আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৬০৫৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٤٨) عبداللہ بن عمرو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] یعنی اس کی مثل اس سے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قصاص سے درگزری کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کفارہ بن جاتا ہے یا فرمایا کہ اس میں رغبت ہے کہ قصاص سے معاف کیا جائے۔
(۱۶۰۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ قَیْسٍ عَنْ طَارِقٍ عَنِ الْہَیْثَمِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ} قَالَ یُہْدَمُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ مِنْ ذُنُوبِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَالرِّوَایَۃُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَنَّ الْعَفْوَ عَنِ الْقِصَاصِ کَفَّارَۃٌ أَوْ قَالَ شَیْئًا یُرَغِّبُ بِہِ فِی الْعَفْوِ عَنْہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٤٩) عطاء بن ابی میمونہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف حضرت انس (رض) سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان سے عرض کیا کہ اس میں کس کو شک ہے ؟ فرماتے ہیں : عبداللہ نے فرمایا : میں یہ کہتا تھا کہ عن انس تو انھوں نے فرمایا : اس میں شک نہ کر۔ میں نے کہا : میں اسے نہیں جانتا اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔
(۱۶۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ قَالَ لاَ أَعْلَمَہُ إِلاَّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قِصَاصٌ قَطٌّ إِلاَّ أَمَرَ فِیہِ بِالْعَفْوِ قَالَ قُلْتُ لِعَفَّانَ مَنْ یَشُکُّ فِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُاللَّہِ کُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ فَقَالُوا لِی لاَ تَشُکَّ فِیہِ فَقُلْتُ لاَ أَعْلَمُہُ وَکَانَ رَجُلاً مُتَوَقِّیًا کَیِّسًا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٠) انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا ہو اور آپ نے معافی کا مشورہ نہ دیا ہو۔
(۱۶۰۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ الْمِنْقَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- رُفِعَ إِلَیْہِ شَیْئٌ مِنْ قِصَاصٍ إِلاَّ أَمَرَ فِیہِ بِالْعَفْوِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥١) علقمہ بن وائل فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اسے قتل کیا ہے ؟ اس نے کہا : اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا : جی ہاں۔ پوچھا : کیسے قتل کیا ؟ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر ڈنڈا مارا اور وہ مرگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے ؟ کہا : یہ میری چادر ہے۔ فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے ؟ کہا : میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا : لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہوگا۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے تو فرمایا : ہاں کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے گناہ اور تیرے بھائی کے گناہ معاف کردیے جائیں ؟ کہنے لگا : کیوں نہیں اے اللہ کے نبی ! تو فرمایا : پھر ایسے ہی ہوگا تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔
(۱۶۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو یُونُسَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ : إِنِّی لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ یَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَۃٍ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا قَتَلَ أَخِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَقَتَلْتَہُ ۔ فَقَالَ : إِنَّہُ لَوْ لَمْ یَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتُہُ قَالَ : کَیْفَ قَتَلْتَہُ ۔ قَالَ کُنْتُ وَہُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَۃٍ فَسَبَّنِی فَأَغْضَبَنِی فَضَرَبْتُہُ بِالْفَأْسِ عَلَی قَرْنِہِ فَقَتَلْتُہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ہَلْ لَکَ مِنْ شَیْئٍ تُؤَدِّیہِ عَنْ نَفْسِکَ؟ ۔ قَالَ : مَا لِی مَالٌ إِلاَّ کِسَائِی قَالَ : فَتَرَی قَوْمَکَ یَشْتَرُونَکَ؟ ۔ قَالَ أَنَا أَہْوَنُ عَلَی قَوْمِی مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَرَمَی إِلَیْہِ بِنِسْعَتِہِ وَقَالَ دُونَکَ صَاحِبَکَ فَانْطَلَقَ بِہِ الرَّجُلُ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ ۔ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ وَیْلَکَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ ۔ فَرَجَعَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَلَغَنِی أَنَّکَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَہُ فَہُوَ مِثْلُہُ وَمَا أَخَذْتُہُ إِلاَّ بِأَمْرِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَا تُرِیدُ أَنْ یَبُوئَ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ قَالَ بَلَی یَا نَبِیَّ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ ذَاکَ کَذَاکَ قَالَ فَرَمَی بِنِسْعَتِہِ وَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٢) علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تاکہ اس سے قصاص لیا جائے، اس کی گردن میں ایک تسمہ تھا جس سے اسے کھینچا جا رہا تھا۔ جب وہ چلے گئے تو آپ نے فرمایا : قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔ تو ایک شخص اس آدمی سے ملا اور اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں : میں نے یہ بات حبیب بن ابی ثابت کو بتائی۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے ابن اشوع بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کیا تم معاف کرتے ہو ؟ اس نے انکار کردیا تھا۔
اور صحیح مسلم میں اسماعیل سے منقول ہے کہ میں نے ابن اشوع سے کہا تو ابن اشوع نے فرمایا : میں نے یہ بات حبیب کو بتائی تو انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
سعید بن جبیر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل بیان کیا ہے کہ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے بھائی کو قتل کردیا وہ جہنم میں ہے اگر میں اسے قتل کر دوں تو کیا میں بھی اس جیسا ہوں گا ؟ تو فرمایا : تیرے بھائی کو قتل کیا وہ جہنمی ہے اور اگر تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی تو تو بھی جہنم میں جائے گا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے یہ اس وجہ سے فرمایا : کیونکہ قاتل نے یہ کہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اگر وہ سچا ہے اور تو نے اسے قتل کردیا اور تو جانتا بھی ہے کہ وہ سچا ہے تو تو بھی اس جیسا ہوجائے گا۔
اور صحیح مسلم میں اسماعیل سے منقول ہے کہ میں نے ابن اشوع سے کہا تو ابن اشوع نے فرمایا : میں نے یہ بات حبیب کو بتائی تو انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
سعید بن جبیر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل بیان کیا ہے کہ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے بھائی کو قتل کردیا وہ جہنم میں ہے اگر میں اسے قتل کر دوں تو کیا میں بھی اس جیسا ہوں گا ؟ تو فرمایا : تیرے بھائی کو قتل کیا وہ جہنمی ہے اور اگر تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی تو تو بھی جہنم میں جائے گا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے یہ اس وجہ سے فرمایا : کیونکہ قاتل نے یہ کہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اگر وہ سچا ہے اور تو نے اسے قتل کردیا اور تو جانتا بھی ہے کہ وہ سچا ہے تو تو بھی اس جیسا ہوجائے گا۔
(۱۶۰۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَزَرَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ ابْنُ أَبِی الْحُنَیْنِ سَعْدُوَیْہِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ مُنْذُ سِتِّینَ سَنَۃً قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلاً یَعْنِی فَأَقَادَ وَلِیَّ الْمَقْتُولِ مِنْہُ فَانْطَلَقَ بِہِ فِی عُنُقِہِ نِسْعَۃٌ یَجُرُّہَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِی النَّارِ ۔ فَأَتَی رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَہُ مَقَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَلَّی عَنْہُ قَالَ إِسْمَاعِیلُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ فَقَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَأَلَہُ أَنْ یَعْفُوَ فَأَبَی أَنْ یَعْفُوَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ کَذَا رَوَاہُ ہُشَیْمٌ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَقَالَ فِیہِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ أَشْوَعَ فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِیبٍ فَقَالَ حَبِیبٌ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ أَمَرَہُ بِالْعَفْوِ۔
وَرُوِیَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْحَدِیثِ مُرْسَلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَتَلَ أَخِی فَہُوَ فِی النَّارِ فَإِنْ قَتَلْتُہُ فَأَنَا مِثْلُہُ فَقَالَ : قَتَلَ أَخَاکَ فَہُوَ فِی النَّارِ وَأَمَرْتُکَ فَعَصَیْتَنِی فَأَنْتَ فِی النَّارِ إِنْ عَصَیْتَنِی ۔
وَقَدْ قِیلَ إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لأنَّ الْقَاتِلَ قَالَ وَاللَّہِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَہُ وَذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَإِنْ کَانَ صَادِقًا فَقَتَلْتَہُ وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ فَأَنْتَ مِثْلُہُ۔ [صحیح]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَزَرَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ ابْنُ أَبِی الْحُنَیْنِ سَعْدُوَیْہِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ مُنْذُ سِتِّینَ سَنَۃً قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلاً یَعْنِی فَأَقَادَ وَلِیَّ الْمَقْتُولِ مِنْہُ فَانْطَلَقَ بِہِ فِی عُنُقِہِ نِسْعَۃٌ یَجُرُّہَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِی النَّارِ ۔ فَأَتَی رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَہُ مَقَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَخَلَّی عَنْہُ قَالَ إِسْمَاعِیلُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ فَقَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَأَلَہُ أَنْ یَعْفُوَ فَأَبَی أَنْ یَعْفُوَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ کَذَا رَوَاہُ ہُشَیْمٌ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَقَالَ فِیہِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ أَشْوَعَ فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِیبٍ فَقَالَ حَبِیبٌ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ أَمَرَہُ بِالْعَفْوِ۔
وَرُوِیَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا الْحَدِیثِ مُرْسَلاً قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَتَلَ أَخِی فَہُوَ فِی النَّارِ فَإِنْ قَتَلْتُہُ فَأَنَا مِثْلُہُ فَقَالَ : قَتَلَ أَخَاکَ فَہُوَ فِی النَّارِ وَأَمَرْتُکَ فَعَصَیْتَنِی فَأَنْتَ فِی النَّارِ إِنْ عَصَیْتَنِی ۔
وَقَدْ قِیلَ إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لأنَّ الْقَاتِلَ قَالَ وَاللَّہِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَہُ وَذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَإِنْ کَانَ صَادِقًا فَقَتَلْتَہُ وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ فَأَنْتَ مِثْلُہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٣) علقمہ بن وائل فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد نے خبر دی کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک شخص کو لایا گیا۔ اس کے گلے میں تسمہ باندھا ہوا تھا جب وہ آپ کے پاس آگئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اور میرا بھائی ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھایا اور میرے بھائی کے سر پر مارا اور اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا : اسے معاف کر دو ، انھوں نے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا : دیت لے لو۔ کہنے لگا : مجھے دیت بھی نہیں چاہیے۔ پھر آپ نے معافی اور دیت کا کہا تو اس نے انکار کردیا تو آپ نے فرمایا : اگر تو نے اسے قتل کردیا تو تو بھی اسی جیسا ہوجائے گا تو وہ کہنے لگا : پھر میں کیا کروں ؟ فرمایا : معاف کردے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے تسمے سے پکڑ کر واپس لے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
(۱۶۰۵۳) وَالَّذِی قَالَہُ حَبِیبٌ أَوِ ابْنُ أَشْوَعَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْفْامِیُّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ ہُوَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فِی عُنُقِہِ نِسْعَۃٌ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَیْہِ قَالَ إِنَّ ہَذَا وَأَخِی کَانَا فِی جُبٍّ یَحْفِرَانِہَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِہِ رَأْسَ أَخِی فَقَتَلَہُ قَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی قَالَ : فَخُذِ الدِّیَۃَ ۔ قَالَ مَا أُرِیدُ الدِّیَۃَ قَالَ فَأَعَادَ الْحَدِیثَ فَقَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی قَالَ خُذِ الدِّیَۃَ فَأَبَی فَأَعَادَ الْحَدِیثَ فَقَالَ : اعْفُ عَنْہُ ۔ فَأَبَی فَقَالَ : خُذِ الدِّیَۃَ ۔ فَأَبَی فَلَمَّا أَبَی إِلاَّ أَنْ یَقْتُلَ قَالَ : أَمَا إِنَّکَ إِنْ قَتَلْتَہُ کُنْتَ مِثْلَہُ ۔ قَالَ : فَأَصْنَعُ مَاذَا؟ قَالَ : تَعْفُو عَنْہُ ۔ قَالَ : فَأَنَا رَأَیْتُہُ یَجُرُّ نِسْعَتَہُ حَتَّی خَفِیَ عَلَیْنَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٤) علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا، ایک قاتل کو لایا گیا جس سے قصاص طلب کیا گیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتول کے ولیوں سے پوچھا : کیا تم معاف کرتے ہو ؟ کہنے لگے : نہیں۔ پوچھا : دیت لینا چاہتے ہو ؟ کہا : نہیں۔ پوچھا : قتل کرنا چاہتے ہو ؟ کہنے لگا : ہاں تو آپ نے فرمایا : تو اسے لے جاؤجب وہ چلے گئے تو اسے دوبارہ بلایا اور پھر معافی اور دیت کا پوچھا تو انھوں نے وہی جواب دیا، تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ نے چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا : اگر تو اسے معاف کر دے تو تیرے اور تیرے صاحب کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اور یحییٰ قطان نے فرمایا : وہ اس کے اور تیرے صاحب کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔
(۱۶۰۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ بْنِ ہَارُونَ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَمْزَۃَ أَبِی عُمَرَ الْعَائِذِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : شَہِدْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ جِیئَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ یُقَادُ فِی نِسْعَۃٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِوَلِیِّ الْمَقْتُولِ : أَتَعْفُو؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَتَأْخُذُ الدِّیَۃَ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَتَقْتُلُہُ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : اذْہَبْ بِہِ ۔فَلَمَّا ذَہَبَ بِہِ فَتَوَلَّی مِنْ عِنْدِہِ قَالَ لَہُ : تَعَالَہْ أَتَعْفُو؟ ۔ مِثْلَ قَوْلِہِ الأَوَّلِ فَقَالَ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ الرَّابِعَۃِ : أَمَا إِنَّکَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّہُ یَبُوء ُ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ ۔ قَالَ فَتَرَکَہُ قَالَ فَأَنَا رَأَیْتُہُ یَجُرُّ نِسْعَتَہُ۔ وَقَالَ فِیہِ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنْ عَوْفٍ : یَبُوء ُ بِإِثْمِہِ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٥) ابو سفر فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ معاویہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا : اس نے میرے دانت توڑ دیے تو معایہ فرمانے لگے : ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو معاویہ (رض) نے اس شخص کو قابو کر کے دبوچا اور فرمایا : اب لے لو بدلا تو ابو الدرداء جو حضرت معاویہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانیتکلیف پہنچتی ہے وہ اسے صدمہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے درجات بلند فرماتے ہیں اور گناہ مٹا دیتے ہیں۔
وہ انصاری حضرت ابو دردائ (رض) سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہاں میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے تو وہ انصاری کہنے لگا : میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔
وہ انصاری حضرت ابو دردائ (رض) سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہاں میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے تو وہ انصاری کہنے لگا : میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔
(۱۶۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْبَیْرُوتِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِی السَّفَرِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَی مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ لِمُعَاوِیَۃَ إِنَّ ہَذَا دَقَّ سِنِّی فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَلاَّ إِنَّا سَنُرْضِیکَ قَالَ وَأَلَحَّ عَلَی مُعَاوِیَۃَ وَأَکَبَّ عَلَیْہِ حَتَّی أَبْرَمَہُ فَقَالَ : شَأْنُکَ بِصَاحِبِکَ۔ قَالَ وَأَبُو الدَّرْدَائِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یُصَابُ بِشَیْئٍ فِی جَسَدِہِ فَیَتَصَدَّقُ بِہِ إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْہُ بِہِ خَطِیئَۃً ۔
فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ لأَبِی الدَّرْدَائِ : أَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَم سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : فَإِنِّی أَدَعُہَا لِلَّہِ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : لاَ جَرَمَ وَاللَّہِ لاَ تَخِیبُ وَأَمَرَ لَہُ بِمَالٍ۔ [حسن]
فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ لأَبِی الدَّرْدَائِ : أَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَم سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : فَإِنِّی أَدَعُہَا لِلَّہِ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : لاَ جَرَمَ وَاللَّہِ لاَ تَخِیبُ وَأَمَرَ لَہُ بِمَالٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٥٦) عبادہ بن صامت نے حضرت معاویہ کے پاس فرمایا تھا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ جس کو نصف دیت کے برابر اگر کوئی جسمانی تکلیف پہنچائی گئی اور اس نے معاف کردیا تو یہ اس کی آدھی غلطیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور جس کو ثلث یا ربع دیت کے برابر تکلیف پہنچی تو اس کے لیے یہ ربع یا ثلث گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ وہ شخص کہنے لگا : کیا واقعی آپ نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔
(۱۶۰۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أُصِیبَ بَجَسَدِہِ بِقَدْرِ نِصْفِ دِیَتِہِ فَعَفَا کُفِّرَ عَنْہُ نِصْفُ سَیِّئَاتِہِ وَإِنْ کَانَ ثُلُثًا أَوْ رُبُعًا فَعَلَی قَدْرِ ذَلِکَ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ آللَّہُ لَسَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ عُبَادَۃُ وَاللَّہِ لَسَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ کِلاَہُمَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ منقطع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے قصاص معاف کردیا جائے تو پھر اس پر کوئی سزا نہیں ہے چاہے وہ خون سے معافی ہو یا زخم سے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صفوان بن معطل نے حسان بن ثابت کو تلوار سے بہت شدید مارا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں۔ حسان نے انھیں معاف کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان سے کوئی
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صفوان بن معطل نے حسان بن ثابت کو تلوار سے بہت شدید مارا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں۔ حسان نے انھیں معاف کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان سے کوئی
(١٦٠٥٧) حضرت عائشہ (رض) حدیث اِفک میں فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل نے حضرت حسان کو تلوار سے مارا ۔ حسان چیخے تو لوگ صفوان کو پکڑنے کے لیے آئے۔ صفوان بھاگ گئے۔ حسن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور صفوان سے بدلہ طلب کیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان کو فرمایا کہ صفوان کا بدلہ مجھے ہبہ کر دو تو انھوں نے ہبہ کردیا اور اس کے عوض آپ نے حسان کو ایک بڑے کھجور کے باغ کی دیوار اور ایک لونڈی دی جو رومی تھی اور کہا جاتا ہے کہ قبطی تھی۔
(۱۶۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَبُو أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی حَدِیثِ الإِفْکِ قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَقَعَدَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ بِالسَّیْفِ فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً وَصَاحَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَاسْتَغَاثَ النَّاسَ عَلَی صَفْوَانَ وَفَرَّ صَفْوَانُ وَجَائَ حَسَّانُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَاسْتَعْدَاہُ عَلَی صَفْوَانَ فِی ضَرْبَتِہِ إِیَّاہُ فَسَأَلَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَہَبَ لَہُ ضَرْبَۃَ صَفْوَانَ إِیَّاہُ فَوَہَبَہَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَعَاضَہُ مِنْہَا حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ عَظِیمٍ وَجَارِیَۃً رُومِیَّۃً وَیُقَالُ قِبْطِیَّۃً۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس سے قصاص معاف کردیا جائے تو پھر اس پر کوئی سزا نہیں ہے چاہے وہ خون سے معافی ہو یا زخم سے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صفوان بن معطل نے حسان بن ثابت کو تلوار سے بہت شدید مارا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں۔ حسان نے انھیں معاف کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان سے کوئی
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صفوان بن معطل نے حسان بن ثابت کو تلوار سے بہت شدید مارا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں۔ حسان نے انھیں معاف کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان سے کوئی
(١٦٠٥٨) ابن شہاب سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو غصے میں دوسرے کو تلوار سے مارتا ہے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ فرمایا : صفوان بن معطل نے حسان بن ثابت کو مارا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا تھا۔
(۱۶۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٌ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَتِیقٍ وَمُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالاَ : سُئِلَ ابْنُ شِہَابٍ عَنْ رَجُلٍ یَضْرِبُ الآخَرَ بِالسَّیْفِ فِی غَضَبٍ مَا یُصْنَعُ بِہِ قَالَ قَدْ ضَرَبَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْمَضْرُوبَ فَلَمْ یَقْطَعْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
(١٦٠٥٩) جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی صبح کے وپت اپنا کوڑا لے کر نکلتے جس سے لوگوں کو بیدار کرتے۔ ابن ملجم نے آپ کو مارا تو آپ نے فرمایا : اسے کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح اسے رکھو۔ اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا خود ولی ہوں چاہے اسے معاف کر دوں چاہے اس سے قصاص لوں۔
(۱۶۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَخْرُجُ إِلَی الصُّبْحِ وَفِی یَدِہِ دِرَّتُہُ یُوقِظُ بِہَا النَّاسَ فَضَرَبَہُ ابْنُ مُلْجَمٍ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَطْعِمُوہُ وَاسْقُوہُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَہُ فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِیُّ دَمِی أَعْفُو إِنْ شِئْتُ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولیاء کی معافی کے بعد دھوکے سے قتل کیا جائے اس کا بیان
(١٦٠٦٠) حماد ابراہیم سینقل فرماتے ہیں کہ جس نے ذی سہم سے درگزر کردیا تو اس کا معاف کرنا معافی ہے۔ عمر اور ابن مسعود (رض) نے اس کی اجازت دی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انھوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے ورنہ آج تک مجھے نہیں پتہ چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا } [الاسراء ٣٣] ” کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔
اور فرمایا : { فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ قصہ مجذد بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انھوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے ورنہ آج تک مجھے نہیں پتہ چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا } [الاسراء ٣٣] ” کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔
اور فرمایا : { فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ قصہ مجذد بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔
(۱۶۰۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : مَنْ عَفَا مِنْ ذِی سَہْمٍ فَعَفْوُہُ عَفْوٌ قَدْ أَجَازَ عُمَرُ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا الْعَفْوَ مِنْ أَحَدِ الأَوْلِیَائِ وَلَمْ یَسْأَلاَ أَقَتْلُ غِیلَۃٍ کَانَ ذَلِکَ أَمْ غَیْرَہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِی الرَّجُلِ یَقْتُلُ الرَّجُلَ مِنْ غَیْرِ نَائِرَۃٍ ہُوَ إِلَی الإِمَامِ لاَ یَنْتَظِرُ بِہِ وَلِیَّ الْمَقْتُولِ قَالَ وَاحْتَجَّ لَہُمْ بَعْضُ مَنْ یَعْرِفُ مَذَاہِبَہُمْ بِأَمْرِ مُجَذِّرِ بْنِ زِیَادٍ وَلَو کَانَ حَدِیثُہُ مِمَّا یَثْبُتُ قُلْنَا بِہِ فَإِنْ ثَبَتَ فَہُوَ کَمَا قَالُوا وَلاَ أَعْرِفُہُ إِلَی یَوْمِی ہَذَا ثَابِتًا وَإِنْ لَمْ یَثْبُتْ فَکُلُّ مَقْتُولٍ قَتَلَہُ غَیْرُ الْمُحَارِبِ فَالْقَتْلُ فِیہِ إِلَی وَلِیِّ الْمَقْتُولِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا} وَقَالَ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ}
قَالَ الشَّیْخُ إِنَّمَا بَلَغَنَا قِصَّۃُ مُجَذِّرِ بْنِ زِیَادٍ مِنْ حَدِیثِ الْوَاقِدِیِّ مُنْقَطِعًا وَہُوَ ضَعِیفٌ۔
[صحیح۔ قول ابراہیم فقط]
قَالَ الشَّیْخُ إِنَّمَا بَلَغَنَا قِصَّۃُ مُجَذِّرِ بْنِ زِیَادٍ مِنْ حَدِیثِ الْوَاقِدِیِّ مُنْقَطِعًا وَہُوَ ضَعِیفٌ۔
[صحیح۔ قول ابراہیم فقط]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولیاء کی معافی کے بعد دھوکے سے قتل کیا جائے اس کا بیان
(١٦٠٦١) واقدی شہداء احد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجذر بن زیاد کو حارث بن سوید نے دھوکے سے قتل کیا۔ ان کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ مجذر نے اس کے والد سوید بن صامت کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو مجذر اور حارث بن سوید مسلمان ہوگئے اور بعد میں شریک ہوئے تو حارث نے اس دن بھی مجذر کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن نہ کرسکا۔ جب احد کا دن ہوا اور مسلمان پسپا ہونے لگے تو حارث پیچھے سے آیا اور مجذر کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے پھر حمراء الاسد کی طرف نکلے۔ جب واپس لوٹے تو جبرائیل نے آکر آپ کو بتلایا کہ مجذر کو حارث نے قتل کیا ہے اور وہ بھی دھوکے سے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب آپ قباء میں آئے تو وہاں حارث کر دیکھا تو آپ نے عویمر بن ساعدہ کو بلایا اور حکم دیا کہ حارث مسجد کے دروازے کی طرف آ رہا ہے۔ اسے مجذر بن زیاد جس کو اس نے احد کے دن دھوکے سے قتل کیا تھا کے بدلے میں قتل کر دے۔ عویمر نے اسے پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا : ایک مرتبہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرلینے دو ۔ عویمر نے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہونے کے لیے جانے لگے تو وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کیا ہے یا رسول اللہ ! اور میں کوئی اسلام سے مرتد یا اس میں شک کرتے ہوئے قتل نہیں کیا۔ شیطانی حمیت کی وجہ سے میں نے اسے قتل کیا۔ اب میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں، اس کی دیت دیتا ہوں، غلام آزاد کرتا ہوں ٢ مہینے کے روزے رکھتا ہوں، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہوں اور میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری کی لگام کو پکڑ لیا۔ بنو مجذر بھی وہاں موجود تھے لیکن وہ خاموش تھے۔ انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ نہیں کہا تھا۔ جب اس کی بات زیادہ لمبی ہونے لگی تو آپ نے عویمر کو حکم دیا : عویمر اسے پکڑو اور قتل کر دو تو عویمر نے اس کی گردن مار دی۔
(۱۶۰۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ فِی ذِکْرِ مَنْ قُتِلَ بِأُحُدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ وَمُجَذِّرُ بْنُ زِیَادٍ قَتَلَہُ الْحَارِثُ بْنُ سُوَیْدٍ غِیلَۃً وَکَانَ مِنْ قِصَّۃِ الْمُجَذَّرِ بْنِ زِیَادٍ أَنَّہُ قَتَلَ سُوَیْدَ بْنَ الصَّامِتِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ أَسْلَمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَیْدِ بْنِ الصَّامِتِ وَمُجَذِّرُ بْنُ زِیَادٍ فَشَہِدَا بَدْرًا فَجَعَلَ الْحَارِثُ یَطْلُبُ مُجَذِّرًا لِیَقْتُلَہُ بِأَبِیہِ فَلَمْ یَقْدِرْ عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ تِلْکَ الْجَوْلَۃَ أَتَاہُ الْحَارِثُ مِنْ خَلْفِہِ فَضَرَبَ عُنُقَہُ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی حَمْرَائِ الأَسَدِ فَلَمَّا رَجَعَ أَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ سُوَیْدٍ قَتَلَ مُجَذِّرَ بْنَ زِیَادٍ غِیلَۃً وَأَمَرَہُ بِقَتْلِہِ فَرَکِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی قُبَائَ فَلَمَّا رَآہُ دَعَا عُوَیْمَ بْنَ سَاعِدَۃَ فَقَالَ قَدِمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَیْدٍ إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ بِالْمُجَذِّرِ بْنِ زِیَادٍ فَإِنَّہُ قَتَلَہُ یَوْمَ أُحُدٍ غِیلَۃً فَأَخَذَہُ عُوَیْمٌ فَقَالَ الْحَارِثُ دَعْنِی أُکَلِّمُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَبَی عَلَیْہِ عُوَیْمٌ فَجَابَذَہُ یُرِیدُ کَلاَمَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَہَضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُرِیدُ أَنْ یَرْکَبَ فَجَعَلَ الْحَارِثُ یَقُولُ قَدْ وَاللَّہِ قَتَلْتُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا کَانَ قَتْلِی إِیَّاہُ رُجُوعًا عَنِ الإِسْلاَمِ وَلاَ ارْتِیَابًا فِیہِ وَلَکِنَّہُ حَمِیَّۃُ الشَّیْطَانِ وَأَمْرٌ وُکِلْتُ فِیہِ إِلَی نَفْسِی فَإِنِّی أَتُوبُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی رَسُولِ اللَّہِ وَأُخْرِجُ دِیَتَہُ وَأَصُومُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ وَأُعْتِقُ رَقَبَۃً وَأُطْعِمُ سِتِّینَ مِسْکِینًا إِنِّی أَتُوبُ إِلَی اللَّہِ وَجَعَلَ یُمْسِکُ بِرِکَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وبَنُو مُجَذِّرٍ حُضُورٌ لاَ یَقُولُ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا حَتَّی إِذَا اسْتَوْعَبَ کَلاَمَہُ قَالَ : قَدِّمْہُ یَا عُوَیْمُ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ ۔ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولیاء کی معافی کے بعد دھوکے سے قتل کیا جائے اس کا بیان
(١٦٠٦٢) مفضل بن غسان غلابی ان منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں جو نفاق کے ساتھ عہد رسالت میں مشہور تھے کہ حارث بن سوید جو بنی عمرو بن عوف سے تھا اور میں شریک ہوا۔ اس نے مجذر کو احد کے دن قتل کیا تو اسے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصاصاً قتل کردیا۔
(۱۶۰۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلاَّبِیُّ وَہُوَ یَذْکُرُ مِنْ عُرِفَ بِالنِّفَاقِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ وَالْحَارِثُ بْنُ سُوَیْدِ بْنِ صَامِتٍ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ شَہِدَ بَدْرًا وَہُوَ الَّذِی قَتَلَ الْمُجَذِّرَ یَوْمَ أُحُدٍ غِیلَۃً فَقَتَلَہُ بِہِ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٣) ابو شریح کعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خزاعہ کے نوجوانو ! تم نے ہذیل کا یہ قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کررہا ہوں۔ جس نے میری اس بات کے بعد اگر کوئی قتل کیا تو وہ اس کے اہل دو معاملوں میں ایک کے اختیار کے اہل ہوں گے چاہے دیت لے لیں چاہے قتل کردیں۔
(۱۶۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا شُرَیْحٍ الْکَعْبِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَلاَ إِنَّکُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ قَتَلْتُمْ ہَذَا الْقَتِیلَ مِنْ ہُذَیْلٍ وَإِنِّی عَاقِلُہُ فَمَنْ قُتِلَ لَہُ بَعْدَ مَقَالَتِی ہَذِہِ قَتِیلٌ فَأَہْلُہُ بَیْنَ خِیرَتَیْنِ بَیْنَ أَنْ یَأْخُذُوا الْعَقْلَ وَبَیْنَ أَنْ یَقْتُلُوا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٤) سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) یہ فرماتے تھے کہ دیت سے بیوی کو کچھ نہ ملے گا۔ یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ میں اشیم ضابی کی عورت کو اس کے خاوند کی دیت سے حصہ دوں تو حضرت عمر نے رجوع کرلیا۔
احمد بن صالح فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
احمد بن صالح فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
(۱۶۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ یَحْیَی بْنِ مَالِکٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ سُفْیَانَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : الدِّیَۃُ لِلْعَاقِلَۃِ لاَ تَرِثُ الْمَرْأَۃُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا حَتَّی قَالَ لَہُ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ کَتَبَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَن أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا۔فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ وَقَالَ فِیہِ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- اسْتَعْمَلَہُ عَلَی الأَعْرَابِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ۔ [صحیح]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : الدِّیَۃُ لِلْعَاقِلَۃِ لاَ تَرِثُ الْمَرْأَۃُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا حَتَّی قَالَ لَہُ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ کَتَبَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَن أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا۔فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ وَقَالَ فِیہِ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- اسْتَعْمَلَہُ عَلَی الأَعْرَابِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٥) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان وراثت ہوگی اور جو بچے وہ عصبہ کے لیے ہے اور فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا : عورت کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم کردی جائے اور ان عصبہ کو بھی دیا جائے جن کا حصہ مقرر نہیں ہے۔ اگر وہ قتل کی گئی ہے تو اس کی دیت ورثاء کے درمیان ہے۔ کیونکہ وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔
(۱۶۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ہُوَ ابْنُ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الْعَقْلَ مِیرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَۃِ الْقَتِیلِ عَلَی قَرَابَتِہِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَۃِ ۔ قَالَ : وَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَۃِ بَیْنَ عَصَبَتِہَا مَنْ کَانُوا لاَ یَرِثُونَ مِنْہَا شَیْئًا إِلاَّ مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِہَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُہَا بَیْنَ وَرَثَتِہَا وَہُمْ یَقْتُلُونَ قَاتِلَہَا۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ وَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ہُوَ ابْنُ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الْعَقْلَ مِیرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَۃِ الْقَتِیلِ عَلَی قَرَابَتِہِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَۃِ ۔ قَالَ : وَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَۃِ بَیْنَ عَصَبَتِہَا مَنْ کَانُوا لاَ یَرِثُونَ مِنْہَا شَیْئًا إِلاَّ مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِہَا وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُہَا بَیْنَ وَرَثَتِہَا وَہُمْ یَقْتُلُونَ قَاتِلَہَا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٦) جابر بن زید فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان وراثت ہوگی اور وہ ان کے درمیان فرضی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے اور آزاد عورت کی وراثت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی اور اگر عورت قتل کرے یا کسی کو زخمی کرے تو اس کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں گے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ ہے۔ عمرو بن ہرم سے روایت ہے کہ جابر بن زید سے سوال کیا گیا : کیا باپ کی عدم موجودگی میں اخیافی بھائی دیت کا وارث ہوگا ؟ فرمایا : ہاں، حضرت عمر، حضرت علی (رض) اور شریح اسے وارث بناتے تھے اور حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ اس کی دیت اس کی میراث کے قائم مقام ہے۔
(۱۶۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : عَقْلُ الرَّجُلِ الْحُرِّ مِیرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَتِہِ مَنْ کَانُوا یُقْسَمُ بَیْنَہُمْ عَلَی فَرَائِضِہِمْ کَمَا یَقْسِمُونَ مِیرَاثَہُ قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَعَقْلُ الْمَرْأَۃِ الْحُرَّۃِ مِیرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَتِہَا مَنْ کَانُوا یُقْسَمُ بَیْنَہُمْ کَمَا یُقْسَمُ مِیرَاثُہَا وَیَعْقِلُ عَنْہَا عَصَبَتُہَا إِذَا قَتَلَتْ قَتِیلاً أَوْ جَرَحَتْ جَرِیحًا قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔وَعَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الأَخِ مِنَ الأُمِّ ہَلْ یَرِثُ مِنَ الدِّیَۃِ إِذَا لَمْ یَکُنْ مِنْ أَبِیہِ قَالَ نَعَمْ قَدْ وَرَّثَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَشُرَیْحٌ وَکَانَ عُمَرُ یَقُولُ إِنَّمَا دِیَتُہُ بِمَنْزِلَۃِ مِیرَاثِہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس نے ظلم کیا جو بھائیوں کو ماں کی دیت سے حصہ دار نہیں بناتا۔
(۱۶۰۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَمَّنْ أَخْبَرَہُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَقَدْ ظَلَمَ مَنْ لَمْ یُوَرِّثِ الإِخْوَۃَ مِنَ الأُمِّ مِنَ الدِّیَۃِ شَیْئًا۔ [ضعیف]
তাহকীক: