আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ৪৫৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا اور ان میں حضرت ابن عمر (رض) بھی تھے تو ان کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے اور اس کے علاوہ ایک اونٹ زیادہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمْ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا سِوَی ذَلِکَ بَعِيرًا فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالرحیم بن سلیمان، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا تو میں بھی ان میں مل کر نکل گیا تو وہاں ہمیں بہت سے اونٹ اور بکریاں ملیں ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زیادہ عطا فرمایا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَی نَجْدٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطاب، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
ابوربیع، ابوکامل، ایوب، ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، ابن عمر، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، موسی، ہارون ایلی، ابن وہب، اسامہ، حضرت نافع سے ان سندوں کے ساتھ انہی حدیثوں کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ النَّفَلِ فَکَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ فِي سَرِيَّةٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
سریج بن یونس، عمرو ناقد، عبداللہ بن رجاء، یونس، زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خمس میں سے ہمارا جو حصہ بنتا تھا اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا تو مجھے شارف ملا اور شارف بڑی عمر کا اونٹ ہوتا ہے۔
و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَی نَصِيبِنَا مِنْ الْخُمْسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْکَبِيرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
ہناد بن سری، ابن مبارک، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ کو غنیمت کا مال عطا فرمایا آگے ابن رجاء کی حدیث کی طرح حدیث مبارکہ منقول ہے۔
و حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَائٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث جدی، عقیل بن خالد، ابن شہاب، سالم، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سرایہ میں جن کو بھیجتے ان میں سے کچھ کو ان کے مال غنیمت میں حصہ کے علاوہ کچھ خاص طور پر بھی عطا فرماتے اور خمس پورے لشکر کے لئے واجب تھا۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنْ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَی قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِي ذَلِکَ وَاجِبٌ کُلِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم، یحییٰ بن سعید، عمر بن کثیر، افلح، حضرت ابومحمد انصاری (رض) سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابوقتادہ کے ساتھ تھے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا اور پھر حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، یحیی، عمر بن کثیر بن افلح، حضرت ابومحمد (رض) حضرت ابوقتادہ (رض) کے مولیٰ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا اور گزشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، یحییٰ بن سعید، عمر بن کثیر، ابن افلح، ابومحمد مولیٰ حضرت ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے نکلے تو جب ہمارا مقابلہ ہوا تو مسلمانوں کو کچھ شکست ہوئی حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر چڑھائی کئے ہوئے ہے میں اس کی طرف گھوما یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے آکر اس کی شہ رگ پر تلوار ماری اور وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس نے مجھے اتنا دبایا کہ اس سے موت کا ذائقہ محسوس کرنے لگا لیکن اس نے مجھے فورا ہی چھوڑ دیا اور وہ خود مرگیا میں حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مل گیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کا حکم۔ پھر (کچھ دیر بعد) لوگ واپس لوٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جو آدمی کسی کافر کو قتل کرے اور اس قتل پر اس کے پاس گواہ بھی موجود ہوں سامان اسی کا ہے حضرت قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کون ہے جو میری گواہی دے پھر میں بیٹھ گیا آپ ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوقتادہ تجھے کیا ہوگیا ہے میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں پورا واقعہ بیان کردیا لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سچ کہا ہے اور مقتول کا سامان میرے پاس ہے اب آپ ﷺ اسے منا لیں کہ یہ اپنے حق سے دستبرار ہوجائے حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے نہیں اللہ کی قسم ہرگز نہیں ایک اللہ کا شیر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لڑے اور مقتول سے چھینا ہوا مال تجھے دے دے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر سچ کہہ رہے ہیں تو ان کو دے دے اس نے وہ مال مجھے دے دیا میں نے زرہ بیچ کر اس کی قیمت سے بنی سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اور میرا یہ پہلا مال تھا جو اسلام کی برکت سے مجھے ملا اور لیث کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا ہرگز نہیں آپ ﷺ یہ مال قریش کی ایک لومڑی کو نہیں دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نہیں چھوڑیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یوسف بن ماجشون، صالح بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا میں اپنے دائیں اور بائیں کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے کھڑے ہیں میں نے گمان کیا کہ کاش کہ میں طاقتور آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا اسی دوران ان میں سے ایک لڑکے نے میری طرف اشارہ کر کے کہا اے چچا جان ! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں میں نے کہا ہاں اور اے بھیجتے تجھے اس سے کیا کام اس نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں میرا جسم اس کے جسم سے علیحدہ نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ مرجائے حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی بات سے تعجب ہوا اسی دوران میں دوسرے لڑکے نے مجھے اشارہ کر کے اسی طرح کہا حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میری نظر ابوجہل کی طرف پڑی وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا میں نے ان لڑکوں سے کہا کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ وہی ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے وہ فورا اس کی طرف جھپٹے اور تلواریں مار مار کر اسے قتل کر ڈالا پھر وہ دونوں لڑکے رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی اپنی تلوار سے اس کا خون صاف کردیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ ﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں نے ابوجہل کو قتل کیا ہے اور آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن عمرو بن جموع کو ابوجہل سے چھینا ہوا مال ان دونوں لڑکوں معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفراء (رض) کو دینے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ کُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُکَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّی يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِکَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ مِثْلَهَا قَالَ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَی أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُکُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ قَالَ فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّی قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّکُمَا قَتَلَهُ فَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُ فَقَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْکُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ کِلَاکُمَا قَتَلَهُ وَقَضَی بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر، حضرت عوف بن مالک (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ حمیر کے ایک آدمی نے دشمنوں کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا تو حضرت خالد بن ولید (رض) نے اس سامان کو روک لیا وہ ان پر نگران تھے پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے حضرت خالد سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا حضرت خالد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر حضرت خالد، حضرت عوف کے پاس سے گزرے تو انہوں نے حضرت خالد کی چادر کھینچی پھر فرمایا کیا میں نے جو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا ؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی آپ ﷺ ناراض ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوخالد تو اسے نہ دے اے خالد تو اسے نہ دے کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑنے والے ہو کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے لیں پھر ان جانوروں کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیز نگرانوں کے لئے ہیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنْ الْعَدُوِّ فَأَرَادَ سَلَبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَکَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لِخَالِدٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ قَالَ اسْتَکْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ادْفَعْهُ إِلَيْهِ فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ أَنْجَزْتُ لَکَ مَا ذَکَرْتُ لَکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِکُونَ لِي أُمَرَائِي إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُهُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَکَتْ کَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَکُمْ وَکَدْرُهُ عَلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، صفوان بن عمرو، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، نفیر، عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا کہ جو حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلے اور یمن سے مجھے مدد ملی اور پھر اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث نقل کی اور اس حدیث میں ہے کہ حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالد کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قاتل کو مقتول کا سلب دلوایا ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میں اسے زیادہ سمجھتا ہوں۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَی وَلَکِنِّي اسْتَکْثَرْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا پھر اس آدمی نے اس اونٹ کو بٹھایا پھر ایک تسمہ اس کی کمر میں سے نکالا اور اسے باندھ دیا پھر وہ آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھانا کھانے لگا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا اور ہم لوگ کمزور اور سواریوں سے خالی تھے اور کچھ ہم میں سے پیدل بھی تھے اتنے میں وہ جلدی سے نکلا اور اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کا تسمہ کھولا پھر اس اونٹ کو بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اونٹ کو کھڑا کیا اور پھر اسے لے کے بھاگ پڑا ایک آدمی نے خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں بھی جلدی میں نکلا میں اس اونٹنی کی سرین کے پاس ہوگیا پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ میں اونٹ کی سرین کے بالکل پاس پہنچ گیا پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اس اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور میں نے اسے بٹھایا اور جیسے ہی اس نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا میں نے اپنی تلوار کھینچ لی اور اس آدمی کے سر پر ماری وہ مرگیا پھر میں اونٹ اس کے کجاوے اور اسلحہ سمیت لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے میرا استقبال کیا اور فرمایا کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے تو سب نے عرض کیا حضرت سلمہ بن اکوع (رض) نے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا سارا سامان حضرت سلمہ بن اکوع کا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّی مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَی جَمَلَهُ فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَی نَاقَةٍ وَرْقَائَ قَالَ سَلَمَةُ وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی کُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُکْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انعام دے کر مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے بیان میں
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت ایاس (رض) بن سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ہم نے قبیلہ خزارہ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی سر براہی میں جہاد کیا حضرت ابوبکر (رض) کو رسول اللہ ﷺ نے ہم پر امیر بنایا تھا تو جب ہمارے اور پانی کے درمیان ایک گھڑی کا فاصلہ باقی رہ گیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں حکم فرمایا ہم رات کے آخری حصہ میں اتر پڑے اور پھر ہمیں ہر طرف سے حملہ کرنے کا حکم فرمایا پانی پر پہنچے پس وہاں جو قتل ہوگیا سو وہ قتل ہوگیا اور کچھ لوگ قید ہوئے اور میں ان لوگوں کے ایک حصہ میں دیکھ رہا تھا کہ جس میں کافروں کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا جب انہوں نے تیر دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کرلے آیا ان لوگوں میں قبیلہ فزارہ کی عورت تھی جو چمڑے کے کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین ایک لڑکی تھی میں ان سب کو لے کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آگیا حضرت ابوبکر (رض) نے وہ لڑکی انعام کے طور پر مجھے عنایت فرما دی جب ہم مدینہ منورہ آگئے اور میں نے ابھی تک اس لڑکی کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ ﷺ نے میری ملاقات ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم یہ لڑکی مجھے بڑی اچھی لگی ہے اور میں نے اس کا ابھی تک کپڑا نہیں کھولا پھر اگلے دن میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے بازار میں ہوگئی تو آپ نے فرمایا اے سلمہ وہ لڑکی مجھے دے دو تیرا باپ بہت اچھا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ لڑکی آپ ﷺ کے لئے ہے اور اللہ کی قسم میں نے تو ابھی اس کا کپڑا تک نہیں کھولا پھر (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں بہت سے مسلمانوں کو چھڑایا جو کہ مکہ میں قید کردیئے گئے تھے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَکْرٍ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَلَمَّا کَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَائِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ فَوَرَدَ الْمَائَ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَی وَأَنْظُرُ إِلَی عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَی الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ قَالَ الْقَشْعُ النِّطَعُ مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَسُقْتُهُمْ حَتَّی أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَکْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَکْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَدِ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوکَ فَقُلْتُ هِيَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَهْلِ مَکَّةَ فَفَدَی بِهَا نَاسًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ کَانُوا أُسِرُوا بِمَکَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی کے حکم کے بیان میں
احمد بن حنبل، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم جس گاؤں میں بھی آؤ اور اس میں ٹھہرو تو اس میں تمہارا حصہ بھی ہوگا اور جس گاؤں کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے پھر باقی تمہارے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُکُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی کے حکم کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی شیبہ، اسحاق، سفیان، عمرو، زہری، مالک بن اوس، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ بنو نضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر لوٹا دیا تھا مسلمانوں نے ان کو حاصل کرنے کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ ہی اونٹ اور یہ مال نبی ﷺ کے لئے مخصوص تھا آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچ اس میں سے نکال لیتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا اسے اللہ کے راستے میں جہاد کی سواریوں اور ہتھیاروں کی تیاری وغیرہ میں خرچ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ فَکَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْکُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی کے حکم کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی کے حکم کے بیان میں
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، مالک، حضرت زہری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن اوس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں دن چڑھے آپ کی خدمت میں آگیا حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کا تکیہ لگائے بیٹھے ہیں (فرمایا کہ اے مالک) تیری قوم کے کچھ آدمی جلدی جلدی میں آئے تھے میں نے ان کو کچھ سامان دینے کا حکم کردیا ہے اب تم وہ مال لے کر ان کے درمیان تقسیم کردو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین ! آپ میرے علاوہ کسی اور کو اس کام پر مقرر فرما دیں آپ نے فرمایا اے مالک تم ہی لے لو اسی دوران (آپ کا غلام) یرفاء اندر آیا اور اس نے عرض کیا اے امیر المومنین ! حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ علیھم اجمعین حاضر خدمت ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا ان کے لئے اجازت ہے وہ اندر تشریف لائے پھر وہ غلام آیا اور عرض کیا کہ حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) تشریف لائے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا اچھا انہیں بھی اجازت دے دو حضرت عباس کہنے لگے اے امیر المومنین میرے اور اس جھوٹے گناہ گار دھوکے باز خائن کے درمیان فیصلہ کر دیجئے لوگوں نے کہا ہاں اے امیر المومنین ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کو ان سے راحت دلائیں حضرت مالک بن اوس کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات یعنی عباس اور حضرت علی (رض) نے ان حضرت کو اسی لئے پہلے بھیجا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم (پیغمبروں) کے مال میں سے ان کے وارثوں کو کچھ نہیں ملتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے سب کہنے لگے کہ جی ہاں پھر حضرت عمر (رض) ، حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں تم دونوں کو قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک خاص بات کی تھی کہ جو آپ ﷺ کے علاوہ کسی سے نہیں کی حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دیہات والوں کے مال سے عطا فرمایا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ہی حصہ ہے مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے کی آیت بھی انہوں نے پڑھی ہے یا نہیں پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تم لوگوں کے درمیان بنی نضیر کا مال تقسیم کردیا ہے اور اللہ کی قسم آپ ﷺ نے مال کو تم سے زیادہ نہیں سمجھا اور ایسے بھی نہیں کیا کہ وہ مال خود لے لیا ہو اور تم کو نہ دیا ہو یہاں تک کہ یہ مال باقی رہ گیا تو رسول اللہ ﷺ اس مال میں سے اپنے ایک سال کا خرچ نکال لیتے پھر جو باقی بچ جاتا وہ بیت المال میں جمع ہوجاتا پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم کو یہ معلوم ہے انہوں نے کہا جی ہاں پھر اسی طرح حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) کو قسم دی انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا لوگوں نے کہا کیا تم دونوں کو اس کا علم ہے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کا والی ہوں اور تم دونوں اپنی وراثت لینے آئے ہو حضرت عباس (رض) تو اپنے بھتیجے کا حصہ اور حضرت علی (رض) اپنی بیوی کا حصہ ان کے باپ کے مال سے مانگتے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے مال کا کوئی وراث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور تم ان کو جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز اور خائن سمجھتے ہو ؟ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے نیک اور ہدایت یافتہ تھے اور حق کے تابع تھے پھر حضرت ابوبکر (رض) کی وفات ہوئی اور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کا ولی بنا اور تم نے مجھے بھی جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز اور خائن خیال کیا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا، نیک، ہدایت یافتہ ہوں اور میں اس مال کا بھی والی ہوں اور پھر تم میرے پاس آئے تم بھی ایک ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے تم نے کہا کہ یہ مال ہمارے حوالے کردیں میں نے کہا کہ میں اس شرط پر مال تمہارے حوالے کر دوں گا کہ اس مال میں تم وہی کچھ کرو گے جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے اور تم نے یہ مال اسی شرط سے مجھ سے لیا پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے ان دونوں حضرات نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم دونوں اپنے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے میرے پاس آئے ہو اللہ کی قسم میں قیامت تک اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا اگر تم سے اس کا انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر یہ مال مجھے لوٹا دو ۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ مَالِکَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَی النَّهَارُ قَالَ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَی سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَی رُمَالِهِ مُتَّکِئًا عَلَی وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِي يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ قَالَ قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ قَالَ فَجَائَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَائَ فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْکَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ فَقَالَ مَالِکُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ کَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدَا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَاهُ صَدَقَةٌ قَالَا نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ کَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ مَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَکُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْکُمْ وَلَا أَخَذَهَا دُونَکُمْ حَتَّی بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِکَ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَکَ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَاهُ صَدَقَةٌ فَرَأَيْتُمَاهُ کَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَکْرٍ فَرَأَيْتُمَانِي کَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُکُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا عَلَی أَنَّ عَلَيْکُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي کَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِکَ قَالَ أَکَذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَکُمَا وَلَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِي بَيْنَکُمَا بِغَيْرِ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فئی کے حکم کے بیان میں
اسحاق، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت مالک (رض) بن اوس (رض) بن حدثان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا کہ تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اس سے آگے اسی طرح حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ ﷺ ان مالوں میں سے اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچ نکال لیتے تھے معمر راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کی خوارک رکھتے تھے پھر جو مال بچتا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے رکھتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক: