আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৬০৯৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایتجسمیں ہے کہ قصاص صرف لوہے کے ساتھ لیا جائے
(١٦٠٨٨) نعمان بن بشیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : قصاص صرف لوہے کے ساتھ ہے۔
(۱۶۰۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَیْسٌ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِیِّ عَنْ أَبِی عَازِبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ قَوَدَ إِلاَّ بِحَدِیدَۃٍ۔ کَذَا أَتَی بِہِ قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ بِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ جَابِرٍ عَلَی اللَّفْظِ الَّذِی مَضَی فِی بَابِ شِبْہِ الْعَمْدِ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایتجسمیں ہے کہ قصاص صرف لوہے کے ساتھ لیا جائے
(١٦٠٨٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قصاص صرف تلوار کے ساتھ ہے۔ یونس کہتے ہیں : میں نے حسن سے پوچھا : یہ حدیث تم نے کس سے سنی ہے تو جواب دیا : نعمان بن بشیر (رض) سے۔
(۱۶۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ النُّعْمَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ عَنْ مُبَارَکٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ قَوَدَ إِلاَّ بِالسَّیْفِ ۔

قَالَ یُونُسُ قُلْتُ لِلْحَسَنِ : عَمَّنْ أَخَذْتَ ہَذَا؟ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَذْکُرُ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایتجسمیں ہے کہ قصاص صرف لوہے کے ساتھ لیا جائے
(١٦٠٩٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قصاص صرف تلوار کے ساتھ ہے۔ یونس کہتے ہیں : میں نے حسن سے پوچھا : یہ حدیث تم نے کس سے سنی ہے ؟ تو جواب دیا : نعمان بن بشیر (رض) سے۔
(۱۶۰۹۰) وَقِیلَ عَنْ مُبَارَکِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ مَرْفُوعًا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ حَکِیمٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ الطَرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایتجسمیں ہے کہ قصاص صرف لوہے کے ساتھ لیا جائے
(١٦٠٩١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قصاص صرف تلوار کے ساتھ ہے۔
(۱۶۰۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مُصَفَّی حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: لاَ قَوَدَ إِلاَّ بِالسَّیْفِ۔

کَذَا قَالَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایتجسمیں ہے کہ قصاص صرف لوہے کے ساتھ لیا جائے
(١٦٠٩٢) حضرت ابو معاذ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قصاص صرف تلوار کے ساتھ ہے۔

ان احادیث کی اسناد ثابت نہیں ہیں۔ معلی بن ھلاں طحّان متروک ہے اور سلیمان بن ارقم ضعیف ہے اور مبارک بن فضالہ سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی اور جابر بن یزیدجعفی مطعون و متروک ہے۔
(۱۶۰۹۲) وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ بَقِیَّۃَ فَقَالَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا الْمُسَیَّبُ بْنُ وَاضِحٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ أَبِی مُعَاذٍ فَذَکَرَہُ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَامِرُ بْنُ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی مُعَاذٍ سُلَیْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ۔ وَرُوِیَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ أَبِی الْمُخَارِقِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ مَرْفُوعًا۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ مُعَلَّی بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَثْبُتْ لَہُ إِسْنَادٌ۔

مُعَلَّی بْنُ ہِلاَلٍ الطَّحَّانُ مَتْرُوکٌ وَسُلَیْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ضَعِیفٌ وَمُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ وَجَابِرُ بْنُ یَزِیدَ الْجُعْفِیُّ مَطْعُونٌ فِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” اور ہم نے ان پر فرض کردیا کہ نفس کے بدلے نفس اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم میں بھی قصاص ہے “ [المائدۃ ٤٥] امام شافعی (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ کسی کے اختلاف کا مجھے علم نہیں
(١٦٠٩٣) ابونضر فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور وہ منبر پر کھڑے تھے، کہنے لگا کہ آپ کے عامل نے مجھے مارا ہے اور مجھ پر ظلم کیا ہے۔ حضرت عمر فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! تمہیں ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ عمرو بن عاص فرمانے لگے : اے امیر المؤمنین ! کیا آپ اپنے عامل سے قصاص لیں گے۔ فرمایا : ہاں میں اس سے ضرور قصاص لوں گا۔ اللہ کے رسول اور حضرت ابوبکر نے خود قصاص دیا ہے تو کیا میں اس سے قصاص نہ لوں ؟ عمرو بن العاص فرمانے لگے : کیا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ؟ پوچھا : وہ کیا ؟ فرمانے لگے : جس پر وہ رضا مند ہوجائے۔ فرمایا : ٹھیک ہے جس پر مظلوم رضا مند ہوجائے۔
(۱۶۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِی النَّضْرِ أَنَّ رَجُلاً قَامَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ظَلَمَنِی عَامِلُکَ وَضَرَبَنِی فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّہِ لأُقِیدَنَّکَ مِنْہُ إِذًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَتُقِیدُ مِنْ عَامِلِکَ قَالَ نَعَمْ وَاللَّہِ لأُقِیدَنَّ مِنْہُمْ أَقَادَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَفْسِہِ وَأَقَادَ أَبُو بَکْرٍ مِنْ نَفْسِہِ أَفَلاَ أُقِیدُ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَوْ غَیْرَ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ وَمَا ہُوَ قَالَ أَوْ مَا یُرْضِیہِ قَالَ أَوْ ذَلِکَ۔

ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِّینَاہُ مَوْصُولاً وَمُرْسَلاً فِی بَابِ قَتْلِ الإِمَامِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” اور ہم نے ان پر فرض کردیا کہ نفس کے بدلے نفس اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم میں بھی قصاص ہے “ [المائدۃ ٤٥] امام شافعی (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ کسی کے اختلاف کا مجھے علم نہیں
(١٦٠٩٤) ابن عباس (رض) اللہ کے اس فرمان { النَّفْسُ بِالنَّفْسِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نفس کو نفس کے بدلے قتل کیا جائے گا، آنکھ آنکھ کے بدلے پھوڑی جائے گی، ناک ناک کے بدلے کاٹا جائے گا، دانت دانت کے بدلے اکھاڑا جائے گا، اور زخم کے بدلے زخم کا قصاص لیا جائے گا، ان اشیاء میں مسلمان، آزاد، مرد اور عورتیں تمام برابر ہیں جب یہ کام جان بوجھ کر کیے جائیں۔
(۱۶۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {النَّفْسُ بِالنَّفْسِ} قَالَ تُقْتَلُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَتُفْقَأُ الْعَیْنُ بِالْعَیْنِ وَیُقْطَعُ الأَنْفُ بِالأَنْفِ وَتُنْزَعُ السِّنُّ بِالسِّنِّ وَیُقْتَصُّ الْجِرَاحُ بِالْجِرَاحِ فَہَذَا یَسْتَوِی فِیہِ أَحْرَارُ الْمُسْلِمِینَ فِیمَا بَیْنَہُمْ رِجَالُہُمْ وَنِسَاؤُہُمْ فِیمَا بَیْنَہُمْ إِذَا کَانَ عَمْدًا فِی النَّفْسِ وَمَا دُونَ النَّفْسِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” اور ہم نے ان پر فرض کردیا کہ نفس کے بدلے نفس اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم میں بھی قصاص ہے “ [المائدۃ ٤٥] امام شافعی (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ کسی کے اختلاف کا مجھے علم نہیں
(١٦٠٩٥) انس (رض) فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کردیا۔ جھگڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ قصاص ہوگا۔ ام ربیع کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کیا فلانہ سے بھی قصاص لیا جائے گا ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی کتاب میں قصاص ہی ہے۔ تو وہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! قصاص کبھی نہیں لیا جاسکتا، وہ ہمیشہ یہی کہتی رہی یہاں تک کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے کتنے ہی ایسے بندے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کو بری کردیتے ہیں۔
(۱۶۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُخْتَ الرُّبَیِّعِ أُمَّ حَارِثَۃَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ ۔ فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَیِّعِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُقْتَصُّ مِنْ فُلاَنَۃَ وَاللَّہِ لاَ یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : سُبْحَانَ اللَّہِ الْقِصَاصُ کِتَابُ اللَّہِ ۔ قَالَتْ : وَاللَّہِ لاَ یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّیَۃَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” اور ہم نے ان پر فرض کردیا کہ نفس کے بدلے نفس اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم میں بھی قصاص ہے “ [المائدۃ ٤٥] امام شافعی (رح) اس بارے میں فرماتے ہیں کہ کسی کے اختلاف کا مجھے علم نہیں
(١٦٠٩٦) حضرت انس فرماتے ہیں ربیع بنت نضر نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا اور اس کے ثنیہ دانت توڑ دیے، انھوں نے معافی مانگی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ انھوں نے دیت کی بات کی تو بھی انکار کردیا۔ فیصلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ انس بن نضر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا ربیع کے بھی ثنیہ دانت توڑے جائیں گے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ایسا نہیں ہوسکتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہے۔ قوم دیت پر راضی ہوگئی تو آپ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتے ہیں۔
(۱۶۰۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَطَمَتِ الرُّبَیِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ جَارِیَۃً فَکَسَرَتْ ثَنِیَّتَہَا فَطَلَبُوا إِلَیْہِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا وَعَرَضُوا الأَرْشَ عَلَیْہِمْ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا أَنَسُ کِتَابُ اللَّہِ الْقِصَاصُ ۔ فَرَضِیَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّہِ لأَبَرَّہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ ظَاہِرُ الْخَبَرَیْنِ یَدُلُّ عَلَی کَوْنِہِمَا قِصَّتَیْنِ وَإِلاَّ فَثَابِتٌ أَحْفَظُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦٠٩٧) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہڈی میں قصاص نہیں ہے۔
(۱۶۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ أُقِیدُ مِنَ الْعِظَامِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦٠٩٨) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک شخص کی ران توڑ دی۔ جھگڑا حضرت عمر کے پاس آیا، وہ کہنے لگا : اے امیر المومنین ! مجھے قصاص لے کر دو تو حضرت عمر نے فرمایا : تجھے قصاص نہیں دیت ملے گی تو وہ آدمی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے چتکبرے سانپ کی طرح کردیا ہے کہ اگر اسے مارا جائے تو وہ انتقام لیتا ہے، چھوڑا جائے تو کاٹتا ہے تو فرمایا : تو چتکبرے سانپ کی طرح ہی ہے۔
(۱۶۰۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ حَدَّثَنَا عَطَاء ُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ رَجُلاً کَسَرَ فَخِذَ رَجُلٍ فَخَاصَمَہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ : أَقِدْنِی۔ قَالَ : لَیْسَ لَکَ الْقَوَدُ إِنَّمَا لَکَ الْعَقْلُ۔ قَالَ الرَّجُلُ : فَأَسْمَعْنِی کَالأَرْقَمِ إِنْ یُقْتَلْ یَنْقَمْ وَإِنْ یُتْرَکْ یَلْقَمْ قَالَ فَأَنْتَ کَالأَرْقَمِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(٩٩ ١٦٠) ابوزناد فقہائِ مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہر ٹوٹ پھوٹ اور زخم میں قصاص ہے، ہاں سر کے زخم، پیٹ کے زخم اور وہ زخم جو تلف کرنے والا ہو اس میں قصاص نہیں، دیت ہے اور عیسیٰ اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ران زخم میں سے ہے۔
(۱۶۰۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّائُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَا قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ قَالَ إِسْمَاعِیلُ فِی حَدِیثِہِ وَکَانُوا یَقُولُونَ : الْقَوَدُ بَیْنَ النَّاسِ مِنْ کُلِّ کَسْرٍ أَوْ جُرْحٍ إِلاَّ أَنَّہُ لاَ قَوَدَ فِی مَأْمُومَۃٍ وَلاَ جَائِفَۃٍ وَلاَ مَتْلَفٍ کَائِنًا مَا کَانَ وَقَالَ عِیسَی فِی حَدِیثِہِ وَکَانُوا یَقُولُونَ الْفَخِذُ مِنَ الْمَتَالِفِ وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بَأَسَانِیدَ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٠) حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سر کے زخم میں قصاص نہیں ہے۔
(۱۶۱۰۰) مِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ یَحْیَی وَعِیسَی ابْنَیْ طَلْحَۃَ أَوْ أَحَدِہِمَا عَنْ طَلْحَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لَیْسَ فِی الْمَأْمُومَۃِ قَوَدٌ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠١) عباس بن عبدالمطلب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عام سر کا زخم اور پیٹ کا زخم اور وہ سر کا زخم جس میں ہڈی کے ذرات برآمد ہوں ان میں قصاص نہیں ہے۔
(۱۶۱۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا رِشْدِینُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنِ ابْنِ صُہْبَانَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ قَوَدَ فِی الْمَأْمُومَۃِ وَلاَ الْجَائِفَۃِ وَلاَ الْمُنَقِّلَۃِ ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ مُعَاذٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٢) نمران بن جاریہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو پر مارا، ہڈی تو بچ گئی، لیکن وہ زخمی ہوگیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ نے دیت کا حکم دے دیا۔ وہ شخص کہنے لگا : مجھے قصاص چاہیے تو آپ نے فرمایا : اللہ تجھے اس میں برکت دے، دیت لے لو “ اور آپ نے اسے قصاص نہیں دلوایا۔
(۱۶۱۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ دَہْثَمِ بْنِ قُرَّانَ الْعِجْلِیِّ حَدَّثَنِی نِمْرَانُ بْنُ جَارِیَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً ضَرَبَ رَجُلاً بَالسَّیْفِ عَلَی سَاعِدِہِ فَقَطَعَہَا مِنْ غَیْرِ مَفْصِلٍ فَاسْتَعْدَی عَلَیْہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَ لَہُ بِالدِّیَۃِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أُرِیدُ الْقِصَاصَ قَالَ لَہُ: خُذِ الدِّیَۃَ بَارَکَ اللَّہُ لَکَ فِیہَا۔ وَلَمْ یَقْضِ لَہُ بِالْقِصَاصِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٣) طاؤس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ملکیت سے پہلے طلاق نہیں ہے اور واضح زخم کے علاوہ میں قصاص نہیں ہے۔
(۱۶۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ طَاوُسٍ ذَکَرَ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : لاَ طَلاَقَ قَبْلَ مِلْکٍ وَلاَ قِصَاصَ فِیمَا دُونَ الْمُوضِحَۃِ مِنَ الْجِرَاحَاتِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১১০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٤) طارق کہتے ہیں کہ حضرت خالد نے تھپڑ کا بھی قصاص لیا۔
(۱۶۱۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ : أَنَّ خَالِدًا أَقَادَ مَنْ لَطْمَۃٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১১১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٥) عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر (رض) نے تھپڑ کا بھی قصاص لیا۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ میری کتاب میں بھی اسی طرح ہے۔
(۱۶۱۰۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ : أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ أَقَادَ مِنْ لَطْمَۃٍ۔ قَالَ أَحْمَدُ : ہَکَذَا فِی کِتَابِی۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১১২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن چیزوں میں قصاص نہیں ہے
(١٦١٠٦) سفیان بروایت یحییٰ کہتے ہیں کہ اس بارے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ کا اختلاف ہے، ابن شبرمہ کہتے ہیں : میں قصاص لوں گا اور ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا۔ شاید کہ آپ اس میں سخت ہیں، اس کے علاوہ تھپڑ مارا جائے اور دوسرا پہلے سے بھی زیادہ سخت تھپڑ مار دے۔

شیخ فرماتے ہیں کہ فقہاء امصار فرماتے ہیں کہ اس میں قصاص نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} [البقرۃ ١٧٩] اور قصاص مساوات اور مماثلت کا نام ہے اور دو تھپڑوں میں مساوات ممکن نہیں۔ واللہ اعلم

اور اس باب کہ امام کا قتل یا زخمی کرنا کہ جس میں وجوب قصاص کا وہم ہو لکڑی یا کوڑے سے مارنے میں ہم روایت بیان کرچکے ہیں۔ ہم اس کو اس پر محمول کریں گے کہ یہ اس زخم میں ہے جس میں مماثلت کا اعتبار ممکن ہو اور بعض احادیث میں بھی یہ بات آتی ہے یا ہم اس کو اس بات پر محمول کریں گے کہ انھوں نے اس کی تقریر کی رائے یہ رکھی ہے کہ اس جیسا فعل کیا جائے۔ واللہ اعلم
(۱۶۱۰۶) وَرَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَخِی عَمْرٍو عَنْ عَمْرٍو أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ فَذَکَرَہُ

قَالَ سُفْیَانُ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی اخْتَلَفَ فِیہِ ابْنُ شُبْرُمَۃَ وَابْنُ أَبِی لَیْلَی فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃَ : أَنَا أُقِیدُ۔ وَقَالَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی : لاَ أَعْرِفُ لَعَلَّہَا تَکُونُ شَدِیدَۃً فَیُلْطَمَ دُونَہَا وَیَکُونُ دُونَہَا فَیُلْطَمَ أَشَدَّ مِنْہَا۔

قَالَ الشَّیْخُ : فُقَہَاء ُ الأَمْصَارِ عَلَی أَنْ لاَ قَوَدَ فِیہَا لِقَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} وَالْقِصَاصُ ہُوَ الْمُسَاوَاۃُ وَالْمُمَاثَلَۃُ وَاعْتِبَارُ الْمُسَاوَاۃِ فِی مَا بَیْنَ اللَّطْمَتَیْنِ مُتَعَذِّرٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَرُوِّینَا فِی بَابِ قَتْلِ الإِمَامِ وَجُرْحِہِ مَا یُوہِمُ وُجُوبَ الْقِصَاصِ فِی الضَّرْبِ بِالْخَشَبَۃِ وَالسَّوْطِ وَذَلِکَ مَحْمُولٌ عِنْدَہُمْ عَلَی حُصُولِ شَجَّۃٍ أَوْ جُرْحٍ بِہَا یُمْکِنُ اعْتِبَارُ الْمُمَاثَلَۃِ فِیہَا فَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ فِی بَعْضِ تِلْکَ الأَخْبَارِ أَوْ یَکُونُ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ رَأَی تَعْزِیرَہُ بِأَنْ یُفْعَلَ بِہِ مِنْ جِنْسِ فِعْلِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১১৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی اور کاٹے ہوئے کے قصاص میں کچھ انتظار کرلیا جائے
(١٦١٠٧) جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں سینگ مار دیا، وہ شخص قصاص کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو آپ نے فرمایا : ٹھیک ہو جاؤ پھر آنا۔ اس نے انکار کیا اور فوراً قصاص کا مطالبہ کیا۔ اسے قصاص لے دیا گیا تو جس سے قصاص لیا تھا اس کا گھٹنہ صحیح ہوگیا اور اس کا نہ ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ تیرے انکار کی وجہ سے ہے۔
(۱۶۱۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَجُلاً طَعَنَ رَجُلاً بِقَرْنٍ فِی رُکْبَتِہِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَسْتَقِیدُ فَقَالَ لَہُ : حَتَّی تَبْرَأَ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَلِیٍّ الْحَافِظِ فَقِیلَ لَہُ : حَتَّی تَبْرَأَ ۔ قَالَ فَأَبَی وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ فعتبت رِجْلُہُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ: لَیْسَ لَکَ شَیْئٌ إِنَّکَ أَبَیْتَ۔ [ضعیف۔ منکر]
tahqiq

তাহকীক: