আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৫৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام (رض) کہتے ہیں کہ میرے باپ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ قَالَ أَبِي فَأَخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد (رض) کا زخم اچھا ہونے کے بعد بھر چکا تھا انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ ! تو جانتا ہے میرے نزدیک تیرے راستہ میں اس قوم سے جہاد کرنے سے جس نے تیرے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور انہیں (وطن سے) نکال دیا اور کوئی چیز محبوب نہیں اے اللہ ! اگر قریش کے خلاف لڑائی کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے تو تو مجھے باقی رکھ تاکہ میں ان کے ساتھ تیرے راستہ میں جہاد کروں اے اللہ ! میرا گمان ہے کہ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے پس اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے تو اس کو کھول دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے پس وہ زخم ان کی ہنسلی سے بہنا شروع ہوگیا اور مسجد میں ان کے ساتھ بنی غفار کا خیمہ تھا تو وہ اس خون کو اپنے خیمے میں جانے سے روک نہ سکے تو انہوں نے کہا اے خیمہ والو یہ کیا چیز ہے جو تمہارے طرف سے ہمارے پاس آرہی ہے پس اچانک دیکھا تو حضرت سعد (رض) کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اور اسی وجہ سے وہ فوت ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ وَتَحَجَّرَ کَلْمُهُ لِلْبُرْئِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ کَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيکَ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ کُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
علی بن حسن بن سلیمان کوفی، عبدہ، حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس روایت میں ہے کہ رات ہی سے زخم بہہ گیا اور مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ اس وقت شاعر نے کہا (جس کا ترجمہ یہ ہے) آگاہ رہو اے سعد ! سعد بن معاذ قریظہ اور نضیر نے یہ کیا کیا اے سعد بن معاذ تیری عمر کی قسم جس صبح کو انہوں نے مصیبتوں کو برداشت کیا وہ بڑی صبر والی ہے تم نے اپنی ہانڈی ایسی چھوڑی کہ اس میں کچھ نہیں ہے اور قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے کریم ابوحباب نے کہا ٹھہرو اے قینیقاع اور نہ چلو حال یہ ہے کہ وہ اپنے شہر میں بہت بوجھل تھے جیسے کہ مطان پہاڑی کے پتھر بھاری ہیں۔
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّی مَاتَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاکَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُکَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لَا شَيْئَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْکَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ کَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا کَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں جلد جانے اور دو متعار
عبداللہ بن محمد، اسما ضبعی، جویریہ بن اسماء، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پکارا جس وقت کہ ہم غزوہ احزاب سے واپس لوٹے کہ بنوقریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی ظہر کی نماز نہ پڑھے تو کچھ لوگوں نے وقت کو فوت ہونے کے ڈر سے بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور دوسرے صحابہ (رض) نے کہا کہ ہم نماز نہیں پڑھیں گے سوائے اس جگہ کہ جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا اگرچہ نماز کا وقت فوت ہوجائے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دونوں فریقوں میں سے کسی کی ملامت نہیں کی۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَادَی فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْ الْأَحْزَابِ أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ وَقَالَ آخَرُونَ لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ قَالَ فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنْ الْفَرِيقَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجریں کا فتوحات سے غنی ہوجانے کے بعد انصار کے عطیات درخت پھل وغیرہ انہیں لوٹانے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تھے تو ان کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں تھی اور انصار زمین و جائیداد والے تھے تو انصار نے اس شرط پر زمینیں ان کے سپرد کردیں کہ وہ ہر سال پیداوار کا نصف انہیں دیا کریں گے اور ان کی جگہ محنت اور مزدوری کریں گے اور ام انس بن مالک جسے ام سلیم کہا جاتا ہے جو عبداللہ بن ابی طلحہ کی والدہ بھی تھیں اور (عبداللہ) حضرت انس کی ماں کی طرف بھائی تھے ام انس (رض) نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے کھجور کے درخت دے دیئے تھے رسول اللہ ﷺ نے وہ درخت اپنی آزاد کردہ باندی ام ایمن جو اسامہ بن زید کی والدہ تھیں کو عطا کردیئے ابن شہاب نے کہا مجھے انس بن مالک نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ جب اہل خیبر کے ساتھ جہاد سے فارغ ہوئے اور مدینہ لوٹے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے عطایا واپس کردیئے جو ان کی طرف پھلوں کی شکل میں تھے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کردیئے اور ام ایمن کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی جگہ اپنے باغ میں درخت عطا کردیئے ابن شہاب نے ام ایمن کے حالات میں کہا کہ وہ اسامہ بن زید کی والدہ ملک حبشہ کی رہنے والی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی باندی تھیں جب حضرت آمنہ نے رسول اللہ کو آپ ﷺ کے والد کی وفات کے بعد جنم دیا تو ام ایمن نے آپ ﷺ کی پرورش کی تھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے بڑے ہو کر انہیں آزاد کردیا پھر حضرت زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کردیا پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے پانچ ماہ بعد وفات پا گئیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَکَّةَ الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ وَکَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَی أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ کُلَّ عَامٍ وَيَکْفُونَهُمْ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ وَکَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَهِيَ تُدْعَی أُمَّ سُلَيْمٍ وَکَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ کَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ وَکَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَی الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ الَّتِي کَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ قَالَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّي عِذَاقَهَا وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَکَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا کَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَتْ مِنْ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ فَکَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّی کَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَهَا ثُمَّ أَنْکَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجریں کا فتوحات سے غنی ہوجانے کے بعد انصار کے عطیات درخت پھل وغیرہ انہیں لوٹانے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حامد بن عمر بکراوی، محمد بن عبدالاعلی قیسی، ابن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان تیمی، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ لوگ اپنی زمین میں سے باغات نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو بنوقریظہ و بنو نضیر پر فتح دی گئی تو آپ ﷺ نے وہ درخت انہیں واپس کرنا شروع کر دئیے جنہوں نے آپ ﷺ کو دیئے تھے انس کہتے ہیں کہ مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ میں نبی اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اپنے اہل و عیال کے عطا کردہ درختوں کے بارے میں سوال کروں کہ وہ سارے یا ان میں سے کچھ آپ ﷺ واپس کردیں اور اللہ کے نبی ﷺ نے وہ درخت ام ایمن کو عطا کر رکھے تھے میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے وہ درخت مجھے عطا کردیئے اور ام ایمن آئی اور انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈالنا شروع کردیا اور کہا اللہ کی قسم میں وہ درخت نہیں دوں گی جو مجھے دیئے گئے تھے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے ام ایمن اسے چھوڑ دے اور تیرے لئے اتنے اتنے درخت ہیں انہوں نے کہا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ فرماتے تھے تیرے لئے اتنے اتنے یہاں تک کہ اسے ان درختوں سے دس گنا یا دس گنا کے قریب عطا کردیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ حَتَّی فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِکَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا کَانَ أَعْطَاهُ قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا کَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَکَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَائَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا نُعْطِيکَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُکِيهِ وَلَکِ کَذَا وَکَذَا وَتَقُولُ کَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَجَعَلَ يَقُولُ کَذَا حَتَّی أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں مال غنیمت کے کھانے کو جواز کے بیان میں
شیبان بن فروح، سلیمان، ابن مغیرہ، حمید بن ہلال، حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے سنبھال لیا اور میں نے کہا کہ میں آج کے دن اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَسِّمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں مال غنیمت کے کھانے کو جواز کے بیان میں
محمد بن بشار عبدی، بہز بن اسد، شعبہ، حمید بن ہلال، حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن ہماری طرف ایک تھیلی پھینکی گئی جس میں کھانا اور چربی تھی میں اسے اٹھانے کے لئے دوڑا حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں پیچھے کی طرف متوجہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ تھے تو مجھے شرم محسوس ہوئی شعبہ نے ان سندوں کے ساتھ بیان کیا سوائے اس کے کہ اس روایت میں تھیلی میں چربی کا ذکر ہے اور طعام کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُا رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَوَثَبْتُ لِآخُذَهُ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الطَّعَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کا ہرقل کی طرف اسلام کی دعوت کے لئے مکتوب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، ابن ابی عمر، محمد بن رافع، عبداللہ بن حمید، ابن رافع، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابوسفیان، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان (رض) نے اسے روبرو خبر دی کہ میں اپنے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان مدت معاہدہ کے دوران شام کی طرف چلا ہم شام میں قیام پذیر تھے کہ اسی دوران شام کی طرف رسول اللہ ﷺ کا خط لایا گیا جسے حضرت دحیہ کلبی لائے تھے پس انہوں نے یہ بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا اور بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو پیش کیا تو ہرقل نے کہا کیا یہاں کوئی آدمی اس کی قوم کا آیا ہوا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی ہے لوگوں نے کہا جی ہاں چناچہ مجھے قریش کے چند آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا پھر کہا تم میں کون نسب کے اعتبار سے اس آدمی کے قریب ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ؟ ابوسفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں ہوں تو اس نے مجھے اپنے سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اپنے ترجمان کو بلایا پھر اس سے کہا ان سے کہو میں اس آدمی کے بارے میں پوچھنے والا ہوں جس کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کرنا ابوسفیان (رض) نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ اس کا خاندان تم میں کیسا ہے ؟ میں نے کہا وہ ہم میں نہایت شریف النسب ہے کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا ؟ میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا کیا تم اسے اس بات کا دعوی کرنے سے پہلے جھوٹ سے متہم کرتے تھے ؟ میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا اس کی اتباع کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں یا کمزور و غریب ؟ میں نے کہا بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں۔ اس نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے کہا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد آپ ﷺ سے ناراضگی کی وجہ سے پھر بھی گیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی ؟ میں نے کہا جی ہاں ہرقل نے کہا اس سے تمہاری جنگ کا نتیجہ کیا رہا ؟ میں نے کہا جنگ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ڈول رہی کبھی انہوں نے ہم سے کھینچ اور کبھی ہم نے ان سے کھینچ لیا اس نے کہا کیا وہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اور ہم اس سے ایک معاہدہ میں ہیں ہم نہیں جانتے وہ اس بارے میں کیا کرنے والے ہیں ابوسفیان کہنے لگے اللہ کی قسم اس نے مجھے اس ایک کلمہ کے سوا کوئی بات اپنی طرف سے شامل کرنے کی گنجائش ہی نہیں دی ہرقل نے کہا کیا اس سے پہلے کسی اور نے بھی اس کے خاندان سے اس بات کا دعوی کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے کہو میں نے تجھ سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا اور تیرا گمان ہے کہ وہ تم میں سے اچھے خاندان والا ہے اور رسولوں کو اسی طرح اپنی قوم کے اچھے خاندانوں سے بھیجا جاتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے اور تیرا خیال ہے کہ نہیں تو میں کہتا ہوں اگر اس کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ وہ ایسا آدمی ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی بادشاہت کا طالب ہے اور میں نے تجھ سے اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں پوچھا کیا وہ ضعیف طبقہ کے لوگ ہیں یا بڑے آدمی ہیں تو نے کہا بلکہ وہ کمزور ہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیروگار ہوتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم اسے اس دعوی سے قبل جھوٹ سے بھی متہم کرتے تھے اور تو نے کہا نہیں تو میں نے پہچان لیا جو لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کیسے کرسکتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا ان لوگوں میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد ان سے ناراضگی کی وجہ سے پھر بھی گیا ہے تو نے کہا نہیں اور اسی طرح ایمان کی حلاوت ہوتی ہے جب دل اس سے لطف اندوز ہوجائیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں تو حقیقت میں ایمان کے درجہ تکمیل تک پہنچنے میں یہی کیفیت ہوتی ہے میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی اور تو نے کہا ہم اس سے جنگ کرچکے ہیں اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے کبھی وہ تم پر غالب اور کبھی تم اس پر غالب رہے اور رسولوں کو اسی طرح مبتلا رکھا جاتا ہے پھر آخر انجام فتح انہی کی ہوتی ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس نے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کی ؟ تو نے کہا : نہیں اور رسل (علیہم السلام) اسی طرح عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا یہ دعوی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تو تم نے کہا نہیں تو میں کہتا ہوں اگر یہ دعوی اس سے پہلے کیا جاتا تو کہتا ہے یہ ایسا آدمی ہے جو اپنے سے پہلے کئے گئے دعوی کی تکمیل کر رہا ہے ابوسفیان نے کہا پھر ہرقل نے کہا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں میں نے کہا وہ ہمیں نماز، زکوۃ، صلہ رحمی اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں ہرقل نے کہا جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ واقعتا نبی ہے اس نے کہا میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور تم میں سے ہوگا اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں مبارک دھوتا اور ان کی بادشاہت ضرور بالضرور میرے قدموں کے نیچے پہنچ جائے گی پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط مبارک منگوا کر پڑھا تو اس میں یہ تھا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے (یہ خط) بادشاہ روم ہرقل کی طرف۔ اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا۔ اما بعد میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اور اسلام قبول کرلے اللہ تجھے دوہرا ثواب عطا کرے گا اور اگر تم نے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا اور اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر (مطفق) ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں گے اور نہ ہمارے بعض دوسرے بعض کو اللہ کے سوا رب بنائیں گے پس اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں۔ جب خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے سامنے چیخ و پکار ہونے لگی اور بکثرت آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور اس نے ہمیں باہر لے جانے کا حکم دیا میں نے اپنے ساتھیوں سے اس وقت کہا جب کہ ہمیں نکالا گیا کہ اب تو ابن ابی کبشہ رسول اللہ ﷺ کی بات بہت بڑھ گئی ہے کہ اس سے تو شاہ روم بھی خوف کرتا ہے اور اسی وقت سے مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ رسول اللہ ﷺ عنقریب غالب ہوں گے حتی کہ رب العزت نے اپنی رحمت سے مجھے اسلام میں داخل کردیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَی فِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي کَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيئَ بِکِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ قَالَ وَکَانَ دَحْيَةُ الْکَلْبِيُّ جَائَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَی عَظِيمِ بُصْرَی فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَی إِلَی هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَی هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّکُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ کَذَبَنِي فَکَذِّبُوهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْکَذِبُ لَکَذَبْتُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ کَيْفَ حَسَبُهُ فِيکُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ کَانَ قِتَالُکُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قُلْتُ لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْکَنَنِي مِنْ کَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُکَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيکُمْ ذُو حَسَبٍ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُکَ هَلْ کَانَ فِي آبَائِهِ مَلِکٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ کَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِکٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْکَ آبَائِهِ وَسَأَلْتُکَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ کُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْکَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ لِيَدَعَ الْکَذِبَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَکَذَلِکَ الْإِيمَانُ حَتَّی يَتِمَّ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّکُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَکُونُ الْحَرْبُ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْکُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ تُبْتَلَی ثُمَّ تَکُونُ لَهُمْ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَکَذَلِکَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُکَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُکُمْ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَکُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّهُ مِنْکُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَائَهُ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْکُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِکِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَی أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوکَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِکَ اللَّهُ أَجْرَکَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْکَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ يَا أَهْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِکَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَائَةِ الْکِتَابِ ارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَکَثُرَ اللَّغْطُ وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي کَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِکُ بَنِي الْأَصْفَرِ قَالَ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّی أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کا ہرقل کی طرف اسلام کی دعوت کے لئے مکتوب کے بیان میں
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، ابوصالح، ابن شہاب سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ قیصر نے جب فارس کے لشکر کو شکست دی تو وہ حمص سے ایلیاء کی طرف چلا تاکہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرے۔
و حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَکَانَ قَيْصَرُ لَمَّا کَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَی مِنْ حِمْصَ إِلَی إِيلِيَائَ شُکْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللَّهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَ إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ وَقَالَ بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
یوسف بن حماد، عبدالاعلی، سعید بن قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کسری اور قیصر کی طرف اور نجاشی اور ہر (کافر) حاکم کی طرف خط لکھے جن میں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی گئی اور نجاشی یہ وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی کِسْرَی وَإِلَی قَيْصَرَ وَإِلَی النَّجَاشِيِّ وَإِلَی کُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ، عبدالوہاب بن عطاء، سعید، قتادہ، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح حدیث نقل کی اس حدیث میں یہ نہیں کہا کہ یہ نجاشی وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
نصر بن علی جہضمی، خالد بن قیس، قتادہ، انس، اسی طرح دوسری سند سے جو روایت ہے اس میں بھی یہ الفاظ مذکور نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
و حَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْکُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن موجود تھا میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ساتھ ساتھ رہے اور رسول اللہ ﷺ بالکل علیحدہ نہیں ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے وہ خچر آپ ﷺ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا تو جب مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے اور رسول اللہ ﷺ کافروں کی طرف اپنے خچر کو دوڑا رہے تھے حضرت عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام کو پکڑ کر اسے تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور ابوسفیان رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس اصحاب سمرہ کو بلاؤ۔ حضرت عباس بلند آواز آدمی تھے۔ (حضرت عباس (رض) کہتے ہیں کہ) میں نے اپنی پوری آواز سے پکارا کہ اصحاب سمرہ کہاں ہیں ؟ حضرت عباس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم جس وقت انہوں نے یہ آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹے جس طرح کہ گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے وہ لوگ يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ کہتے ہوئے آئے اور انہوں نے کافروں سے جنگ شروع کردی اور انہوں نے انصار کو بھی بلایا اور کہنے لگے اے انصار کی جماعت پھر انہوں نے بنو حارث بن خزرج کو بلایا اور کہا اے بنو حارث بن خزرج ! اے بنو حارث بن خزرج ! تو رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تنور گرم ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے چند کنکریاں اٹھائیں اور انہیں کافروں کے چہروں کی طرف پھینکا پھر فرمایا محمد ﷺ کے رب کی قسم یہ شکست کھا گئے حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ جنگ بڑی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اس طرح دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ نے اچانک کنکریاں پھینکیں۔ حضرت عباس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پشت پھیر کر بھاگنے لگے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي کَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَائَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَی الْمُسْلِمُونَ وَالْکُفَّارُ وَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْکُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِکَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَکَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَی صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَکَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَی أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْکُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتْ الدَّعْوَةُ عَلَی بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ کَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَی قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَی بِهِنَّ وُجُوهَ الْکُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَی هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَی قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَی حَدَّهُمْ کَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے فروہ بن نعامہ جذامی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی اور گویا کہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے اپنے خچر کو بھگا رہے ہیں۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ وَقَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّی هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ خَلْفَهُمْ عَلَی بَغْلَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت کثیر بن عباس (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دیتے ہیں کہ میں حنین کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي کَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَکْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء (رض) سے کہا اے ابوعمارہ کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے چند نوجوان جلد باز اور بغیر ہتھیار میدان میں نکل آئے اور انہوں نے ایسے تیراندازوں سے مقابلہ کیا جو ہوازن اور بنو نضیر کے ایسے نوجوان تھے جن کا تیر خطا نہ ہوتا تھا انہوں نے اس انداز میں تیراندازی کی کہ ان کا کوئی تیر خطا نہ گیا پھر یہ نوجوان رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور رسول اللہ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اس کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے اور اللہ سے مدد طلب کی اور ارشاد فرمایا میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں پھر آپ ﷺ نے صف بندی کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ کَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَکَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَکَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، زکریا، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت براء کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا اے ابوعمارہ کیا تم غزوہ حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کی اس بات پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے پیٹھ نہ پھیری بلکہ لوگوں میں سے چند کمزور اور نہتے نوجوان بنو ہوازن کے اس قبیلہ کی طرف بڑھے اور وہ تیر انداز قوم تھی پس انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھاڑ کردی جیسے ٹڈی دل ہو صحابہ (رض) منتشر ہوگئے تو یہ قوم رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھنے لگی اس وقت ابوسفیان بن حارث آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے دعا مانگی اور مدد طلب کی اور آپ ﷺ فرماتے تھے میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اے اللہ اپنی مدد نازل فرما براء نے کہا ہم جنگ کی شدت میں اپنے آپ کو آپ ﷺ کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سے بہادر آپ ﷺ کے ساتھ یعنی نبی ﷺ کے ساتھ رہتا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی الْبَرَائِ فَقَالَ أَکُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّی وَلَکِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّائُ مِنْ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَی هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ کَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَانْکَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ قَالَ الْبَرَائُ کُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے براء سے سنا اور ان سے قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کیا تم غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ گئے تھے براء (رض) نے کہا لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں بھاگے اور ان دنوں ہوازن تیرانداز تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے تیروں سے ہمارا مقابلہ کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے سفید خچر پر سوار دیکھا اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَائُ وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ وَکَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْکَشَفُوا فَأَکْبَبْنَا عَلَی الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ حنین کے بیان میں
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے کہا اے ابوعمارہ باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلَائِ أَتَمُّ حَدِيثًا
তাহকীক: