আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৫৭৭৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالہ عصبہ رشتہ داروں سے بچے کی زیادہ حق دار ہے
(١٥٧٦٨) براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی القعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا۔ اہل مکہ نے انکار کردیا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہ ہوجائے مسلمان مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ معاہدہ یہ ہوگا کہ مسلمان تین دن سے زیادہ نہیں رکیں گے۔ جب معاہدہ لکھا گیا تو کاتب نے لکھا یہ معاہدہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طے کردہ ہے مشرکین کہنے لگے : اگر ہم آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔ آپ رسول اللہ نہیں محمد بن عبداللہ ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں رسول اللہ بھی ہوں اور ابن عبداللہ بھی ہوں اور فرمایا : اے علی ! رسول اللہ لفظ مٹا دے۔ حضرت علی کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں تو ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ نے خط پکڑا اور اس پر یہ لکھ دیا کہ یہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے عہد نامہ ہے کہ وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے، صرف تلوار ہوگی وہ بھی میان میں اور اہل مکہ سے کوئی مسلمانوں کے ساتھ نہیں جائے گا اور اگر کوئی مسلمان اہل مکہ سے ملنا چاہتا ہے مسلمانوں کو چھوڑ کر تو اسے روکا نہیں جائے گا۔ جب مسلمان مکہ میں داخل ہوگئے مدت پوری ہوگئی تو اہل مکہ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور کہنے لگے : اپنے صاحب کو کہیں اب چلے جائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے نکل پڑے تو حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے چل پڑی اور چیخنے لگی : اے چچا جان ! اے چچا جان ! حضرت علی نے اسے پکڑ لیا اور حضرت فاطمہ کو دے دیا تو حضرت علی، زید اور جعفر کا اختلاف ہوگیا۔ حضرت علی کہنے لگے : اسے میں نے پکڑا تھا اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ حضرت جعفر کہنے لگے : میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ زید کہنے لگے : میرے بھائی کی بچی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا اور فرمایا : خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے اور حضرت علی کے لیے فرمایا : تو تخلیق اور اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے مشابہ ہے اور حضرت زید کو فرمایا : اے زید ! تو ہمارا بھائی اور مولا ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبیداللہ بن موسیٰ سے بیان کیا۔
اسی طرح عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل سے مدرجاً روایت کیا ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں عبیداللہ بن موسیٰ سے بیان کیا۔
اسی طرح عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل سے مدرجاً روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ذِی الْقَعْدَۃِ فَأَبَی أَہْلُ مَکَّۃَ أَنْ یَدَعُوہُ یَدْخُلُ مَکَّۃَ حَتَّی قَاضَاہُمْ عَلَی أَنْ یُقِیمَ بِہَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ کَتَبُوا ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ فَقَالُوا : لاَ نُقِرُّ بِہَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ مَا مَنَعْنَاکَ شَیْئًا وَلَکِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّہِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یَا عَلِیُّ امْحُ رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ: وَاللَّہِ لاَ أَمْحُوکَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْکِتَابَ وَلَیْسَ یُحْسِنُ یَکْتُبُ مَکَانَ رَسُولِ اللَّہِ فَکَتَبَ ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْ لاَ یُدْخِلَ مَکَّۃَ السِّلاَحَ إِلاَّ السَّیْفَ فِی الْقِرَابِ وَأَنْ لاَ یُخْرِجَ مِنْ أَہْلِہَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ یَتْبَعَہُ وَأَنْ لاَ یَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ أَرَادَ أَنْ یُقِیمَ بِہَا فَلَمَّا دَخَلَہَا وَمَضَی الأَجَلُ أَتَوْا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالُوا : قُلْ لِصَاحِبِکَ فَلْیَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الأَجَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَتْبَعُہُمْ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ فَنَادَتْ یَا عَمِّ یَا عَمِّ فَتَنَاوَلَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِیَدِہَا وَقَالَ لِفَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ دُونَکِ فَحَمَلَتْہَا فَاخْتَصَمَ فِیہَا عَلِیٌّ وَزَیْدٌ وَجَعْفَرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ عَلِیٌّ أَنَا أَخَذْتُہَا وَہِیَ بِنْتُ عَمِّی قَالَ جَعْفَرٌ ابْنَۃُ عَمِّی وَخَالَتُہَا تَحْتِی وَقَالَ زَیْدٌ ابْنَۃُ أَخِی فَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِخَالَتِہَا وَقَالَ : الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الأُمِّ۔ وَقَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنْتَ مِنِّی وَأَنَا مِنْکَ۔ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَشْبَہْتَ خَلْقِی وَخُلُقِی۔ وَقَالَ لِزَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ مُوسَی۔
ہَکَذَا رَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ مُدْرَجًا۔
وَرَوَی إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ قِصَّۃَ ابْنَۃِ حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ ہَانِئِ بْنِ ہَانِئٍ وَہُبَیْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی مَرَّۃً أُخْرَی مُنْفَرِدَۃً۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
ہَکَذَا رَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ مُدْرَجًا۔
وَرَوَی إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ قِصَّۃَ ابْنَۃِ حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ ہَانِئِ بْنِ ہَانِئٍ وَہُبَیْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَذَلِکَ رَوَاہَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی مَرَّۃً أُخْرَی مُنْفَرِدَۃً۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالہ عصبہ رشتہ داروں سے بچے کی زیادہ حق دار ہے
(١٥٧٦٩) براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرۃ القضاء میں 3 تین دن مکہ میں ٹھہرے، جب تیسرا دن ہوا تو اہل مکہ حضرت علی کو کہنے لگے : آج معاہدہ کا آخری دن ہے تو اپنے صاحب کو کہیں کہ چلے جائیں تو حضرت علی نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ہاں اور پھر مکہ سے نکل گئے۔
(۱۵۷۶۹) وَرَوَاہُ زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی عُمْرَۃِ الْقَضَائِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثُ قَالُوا لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ ہَذَا آخِرُ یَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ فَمُرْہُ فَلْیَخْرُجْ فَحَدَّثَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ : نَعَمْ ۔ فَخَرَجَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالہ عصبہ رشتہ داروں سے بچے کی زیادہ حق دار ہے
(١٥٧٧٠) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کی عنہ کی بیٹی چچا چچا کی صدائیں لگاتی ہوئی پیچھے آگئی۔ میں نے اسے پکڑ اور حضرت فاطمہ کے حوالے کردیا تو حضرت علی، زید بن حارثہ اور جعفر (رض) کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ حضرت علی کہنے لگے : میں نے اسے پکڑا ہے اور میرے چچا کی بیٹی ہے۔ جعفر کہنے لگے : میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ زید کہنے لگے : میرے بھائی کی بیٹی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا : خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے اور زید کو فرمایا : تو ہمارا بھائی اور مولا ہے، وہ پاؤں کے بل پیچھے ہٹ گئے۔ پھر حضرت جعفر کو فرمایا : تو میرے ساتھ تخلیق اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے تو وہ بھی ایک پاؤں کے بل زید کے پیچھے ہوگئے اور حضرت علی کو فرمایا : تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے تو وہ حضرت جعفر کے پیچھے ہوگئے تو حضرت علی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ حضرت حمزہ کی بیٹی سے شادی کرلیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ ممکن ہے جو ابو اسحاق کی براء سے روایت ہے اس میں بنت حمزہ کا واقعہ مختصر ہو اور پھر حضرت علی سے مکمل بیان کیا گیا ہو اور پاؤں کے بل پیچھے ہٹنے کا قصہ اسی روایت میں ہے براء کی روایت میں نہیں۔
(۱۵۷۷۰) قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِی ہَانِئُ بْنُ ہَانِئٍ وَہُبَیْرَۃُ بْنُ یَرِیمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَاتَّبَعَتْہُمْ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ تُنَادِی یَا عَمِّ یَا عَمِّ فَتَنَاوَلَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِیَدِہَا وَقَالَ لِفَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ : دُونَکِ ابْنَۃَ عَمِّکِ ۔ فَحَمَلَتْہَا فَاخْتَصَمَ فِیہَا عَلِیٌّ وَزِیدُ بْنُ حَارِثَۃَ وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَا أَخَذْتُہَا وَبِنْتُ عَمِّی ۔ وَقَالَ جَعْفَرٌ : بِنْتُ عَمِّی وَخَالَتُہَا عِنْدِی وَقَالَ زَیْدٌ : ابْنَۃُ أَخِی۔ فَقَضَی بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِخَالَتِہَا وَقَالَ : الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الأُمِّ ۔ وَقَالَ لِزَیْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا ۔ فَحَجَلَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَنْتَ أَشْبَہُہُمْ بِی خَلْقًا وَخُلُقًا ۔ فَحَجَلَ وَرَائَ حَجْلِ زَیْدٍ ثُمَّ قَالَ لِی : أَنْتَ مِنِّی وَأَنَا مِنْکَ ۔ فَحَجَلْتُ وَرَائَ حَجْلِ جَعْفَرٍ قَالَ وَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : أَلاَ تَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَۃَ؟ قَالَ : إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ رِوَایَۃُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ فِی قِصَّۃِ ابْنَۃِ حَمْزَۃَ مُخْتَصَرَۃً کَمَا رُوِّیْنَا ثُمَّ رَوَاہَا عَنْہُمَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ کَمَا رُوِّیْنَا فَقِصَّۃُ الْحَجْلِ فِی رِوَایَتِہِمَا دُونَ رِوَایَۃِ الْبَرَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّیْنَا ہَذِہِ الْقِصَّۃَ أَیْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
وَرُوِّیْنَا ہَذِہِ الْقِصَّۃَ أَیْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالہ عصبہ رشتہ داروں سے بچے کی زیادہ حق دار ہے
(١٥٧٧١) حضرت علی (رض) بنت حمزہ کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت جعفر کہنے لگے : اس پر میرا حق زیادہ ہے کہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ جعفر کے حق میں فرمایا اور فرمایا : اس کی خالہ جعفر (رض) کے نکاح میں ہے اور خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔
ایسے ہی یہ قصہ سنن ابی داؤد میں مختلف سندوں سے مذکور ہے لیکن ہمارے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے۔
ایسے ہی یہ قصہ سنن ابی داؤد میں مختلف سندوں سے مذکور ہے لیکن ہمارے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے۔
(۱۵۷۷۱) حَدَّثَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ نَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ بِنْتِ حَمْزَۃَ قَالَ فَقَالَ جَعْفَرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَا أَحَقُّ بِہَا فَإِنَّ خَالَتَہَا عِنْدِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا الْجَارِیَۃُ فَأَقْضِی بِہَا لِجَعْفَرٍ فَإِنَّ خَالَتَہَا عِنْدَہُ وَإِنَّمَا الْخَالَۃُ أُمٌّ ۔ ہَکَذَا حَدَّثَنَاہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَہُوَ فِی کِتَابِ سُنَنِ أَبِی دَاوُدَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَالَّذِی عِنْدَنَا أَنَّ الأَوَّلَ أَصَحُّ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الأُوَیْسِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَہُوَ فِی کِتَابِ سُنَنِ أَبِی دَاوُدَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَالَّذِی عِنْدَنَا أَنَّ الأَوَّلَ أَصَحُّ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الأُوَیْسِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک پر غلاموں کے خرچے ، ان کے کھانے اور کپڑے کا بیان
(١٥٧٧٢) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : غلاموں کا کھانا اور کپڑا مالک کے ذمہ ہے اور کوئی غلام کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دے۔
(۱۵۷۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرَ بْنَ الأَشَجِّ حَدَّثَہُ عَنِ الْعَجْلاَنِ مَوْلَی فَاطِمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہُ وَلاَ یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لاَ یُطِیقُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۶۶۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۶۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک پر غلاموں کے خرچے ، ان کے کھانے اور کپڑے کا بیان
(١٥٧٧٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : غلاموں کا کھانا اور کپڑا مالک کے ذمہ ہے اور کوئی غلام کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دے۔
(۱۵۷۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عَجْلاَنَ أَبِی مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لاَ یُطِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۶۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک پر غلاموں کے خرچے ، ان کے کھانے اور کپڑے کا بیان
(١٥٧٧٤) خیثمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، قہرمان آیا تو آپ نے پوچھا کہ کیا غلاموں کو ان کا کھانا دے دیا ؟ کہا : نہیں۔ فرمایا : جاؤ اور انھیں دو اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ مؤمن کے لیے اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے غلام کا کھانا روک لے۔
(۱۵۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِی الرُّطَیْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِیہِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَیُّوبَ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَائَ قَہْرَمَانٌ لَہُ فَدَخَلَ فَقَالَ : أَعْطَیْتَ الرَّقِیقَ قُوتَہُمْ قَالَ لاَ قَالَ فَانْطَلِقْ وَأَعْطِہِمْ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَفَی بِالْمُؤْمِنِ إِثْمًا أَنْ یَحْبِسَ عَمَّنْ یَمْلِکُ قُوتَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۹۹۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۹۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٧٥) معرور کہتے ہیں کہ ہم ابو ذر (رض) سے ربذہ کے مقام پر ملے۔ آپ نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا اور آپ کے غلام پر بھی ویسا ہی کپڑا تھا۔ ایک آدمی کہنے لگا : اے ابو ذر ! اگر آپ اپنے غلام سے یہ کپڑا واپس لے لیتے تو آپ کا مکمل جوڑا بن جاتا۔ غلام کو اور کپڑا دے دیتے تو ابو ذر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنایا ہے تو جس کا بھی بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے اپنے جیسا کھانا کھلائے اور اپنے جیسا کپڑا پہنائے اور طاقت سے بڑھ کر اسے تکلیف نہ دے۔ اگر کوئی کام زیادہ سخت دے دے تو اس کی مدد کرے۔
(۱۵۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمَعْرُورِ قَالَ : لَقِینَا أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ عَلَیْہِ ثَوْبٌ وَعَلَی غُلاَمِہِ مِثْلُہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ أَخَذْتَ ہَذَا الثَّوْبَ مِنْ غُلاَمِکَ فَلَبِسْتَہُ فَکَانَتْ حُلَّۃً وَکَسَوْتَ غُلاَمَکَ ثَوْبًا آخَرَ۔ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہُمْ إِخْوَانُکُمْ جَعَلَہُمُ اللَّہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدَیْہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیَکْسُہُ مِمَّا یَلْبَسُ وَلاَ یُکَلِّفُہُ مَا یَغْلِبُہُ فَإِنْ کَلَّفَہُ فَلْیُعِنْہُ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٧٦) اعمش معرور سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ربذہ میں آئے تو دیکھا کہ حضرت ابو ذر (رض) نے ایک حلہ پہنا ہوا ہے اور ان کے غلام پر بھی ویسا ہی حلہ ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ غلام سے کپڑا لے کر اپنا ایک اچھا سا حلہ بنا لیتے غلام کو اور کپڑا لے دیتے تو ابو ذر فرمانے لگے : میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی کہ اس کی ماں عجمی ہے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میری شکایت کردی، میں بھی آگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا کہ کیا واقعی تو نے اسے گالی دی ہے اور اس کی ماں کا ذکر کیا ہے ؟ تو میں نے جواب دیا : جی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اور گالی میں تو ماں یا باپ کا ذکر آ ہی جاتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو ذر ابھی تجھ میں جاہلیت باقی ہے اور فرمایا : یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنادیا ہے۔ لہٰذا ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ جو خود کھاؤ، پیو، پہنو وہ انھیں بھی کھلاؤ، پلاؤ اور پہناؤ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر بوجھ نہ ڈالو اور کوئی ایسا کام دو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو تو ان کی مدد کیا کرو۔
صحیح مسلم میں یہ روایت احمد بن یونس کے طرق سے اور بخاری میں اعمش کے ایک دوسرے طریق سے منقول ہے۔
صحیح مسلم میں یہ روایت احمد بن یونس کے طرق سے اور بخاری میں اعمش کے ایک دوسرے طریق سے منقول ہے۔
(۱۵۷۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ہُوَ ابْنُ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ قَالَ : قَدِمْنَا الرَّبَذَۃَ فَأَتَیْنَا أَبَا ذَرٍّ فإِذَا عَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَإِذَا عَلَی غُلاَمِہِ أُخْرَی قَالَ فَقُلْنَا لَوْ کَسَوْتَ غُلاَمَکَ غَیْرَ ہَذَا وَجَمَعْتَ بَیْنَہُمَا فَکَانَتْ حُلَّۃً قَالَ فَقَالَ سَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ ہَذَا إِنِّی سَابَبْتُ رَجُلاً وَکَانَتْ أُمُّہُ أَعْجَمِیَّۃً فَنِلْتُ مِنْہَا فَأَتَی رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- فَشَکَانِی إِلَیْہِ فَقَالَ لِی : أَسَابَبْتَ فُلاَنًا؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَہَلْ ذَکَرْتَ أُمَّہُ؟ ۔ فَقُلْتُ : مَنْ یُسَابِبِ الرِّجَالَ ذُکِرَ أَبُوہُ وَأُمُّہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنَّکَ امْرُؤٌ فِیکَ جَاہِلِیَّۃٌ ۔ قَالَ قُلْتُ عَلَی سَاعَتِی مِنَ الْکِبَرِ قَالَ : نَعَمْ إِنَّمَا ہُمْ إِخْوَانُکُمْ جَعَلَہُمُ اللَّہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدِہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِنْ طَعَامِہِ وَلْیُلْبِسْہُ مِنْ لِبَاسِہِ وَلاَ یُکَلِّفُہُ مَا یَغْلِبُہُ فَإِنْ کَلَّفَہُ مَا یَغْلِبُہُ فَلْیُعِنْہُ عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٧٧) واصل اصب فرماتے ہیں : میں نے معرور بن سوید سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں ابوذر غفاری (رض) سے ملا، ان پر اور ان کے غلام پر ایک جیسا کپڑا تھا۔ میں نے اس کے متعلق ان سے سوال کیا تو مجھے انھوں نے ایک حدیث سنائی کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری شکایت کردی۔ آپ نے مجھ سے پوچھا : کیا تو نے اس کی والدہ کے بارے میں برا کہا ؟ پھر مجھے کہا : یہ تمہارے ماتحت بھائی ہیں، اپنے کھانے سے انھیں کھلاؤ، پینے سے پلاؤ اور اپنے لباس سے انھیں پہناؤ۔ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر انھیں تکلیف نہ دو اگر دو تو پھر ان کی مدد بھی کیا کرو۔
امام بخاری (رح) نے اسے آدم سے اپنی صحیح میں اور امام مسلم (رح) نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔
امام بخاری (رح) نے اسے آدم سے اپنی صحیح میں اور امام مسلم (رح) نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ قَالَ سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُوَیْدٍ یَقُولُ : رَأَیْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَعَلَی غُلاَمِہِ حُلَّۃٌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنِّی سَابَبْتُ رَجُلاً فَشَکَانِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَعَیَّرْتَہُ بِأُمِّہِ؟ ۔ ثُمَّ قَالَ لِی : إِنَّ إِخْوَانَکُمْ جَعَلَہُمُ اللَّہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوہُ تَحْتَ یَدِہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ وَلاَ تُکَلِّفُوہُمْ مَا یَغْلِبُہُمْ فَإِنْ کَلَّفْتُمُوہُمْ مَا یَغْلِبُہُمْ فَأَعِینُوہُمْ عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٧٨) ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو غلاموں سے نرمی کرے تو اسے چاہیے کہ انھیں اپنے کھانے اور پینے سے کھلائے، پلائے اور لباس سے پہنائے اور جو ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کرسکتا تو وہ انھیں بیچ دے۔ اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ مورق تک یہ سند صحیح ہے۔
(۱۵۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ لاَیَمَکُمْ مِنْ مَمْلُوکِیکُمْ فَأَطْعِمُوہُ مِمَّا تَأْکُلُونَ وَاکْسُوہُ مِمَّا تَکْتَسُونَ وَمَنْ لَمْ یُلاَیِمْکُمْ مِنْہُمْ فَبِیعُوہُ وَلاَ تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّہِ ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٧٩) ابراہیم بن ابی خداش بن عتبہ بن ابی لہب کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) کو غلاموں کے بارے میں فرماتے ہوئیسنا کہ تم انھیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔
ابراہیم بن ابی خداش مجہول ہے پہلی روایات اس کی شاہد ہیں۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ نہ کرسکے کہ اپنے برابر اس کو کھلائے پلائے تو پھر وہ یہ کرے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا ہے کہ اسے معروف طریقے سے کھلائے پلائے اور معروف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جو شہر کی عام خوراک اور کپڑا ہوتا ہے۔
ابراہیم بن ابی خداش مجہول ہے پہلی روایات اس کی شاہد ہیں۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ نہ کرسکے کہ اپنے برابر اس کو کھلائے پلائے تو پھر وہ یہ کرے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا ہے کہ اسے معروف طریقے سے کھلائے پلائے اور معروف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جو شہر کی عام خوراک اور کپڑا ہوتا ہے۔
(۱۵۷۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَبِی خِدَاشِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ أَبِی لَہَبٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ فِی الْمَمْلُوکِینَ : أَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ وَاکْسُوہُمْ مِمَّا تَکْتَسُونَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَہُ مَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- نَفَقَتُہُ وَکِسْوَتُہُ بِالْمَعْرُوفِ وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَنَا الْمَعْرُوفُ لِمِثْلِہِ فِی بَلَدِہِ الَّذِی یَکُونُ بِہِ۔ [صحیح لغیرہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَہُ مَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- نَفَقَتُہُ وَکِسْوَتُہُ بِالْمَعْرُوفِ وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَنَا الْمَعْرُوفُ لِمِثْلِہِ فِی بَلَدِہِ الَّذِی یَکُونُ بِہِ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک جو کھائے غلام کو بھی ویسا ہی کھلائے اور جو پہنیغلام کو بھی ویسا ہی پہنائے
(١٥٧٨٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے۔ اگر ساتھ نہ بٹھائے تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے۔ کیونکہ کھانا بناتے ہوئے گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔
یہ حدیث امام شافعی (رح) کی اس بات کی دلیل ہے جو پچھلی حدیث کے اختتام پر بیان فرمائی تھی۔
یہ حدیث امام شافعی (رح) کی اس بات کی دلیل ہے جو پچھلی حدیث کے اختتام پر بیان فرمائی تھی۔
(۱۵۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا جَائَ خَادِمُ أَحَدِکُمْ بِطَعَامِہِ فَلْیُجْلِسْہُ مَعَہُ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیُنَاوِلْہُ أُکْلَۃً أَوْ أُکْلَتَیْنِ فَإِنَّہُ وَلِیَ دُخَانَہُ وَحَرَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی مَا وَصَفْنَا مِنْ تَبَایُنِ طَعَامِ الْمَمْلُوکِ وَطَعَامِ سَیِّدِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی مَا وَصَفْنَا مِنْ تَبَایُنِ طَعَامِ الْمَمْلُوکِ وَطَعَامِ سَیِّدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک اپنے اس غلام کو جو اس کے لیے کھانا بنائے کیا دے
(١٥٧٨١) حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ جب کسی کا غلام اس کے لیے کھانا بنا کر لائے تو اس غلام کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لے؛ کیونکہ اس نے گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔ اگر کھانا کم ہو تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے۔
امام مسلم (رح) نے اسے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے روایت کیا ہے۔
امام مسلم (رح) نے اسے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۷۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّاء ُ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْمُلاَئِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ مُوسَی بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِکُمْ لَہُ طَعَامًا فَجَائَ بِہِ قَدْ وَلِیَ حَرَّہُ وَدُخَانَہُ فَلْیُقْعِدْہُ مَعَہُ فَلْیَأْکُلْ فَإِنْ کَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوہًا قَلِیلاً فَلْیَضَعْ فِی یَدِہِ أُکْلَۃً أَوْ أُکْلَتَیْنِ ۔
قَالَ دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ : الأُکْلَۃُ اللُّقْمَۃُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
قَالَ دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ : الأُکْلَۃُ اللُّقْمَۃُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مالک اپنے اس غلام کو جو اس کے لیے کھانا بنائے کیا دے
(١٥٧٨٢) ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی غلام اپنے مالک کے لیے کھانا بنائے تو مالک کو چاہیے کہ اسے بھی اپنے ساتھ کھلائے۔ اگر وہ نہ کھائے تو اس کے لیے ایک یا دو لقمے ضرور چھوڑ دے۔
(۱۵۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِذَا کَفَی أَحَدَکُمْ خَادِمُہُ طَعَامَہُ حَرَّہُ وَدُخَانَہُ فَلْیَدْعُہُ فَلْیُجْلِسْہُ فَإِنْ أَبَی فَلْیُرَوِّغْ لَہُ لُقْمَۃً فَلْیُنَاوِلْہُ إِیَّاہَا أَوْ یُعْطِیہِ إِیَّاہَا ۔ أَوْ کَلِمَۃً ہَذَا مَعْنَاہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے
(١٥٧٨٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام کا کھانا اور کپڑا مالک کے ذمہ ہے اور غلام کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دو ۔
(۱۵۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ أَنَّ الْعَجْلاَنَ أَبَا مُحَمَّدٍ حَدَّثَہُ قَبْلَ وَفَاتِہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہُ وَلاَ یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لاَ یُطِیقُ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی سے کمائی کرانا ممنوع ہے ہاں اگر کوئی بہتر کام ہو تو ٹھیک ہے
(١٥٧٨٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر اچھا کام ہو جس سے اس کا چہرہ معروف ہو تو جائز ہے۔
(۱۵۷۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ کَسْبِ الأَمَۃِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لَہَا عَمَلٌ وَاصِبٌ أَوْ کَسْبٌ یُعْرَفُ وَجْہُہُ۔
وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ عَنِ الزَّنْجِیِّ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی عَتِیقٍ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا۔[حسن لغیرہ]
وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ عَنِ الزَّنْجِیِّ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی عَتِیقٍ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا۔[حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی سے کمائی کرانا ممنوع ہے ہاں اگر کوئی بہتر کام ہو تو ٹھیک ہے
(١٥٧٨٥) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہبچوں کو کمائی کی تکلیف نہ دو؛ کیونکہ اگر تم انھیں تکلیف دو گے تو وہ چوری کریں گے اور ایسی لونڈی جو کوئی کام نہیں جانتی اسے کمائی پر نہ لگاؤ؛کیونکہ وہ پھر اپنی فرج کی کمائی ہی سے لائے گی اور ابن ابی اویس کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ جیسے اللہ تم سے درگزر کرتا ہے تم بھی ان سے درگزر کرو اور انھیں اپنی طاقت کے مطابق اچھا کھانا کھلاؤ۔
(۱۵۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ : لاَ تُکَلِّفُوا الصَّغِیرَ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہُ الْکَسْبَ سَرَقَ وَلاَ تُکَلِّفُوا الأَمَۃَ غَیْرَ ذَاتِ الصَّنْعَۃِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہَا الْکَسْبَ کَسَبَتْ بِفَرْجِہَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ زَادَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ فِی رِوَایَتِہِ: وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمُ اللَّہُ وَعَلَیْکُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْہَا۔ رَفَعَہُ بَعْضُہُمْ عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ : لاَ تُکَلِّفُوا الصَّغِیرَ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہُ الْکَسْبَ سَرَقَ وَلاَ تُکَلِّفُوا الأَمَۃَ غَیْرَ ذَاتِ الصَّنْعَۃِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہَا الْکَسْبَ کَسَبَتْ بِفَرْجِہَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ زَادَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ فِی رِوَایَتِہِ: وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمُ اللَّہُ وَعَلَیْکُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْہَا۔ رَفَعَہُ بَعْضُہُمْ عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے مخارجہ کا بیان جب اس کی کچھ کمائی ہو
(١٥٧٨٦) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سینگیلگائی تو آپ نے دو یا ایک صاع اسے کھجوریں دیں اور ان کے اہل کو حکم دیا کہ اس سے خراج لینے میں تخفیف کرو۔
(۱۵۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسِ وَسُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّوْرِیُّ أَنَّ حُمَیْدًا الطَّوِیلَ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : حَجَمَ أَبُو طَیْبَۃَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَعْطَاہُ صَاعَیْنِ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَہْلَہُ أَنْ یُخَفِّفُوا عَنْہُ مِنْ خَرَاجِہِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حُمَیْدٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حُمَیْدٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے مخارجہ کا بیان جب اس کی کچھ کمائی ہو
(١٥٧٨٧) مغیث بن سمی فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام (رض) کے ایک ہزار غلام تھے، جو انھیں اپنی کمائی سے دیا کرتے تھے لیکن انھوں نے ان کی کمائی کو اپنے گھر میں داخل نہیں کیا۔
(۱۵۷۸۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہُ نَہِیکُ بْنُ یَرِیمَ حَدَّثَنِی مُغِیثُ بْنُ سُمَیٍّ قَالَ : کَانَ لِلزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَلْفَ مَمْلُوکٍ یُؤَدِّی إِلَیْہِ الْخَرَاجَ فَلاَ یُدْخِلُ بَیْتَہُ مِنْ خَرَاجِہِمْ شَیْئًا۔ [صحیح]
তাহকীক: