আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৭১৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا خرچہ نہیں پاتا
(١٥٧٠٨) یحییٰ بن سعید ، سعید بن مسیب سے اس آدمی کے بارے روایت کرتے ہیں میں جو اپنی بیوی پر خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، فرمایا : ان دونوں کے درمیان جدائی کروائی جائے۔
(۱۵۷۰۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاکُ وَعَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَلِیٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَوْدِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی الرَّجُلِ لاَ یَجِدُ مَا یُنْفِقُ عَلَی امْرَأَتِہِ قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭১৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا خرچہ نہیں پاتا
(١٥٧٠٩) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
(۱۵۷۰۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭১৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا خرچہ نہیں پاتا
(١٥٧١٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کی تو عیال داری کرتا ہے ان سے ابتدا کر۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کس کی میں اعیال داری کروں۔ آپ نے فرمایا : تیری بیوی کہتی ہے : تو مجھے کھلایا مجھے جدا کردے تیرا خادم کہتا ہے : مجھے کھلا اور مجھ سے کام لے یا مجھے دے، تیرا بیٹا کہے گا : کس چیز کو تو نے میرے لیے چھوڑا۔ اسی طرح اس کو سعید بن ابو ایوب نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ اور اس کے علاوہ نے ابن عجلان سے مقبری سے، انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں ابوہریرہ کا قول ذکر کیا ہے۔
(۱۵۷۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی الزُّہْرِیُّ الْقَاضِی بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ مِنْہَا عَنْ ظَہْرِ غِنًی وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ۔ قَالَ: وَمَنْ أَعُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: امْرَأَتُکَ تَقُولُ أَطْعِمْنِی وَإِلاَّ فَارِقْنِی خَادِمُکَ یَقُولُ أَطْعِمْنِی وَاسْتَعْمِلْنِی وَلَدُکَ یَقُولُ إِلَی مَنْ تَتْرُکُنِی۔ ہَکَذَا رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَعَلَ آخِرَہُ مِنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭১৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا خرچہ نہیں پاتا
(١٥٧١١) ابو صالح ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل صدقہ وہ ہے جو بندے کو غنی چھوڑے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتداکر جن کی تو دیکھ بھال کرتا ہے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : تیری بیوی کہیگی : تو مجھے کھلا وگرنہ مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم تجھے کہے گا : مجھے کھلا یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہے گا : مجھے تو نے کس کے سپرد کیا ہے۔ انھوں نے کہا : اے ابوہریرہ ! یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے یا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے ؟ ابوہریرہ (رض) نے کہا : نہیں بلکہ یہ میرا قیاس ہے۔ اس کو بخاری نے عمر بن حفص بن غیاث سے اور اس کے والداعمش سے صحیح میں نکالا ہے۔
(۱۵۷۱۱) وَکَذَلِکَ جَعَلَہُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ح قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَۃِ مَا تَرَکَ غِنًی وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : تَقُولُ امْرَأَتُکَ أَطْعِمْنِی وَإِلاَّ فَطَلِّقْنِی وَیَقُولُ خَادِمُکَ أَطْعِمْنِی وَإِلاَّ فَبِعْنِی وَیَقُولُ وَلَدُکَ إِلَی مَنْ تَکِلُنِی۔ قَالُوا : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ہَذَا شَیْئٌ تَقُولُہُ مِنْ رَأْیِکَ أَوْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : لاَ بَلْ ہَذَا مِنْ کِیسِی۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭১৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص نے اسے طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب ہوگیا۔ اس نے عمرو بن حفص کی طرف فاطمہ بنت قیسکو اپنا وکیل بنا کر بھیجا، وہ اس پر ناراض ہوئی۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے یہ تمام قصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک کے گھر میں گزارے ، پھر فرمایا : وہ عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار ، وہ نابینا آدمی ہے تو اپنے کپڑے بھی تبدیل کرے گی اور جب تو حلال ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ کہتی ہے : جب میں حلال ہوگئی تو میں نے آپ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ کہتی ہیں : میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا : تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اللہ نے اس میں خیر کردی اور میں رشک کیا کرتی۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے مالک سے صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلُہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہَا : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ تِلْکَ الْمَرْأَۃَ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی اعْتَدِّی فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرْتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتَقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ قَالَتْ : فَکَرِہْتُہُ فَقَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا وَاغْتَبَطْتُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۴۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭১৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٣) ابو سلمہ نے فاطمہ بنت قیس سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوندنے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئی، اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے خرچہ نہیں ہے تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ۔ وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتارسکے گی۔ اس کو مسلم نے قتیبۃ بن سعید سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی عِمْرَانُ بْنُ أَبِی أَنَسٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ فَأَخْبَرَتْنِی أَنَّ زَوْجَہَا الْمَخْزُومِیَّ طَلَّقَہَا فَأَبَی أَنْ یُنْفِقَ عَلَیْہَا فَجَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ نَفَقَۃَ لَکِ فَانْتَقِلِی وَاذْہَبِی إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَکُونِی عِنْدَہُ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ عِنْدَہُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٤) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ اس کو اس کے شوہر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں طلاق دی اور وہ اس پر کہ خرچہ کرتا تھا جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے کہا : میں رسول اللہ سے ضرور بات کروں گی۔ پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ پکڑوں کی، جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہے : میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔ اس کو مسلم نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن کثیر نے ابو سلمہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔
(۱۵۷۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّہُ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ نفق عَلَیْہَا نَفَقَۃَ دُونٍ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ قَالَتْ وَاللَّہِ لأُکَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنْ کَانَتْ لِی نَفَقَۃٌ أَخَذْتُ الَّذِی یُصْلِحُنِی وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لِی نَفَقَۃٌ لَمْ آخُذْ شَیْئًا قَالَتْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ نَفَقَۃَ لَکِ وَلاَ سُکْنَی ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ فِی السُّکْنَی والنَّفَقَۃِ جَمِیعًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٥) فاطمہ بنت قیس (رض) محمد بن عمرو سے وہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی۔ اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی۔ اس نے اس کے اہل کی طرف قاصد بھیجا کہ یہ خرچہ مانگتی تھی۔ انھوں نے کہا : نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے آپ (علیہ السلام) کو خبر دی، آپ نے فرمایا : تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور تیرے ذمے عدت ہے، تو ام شریک کی طرف منتقل ہوجا۔ پھر فرمایا : ام شریک عورت ہے اس پر اس کی پہلی مہاجر بہنوں میں سے داخل ہوتی ہیں تو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل ہوجا۔ وہ نابینا آدمی ہے اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور تو ہم سے اپنے نفس کو گم نہیں پائے گی کہتی ہے : جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے آدمیوں کا ذکر کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا اسامہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کہا : گویا کہ اس کے اہل یہ ناپسند کرتے ہیں۔ کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! میں نہیں نکاح کروں گی مگر اس سے جس کے بارے میں آپ نے کہا : میں اس سے نکاح کروں۔ محمد بن عمرو نے کہا : مجھے محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی کہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : اے فاطمہ ! اللہ سے ڈر تو نے پہچانا ہے یہ کس چیز سے ہے۔ اس کو مسلم نے علی بن حجر اور اس کے علاوہ سے عائشہ (رض) کے قول کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَأَرْسَلَتْ إِلَی أَہْلِہِ تَبْتَغِی النَّفَقَۃَ فَقَالُوا لَیْسَتْ لَکِ عَلَیْنَا نَفَقَۃٌ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ : لَیْسَتْ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ وَعَلَیْکِ الْعِدَّۃُ فَانْتَقِلِی إِلَی أُمِّ شَرِیکٍ ۔ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أُمَّ شَرِیکٍ امْرَأَۃٌ یَدْخُلُ عَلَیْہَا إِخْوَتُہَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ فَانْتَقِلِی إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی إِنْ وَضَعْتِ ثَوْبَکِ لَمْ یَرَ شَیْئًا وَلاَ تُفَوِّتِینَا بِنَفْسِکِ۔ قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَلَّتْ ذَکَرَہَا رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَأَیْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَۃَ؟ ۔ قَالَ : فَکَأَنَّ أَہْلَہَا کَرِہُوا ذَلِکَ۔قَالَتْ لاَ وَاللَّہِ لاَ أَنْکِحُ إِلاَّ الَّذِی قَالَ فَنَکَحَتْہُ۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تَقُولُ : یَا فَاطِمَۃُ اتَّقِی اللَّہَ فَقَدْ عَرَفْتِ مِنْ أَیِّ شَیْئٍ کَانَ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ دُونَ قَوْلِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٦) فاطمہ بنت قیس جو ضحاک بن قیس کی بہن ہے۔ اس نے اس کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص کے نکاح میں تھی، اس نے اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس کے وکیل نے اس کو اس عورت کے لیے خرچے کا حکم دیا، اس نے اس سے بےرغبتی کی۔ مجھے اس کے وکیل نے کہا : تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے اس کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا اور اس کو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل کردیا۔ اس پر لوگوں نے انکار کیا جو وہ حلال ہونے سے پہلے خروج بیان کرتی ہے۔
(۱۵۷۱۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ وَہِیَ أُخْتُ الضَّحَّاکِ بْنِ قَیْسٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ أَبِی عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَطَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَأَمَرَ وَکِیلُہُ لَہَا بِنَفَقَۃٍ فَرَغِبَتْ عَنْہَا فَقَالَ لِی وَکِیلُہُ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ نَفَقَۃٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَہَا : صَدَقَ ۔ وَنَقَلَہَا إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَأَنْکَرَ النَّاسُ عَلَیْہَا مَا کَانَتْ تُحَدِّثُ مِنْ خُرُوجِہَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٧) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ علی (رض) کے ساتھ یمن کی طرف نکلا، اس نے اپنی بیوی (فاطمہ بنت قیس) کی طرف طلاق بھیجی جو اس کی طلاق میں سے باقی تھی۔ اس کو حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ نے نفقہ کا حکم دیا۔ ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تیرے لیے نہیں ہے اگر تو حاملہ ہوتیتوتیرے لیے خرچہ ہوتا۔ وہ نبی (علیہ السلام) کے پاس آئی، آپ کے سامنے ان دونوں کے قول کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے خرچہ نہیں ہے۔ اس نے آپ سے منتقل ہونے کے بارے میں اجازت مانگی۔ آپ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہاں (منتقل ہو جاؤں) ؟ آپ نے فرمایا : ابن ام مکتوم کی طرف۔ وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے اتارے گی وہ اس کو نہیں دیکھ سکے گا۔ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس کا نکاح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ بن زید سے کردیا۔ مروان نے اس کی طرف قبیصہ بن زویب کو بھیجا کہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرے اس نے اس کو حدیث بیان کردی۔ مروان نے کہا : میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر عورت سے۔ ہم عنقریب پکڑیں گے عصمت وہ جو ہم نے پایا ہے اس پر لوگوں کو۔ فاطمہ نے کہا : جب مروان کا یہ قول اس کو پہنچا تو اس نے کہا : میرے اور تمہارے لیے قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق : ١] حتی کہ وہ پہنچا { لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا ۔ } [الطلاق : ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ واضح بےحیائی کو آئیں (تو ان کو نکال دو ) تم نہیں جانتے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے بعد نیا معاملہ کرے۔ “ وہ کہتی ہیں : یہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔ کون سا معاملہ ہے جو تین (طلاقوں) کے بعد واقع ہو۔ تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو۔ کس بات پر تم اسے (نکلنی سے) روک رہے ہو۔
(۱۵۷۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ خَرَجَ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْیَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَی امْرَأَتِہِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ بِتَطْلِیقَۃٍ کَانَتْ بَقِیَتْ مِنْ طَلاَقِہَا فَأَمَرَ لَہَا الْحَارِثُ بْنُ ہِشَامٍ وَعَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ بِنَفَقَۃٍ قَالاَ : وَاللَّہِ مَا لَکِ مِنْ نَفَقَۃٍ إِلاَّ أَنْ تَکُونِی حَامِلاً۔ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ لَہُ قَوْلَہُمَا فَقَالَ : لاَ نَفَقَۃَ لَکِ ۔ وَاسْتَأْذَنَتْہُ فِی الاِنْتِقَالِ فَأَذِنَ لَہَا فَقَالَتْ : أَیْنَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ۔ وَکَانَ أَعْمَی تَضَعُ ثِیَابَہَا عِنْدَہُ وَلاَ یَرَاہَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُہَا أَنْکَحَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا مَرْوَانُ قَبِیصَۃَ بْنَ ذُؤَیْبٍ یَسْأَلُہَا عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَحَدَّثَتْہُ بِہِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ بِہَذَا الْحَدِیثِ إِلاَّ مِنِ امْرَأَۃٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَۃِ الَّتِی وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَیْہَا۔ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حِینَ بَلَغَہَا قَوْلُ مَرْوَانَ : بَیْنِی وَبَیْنَکُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (لاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ) حَتَّی بَلَغَ {لاَ تَدْرِی لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْرًا} قَالَتْ : ہَذَا لِمَنْ کَانَتْ لَہُ مُرَاجَعَۃٌ فَأَیُّ أَمْرٍ یَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلاَثِ؟ فَکَیْفَ تَقُولُونَ لاَ نَفَقَۃَ لَہَا إِذَا لَمْ تَکُنْ حَامِلاً فَعَلاَمَ تَحْبِسُونَہَا؟

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٨) عبدالرزاق نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث ذکر کی مگر اس نے حدیث میں کہا کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی، آپ نے فرمایا : تیرے لیے خرچہ نہیں ہے مگر یہ کہ تو حاملہ ہوتی۔
(۱۵۷۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ نَفَقَۃَ لَکِ إِلاَّ أَنْ تَکُونِی حَامِلاً ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧١٩) ابوبکر بن ابو جہم سے روایت ہے کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا : تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا : میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے۔ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ نے فرمایا : کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں ؟ میں نے کہا : تین۔ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار تو اپنے کپڑے بھی اتارے کی۔

اس کو مسلم نے عبدالرحمن بن مہدی اور ابو عاصم کی حدیث سے سفیان سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَۃَ أَخِیہَا طُہْرًا فَقُلْنَا لَہَا : مَا حَمَلَکِ عَلَی ہَذَا؟ قَالَتْ : کَانَ زَوْجِی بَعَثَ إِلَیَّ مَعَ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ بِطَلاَقِی ثَلاَثًا فِی غَزْوَۃِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلَیَّ بِخَمْسَۃِ آصُعٍ مِنْ شَعِیرٍ وَخَمْسَۃِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ فَقُلْتُ : أَمَا لِی نَفَقَۃٌ إِلاَّ ہَذَا؟ قَالَتْ : فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : کَمْ طَلَّقَکِ؟۔ فَقُلْتُ: ثَلاَثًا۔ فَقَالَ : صَدَقَ لاَ نَفَقَۃَ لَکِ اعْتَدِّی فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ تَضَعِینَ عَنْکِ ثِیَابَکِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ وَأَبِی عَاصِمٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ وَرَوَاہُ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ فِی النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنَی جَمِیعًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٠) شعبی سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت قیس پر داخل ہوا، میں نے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فیصلے کے بارے میں سوال کیا جو اس پر ہوا۔ وہ کہتی ہے : اسے اس کے خاوند نے طلاق بتہ دے دی۔ میں نے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہائش اور خرچے کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ آپ نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزاروں۔

شعبی سے منقول ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔
(۱۵۷۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ وَحُصَیْنٌ وَمُغِیرَۃُ بْنُ مِقْسَمٍ وَأَشْعَثُ وَمُجَالِدٌ وَدَاوُدُ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ کُلُّہُمْ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ فَسَأَلْتُہَا عَنْ قَضَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْہَا فَقَالَتْ : طَلَّقَہَا زَوْجُہَا الْبَتَّۃَ قَالَتْ فَخَاصَمْتُہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃِ قَالَتْ فَلَمْ یَجْعَلْ لِی سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً وَأَمَرَنِی أَنْ أَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ ہَکَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ۔

وَفِی رِوَایَۃِ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لَہَا : إِنَّمَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃُ عَلَی مَنْ کَانَتْ لَہُ الْمُرَاجَعَۃُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢١) ایضاً
(۱۵۷۲۱) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ عَنِ الْجَمَاعَۃِ کَمَا مَضَی وَأَتَی بِہَذِہِ الزِّیَادَۃِ عَنْ مُجَالِدٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٢) شعبی سے فاطمہ بنت قیس (رض) کے قصے کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھگڑا کیا۔ آدمی نے کہا : اس کو اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ نے فرمایا : رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع ہو۔ آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارے۔
(۱۵۷۲۲) وَفِی رِوَایَۃِ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی قِصَّۃِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَ : فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ : قَدْ طَلَّقَہَا ثَلاَثًا۔ فَقَالَ : إِنَّمَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃُ لِمَنْ کَانَتْ عَلَیْہِ رَجْعَۃٌ ۔ فَأَمَرَہَا فَاعْتَدَّتْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭২৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٣) ایضا۔
(۱۵۷۲۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৩০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٤) بھیفاطمہ بنت قیس سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے حلوانی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۲۴) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنِ الْبَہِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ : طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلاَثًا فَلَمْ یَجْعَلْ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৩১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٥) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ بنت قیس سے کہا : رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر اس کے خاوند کے لییرجوع ہو۔ اسود بن عامر اس کو شاذ لائے ہیں اور صحیح پہلی ہے۔

امام بیہقی فرماتے ہیں : جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے فاطمہ بنت قیس سے خرچہ کی نفی کی رہائش کے علاوہ ہے اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی روایت فاطمہ سے اور ان کے بعض کی روایت میں ابو سلمہ سے روایت ہے اور شعبی اور بھی کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے۔ اس کے بارے میں ابوبکر بن ابو جہم پر فاطمہ سے حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خرچہ کی نفی کی اور اس کو منتقل ہونے کی اجازت دی علت کی وجہ سے شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرے اور تحقیق اس کو اس کے غیر نے ذکر کیا ہم نے جو اس کا ذکر پہلے کتاب العدد میں بیان کردیا ہے۔ اصل میں رہائش کی نفی کو رد نہیں کیا۔ کیا تو اس کو نہیں دیکھتاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے نہیں کہا کہ تو جہاں چاہتی ہے عدت گزار بلکہ اس کو محفوظ کیا ہے کہ کہا : جہاں آپ نے چاہا جب اس کا خاوند غائب ہو اور اس کے لیے وکیل نہ ہو۔ وہ اس کو مستحکم کرے، لیکن آپ کا فرمان ہے : رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (باقی) ہو۔ یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے۔
(۱۵۷۲۵) وَرَوَاہُ غَیْرُ یَحْیَی بْنِ آدَمَ کَمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنِ الْبَہِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : یَا فَاطِمَۃُ إِنَّمَا السُّکْنَی والنَّفَقَۃُ لِمَنْ کَانَ لِزَوْجِہَا عَلَیْہَا الرَّجْعَۃُ ۔

کَذَا أَتَی بِہِ الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ : شَاذَانُ وَالصَّحِیحُ ہُوَ الأَوَّلُ۔

قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ فِی نَفْیِ النَّفَقَۃِ دُونَ السُّکْنَی وَکَذَلِکَ رِوَایَۃُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ فَاطِمَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ بَعْضِہِمْ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ الشَّعْبِیِّ وَالْبَہِیِّ نَفْیُہُمَا جَمِیعًا وَاخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ عَنْ فَاطِمَۃَ وَالأَشْبَہُ بِسِیَاقِ الْحَدِیثِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَفَی النَّفَقَۃَ وَأَذِنَ لَہَا فِی الاِنْتِقَالِ لِعِلَّۃٍ لَعَلَّہَا اسْتَحْیَتْ مِنْ ذِکْرِہَا وَقَدْ ذَکَرَہَا غَیْرُہَا عَلَی مَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہَا فِی کِتَابِ الْعِدَدِ وَلَمْ یُرِدْ نَفْیَ السُّکْنَی أَصْلاً أَلاَ تَرَاہُ -ﷺ- لَمْ یَقُلْ لَہَا اعْتَدِّی حَیْثُ شِئْتِ وَلَکِنَّہُ حَصَّنَہَا حَیْثُ رَضِیَ إِذْ کَانَ زَوْجُہَا غَائِبًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَکِیلٌ یُحَصِّنُہَا ۔

وَأَمَّا قَوْلُہُ : إِنَّمَا السُّکْنَی والنَّفَقَۃُ لِمَنْ کَانَتْ عَلَیْہِ رَجْعَۃٌ ۔ فَلَیْسَ بِمَعْرُوفٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَلَمْ یَرِدْ مِنْ وَجْہٍ یَثْبُتُ مِثْلُہُ وَأَمَّا إِنْکَارُ مَنْ أَنْکَرَ عَلَی فَاطِمَۃَ فَإِنَّمَا ہُوَ لِکِتْمَانِہَا السَّبَبَ فِی نَقْلِہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৩২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٦) عمرو بن میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے اس سے طلاق مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کی حدیث کہاں گئی ؟ کہا : اس پر افسوس کیا۔ اور بیان کیا۔ وہ غصے میں تھے اور کہا فاطمہ نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا۔ اس کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارے۔ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۲۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِہَا فَدُفِعْتُ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْمَبْتُوتَۃِ فَقَالَ : تَعْتَدُّ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا۔ فَقُلْتُ : فَأَیْنَ حَدِیثُ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ؟ فَقَالَ : ہَاہْ وَوَصَفَ أَنَّہُ تَغَیَّظَ وَقَالَ : فَتَنَتْ فَاطِمَۃُ النَّاسَ کَانَتْ بِلِسَانِہَا ذَرَابَۃٌ فَاسْتَطَالَتْ عَلَی أَحْمَائِہَا فَأَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৭৩৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق بتۃ والی حاملہ کے لیے نفقہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ” اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔ “

ان کے لیے خرچ
(١٥٧٢٧) حبیب بن صالح فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن عباد مکی نے حدیث بیان کی کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب اس سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا تین طلاق والی کے لیے خرچہ ہے ؟ میں نے کہا : اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ ابن عباس نے کہا اے بھتیجے ! تو نے درست کہا اور میں تیرے ساتھ ہوں۔
(۱۵۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِذْ سَأَلَہُ رَجُلٌ ہَلْ لِلْمُطَلَّقَۃِ ثَلاَثًا نَفَقَۃٌ؟ فَقُلْتُ : لَیْسَ لَہَا نَفَقَۃٌ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَصَبْتَ یَا ابْنَ أَخِی أَنَا مَعَکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: