আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৪৫৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے جواز کے بیان میں
علی بن حجر سعدی، عمرو بن ناقد، زہیر بن حرب، زہیر، سفیان، عمرو، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنگ ایک دھوکہ ہے۔
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ وَزُهَيْرٍ قَالَ عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے جواز کے بیان میں
محمد بن عبدالرحمن بن سہم، عبداللہ بن مبارک، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنگ ایک دھوکہ ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا کرنے کی ممانعت اور ملاقات (جنگ) کے وقت ثابت قدم رہنے کے حکم کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، ابوعامر عقدی، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دشمن سے ملنے کی یعنی جنگ کی تمنا نہ کرو اور جب ان سے ملو یعنی جنگ کرو تو پھر صبر کرو (یعنی ثابت قدم رہو) ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَنْ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملنے کی تمنا کرنے کی ممانعت اور ملاقات (جنگ) کے وقت ثابت قدم رہنے کے حکم کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، ابونضر، حضرت عبداللہ بن اوفی (رض) نے حضرت عمر بن عبیداللہ (رض) کو لکھا جس وقت کہ وہ حروریہ مقام کی طرف گئے ان کو خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا جن دنوں میں دشمن سے مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ انتظار فرما رہے تھے یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا پھر آپ ﷺ نے ان میں کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگوں تم دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو اور جب تمہارا دشمنوں سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور تم جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ ! اے کتاب نازل کرنے والے ! اے بادلوں کو چلانے والے ! اور اے لشکروں کو شکت دینے والے ! ان کو شکت عطا فرما اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ کِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَی الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّی إِذَا مَالَتْ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
سعید بن منصور، خالد بن عبداللہ، اسماعیل بن ابی خالد، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کافروں کی جماعتوں کے خلاف دعا فرمائی فرمایا اے اللہ ! اے کتاب نازل کرنے والے ! اے جلد حساب لینے والے ! کافروں کے گروہوں کو شکست عطا فرما اے اللہ ! انہیں شکست دے اور انہیں پھسلا دے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، اسماعیل بن ابی خالد، حضرت ابی اوفیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی آگے حدیث مبارکہ اسی طرح ہے اور اس میں اَللَّهُمَّ کا ذکر نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَی يَقُولُا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هَازِمَ الْأَحْزَابِ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَهُ اللَّهُمَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن ابی عمر، حضرت اسماعیل سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے اور ابن عمر (رض) نے اپنی روایت میں یہ زائد کیا اے بادلوں کو جاری کرنے والے۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ مُجْرِيَ السَّحَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
حجاج بن شاعر، عبدالصمد، حماد، ثابت، انس حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا اے اللہ ! اگر تو چاہے تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ اللَّهُمَّ إِنَّکَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی غزوہ میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے کو ناپسند فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً فَأَنْکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ کسی غزوہ میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْکَ الْمَغَازِي فَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، عمرو ناقد، ابن عیینہ، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، عبیداللہ، ابن عباس، حضرت صعب (رض) بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ نبی ﷺ سے شب خون میں مشرکوں کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کا کیا حکم ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ بھی انہی میں سے ہیں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّرَارِيِّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ فَقَالَ هُمْ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ، ابن عباس، حضرت صعب (رض) بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے شب خون مارنے میں مشرکوں کے بچے بھی مارے جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِکِينَ قَالَ هُمْ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، ابن شہاب، عبیدللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابن عباس، حضرت صعب بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر فوج کا کوئی لشکر شب خون مارے اور ان کے ہاتھوں مشرکوں کے بچے بھی مارے جائیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ بھی اپنے باپ دادا میں سے ہیں۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَائِ الْمُشْرِکِينَ قَالَ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بویرہ میں بنو نضیر کے درختوں کو جلا دیا اور کاٹ ڈالا قتیبہ اور ابن رمح کی حدیثوں میں یہ اضافہ ہے اللہ نے آیت نازل فرمائی تم نے جن درختوں کو کاٹا یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ اللہ کی اجازت سے تھا تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کر دے (الحشر : ٥)
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ زَادَ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں
سعید بن منصور، ہناد بن سری، ابن مبارک، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درختوں کو کاٹ دیا اور ان کو جلا ڈالا اور ان کے لئے حضرت حسان (رض) فرماتے ہیں بنی لوئی کے سرداروں کے ہاں بویرہ میں آگ لگا دینا معمولی بات ہے اور اس بارے میں آیت نازل ہوئی تم نے جن درختوں کو کاٹا جن کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ وَهَانَ عَلَی سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِکَ نَزَلَتْ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں
سہل بن عثمان، عقبہ بن خالد سکونی، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درختوں کو جلوا ڈالا۔
و حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاص اس امت محمدیہ کے لئے غنیمت کا مال حلال ہونے کے بیان میں
ابوکریب، محمد بن علاء، ابن مبارک، معمر، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اپنی قوم سے انہوں نے فرمایا جس آدمی نے ابھی شادی کی ہو اور اس نے ابھی تک شب زفاف نہ گزاری ہو اور وہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی بیوی کے ساتھ رات گزارے تو وہ آدمی میرے ساتھ نہ چلے اور نہ ہی وہ آدمی میرے ساتھ چلے کہ جس نے مکان بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو اور میرے ساتھ وہ بھی نہ جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ جننے کا انتظار میں ہو راوی کہتے ہیں کہ اس نبی ﷺ نے جہاد کیا وہ عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت میں ایک گاؤں کے قریب آئے تو انہوں نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں اے اللہ اس سورج کو کچھ دیر مجھ پر روک دے پھر سورج کو ان پر روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی پھر انہوں نے غنیمت کا مال جمع فرمایا پھر اس مال غنیمت کو کھانے کے لئے آگ آئی تو اس آگ نے اسے کھانے سے انکار کردیا یعنی نہ کھایا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اس کی خیانت کی ہے تو ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے پھر سب قبیلوں کے آدمیوں نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ نبی کی ہاتھ کے ساتھ چپک گیا اللہ کے نبی ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا اس مال میں خیانت کرنے والا آدمی تمہارے قبیلہ میں ہے تو اب پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے انہوں نے بیعت کی تو پھر دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک کیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم نے خیانت کی ہے پھر وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال کر لائے نبی نے فرمایا کہ تم اسے مال غنیمت میں اونچی جگہ میں رکھ دو تو آگ نے اسے قبول کیا اور کھالیا آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہماری لئے مال غنیمت کو حلال فرما دیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَی بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا آخَرُ قَدْ اشْتَرَی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَی لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّی فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتْ النَّارُ لِتَأْکُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ فَقَالَ فِيکُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ کُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيکُمْ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُکَ فَبَايَعَتْهُ قَالَ فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ فِيکُمْ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ قَالَ فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتْ النَّارُ فَأَکَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِکَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَأَی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سماک، حضرت مصعب بن سعد (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس کے مال میں سے ایک تلوار لے لی اور اسے نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ ﷺ نے انکار فرمایا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی لوگ آپ ﷺ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ہیں۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخَذَ أَبِي مِنْ الْخُمْسِ سَيْفًا فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَبْ لِي هَذَا فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ سماک بن حرب، حضرت مصعب (رض) بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں ایک دفعہ میں نے تلوار لی اور اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر جب میں کھڑا ہوا تو مجھے نبی ﷺ نے فرمایا یہ تلوار تم نے جہاں سے لی اسے وہیں رکھ دو تو میں کھڑا ہوا اور پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں کیا میں اس آدمی کی طرح ہوجاؤں گا کہ جس کا اس کے بغیر گزارہ نہیں تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا جہاں سے تم نے یہ تلوار لی ہے اسے وہیں رکھ دو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ آپ ﷺ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول ﷺ کے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْهُ فَقَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أَؤُجْعَلُ کَمَنْ لَا غَنَائَ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان میں میں بھی تھا تو وہاں ہم نے غنیمت کے بہت سے اونٹ پائے تو ان سب کے حصہ میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک اونٹ زائد بھی ملا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا کَثِيرَةً فَکَانَتْ سُهْمَانُهُمْ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
তাহকীক: