আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৭৩৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “
ان کے لیے خرچ
ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٨) جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ طلاق شدہ کا خرچہ اس وقت تک ہے جب تک وہ حرام نہ ہو اور جب وہ حرام ہوجائے تو اچھے انداز میں عرف کے مطابق فائدہ دینا ہے۔
(۱۵۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : نَفَقَۃُ الْمُطَلَّقَۃِ مَا لَمْ تَحْرُمْ فَإِذَا حَرُمَتْ فَمَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “
ان کے لیے خرچ
ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٩) عطاء نے کہا : مطلقہ مبتوتہ نہیں ہے، اس کے لیے کچھ بھی نہیں سوائے حاملہ کے، وہ اس پر خرچ کرے گا، اس کے حمل کی وجہ سے اور اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچہ نہیں۔
(۱۵۷۲۹) وَقَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ : لَیْسَتِ الْمَبْتُوتَۃُ الْحُبْلَی مِنْہُ فِی شَیْئٍ إِلاَّ أَنَّہُ یُنْفِقُ عَلَیْہَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ فَإِذَا کَانَتْ غَیْرَ حُبْلَی فَلاَ نَفَقَۃَ لَہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے اس کے لیے خرچہ ہے
(١٥٧٣٠) سلمہ بن کہیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی، وہ فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دیں تو اس کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رہائش اور خرچہ نہیں مقرر کیا۔ میں نے یہ ابراہیم سے ذکر کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں : عمر بن خطاب (رض) نے کہا : ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو کسی عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے ہے رہائش بھی ہے اور خرچہ بھی۔ شعبی کی حدیث کو مسلم نے سفیان اور ابراہیم کی حدیث عمر (رض) سے منقطع روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَلَمْ یَرَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- السُّکْنَی وَلاَ النَّفَقَۃَ۔ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ نَدَعُ کِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَۃٍ لَہَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃُ۔ حَدِیثُ الشَّعْبِیِّ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ وَحَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُنْقَطِعٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے اس کے لیے خرچہ ہے
(١٥٧٣١) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ اس کو فاطمہ بنت قیس (رض) کا قول پہنچا۔ کہتے ہیں : ہم اللہ کی کتاب کو عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ شایدوہ بھول گئی ہو۔ اور اسی طرح اس کو اسباط بن محمد نے اعمش سے موقوف روایت کیا ہے اور اس کو اشعث نے حکم اور حماد سے ابراہیم سے اسود سے عمر (رض) سے روایت کیا ہے ، انھوں نے اس بارے میں فرمایا : ہمارے نبی کی سنت ہے۔ اشعث بن سوار ضعیف ہے۔
(۱۵۷۳۱) وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً مَوْقُوفًا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ لَمَّا بَلَغَہُ قَوْلُ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَ : لاَ نَدَعُ کِتَابَ اللَّہِ لِقَوْلِ امْرَأَۃٍ لَعَلَّہَا نَسِیَتْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الأَعْمَشِ مَوْقُوفًا وَرَوَاہُ أَشْعَثُ عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیہِ : وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا۔ وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعِیفٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے اس کے لیے خرچہ ہے
(١٥٧٣٢) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی تھے۔ شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس نے ایک مٹھی کنکریوں کی پکڑی، اس کو کنکریاں ماریں۔ پھر کہا : تو ہلاک ہوجائے۔ تو اس کی مثل حدیث بیان کرتا ہے۔ عمر (رض) نے کہا : ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نہیں جانتے اسے یاد رہا یا وہ بھول گئی۔ اس کے لیے رہائش بھی ہے اور خرچہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ واضح فحاشی کو کریں۔ “
امام شافعی نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اللہ کی کتاب میں خرچہ کا ذکر ہے لیکن اللہ کی کتاب میں رہائش کا ذکر ہے۔
امام شافعی نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اللہ کی کتاب میں خرچہ کا ذکر ہے لیکن اللہ کی کتاب میں رہائش کا ذکر ہے۔
(۱۵۷۳۲) وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْصُولاً مُسْنَدًا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَسَدِیُّ وَہُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : کُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِیُّ فَحَدَّثَ الشَّعْبِیُّ بِحَدِیثِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَجْعَلْ لَہَا سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً۔ فَأَخَذَ الأَسْوَدُ کَفًّا مِنْ حَصًی فَحَصَبَہُ ثُمَّ قَالَ : وَیْحَکَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ ہَذَا قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ نَتْرُکُ کِتَابَ اللَّہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا -ﷺ- لِقَوْلِ امْرَأَۃٍ لاَ نَدْرِی حَفِظَتْ أَوْ نَسِیَتْ لَہَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃُ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {لاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ}
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَۃَ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ۔ وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ فِی النُّقْلَۃِ دُونَ النَّفَقَۃِ وَلَمْ یَقُلْ فِیہِ : وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا۔ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْعِدَدِ۔
قَالَ لِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ہَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِی قَبْلَہُ لأَنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ لاَ یَثْبُتُ وَیَحْیَی بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِی أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیِّ وَأَثْبَتُ مِنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ تَابَعَہُ قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ فَرَوَاہُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ مِثْلَ قَوْلِ یَحْیَی بْنِ آدَمَ سَوَائً وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْخَلِیلِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ مَتْرُوکٌ وَالأَشْبَہُ بِمَا رُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَغَیْرِہَا فِی الإِنْکَارِ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ أَنَّہَا إِنَّمَا أَنْکَرَتْ عَلَیْہَا النُّقْلَۃَ مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ دُونَ النَّفَقَۃِ وَہُوَ الأَشْبَہُ بِمَا احْتُجَّ بِہِ مِنَ الآیَۃِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا نَعْلَمُ فِی کِتَابِ اللَّہِ ذِکْرَ نَفَقَۃٍ إِنَّمَا فِی کِتَابِ اللَّہِ ذِکْرُ السُّکْنَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَۃَ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ۔ وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ فِی النُّقْلَۃِ دُونَ النَّفَقَۃِ وَلَمْ یَقُلْ فِیہِ : وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا۔ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ فِی کِتَابِ الْعِدَدِ۔
قَالَ لِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ہَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِی قَبْلَہُ لأَنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ لاَ یَثْبُتُ وَیَحْیَی بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِی أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیِّ وَأَثْبَتُ مِنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ تَابَعَہُ قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ فَرَوَاہُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ مِثْلَ قَوْلِ یَحْیَی بْنِ آدَمَ سَوَائً وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْخَلِیلِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّنَا وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ مَتْرُوکٌ وَالأَشْبَہُ بِمَا رُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَغَیْرِہَا فِی الإِنْکَارِ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ أَنَّہَا إِنَّمَا أَنْکَرَتْ عَلَیْہَا النُّقْلَۃَ مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ دُونَ النَّفَقَۃِ وَہُوَ الأَشْبَہُ بِمَا احْتُجَّ بِہِ مِنَ الآیَۃِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا نَعْلَمُ فِی کِتَابِ اللَّہِ ذِکْرَ نَفَقَۃٍ إِنَّمَا فِی کِتَابِ اللَّہِ ذِکْرُ السُّکْنَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولاد پر خرچ کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَعَلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ } وَقَالَ { فإِنْ أَ
(١٥٧٣٣) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہند نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان کنجوس آدمی ہے ، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ فرمایا : تو لے لے جو تجھے اور تیرے بچے کو کافی ہوجائے معروف انداز میں۔ اس کو بخاری نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے اور اس کو مسلم نے دوسری سندوں سے ہشام بن عروہ سے نکالا ہے۔
(۱۵۷۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا : أَنَّ ہِنْدًا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ فَہَلْ عَلَیَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِہِ شَیْئًا؟ قَالَ : خُذِی مَا یَکْفِیکِ وَوَلَدَکِ بِالْمَعْرُوفِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولاد پر خرچ کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَعَلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ } وَقَالَ { فإِنْ أَ
(١٥٧٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ پر ابھارا۔ ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے بچے پر خرچ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔
(۱۵۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمِ بْنِ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَثَّ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : عِنْدِی دِینَارٌ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی نَفْسِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی وَلَدِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی زَوْجَتِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ۔ قَالَ : أَنْفِقْہُ عَلَی خَادِمِکَ ۔ قَالَ : عِنْدِی آخَرُ ۔ قَالَ : أَنْتَ أَبْصَرُ ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولاد پر خرچ کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَعَلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ } وَقَالَ { فإِنْ أَ
(١٥٧٣٥) زہری سے روایت ہے کہ ہمیں عبداللہ بن ابوبکر نے خبر دی کہ اسے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے مجھ سے سوال کیا۔ اس نے میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کوئی چیز نہ پائی، وہ میں نے اسے دے دی۔ اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کو پھاڑ کر اپنی دو بیٹیوں کو دے دیا اور اس میں سے اس نے کچھ بھی نہ کھایا۔ پھر وہ کھڑی ہوئی، وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں۔ مجھ پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے۔ میں نے آپ کو وہ واقعہ بیان کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی کسی چیز کے ساتھ بیٹیوں سے آزمایا گیا۔ اس نے ان کی طرف نیکی کی، وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔ اس کو بخاری نے ابو الیمان سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن اور ابوبکر بن اسحاق سے ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : جَائَ تْنِی امْرَأَۃٌ وَمَعَہَا ابْنَتَانِ لَہَا تَسْأَلُنِی فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِی شَیْئًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَأَعْطَیْتُہَا إِیَّاہَا فَأَخَذَتْہَا فَشَقَّتْہَا بَیْنَ ابْنَتَیْہَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَیْہَا فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثَہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : جَائَ تْنِی امْرَأَۃٌ وَمَعَہَا ابْنَتَانِ لَہَا تَسْأَلُنِی فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِی شَیْئًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَأَعْطَیْتُہَا إِیَّاہَا فَأَخَذَتْہَا فَشَقَّتْہَا بَیْنَ ابْنَتَیْہَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَیْہَا فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثَہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولاد پر خرچ کرنے کا بیان قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ وَعَلَی الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ } وَقَالَ { فإِنْ أَ
(١٥٧٣٦) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میرے لیے ابو سلمہ کے بیٹوں میں اجر ہے اگر میں ان پر خرچ کروں اور میں ان کو اس طرح اور اس طرح چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ وہ میرے بھی بیٹے ہیں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں تیرے لیے ان میں اجر ہے جو تو ان پر خرچ کرے گی۔ اس کو مسلم نے ابو کریب سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ اور اس کو بخاری نے ہشام سے ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔
(۱۵۷۳۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ ابْنَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ لِی أَجْرٌ فِی بَنِی أَبِی سَلَمَۃَ أُنْفِقُ عَلَیْہِمْ وَلَسْتُ بِتَارِکَتِہِمْ ہَکَذَا وَہَکَذَا إِنَّمَا ہُمْ بَنِیَّ۔ قَالَ: نَعَمْ لَکِ فِیہِمْ أَجْرٌ مَا أَنْقَقْتِ عَلَیْہِمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور وارث پر اسی کی طرح ہے کا بیان “
(١٥٧٣٧) ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس قول { وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے تکلیف نہ دی جائے۔
(۱۵۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَعَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ {وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِکَ} قَالَ : أَنْ لاَ یُضَارَّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور وارث پر اسی کی طرح ہے کا بیان “
(١٥٧٣٨) مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق شدہ دودھ پلانے والیاں ہیں۔ { لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا } [البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کو دودھ پلانے سے انکار نہ کریں تکلیف دیتے ہوئے کہ وہ اپنے باپ پر بوجھ بنے۔ { وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں کہ والد اپنے بچے ساتھ تکلیف نہ دیا جائے کہ وہ اس کی ماں کو دودھ پلانے سے روکے تاکہ وہ اس کے ساتھ اس کو تکلیف دینا چاہتا ہو۔ { وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہا : یعنی ولی جو بھی ہو { فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَ تَشَاوُرٍ } [البقرۃ ٢٢٣] ۔۔۔ { اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ } [البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں : بچے پر ضائع ہونے کے خوف سے { فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں : یعنی حساب کے ساتھ جو بچے کو دودھ پلایا گیا ہو۔
(۱۵۷۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَاء ُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ} قَالَ یَعْنِی الْوَالِدَاتِ الْمُطَلَّقَاتِ {لاَ تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا} یَقُولُ : لاَ تَأْبَی أَنْ تُرْضِعَہُ ضِرَارًا یَشُقُّ عَلَی أَبِیہِ {وَلاَ مَوْلُودٌ لَہُ بِوَلَدِہِ} یَقُولُ وَلاَ یُضَارَّ الْوَالِدُ بِوَلَدِہِ فَیَمْنَعُ أُمَّہُ أَنْ تُرْضِعَہُ لِیُحْزِنَہَا بِذَلِکَ {وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِکَ} قَالَ یَعْنِی الْوَلِیَّ مَنْ کَانَ {فإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ} غَیْرَ مُسِیئِینَ فِی ظُلْمِ أَنْفُسِہِمَا وَلاَ إِلَی صَبِیِّہِمَا دُونَ الْحَوْلَیْنِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا {وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلاَدَکُمْ} خِیفَۃَ الضَّیْعَۃِ عَلَی الصَّبِیِّ {فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ} یَعْنِی بِحِسَابِ مَا أُرْضِعَ الصَّبِیُّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور وارث پر اسی کی طرح ہے کا بیان “
(١٥٧٣٩) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے بچے کے عصبہ پر جبر کیا کہ اس پر مرد خرچ کریں عورتوں کے علاوہ۔ اس کو لیث بن ابو سلیم نے ایک آدمی سے ، اس نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب نے لڑکے کے رضاعی بھائیوں پر جبر کیا اور یہ منقطع ہے۔
(۱۵۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَبَرَ عَصَبَۃَ صَبِیٍّ أَنْ یُنْفِقُوا عَلَیْہِ الرِّجَالَ دُونَ النِّسَائِ ۔ وَرَوَاہُ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَبَرَ عَمًّا عَلَی رَضَاعِ ابْنِ أَخِیہِ۔ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ” اور وارث پر اسی کی طرح ہے کا بیان “
(١٥٧٤٠) زہری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے تینوں کو قرض ادا کرنے کے لیے مجبور کیا، وہ تمام بچے کے وارث ہیں اس کی رضاعت کے بدلے۔ یہ منقطع ہے۔
(۱۵۷۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَغْرَمَ ثَلاَثَۃً کُلُّہُمْ یَرِثُ الصَّبِیَّ أَجْرَ رَضَاعِہِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤١) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا ہمارے ساتھ سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا۔ اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا : کاش اس کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔ ہماری بات ختم ہوئی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا۔ آپ نے فرمایا : تم نے کیا کہا : ہم نے کہا : ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ نے فرمایا : اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر (قابو پانے کی ) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔
(۱۵۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّعِیرِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمِشُ بْنُ عِصَامٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَبُوکًا فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِیطٌ یَسُوقُ غُنَیْمَۃً لَہُ فَقُلْنَا : لَوْ کَانَ شَبَابُ ہَذَا وَنَشَاطُہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ خَیْرًا لَہُ مِنْہَا فَانْتَہَی قَوْلُنَا حَتَّی بَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا قُلْتُمْ؟ قُلْنَا: کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی وَالِدَیْہِ أَوْ أَحَدِہِمَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی عِیَالٍ یَکْفِیہِمْ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی نَفْسِہِ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٢) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے ساتھ سے ایک آدمی گزرا، انھوں نے اس کی کامل ساخت پر تعجب کیا۔ انھوں نے کہا : کاش ! یہ اللہ کے راستے میں ہوتا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرتا ہی تو وہ اللہ کے راستے میں ہے اور اگر یہ اپنے چھوٹے بچے پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر کوشش کرتا ہے اس کو غنی کرنے کے لیے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔
(۱۵۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَکِیمٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ مَغْرَائَ الْعَبْدِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَرَّ بِہِمْ رَجُلٌ فَتَعَجَّبُوا مِنْ خُلُقِہِ فَقَالُوا : لَوْ کَانَ ہَذَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی أَبَوَیْہِ شَیْخَیْنِ کَبِیرَیْنِ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی وَلَدٍ صِغَارٍ فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنْ کَانَ یَسْعَی عَلَی نَفْسِہِ لِیُغْنِیَہَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٣) عمارہ بن تعمیر (رض) اپنی پھوپھی سے روایت کرتی ہیں کہ اس نے عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ میری گود میں ( یتیم) بچہ ہے کیا میں اس کے مال سے کھا سکتی ہوں ؟ عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہے جو زیادہ پاک ہو جو آدمی کھاتا ہے اپنی کمائی سے اور اس کا بچہ اس کی کمائی میں سے ہے۔
(۱۵۷۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَیَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَمَّتِہِ : أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فِی حِجْرِی یَتِیمٌ فَآکُلُ مِنْ مَالِہِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مَنْ أَطْیَبِ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ وَوَلَدُہُ مِنْ کَسْبِہِ ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَمَّتِہِ : أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فِی حِجْرِی یَتِیمٌ فَآکُلُ مِنْ مَالِہِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مَنْ أَطْیَبِ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ وَوَلَدُہُ مِنْ کَسْبِہِ ۔
وَقَدْ قِیلَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٤) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے اس کی زیادہ پاکیزہ کمائی میں سے ہے۔ تم ان کے مالوں میں سے کھاؤ۔
(۱۵۷۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ کَسْبِہِ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِہِ فَکُلُوا مِنْ أَمْوَالِہِمْ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٥) امام احمد فرماتے ہیں اور اس کو حماد بن سلیمان نے ابراہیم سے روایت کیا ہے وہ اسود سے روایت کرتے ہیں وہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں زیادہ کیا کہ جب تم اس کی طرف محتاج ہو اور وہ منکر ہے۔ اس کو ابوداؤد سجستانی نے بیان کیا ہے۔
عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری اولادیں تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہیں۔ { یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ } [الشوریٰ ٤٩] ” اللہ جس کو وہ چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ وہ تمہاری اولاد ہیں اور ان کے مال تمہارے لیے ہیں جب تم اس کی طرف محتاج ہو۔
عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری اولادیں تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہیں۔ { یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ } [الشوریٰ ٤٩] ” اللہ جس کو وہ چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ وہ تمہاری اولاد ہیں اور ان کے مال تمہارے لیے ہیں جب تم اس کی طرف محتاج ہو۔
(۱۵۷۴۵) قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَزَادَ فِیہِ : إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْہِ ۔
وَہُوَ مُنْکَرٌ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْحَافِظُ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ أَوْلاَدَکُمْ ہِبَۃُ اللَّہِ لَکُمْ {یَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ إِنَاثًا وَیَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ الذُّکُورَ} فَہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْہَا ۔ [منکر]
وَہُوَ مُنْکَرٌ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْحَافِظُ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ أَوْلاَدَکُمْ ہِبَۃُ اللَّہِ لَکُمْ {یَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ إِنَاثًا وَیَہَبُ لِمَنْ یَشَاء ُ الذُّکُورَ} فَہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْہَا ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٦) سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن مبارک سے عائشہ (رض) کی حدیث ” وہ اور ان کے مال تمہارے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہو “ کے متعلق پوچھاتو انھوں نے فرمایا : مجھییہ حدیث سفیان نے حماد عن ابراہیم عن اسود عن عائشہ (رض) کی سند سے بیان کی سفیان نے کہا : یہ حماد کا وہم ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے سفیان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ کہ انھوں نے یاد نہیں کیا۔ عبداللہ کہتے ہیں : اس کی حدیث عمارہ بن عمیر سے ہے۔ اس میں اسود نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی نہیں ہیں کہ جب تم محتاج ہو۔
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ عائشہ (رض) سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں۔ یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ عائشہ (رض) سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں۔ یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔
(۱۵۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسُوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ عَنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْہَا ۔ فَقَالَ حَدَّثَنِی بِہِ سُفْیَانُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ سُفْیَانُ وَہَذَا وَہْمٌ مِنْ حَمَّادٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ سَأَلْتُ أَصْحَابَ سُفْیَانَ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَلَمْ یَحْفَظُوا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ وَہَذَا مِنْ حَدِیثِہِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ لَیْسَ فِیہِ الأَسْوَدُ وَلَیْسَ فِیہِ : إِذَا احْتَجْتُمْ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَہُوَ بِہَذَا الإِسْنَادِ غَیْرُ مَحْفُوظٍ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ وَہُوَ بِہَذَا الإِسْنَادِ غَیْرُ مَحْفُوظٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٧) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی کمائی ہے اور اس کی اولاد اس کی کمائی ہے۔ اسی طرح اس کو یعلیٰ بن عبید نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۴۷) أَخْبَرَنَاہُ الإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِسْفِرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْمُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ وَوَلَدُہُ مِنْ کَسْبِہِ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِیَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُرَیْحٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [صحیح]
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِیَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُرَیْحٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [صحیح]
তাহকীক: