আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৭৫৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٨) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : میرا باپ میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے اور زیادہ پاک جو تم کھاتے ہو تمہاری کمائی ہے۔ تم اس کو آسانی کے ساتھ کھاؤ۔
(۱۵۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنَّ أَبِی یُرِیدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِی۔ قَالَ : أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ فَکُلُوہُ ہَنِیئًا ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٤٩) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : میرا مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرا والد میرے مال لینا چاہتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔
(۱۵۷۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ إِنَّ لِی مَالاً وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِی یُرِیدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِی۔فَقَالَ : أَنْتَ وَمَالُکَ لأَبِیکَ إِنَّ أَوْلاَدَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٥٠) یزید بن زریع نے اپنیسند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا بیٹا ہے اور میرا مال بھی ہے اور میرا والد میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والدکا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔ تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔
(۱۵۷۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی مَالاً وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِی یَجْتَاحُ مَالِی۔ قَالَ : أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ إِنَّ أَوْلاَدَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوا مِنْ کَسْبِ أَوْلاَدِکُمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٥١) محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا مال ہے اور میرے اہل و عیال ہیں اور میرے والد کا بھی مال ہے اور اس کے اہل و عیال بھی ہیں وہ میرا مال لینا چاہتا ہے۔ کہ وہ اس کو اپنے اہل و عیال کو کھلائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ یہ منقظع ہے اور دوسری سند سے یہ موصول بھی روایت کی گئی ہے اور اس کی مثل ثابت نہیں ہے۔
(۱۵۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی مَالاً وَعِیَالاً وَإِنَّ لأَبِی مَالاً وَعِیَالاً یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَ مَالِی فَیُطْعِمَہُ عِیَالَہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْتَ وَمَالُکَ لأَبِیکَ ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ وَلاَ یَثْبُتُ مَثَلُہَا۔ [ضعیف]
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ وَلاَ یَثْبُتُ مَثَلُہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٥٢) جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !۔۔۔ اس کو ذکر کیا۔
امام بیہقی فرماتے ہیں : جس کا خیال ہے کہبیٹے کا مال اس کے والد کا ہے۔ اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہوجائے، جب وہ اس کا محتاج ہوا اور جب وہ غنی مال دار ہوجائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئیں ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہوجائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہوگا۔
امام بیہقی فرماتے ہیں : جس کا خیال ہے کہبیٹے کا مال اس کے والد کا ہے۔ اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہوجائے، جب وہ اس کا محتاج ہوا اور جب وہ غنی مال دار ہوجائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئیں ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہوجائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہوگا۔
(۱۵۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْجَمَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنِی الْمُنْکَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَالَ الْوَلَدِ لأَبِیہِ احْتَجَّ بِظَاہِرِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَہُ مِنْ مَالِہِ مَا یَکْفِیہِ إِذَا احْتَاجَ إِلَیْہِ فَإِذَا اسْتَغْنَی عَنْہُ لَمْ یَکُنْ لِلأَبِ مِنْ مَالِہِ شَیْئٌ احْتَجَّ بِالأَخْبَارِ الَّتِی وَرَدَتْ فِی تَحْرِیمِ مَالِ الْغَیْرِ وَأنَّہُ لَوْ مَاتَ وَلَہُ ابْنٌ لَمْ یَکُنْ لِلأَبِ مِنْ مَالِہِ إِلاَّ السُّدُسُ وَلَوْ کَانَ أَبُوہُ یَمْلِکُ مَالَ ابْنِہِ لَحَازَہُ کُلَّہُ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَالَ الْوَلَدِ لأَبِیہِ احْتَجَّ بِظَاہِرِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَہُ مِنْ مَالِہِ مَا یَکْفِیہِ إِذَا احْتَاجَ إِلَیْہِ فَإِذَا اسْتَغْنَی عَنْہُ لَمْ یَکُنْ لِلأَبِ مِنْ مَالِہِ شَیْئٌ احْتَجَّ بِالأَخْبَارِ الَّتِی وَرَدَتْ فِی تَحْرِیمِ مَالِ الْغَیْرِ وَأنَّہُ لَوْ مَاتَ وَلَہُ ابْنٌ لَمْ یَکُنْ لِلأَبِ مِنْ مَالِہِ إِلاَّ السُّدُسُ وَلَوْ کَانَ أَبُوہُ یَمْلِکُ مَالَ ابْنِہِ لَحَازَہُ کُلَّہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٥٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ہر ایک اپنے مال کا اپنے والد اور بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔
(۱۵۷۵۳) وَیُرْوَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : کُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی عَنْ حَیَّانَ بْنِ أَبِی جَبَلَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کے خرچے کا بیان
(١٥٧٥٤) قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں ابوبکر صدیق (رض) کے پاس حاضر ہوا، آپ کو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ ارادہ کرتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے اور اس کو ابوبکر (رض) نے کہا : اس کے مال سے تیرے لیے اتنا ہے جو تجھے کافی ہوجائے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : تو اس کے ساتھ راضی ہوجاجو اللہ نے تیرے لیے پسند کیا ہے۔
(۱۵۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا الْفَیْضُ بْنُ وَثِیقٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِیَادٍ الطَّائِیِّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ ہَذَا یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَ مَالِی کُلَّہُ وَیَجْتَاحَہُ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا لَکَ مِنْ مَالِہِ مَا یَکْفِیکَ۔ فَقَالَ : یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ أَلَیْسَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْتَ وَمَالُکَ لأَبِیکَ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ارْضَ بِمَا رَضِیَ اللَّہُ بِہِ۔
وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِیَادٍ وَقَالَ فِیہِ إِنَّمَا یَعْنِی بِذَلِکَ النَّفَقَۃَ۔ وَالْمُنْذِرُ بْنُ زِیَادٍ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جداً]
وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِیَادٍ وَقَالَ فِیہِ إِنَّمَا یَعْنِی بِذَلِکَ النَّفَقَۃَ۔ وَالْمُنْذِرُ بْنُ زِیَادٍ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین میں سے اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے
(١٥٧٥٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے حسن سلوک کا لوگوں میں سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ فرمایا : تیری والدہ۔ پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر تیری والدہ پوچھا : پھر کون ؟ فرمایا : تیری والدہ۔ ان دونوں نے اس کو صحیح میں ابن شبرمہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔
(۱۵۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شُبْرُمَۃَ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّی بِحُسْنِ الصُّحْبَۃِ؟ قَالَ : أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوکَ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین میں سے اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے
(١٥٧٥٦) بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کس کے ساتھ زیادہ نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی والدہ سے۔ میں نے کہا : پھر کون ؟ فرمایا تیری والدہ۔ میں نے کہا : پھر کون ؟ فرمایا تیری والدہ۔ میں نے کہا : پھر کون ؟ فرمایا : تیرا والد۔ پھر ترتیب کے ساتھ قریب والا ۔
(۱۵۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْکَجِّیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ : أُمَّکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ۔ قَالَ : ثُمَّ أُمَّکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ۔ قَالَ : ثُمَّ أُمَّکَ ۔ قَالَ قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٥٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لڑکے کو اس کی والدہ اور والد کے درمیان اختیار دیا۔
(۱۵۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَظُنُّہُ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَیَّرَ غُلاَمًا بَیْنَ أَبِیہِ وَأُمِّہِ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَیَّرَ غُلاَمًا بَیْنَ أَبِیہِ وَأُمِّہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٥٨) ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے ہلال بن اسامہ نے بیان کیا کہ ابو میمونہ سلیم جو اہل مدینہ کے مولیٰ ہیں اور ایک سچے انسان ہیں، فرماتے ہیں : میں ابوہریرہ (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اور وہ مطلقہ تھی ۔ وہ فارسی زبان میں کہنے لگی : اے ابوہریرہ (رض) ! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ چھیننا چاہتا ہے تو ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے : قرعہ اندازی کرلو۔ اتنے میں اس کا خاوند بھی آگیا اور کہنے لگا : کون میرے بچے کو روکنا چاہتا ہے ؟ تو ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے : یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ واپس لینا چاہتا ہے، اس نے مجھے نفع بھی پہنچایا ہے تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ کا فیصلہ فرمایا تو اس کا والد کہنے لگا : میرے بچے کو کون روکے گا ؟ تو آپ نے بچے کو مخاطب کر کے فرمایا : یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں، جس کے ساتھ مرضی چلا جا تو بچے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے لے گئی۔
یہ روذ باری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔
یہ روذ باری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔
(۱۵۷۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ یَعْنِی ابْنَ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی زِیَادٌ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ أَنَّ أَبَا مَیْمُونَۃَ سُلَیْمٌ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ رَجُلُ صِدْقٍ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ جَائَ تِ امْرَأَۃٌ فَارِسِیَّۃٌ مَعَہَا ابْنٌ لَہَا فَادَّعَیَاہُ وَقَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَقَالَتْ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَطَنَتْ بِالْفَارِسِیَّۃِ زَوْجِی یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِابْنِی فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : اسْتَہِمَا عَلَیْہِ وَرَطَنَ لَہَا بِذَلِکَ فَجَائَ زَوْجُہَا فَقَالَ مَنْ یُحَاقُّنِی فِی وَلَدِی فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ اللَّہُمَّ إِنِّی لاَ أَقُولُ ہَذَا إِلاَّ أَنِّی سَمِعْتُ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَہُ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ زَوْجِی یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِابْنِی وَقَدْ سَقَانِی مِنْ بِئْرِ أَبِی عِنَبَۃَ وَقَدْ نَفَعَنِی۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اسْتَہِمَا عَلَیْہِ ۔ فَقَالَ زَوْجُہَا : مَنْ یُحَاقُّنِی فِی وَلَدِی؟ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ہَذَا أَبُوکَ وَہَذِہِ أُمُّکَ فَخُذْ بِیَدِ أَیِّہِمَا شِئْتَ ۔ فَأَخَذَ بِیَدِ أُمِّہِ فَانْطَلَقَتْ بِہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ وَحَدِیثُ ابْنِ بِشْرَانَ أَقْصَرُ مِنْہُ وَالْمَعْنَی وَاحِدٌ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی زِیَادٌ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ أَنَّ أَبَا مَیْمُونَۃَ سُلَیْمٌ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ رَجُلُ صِدْقٍ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ جَائَ تِ امْرَأَۃٌ فَارِسِیَّۃٌ مَعَہَا ابْنٌ لَہَا فَادَّعَیَاہُ وَقَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَقَالَتْ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَطَنَتْ بِالْفَارِسِیَّۃِ زَوْجِی یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِابْنِی فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : اسْتَہِمَا عَلَیْہِ وَرَطَنَ لَہَا بِذَلِکَ فَجَائَ زَوْجُہَا فَقَالَ مَنْ یُحَاقُّنِی فِی وَلَدِی فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ اللَّہُمَّ إِنِّی لاَ أَقُولُ ہَذَا إِلاَّ أَنِّی سَمِعْتُ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَہُ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ زَوْجِی یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِابْنِی وَقَدْ سَقَانِی مِنْ بِئْرِ أَبِی عِنَبَۃَ وَقَدْ نَفَعَنِی۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اسْتَہِمَا عَلَیْہِ ۔ فَقَالَ زَوْجُہَا : مَنْ یُحَاقُّنِی فِی وَلَدِی؟ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ہَذَا أَبُوکَ وَہَذِہِ أُمُّکَ فَخُذْ بِیَدِ أَیِّہِمَا شِئْتَ ۔ فَأَخَذَ بِیَدِ أُمِّہِ فَانْطَلَقَتْ بِہِ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ وَحَدِیثُ ابْنِ بِشْرَانَ أَقْصَرُ مِنْہُ وَالْمَعْنَی وَاحِدٌ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٥٩) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائی جو مطلقہ تھی اور اس کا خاوند اس سے بچہ لینا چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا : قرعہ ڈال لو تو اس کا خاوند کہنے لگا : میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہونا چاہتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچے کو اختیار دیا تو وہ ماں کے ساتھ چلا گیا۔
(۱۵۷۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیَّ -ﷺ- قَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اسْتَہِمَا ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَنْ یَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ وَلَدِی؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلاِبْنِ : اخْتَرْ أَیَّہُمَا شِئْتَ ۔ فَاخْتَارَ أُمَّہُ فَذَہَبَتْ بِہِ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیَّ -ﷺ- قَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اسْتَہِمَا ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَنْ یَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ وَلَدِی؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلاِبْنِ : اخْتَرْ أَیَّہُمَا شِئْتَ ۔ فَاخْتَارَ أُمَّہُ فَذَہَبَتْ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٦٠) رافع بن سنان فرماتے ہیں کہ جب یہ مسلمان ہوگئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : یہ میرا بچہ جس کی مدت رضاعت ابھی پوری ہوئی ہے اور رافع کہنے لگے : یہ میرا بچہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک طرف رافع (رض) کو بٹھایا اور دوسری طرف ان کی بیوی کو اور بچے کو درمیان میں بٹھا دیا اور فرمایا : اب اسے اپنی طرف بلاؤ تو بچہ ماں کی طرف جانے لگا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : ” اے اللہ ! اسے ہدایت دے “ تو وہ باپ کی طرف چلا گیا اور رافع اسے لے گئے۔
رافع بن سنان عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔
رافع بن سنان عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔
(۱۵۷۶۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ : أَنَّہُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُہُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتِ ابْنَتِی وَہِیَ فَطِیمٌ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- لِرَافِعٍ : اقْعُدْ نَاحِیَۃً ۔ وَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ : اقْعُدِی نَاحِیَۃً ۔ قَالَ وَأَقْعَدَ الصَّبِیَّۃَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ قَالَ : ادْعُوَاہَا ۔ فَمَالَتِ الصَّبِیَّۃُ إِلَی أُمِّہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اللَّہُمَّ اہْدِہَا ۔ فَمَالَتْ إِلَی أَبِیہَا فَأَخَذَہَا۔
رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ جَدُّ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ جَدُّ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٦١) عمارۃ جرمی فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ اور چچا کے درمیان حضرت علی (رض) نے اختیار دیا تھا اور پھر میرے چھوٹے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر اس کی بھی عمر ایسی ہوتی تو میں اسے بھی اختیار دیتا۔
(۱۵۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرْمِیِّ عَنْ عُمَارَۃَ الْجَرْمِیِّ قَالَ : خَیَّرَنِی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ أُمِّی وَعَمِّی ثُمَّ قَالَ لأَخٍ لِی أَصْغَرَ مِنِّی وَہَذَا أَیْضًا لَوْ قَدْ بَلَغَ مَبْلَغَ ہَذَا لَخَیَّرْتُہُ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب والدین جدا ہوجائیں اور وہ دونوں ایک ہی بستی میں ہوں تو والدہ بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ شادی نہ کرے
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
اور وہ چھوٹے ہوں جب ان دونوں میں سے ایک سات یا آٹھ سال کا ہوجائے اور وہ صاحب عقل ہو۔ اس کو اس کی ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ ان
(١٥٧٦٢) امامشافعی (رح) فرماتے ہیں : ابراہیم نے فرمایا کہ یونس نے عمارہ سے اور وہ حضرت علی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بھی ایک بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں یا باپ میں سے جس کو مرضی چن لے۔
(۱۵۷۶۲) قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ إِبْرَاہِیمُ عَنْ یُونُسَ عَنْ عُمَارَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَہُ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ وَکُنْتُ ابْنَ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانِ سِنِینَ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَلَیْسَ ذَلِکَ فِی مَسْمُوعِنَا عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْمُہَاجِرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَیَّرَ غُلاَمًا بَیْنَ أَبِیہِ وَأُمِّہِ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ماں دوسری شادی کرلے تو اس کا بچے کی پرورش سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا
(١٥٧٦٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کہنے لگی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میرا سینہ اس کے لیے پینا تھا اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے لینا چاہتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تک تو دوسرا نکاح نہ کرلے تب تک تو اس کی زیادہ حق دار ہے۔ “
(۱۵۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ابْنِی ہَذَا کَانَ بَطْنِی لَہُ وِعَائً وَثَدْیِی لَہُ سِقَائً وَحَجْرِی لَہُ حِوَائً وَإِنَّ أَبَاہُ طَلَّقَنِی وَأَرَادَ أَنْ یَنْزِعَہُ مِنِّی فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْتِ أَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ تَنْکِحِی۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ماں دوسری شادی کرلے تو اس کا بچے کی پرورش سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا
(١٥٧٦٤) عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے اولی الأمر فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عاصم بن عمر کے بارے میں حضرت عمر (رض) اور عاصم کی نانی کے درمیان فیصلہ فرمایا اور نانی کے حق میں فیصلہ دیا کہ جب تک عاصم بالغ نہ ہوجائیں اور ام عاصم اس وقت زندہ تھیں اور وہ شادی شدہ تھیں۔
(۱۵۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّاء ُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَا قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ : قَضَی أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لِجَدَّۃِ ابْنِہِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بِحَضَانَتِہِ حَتَّی یَبْلُغَ وَأُمُّ عَاصِمٍ یَوْمَئِذٍ حَیَّۃٌ مُتَزَوِّجَۃٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ماں دوسری شادی کرلے تو اس کا بچے کی پرورش سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا
(١٥٧٦٥) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے نکاح میں ایک انصاری عورت تھی اور اس سے عاصم بن عمر پیدا ہوئے تھے حضرت عمر نے اسے طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر ایک دن سواری پر قباء گئے تو عاصم کو مسجد کے صحن میں کھیلتے دیکھا تو بازو سے پکڑ کر سواری پر بیٹھا لیا اور چل پڑے۔ بچے کی نانی نے دیکھ لیا اور بچہ حضرت عمر سے لے لیا۔ وہ دونوں ابوبکر (رض) کے پاس آئے حضرت عمر کہنے لگے : میرا بیٹا ہے۔ عورت کہنے لگی : میرا بیٹا ہے تو ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اے عمر ان کا راستہ چھوڑ دے تو عمر (رض) نے کوئی بات نہ کی۔
(۱۵۷۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : کَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَہُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ فَارَقَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَکِبَ یَوْمًا إِلَی قُبَائَ فَوَجَدَ ابْنَہُ یَلْعَبُ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِہِ فَوَضَعَہُ بَیْنَ یَدَیْہِ عَلَی الدَّابَّۃِ فَأَدْرَکَتْہُ جَدَّۃُ الْغُلاَمِ فَنَازَعَتْہُ إِیَّاہُ فَأَقْبَلاَ حَتَّی أَتَیَا أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ : ابْنِی۔ وَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : ابْنِی۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : خَلِّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہُ۔ فَمَا رَاجَعَہُ عُمَرُ الْکَلاَمَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ماں دوسری شادی کرلے تو اس کا بچے کی پرورش سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا
(١٥٧٦٦) مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ام عاصم کو طلاق دے دی اور عاصم اپنی نانی کی گود میں تھے تو حضرت عمر اور وہ عورت ابوبکر (رض) کے پاس فیصلہ لائے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ نانی کے ساتھ رہے گا اور خرچہ حضرت عمر دیں گے اور فرمایا : یہ بچے کی زیادہ حق دار ہے۔
(۱۵۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِیُّ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طَلَّقَ أُمَّ عَاصِمٍ فَکَانَ فِی حَجْرِ جَدَّتِہِ فَخَاصَمَتْہُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَضَی أَنْ یَکُونَ الْوَلَدُ مَعَ جَدَّتِہِ وَالنَّفَقَۃُ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ : ہِیَ أَحَقُّ بِہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ماں دوسری شادی کرلے تو اس کا بچے کی پرورش سے حق ساقط ہوجاتا ہے اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا
(١٥٧٦٧) زید بن اسحاق بن جاریہ انصاری فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے بچے کا فیصلہ حضرت ابوبکر کے پاس لائے تو آپ نے ماں کے حق میں فیصلہ دیا اور پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ بچے کو اس کی ماں سے جدا نہ کرو۔
(۱۵۷۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی غُفْرَۃَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَارِیَۃَ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ خَاصَمَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ابْنِہِ فَقَضَی بِہِ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لأُمِّہِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تُوَلَّہُ وَالِدَۃٌ عَنْ وَلَدِہَا ۔ [ضعیف]
তাহকীক: