِي قَرَدٍ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنْ الْمَائِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَکُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَائَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ احزاب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن قاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوعلی حنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید، عکرمہ، ابن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے یا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور یا اس میں آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ڈالا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوسلمہ بیعت کرو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی (اس کے بعد) پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ ﷺ نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ! اے سلمہ (رض) وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ابن زقیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر (رض) بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے حضرت عامر (رض) جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا مکہ کی وادی میں بعداس کے کہ تم کو ان پر فتح اور کامیابی دے دی تھی "۔ پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے مشر کون کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے پہرہ دے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فراری نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پھر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے ملتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا اور میں کہتا کہ یہ وار پکڑ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوجاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ اسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو حضرت سلمہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور فلاں بن بدر فرازی بھی ان کے پاس آگیا سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فرازی کہنے لگا کہ یہ کون سا آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فرازی کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے مار دیں حضرت سلمہ کہتے ہیں ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا نہیں اور تم کون ہو میں نے جواب میں کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی (رض) تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ (رض) تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسور کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نہ آجائیں۔ اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فرازی سے ہوا۔ اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور پھر عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فرازی کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا ( اور پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد ﷺ کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا جس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اسی گھاٹی سے پانی پئیں کیونکہ وہ پیاسے تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آ رہا تھا بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹٰ کی طرف نکلے میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔ وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا۔ حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ ﷺ کی طرف لے آیا حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔ پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لیٹروں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ اور تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ ﷺ کے لئے بھونا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لیٹروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ ﷺ نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں اس انصاری شخص نے کہا نہیں، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر (رض) نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کردیے۔ اللہ کی قسم اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ رجزیہ اشعار سنے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا میں عامر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تیرا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا آپ ﷺ نے فرمایا جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور کہتا ہے، خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا عامر اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور انہوں نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر (رض) نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود اپنے ہی لگ گئی جس سے ان کہ شہ رگ کٹ گئی اور اسی نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی ﷺ کے چند صحابہ (رض) کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں نبی ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ عامر کا عمل ضائع ہوگیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے۔ میں نے عرض کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپ ﷺ نے مجھے حضرت علی (رض) کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے علی کو پکڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ علی (رض) کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ تو پھر حضرت علی (رض) نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرح جو جنگلوں میں ڈراؤنی صورت ہوتا ہے۔ میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی (رض) نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی (رض) کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عکرمہ بن عمار نے یہ حدیث اس حدیث سے بھی زیادہ لمبی نقل کی ہے دوسری سند کے ساتھ عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَهَذَا حَدِيثُهُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا قَالَ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جَبَا الرَّکِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا قَالَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي وَسَطٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ بَايِعْ يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزِلًا يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ قَالَ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُکَ أَوْ دَرَقَتُکَ الَّتِي أَعْطَيْتُکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّکَ کَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّی مَشَی بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا قَالَ وَکُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدِمُهُ وَآکُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَکْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَکَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَکَسَحْتُ شَوْکَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا قَالَ فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَی شَجَرَةٍ أُخْرَی وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ نَادَی مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا لِلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَی أُولَئِکَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْکُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَائَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنْ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ مِکْرَزٌ يَقُودُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَکُنْ لَهُمْ بَدْئُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ الْآيَةَ کُلَّهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمْ الْمُشْرِکُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ کَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَرَقِيتُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِکِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَی أَکَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّی خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَی کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّی إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ کَذَلِکَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَائَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنْ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ وَجَلَسْتُ عَلَی رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ مَا هَذَا الَّذِي أَرَی قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّی انْتَزَعَ کُلَّ شَيْئٍ فِي أَيْدِينَا قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْکُمْ أَرْبَعَةٌ قَالَ فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ قَالَ فَلَمَّا أَمْکَنُونِي مِنْ الْکَلَامِ قَالَ قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِي قَالُوا لَا وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِنْکُمْ إِلَّا أَدْرَکْتُهُ وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْکُمْ فَيُدْرِکَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَکَانِي حَتَّی رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ قَالَ فَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَی إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَی إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيُّ قَالَ فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ قَالَ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوکَ حَتَّی يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَی هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَی فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَی رِجْلَيَّ حَتَّی مَا أَرَی وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّی يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی شِعْبٍ فِيهِ مَائٌ يُقَالُ لَهُ ذَو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ قَالَ فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَائَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَکِلَتْهُ أُمُّهُ أَکْوَعُهُ بُکْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَکْوَعُکَ بُکْرَةَ قَالَ وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَی ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَائٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِي حَلَّأْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ تِلْکَ الْإِبِلَ وَکُلَّ شَيْئٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَکُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنْ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنْ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کَبِدِهَا وَسَنَامِهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنْ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَی مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْئِ النَّارِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَتُرَاکَ کُنْتَ فَاعِلًا قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ فَقَالَ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا فَلَمَّا کَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاکُمْ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَائَهُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَلَا مُسَابِقٌ إِلَی الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ کَلَامَهُ قُلْتُ أَمَا تُکْرِمُ کَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْکَ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّی أَلْحَقَهُ قَالَ فَأَصُکُّهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّی خَرَجْنَا إِلَی خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ أَنَا عَامِرٌ قَالَ غَفَرَ لَکَ رَبُّکَ قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ فَنَادَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَی جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِکُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَی نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَکْحَلَهُ فَکَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِکَ قَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَی عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّی أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ کَلَيْثِ غَابَاتٍ کَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ کَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ کَانَ الْفَتْحُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا
tahqiq

তাহকীক: