আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৫৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کو حضرت ابوبکر (رض) کی طرف بھجیں اور ان سے نبی ﷺ کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
محمد بن رافع، حجین، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ ﷺ کو مدینہ اور فدک کے فئی اور خبیر کے خمس سے حصہ میں ملا تھا حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد ﷺ اس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا اس صورت سے جس میں وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھی اور میں اس میں وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے اس میں سے کوئی بھی چیز حضرت فاطمہ کو دینے سے انکار کردیا حضرت فاطمہ (رض) کو حضرت ابوبکر (رض) سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے بولنا ترک کردیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہوگئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی (رض) بن ابوطالب نے رات کو ہی دفن کردیا اور ابوبکر (رض) کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی (رض) نے پڑھایا اور حضرت علی (رض) کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہوگئیں تو علی (رض) نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر (رض) کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ علی (رض) نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے عمر (رض) بن خطاب کے آنے کا ناپسند کرنے کی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا اللہ کی قسم آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر (رض) نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر (رض) ان کے پاس تشریف لے گئے تو علی بن ابوطالب (رضی اللہ عنہ) نے کلمہ شہادت پڑھا پھر کہا اے ابوبکر تحقیق ہم آپ کی فضیلت پہچان چکے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ہم اسے جانتے ہیں اور جو بھلائی آپ کو عطا کی گئی ہے ہم اس کی رغبت نہیں کرتے اللہ نے آپ ہی کے سپرد کی ہے لیکن آپ نے خود ہی یہ خلافت حاصل کرلی اور ہم اپنے لئے رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کی وجہ سے (خلافت) کا حق سمجھتے تھے پس اسی طرح وہ (حضرت علی (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر (رض) کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے (جب حضرت علی (رض) حضرت ابوبکر (رض) نے گفتگو کی تو کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے بہرحال ان اموال کا معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان واقعہ ہوا ہے اس میں بھی میں نے کسی کے حق کو ترک نہیں کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس معاملہ میں جس طرح کرتے دیکھا میں نے بھی اس معاملہ کو اسی طرح سر انجام دیا حضرت علی (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا آج سہ پہر کے وقت آپ سے بیعت کرنے کا وقت ہے حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز ادا کی منبر پر چڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی (رض) کے معاملہ اور بیعت سے رہ جانے کا قصہ اور وہ عذر بیان کیا جو حضرت علی بن ابوطالب نے ان کے سامنے پیش کیا پھر علی (رض) نے استغفار کیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابوبکر (رض) کے حق کی عظمت کا اقرار کیا اور بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت پر شک تھا اور نہ اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے بلکہ ہم اس امر (خلافت) میں اپنا حصہ خیال کرتے تھے اور ہمارے مشورہ کے بغیر ہی حکومت بنا لی گئی جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رنج پہنچا مسلمان یہ سن کو خوش ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست کیا ہے اور مسلمان پھر حضرت علی (رض) کے قریب ہونے لگے جب انہوں نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي کَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِي بَکْرٍ فِي ذَلِکَ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُکَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّی عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَکَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْکَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَکْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَکُنْ بَايَعَ تِلْکَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَکَ أَحَدٌ کَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَکْرٍ وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَکْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَضِيلَتَکَ وَمَا أَعْطَاکَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْکَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْکَ وَلَکِنَّکَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَکُنَّا نَحْنُ نَرَی لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُکَلِّمُ أَبَا بَکْرٍ حَتَّی فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَکْرٍ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنْ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَکْرٍ مَوْعِدُکَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّی أَبُو بَکْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَکَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنْ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَکْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَی الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَی أَبِي بَکْرٍ وَلَا إِنْکَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَکِنَّا کُنَّا نَرَی لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِکَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ اور عباس (رض) دونوں حضرات ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی میراث میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا اور وہ دونوں اس وقت فدک اور خبیر کے حصہ میں اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان دونوں سے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا پھر مزکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اس حدیث میں یہ ہے کہ پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) کے حق پر ہونے کی عظمت اور ان کی فضیلت اور ان کی دین میں سبقت کا ذکر کیا پھر وہ حضرت ابوبکر (رض) کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی پھر لوگ حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ نے صحیح اور اچھا کام کیا ہے تو لوگ علی (رض) کے قریب ہوگئے جس وقت کہ انہوں نے یہ نیک کام کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَکٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَکْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَکْرٍ وَذَکَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَی إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی عَلِيٍّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ فَکَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَی عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
ابن نمیر، یعقوب بن ابراہیم، زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی، یعقوب بن ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی بیٹی نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فئی دیا تھا اس میراث کو آپ نے تقسیم کیا تو حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم (نبیوں اور رسولوں) کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے راوی کہتا ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور حضرت فاطمہ نے رسول اللہ ﷺ کے اس ترکہ میں سے جو آپ ﷺ نے خبیر فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے چھوڑا تھا اس میں سے اپنے حصہ کا حضرت ابوبکر (رض) سے سوال کرتی رہیں تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو یہ دینے سے انکار کیا اور حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں کوئی وہ عمل نہیں چھوڑوں گا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا سوائے اس کے کہ میں اسی پر عمل کروں گا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے آپ ﷺ کے کئے ہوئے کسی عمل کو چھوڑا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور جو مدینہ کے صدقات ہیں تو انہیں حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) کو دیئے دیئے ہیں اور ان پر حضرت علی (رض) کا غلبہ ہے اور خبیر اور فدک کے مال کو حضرت عمر (رض) نے اپنے پاس رکھا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے صدقات ہیں جن کو آپ ﷺ اپنے حقوق اور ملکی ضروریات میں خرچ کرتے تھے اور یہ اس کی تولیت (یعنی نگرانی) میں رہیں گے کہ جو مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا تو آج تک ان کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَکَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَکْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَکٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ عَلَيْهَا ذَلِکَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِکًا شَيْئًا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَی إِنْ تَرَکْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمْسَکَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَی مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَی ذَلِکَ إِلَی الْيَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری وراثت میں سے ایک دینار بھی کسی کو نہیں دے سکتے اور میری ازواج مطہرات اور میرے عامل کے اخراجات کے بعد میرے مال میں سے جو کچھ بچے گا تو وہ صدقہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
محمد بن یحیی، ابن ابی عمر مکی، سفیان، ابوالزناد سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
ابن ابی خلف زکریا، ابن عدی، ابن المبارک، یونس، زہری، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوکامل، فضیل بن حسین، سلیم، یحیی، سلیم بن اخضر، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے گھوڑے کے لئے دو حصے اور آدمی کے لئے ایک حصہ تقسیم فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
ابن نمیر، حضرت عبیداللہ (رض) نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں " نفل " یعنی مال غنیمت کا ذکر نہیں۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي النَّفَلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوئہ بدر میں فرشتوں کے ذریعہ امداد اور غنیمت کے مال کے مباح ہونے کے بیان میں
ہناد بن سری، ابن مبارک، عکرمہ بن عمار، سماک حنفی، ابن عباس، حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ تین سو انیس تھے اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے پکار پکار کر دعا مانگنا شروع کردی اے اللہ ! میرے لئے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو پورا فرمایا اے اللہ ! اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما اے اللہ ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی آپ ﷺ برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کئے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ ﷺ کے شانہ سے گر پڑی پس حضرت ابوبکر (رض) آئے آپ ﷺ کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ ﷺ کے کندھے پر ڈالا پھر آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ سے لپٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہوچکی عنقریب وہ آپ ﷺ سے اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰ ى ِكَةِ مُرْدِفِيْنَ ) 8 ۔ الانفال : 9) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار لگاتار فرشتوں سے کروں گا پس اللہ نے آپ ﷺ کی فرشتوں کے ذریعہ امداد فرمائی حضرت ابوزمیل نے کہا حضرت ابن عباس (رض) نے یہ حدیث اس دن بیان کی جب مسلمانوں میں ایک آدمی مشرکین میں سے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی ضرب لگنے کی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ کوئی گھوڑ سوار یہ کہہ رہا ہے، اے حیزوم ! آگے بڑھ پس اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چت گرا پڑا ہے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو اس کا ناک زخم زدہ تھا اور اس کا چہرہچہرہ پھٹ چکا تھا، کوڑے کی ضرب کی طرح اور اس کا پورا جسم بند ہوچکا تھا۔ پس اس پھٹ چکا تھا پس اس انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ یہ واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی پس اس دن ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے ابوزمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا جب قیدیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر و عمر (رض) سے فرمایا تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے فدیہ وصول کرلیں اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں ! اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ انہیں ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں عقیل کو حضرت علی (رض) کے سپرد کریں، وہ اس کی گردن اڑائیں اور فلاں آدمی میرے سپرد کردیں۔ اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا تاکہ میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں پس رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر (رض) کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے جب آئندہ روز میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ ﷺ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی ﷺ کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ ) " یہ بات نبی کی شان کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہائے "۔ سے اللہ عزوجل کے قول " پس کھاؤ جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے (کہ وہ تمہارے لئے) حلال طیب (ہے) ۔ " پس اللہ نے صحابہ (رض) کے لئے غنیمت حلال کردی۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُشْرِکِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِکْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْکِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ رِدَائَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَی مَنْکِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ وَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّي مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِينَ فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِکَةِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ فَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ کَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِکَ أَجْمَعُ فَجَائَ الْأَنْصَارِيُّ فَحَدَّثَ بِذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقْتَ ذَلِکَ مِنْ مَدَدِ السَّمَائِ الثَّالِثَةِ فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَائِ الْأُسَارَی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَی أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَکُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَی الْکُفَّارِ فَعَسَی اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَی يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَی الَّذِي رَأَی أَبُو بَکْرٍ وَلَکِنِّي أَرَی أَنْ تُمَکِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَکِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَکِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَإِنَّ هَؤُلَائِ أَئِمَّةُ الْکُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْکِيَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْئٍ تَبْکِي أَنْتَ وَصَاحِبُکَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَيْتُ لِبُکَائِکُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْکِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُکَ مِنْ أَخْذِهِمْ الْفِدَائَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَی مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ أَسْرَی حَتَّی يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَی قَوْلِهِ فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کو باندھنے گرفتار کرنے اور ان پر احسان کرنے کے جواز کے بیان میں
قتبیہ بن سعید، لیث بن سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو لائے جسے ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کا سردار کہا جاتا تھا صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے ؟ اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ خیر ہے اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال کا ارادہ فرماتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی چاہت کے مطابق عطا کیا جائے گا آپ ﷺ اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ ﷺ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو عطا کیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کرچکا ہوں اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ ﷺ مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو دے دیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اے محمد ﷺ ! اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ مبغوض ہو پس اب آپ ﷺ کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور اللہ کی قسم آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ ﷺ کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے اور آپ ﷺ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ ﷺ کا کیا مشورہ ہے آپ ﷺ نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم صحابی یعنی بےدین ہوگئے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ اجازت مرحمت نہ فرما دیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ مَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ فَانْطَلَقَ إِلَی نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنْ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِکَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُکَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِکَ فَأَصْبَحَ دِينُکَ أَحَبَّ الدِّينِ کُلِّهِ إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِکَ فَأَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبِلَادِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَإِنَّ خَيْلَکَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَی فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ أَصَبَوْتَ فَقَالَ لَا وَلَکِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيکُمْ مِنْ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّی يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کو باندھنے گرفتار کرنے اور ان پر احسان کرنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید بن ابوسعید مقبری، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کے علاقہ کی طرف گھڑ سواری کی ایک جماعت بھیجی تو وہ ایک آدمی کو لے کر آئے جسے ثمامہ بن اثال حنفی کہا جاتا تھا یہ یمامہ والوں کا سردار تھا باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ اس نے کہا اگر تم مجھے قتل کرو گے تو تم ایک طاقتور آدمی کو قتل کرو گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
قتبیہ بن سعید، لیث بن سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہود کی طرف چلو پس ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ان کے پاس پہنچے رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں پکارا تو فرمایا اے یہود کی جماعت اسلام لے آؤ سلامت رہو گے انہوں نے کہا اے ابوالقاسم آپ ﷺ تبلیغ کرچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں۔ تیسری مرتبہ فرمایا جان رکھو زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے اور میں تمہیں اس زمین سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں پس تم میں سے جس کے پاس اپنا کوئی مال ہو تو چاہیے کہ وہ بیچ دے ورنہ جان لے زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَی يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّی جِئْنَاهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ أُرِيدُ فَقَالَ لَهُمْ الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
محمد بن رافع، اسحاق بن منصور، ابن رافع، اسحاق، عبدالرزاق، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو تو جلا وطن کردیا اور بنو قریظہ پر احسان فرماتے ہوئے رہنے دیا یہاں تک کہ اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی جنگ کی تو آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کرا دیا اور ان کی عورتوں، اولاد اور اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا سوائے ان چند ایک کے جو رسول اللہ ﷺ سے آ ملے تو آپ ﷺ نے انہیں امن دیا اور وہ اسلام لے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کردیا یعنی بنو قینقاع جو حضرت عبداللہ بن سلام کی قوم اور بنو حارثہ کے یہود اور ہر اس یہودی کو جو مدینہ میں رہتا تھا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَائَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ کُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَکُلَّ يَهُودِيٍّ کَانَ بِالْمَدِينَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کو حجاز مقدس سے جلا وطن کردینے کے بیان میں
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، حفص، میسرہ، موسی، حضرت موسیٰ نے ان سندوں کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَکْثَرُ وَأَتَمُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری کو جزیرہ العرب سے نکالنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، ضحاک بن مخلد، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابولزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجھے خبر دی انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاری کو جزیرہ عرب سے ضرور نکالوں گا یہاں تک کہ میں وہاں مسلمانوں کے علاوہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّی لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری کو جزیرہ العرب سے نکالنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، سفیان ثوری، سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل ابن عبیداللہ، حضرت ابوالزبیر (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، سعد بن ابراہیم ابوامامہ، سہل بن حنیف، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ بنو قریظہ والوں نے حضرت سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ پر اتر آنے کی رضا مندی کا اظہار کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد (رض) کی طرف پیغام بھیجا تو وہ گدھے پر حاضر ہوئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا اپنے افضل ترین کی طرف اٹھو پھر فرمایا یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں سعد نے کہا ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کردیں اور ان کی اولاد کو قیدی بنالیں تو نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا تم نے بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے ابن مثنی نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کو ذکر نہیں کیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ قُومُوا إِلَی سَيِّدِکُمْ أَوْ خَيْرِکُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ قَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ الْمُثَنَّی وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ (رض) سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور ایک مرتبہ فرمایا کہ تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً لَقَدْ حَکَمْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہد شکنی کرنے والے سے جنگ کرنے اور قلعہ والوں کو عادل بادشاہ کے حکم پر قلعہ سے نکالنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شبیہ، محمد بن علاء ہمدانی، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد (رض) کو غزوہ خندق کے دن قریش کے ایک آدمی کا تیر لگا جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا اس کا وہ تیر بازو کی ایک رگ میں لگا رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اس کے لئے ایک خیمہ نصب کروا دیا تاکہ پاس ہی ان کی عیادت کرسکیں پس جب رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس آئے اور ہتھیار اتارے غسل فرمایا تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس اس حال میں آئے کہ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے اس نے کہا آپ ﷺ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں، اللہ کی قسم آپ ﷺ اسے نہ اتارئیے بلکہ ان کی طرف نکلیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہاں، جبرائیل (علیہ السلام) نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے جنگ کی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر (قلعہ سے) اترنے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں فیصلہ کو سعد کی طرف بدل دیا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کردیں اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیں اور ان کے مال کو تقسیم کرلیں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَکْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُکْمَ فِيهِمْ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْکُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَائُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
তাহকীক: