আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৬০৭৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون اور دیت کی میراث کا بیان
(١٦٠٦٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : دیت اللہ کے فرض کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو اس سے حصہ ملے گا۔
(۱۶۰۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الدِّیَۃُ تُقْسَمُ عَلَی فَرَائِضِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَیَرِثُ مِنْہَا کُلُّ وَارِثٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑوں کے لیے جائز ہے کہ وہ چھوٹوں کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابو یوسف کسی شخص سے اور وہ ابو جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی (رض) نے ابن ملجم کو حضرت علی کے بدلے قتل کیا۔ ابو یوسف کہتے ہیں کہ حضرت علی کی اولاد چھوٹی تھی۔ ہمارے بعض
(١٦٠٦٩) ابو سنان دؤلی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت علی کے زخمی ہونے کے بعد عیادت کی اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! آپ کی اس تکلیف کا ہمیں خوف ہے (کہ اسی تکلیف میں آپ شہید نہ ہوجائیں) تو حضرت علی فرمانے لگے کہ واللہ ! مجھے تو اپنے نفس کا کوئی خوف نہیں؛کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے کہ عنقریب تجھے یہاں یہاں مارا جائے گا آپ کا اشارہ کنپٹی کی طرف تھا اور داڑھی خون سے تر ہوگئی اور تیرا صاحب سب سے زیادہ بدبخت ہوگا جس طرح قوم ثمود میں اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والا بدبخت ترین انسان تھا۔
(۱۶۰۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِی خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِیَّ حَدَّثَہُ: أَنَّہُ عَادَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی شَکْوًی لَہُ اشْتَکَاہَا قَالَ فَقُلْتُ لَہُ : لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فِی شَکْوَاکَ ہَذَا۔ فَقَالَ: لَکِنِّی وَاللَّہِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَی نَفْسِی مِنْہُ لأَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ یَقُولُ: إِنَّکَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَۃً ہَا ہُنَا وَضَرْبَۃً ہَا ہُنَا۔ وَأَشَارَ إِلَی صُدْغَیْہِ فَیَسِیلُ دَمُہَا حَتَّی یَخْضِبَ لِحْیَتَکَ وَیَکُونُ صَاحِبُہَا أَشْقَاہَا کَمَا کَانَ عَاقِرُ النَّاقَۃِ أَشْقَی ثَمُودَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بعض ولی قصاص معاف کردیں اور بعض نہ کریں
(١٦٠٧٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتول کے وارثوں کے بارے میں فرمایا : کہ اگر ان میں پہلا قصاص سے معاف کر دے تو پہلے کی بات ہی مانو اگرچہ وہ عورت ہی ہو۔
(۱۶۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّاذَیَاخِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی حِصْنٌ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : عَلَی الْمُقْتَتِلِینَ أَنْ یَنْحَجِزُوا الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ وَإِنْ کَانَتِ امْرَأَۃً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بعض ولی قصاص معاف کردیں اور بعض نہ کریں
(١٦٠٧١) ابو عبید حدیثِ رسول میں اہل مقتول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ان کا ادنی بھی رکاوٹ بنے تو چاہے وہ عورت ہو اور اس کے لیے مردوں اور عورتوں کی وراثت ہوگی اور ساتھ یہ بھی فرما رہے تھے کہ جو بھی قریبیمرد ہو یا عورت اگر درگزر کردے تو اس کا معاف کرنا جائز ہے اس لیے کہ اس کے قول ” ینحجزوا کا معنیٰ ہے کہ قصاص سے رک جائیں۔
(۱۶۰۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ فِی حَدِیثِ النَّبِیِّ -ﷺ- لأَہْلِ الْقَتِیلِ أَنْ یَنْحَجِزُوا الأَدْنَی فَالأَدْنَی وَإِنْ کَانَتِ امْرَأَۃً وَذَلِکَ أَنْ یُقْتَلَ الْقَتِیلُ وَلَہُ وَرَثَۃٌ رِجَالٌ وَنِسَائٌ یَقُولُ فَأَیُّہُمْ عَفَا عَنْ دَمِہِ مِنَ الأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ مِنْ رَجُلٍ أَوِامْرَأَۃٍ فَعَفْوُہُ جَائِزٌ لأَنَّ قَوْلَہُ یَنْحَجِزُوا یَعْنِی یَکُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بعض ولی قصاص معاف کردیں اور بعض نہ کریں
(١٦٠٧٢) زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھا تو اس عورت کو قتل کردیا تو یہ فیصلہ حضرت عمر کے پاس آیا، مقتولہ کے کچھ بھائیوں نے اپنا حصہ صدقہ کردیا تو حضرت عمر نے تمام کے لیے دیت کا حکم دے دیا۔
(۱۶۰۷۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَقَتَلَہَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَجَدَ عَلَیْہَا بَعْضُ إِخْوَتِہَا فَتَصَدَّقَ عَلَیْہِ بِنَصِیبِہِ فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِسَائِرِہِمْ بِالدِّیَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بعض ولی قصاص معاف کردیں اور بعض نہ کریں
(١٦٠٧٣) زید بن وہب جہنی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ عورت کے تین بھائیوں نے بدلہ طلب کیا تو حضرت عمر کے پاس فیصلہ آیا۔ ایک بھائی نے معاف کردیا تو آپ نے باقی دو کو بھی فرمایا : دیت لے لو اب قتل کی کوئی راہ نہیں ہے۔
(۱۶۰۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً قَتَلَ امْرَأَتَہُ اسْتَعْدَی ثَلاَثَۃُ إِخْوَۃٍ لَہَا عَلَیْہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَفَا أَحَدُہُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْبَاقِیَیْنِ خُذَا ثُلُثَیِ الدِّیَۃِ فَإِنَّہُ لاَ سَبِیلَ إِلَی قَتْلِہِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بعض ولی قصاص معاف کردیں اور بعض نہ کریں
(١٦٠٧٤) ابراہیم نخعی فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص کا فیصلہ لایا گیا جس نے قتل عمد کیا تھا۔ حضرت عمر کے پاس بعض اولیاء نے اسے معاف کردیا لیکن حضرت عمر نے پھر بھی اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا تو ابن مسعود نے دیکھا تو فرمایا : یہ سب اس کے وارث ہیں تو بعض نے معاف کردیا تو کس طرح اسے قتل کیا جاسکتا ہے تو حضرت عمر نے پوچھا : پھر آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا : دیت لگائی جائے جتنا حصہ معاف کردیا گیا ہے۔ اسے چھوڑ کر باقی دیت لے لی جائے۔ حضرت عمر نے فرمایا : میرا بھی یہی فیصلہ ہے۔

یہ منقطع ہے، اس سے پہلے والا متصل ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے۔
(۱۶۰۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ عَمْدًا فَأَمَرَ بِقَتْلِہِ فَعَفَا بَعْضُ الأَوْلِیَائِ فَأَمَرَ بِقَتْلِہِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : کَانَتِ النَّفْسُ لَہُمْ جَمِیعًا فَلَمَّا عَفَا ہَذَا أَحْیَا النَّفْسَ فَلاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَأْخُذَ حَقَّہُ حَتَّی یَأْخُذَ غَیْرُہُ قَالَ فَمَا تَرَی قَالَ أَرَی أَنْ تَجْعَلَ الدِّیَۃَ عَلَیْہِ فِی مَالِہِ وَتَرْفَعَ حِصَّۃَ الَّذِی عَفَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَأَنَا أَرَی ذَلِکَ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالْمَوْصُولُ قَبْلَہُ یَؤَکِّدُہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام ولی المقتول سے قاتل کی معافی کے لیے کوشش کرنے کے بارے میں
(١٦٠٧٥) وائل بن حجر حضرمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قاتل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ آپ نے ولی المقتول سے پوچھا : کیا تم اسے معاف کرتے ہو ؟ کہنے لگا : نہیں، پھر پوچھا : دیت پر راضی ہوتے ہو ؟ کہا : نہیں پوچھا : اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں۔ فرمایا : تو ٹھیک ہے اسے لے جاؤ۔ وہ اسے لے گیا، پھر آپ نے بلایا اور فرمایا : اگر تو اسے معاف کر دے تو تیرے اور مقتول کے گناہ اس پر ہوں گے تو اس نے اسے معاف کردیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو کھینچتے ہوئے جا رہا تھا۔
(۱۶۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ بْنِ ہَارُونَ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَمْزَۃَ أَبِی عُمَرَ الْعَائِذِیِّ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِیُّ أَظُنُّہُ عَنْ حَمْزَۃَ الْعَائِذِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جِیئَ بِالْقَاتِلِ الَّذِی قَتَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ بِہِ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَتَعْفُو؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَتَأْخُذُ الدِّیَۃَ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَتَقْتُلُ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَاذْہَبْ بِہِ فَلَمَّا ذَہَبَ دَعَاہُ فَقَالَ : أَمَا إِنَّکَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْہُ فَإِنَّہُ یَبُوء ُ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِ صَاحِبِکَ ۔ فَعَفَا عَنْہُ فَأَرْسَلَہُ قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَہُوَ یَجُرُّ نِسْعَتَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام ولی المقتول سے قاتل کی معافی کے لیے کوشش کرنے کے بارے میں
(١٦٠٧٦) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اسے ولی المقتول کے حوالے کیا جائے وہ چاہے تو اس سے دیت لے لے چاہے تو قتل کر دے۔
(۱۶۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَنْ قَتَلَ عَمْدًا دُفِعَ إِلَی وَلِیِّ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَائَ قَتَلَہُ وَإِنْ شَائَ أَخَذَ الدِّیَۃَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام ایسی تلوار سے قتل کروائے جو تیز دھار ہو نہ اسے عذاب میں مبتلا کرے اور نہ اس کا مثلہ کرے
(١٦٠٧٧) شداد بن اوس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو خصلتوں کے بارے میں سنا، آپ نے فرمایا : اللہ نے ہر چیز پر احسان فرض کردیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو قتل میں احسان کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح میں احسان کرو، اپنی چھری کو تیز کرلو اور ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔
(۱۶۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ خَصْلَتَانِ سَمِعْتُہُمَا مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ وَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۹۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام ایسی تلوار سے قتل کروائے جو تیز دھار ہو نہ اسے عذاب میں مبتلا کرے اور نہ اس کا مثلہ کرے
(١٦٠٧٨) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاتل سے درگزر کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
(۱۶۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ : مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَہَّابِ یَقُولُ سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ حَمَّادٍ عَنْ حَدِیثِ ہُنَیِّ بْنِ نُوَیْرَۃَ فَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہُنَیِّ بْنِ نُوَیْرَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَۃً أَہْلُ الإِیمَانِ ۔

وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ شِبَاکٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی امام کے حکم کے بغیر قصاص نہ لے
(١٦٠٧٩) ابن شہاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے بھائی کے قاتل کو پکڑ لے اور امام کے پاس لانے سے پہلے اس سے قصاص لے لے کہسنت یہی ہے کہ نفوس کے قتل میں امام کے حکم کے بغیر غضب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔

حضرت عمر سے بھی ہمیں ایک روایت نقل کی گئی کہ انھوں نے اپنے عاملوں کی طرف یہ لکھا تھا کہ کسی کو میرے حکم کے بغیر قتل نہ کیا جائے۔
(۱۶۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ قَدَرَ عَلَی قَاتِلِ أَخِیہِ أَعَلَیْہِ حَرَجٌ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللَّہِ إِنْ خَافَ أَنْ یَفُوتَہُ قَبْلَ أَنْ یَبْلُغَ بِہِ الإِمَامَ إِنْ ہُوَ قَتَلَہُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : مَضَتِ السُّنَّۃُ أَنْ لاَ یُغْتَصَبَ فِی قَتْلِ النُّفُوسِ دُونَ الإِمَامِ۔ [صحیح۔ الی ابن شہاب]

وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الَّتِی وُطِئَتْ مُسْتَکْرَہَۃً حَیْثُ کَتَبَ إِلَی الآفَاقِ : أَنْ لاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا إِلاَّ بِإِذْنِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی امام کے حکم کے بغیر قصاص نہ لے
(١٦٠٨٠) عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ ١٩٤] اور اس فرمان { وَلَمَنْ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَاُوْلٰٓئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ } [الشوری ٤١] اور اللہ کا یہ فرمان : { وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ } [النحل ١٢٦] اور یہ فرمان : { وَجَزَآئُ سَیَِّٔۃٍ سَیَِّٔۃٌ مِّثْلُہَا } [الشوریٰ ٤٠] یہ آیت اور ان جیسی دوسری آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئیں اور مکہ میں مسلمان تھوڑے تھے، ان کا کوئی امام نہیں تھا جو انھیں مشرکین کی تکالیف سے نجات دلاتا تو مسلمانوں کو بھی حکم تھا کہ مسرکین جیسی تکلیف تمہیں دیں ویسا بدلہ تم خود اسے دو یا صبر کرتے ہوئے درگزر کر دو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ہجرت کی تو آپ کو اللہ نے بادشاہت کے ساتھ عزت بخشی تو مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ آپس کے معاملات اپنے بادشاہ کے سامنے لاؤ اور جاہلوں کی طرح ایک دوسرے کے دشمن نہ بنو، فرمایا : { وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا } [الاسراء ٣٣] سلطان اس کی مدد کرے، ظالم سے انصاف دلائے اور جو بادشاہ کے بغیر اپنا فیصلہ خود کرلے وہ نافرمان ہے، اسراف کرنے والا ہے اور جاہلیت کا کام کرنے والا ہے جو اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔
(۱۶۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ} وَقَوْلِہِ {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہِ فَأُولَئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِنْ سَبِیلٍ} وَقَوْلِہِ {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ} وَقَوْلِہِ {وَجَزَاء ُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا}

فَہَذَا وَنَحْوُہُ نَزَلَ بِمَکَّۃَ وَالْمُسْلِمُونَ یَوْمَئِذٍ قَلِیلٌ لَیْسَ لَہُمْ سُلْطَانٌ یَقْہَرُ الْمُشْرِکِینَ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ یَتَعَاطَوْنَہُمْ بِالشَّتْمِ وَالأَذَی فَأَمَرَ اللَّہُ الْمُسْلِمِینَ مَنْ یُجَازَی مِنْہُمْ أَنْ یُجَازُوا بِمِثْلِ الَّذِی أُتِیَ إِلَیْہِ أَوْ یَصْبِرُوا وَیَعْفُوا فَہُوَ أَمْثَلُ فَلَمَّا ہَاجَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ وَأَعَزَّ اللَّہُ سُلْطَانَہُ أَمَرَ الْمُسْلِمِینَ أَنْ یَنْتَہُوا فِی مَظَالِمِہِمْ إِلَی سُلْطَانِہِمْ وَلاَ یَعْدُو بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ کَأَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلاَ یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُورًا} یَقُولُ یَنْصُرُہُ السُّلْطَانُ حَتَّی یُنْصِفَہُ مِنْ ظَالِمِہِ وَمَنِ انْتَصَرَ لِنَفْسِہِ دُونَ السُّلْطَانِ فَہُوَ عَاصٍ مُسْرِفٌ قَدْ عَمِلَ بَحَمِیَّۃِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَلَمْ یَرْضَ بِحُکْمِ اللَّہِ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بچہ جان بوجھ کر قتل کر دے
(١٦٠٨١) حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہ فیصلہ کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطأ برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے زنا کروائے تو اسے حداً کوڑے مارو۔

یہ منقطع ہے اور اس کی سند میں جابر جعفی ہے۔ اور یہ متروک ہے۔
(۱۶۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ طَہْمَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ یَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعَمْدُ الصَّبِیِّ وَخَطَأُہُ سَوَائٌ فِیہِ الْکَفَّارَۃُ وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَہَا فَاجْلِدُوہَا الْحَدَّ۔

ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَرَاوِیہِ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بچہ جان بوجھ کر قتل کر دے
(١٦٠٨٢) حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا : بچے کا عمداً اور مجنوں کا عمداً بھی خطا ہے۔
(۱۶۰۸۲) وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِإِسْنَادٍ فِیہِ ضَعْفٌ أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَابُورَ الدَّقِیقِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْحَلَبِیُّ : عُبَیْدُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَمْدُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِیِّ خَطَأٌ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو اپنے والد کا قاتل سمجھ کر قتل کر دے
(١٦٠٨٣) عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو زخمی کیا گیا تو عبداللہ بن عمر نے ہرمزان کو قتل کردیا۔ حضرت عمر کو جب یہ بات بتائی گئی تو پوچھا : تم نے اس کو کیوں قتل کیا ؟ فرمایا : اس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ پوچھا : وہ کیسے ؟ کہنے لگے : میں نے اسے ابو لؤلؤ سے مشورہ کرتے دیکھا تھا، اسی نے میرے والد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : مجھے نہیں پتہ کہ کیا معاملہ ہے۔ دیکھو اگر میں شہید ہو جاؤں تو عبیداللہ سے اس بارے میں پوچھنا، اگر وہ کوئی گوہ پیش کریں تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے ہرمزان کا قصاص لے کردینا۔ جب حضرت عثمان والی بنے تو انھیں کہا گیا کہ عبیداللہ کے بارے میں حضرت عمر کی وصیت آپ قائم نہیں کریں گے ؟ پوچھا : ہرمزان کا ولی کون ہے ؟ کہنے لگے : آپ ہیں اے امیر المؤمنین ! تو فرمایا میں نے عبیداللہ بن عمرکو معاف کردیا۔
(۱۶۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَثَبَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَلَی الْہُرْمُزَانِ فَقَتَلَہُ فَقِیلَ لِعُمَرَ إِنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَتَلَ الْہُرْمُزَانَ۔قَالَ : وَلِمَ قَتَلَہُ؟ قَالَ : إِنَّہُ قَتَلَ أَبِی؟ قِیلَ : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ : رَأَیْتُہُ قَبْلَ ذَلِکَ مُسْتَخْلِیًا بِأَبِی لُؤْلُؤَۃَ وَہُوَ أَمَرَہُ بِقَتْلِ أَبِی۔ قَالَ عُمَرُ : مَا أَدْرِی مَا ہَذَا انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ فَاسْأَلُوا عُبَیْدَ اللَّہِ الْبَیِّنَۃَ عَلَی الْہُرْمُزَانِ ہُوَ قَتَلَنِی فَإِنْ أَقَامَ الْبَیِّنَۃَ فَدَمُہُ بِدَمِی وَإِنْ لَمْ یُقِمِ الْبَیِّنَۃَ فَأَقِیدُوا عُبَیْدَ اللَّہِ مِنَ الْہُرْمُزَانِ۔ فَلَمَّا وَلِیَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِیلَ لَہُ أَلاَ تُمْضِی وَصِیَّۃَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ : وَمَنْ وَلِیُّ الْہُرْمُزَانِ؟ قَالُوا : أَنْتَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ : فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے بغیر میں قصاص لینا
(١٦٠٨٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے کیا فلاں فلاں نے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا تو اس یہودی کو بلایا گیا، اس یہودی نے اعتراف کرلیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔
(۱۶۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً رُضِخَ رَأْسُہَا بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَقِیلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ ہَذَا بِکِ أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّی سُمِّیَ الْیَہُودِیُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَبُعِثَ إِلَی الْیَہُودِیِّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرُضِخَ رَأْسُہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے بغیر میں قصاص لینا
(١٦٠٨٥) حضرت انس فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کی ایک جماعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگے : ہم نے مدینہ کو اپنا مسکن بنایا ہمارے پیٹ بڑھ گئے، اعضاء کمزورہو گئے۔ آپ نے انھیں حکم دیا کہ اونٹوں کے چرواہے کے ساتھ رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب ملا کر پیو۔ وہ چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، وہ صحیح ہوگئے تو انھوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ جب یہ بات آپ کو پتہ چلی تو آپ نے انھیں گرفتار کروایا۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں۔

حضرت قتادہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کو دھوپ میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
(۱۶۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالُوا إِنَّا قَدِ اجْتَوَیْنَا الْمَدِینَۃَ فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا وَتَہَشَّمَتْ أَعْضَاؤُنَا۔ فَأَمَرَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَلْحَقُوا بِرَاعِی الإِبِلِ فَیَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا قَالَ فَلَحِقُوا بِرَاعِی الإِبِلِ فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا حَتَّی صَلَحَتْ بُطُونُہُمْ وَأَلْوَانُہُمْ فَقَتَلُوا الرَّاعِیَ وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَبَعَثَ فِی طَلَبِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَرَ أَعْیُنَہُمْ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامٍ زَادَ فِیہِ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ : وَتَرَکَہُمْ فِی الْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے بغیر میں قصاص لینا
(١٦٠٨٦) حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں اس لیے پھروائیں کہ انھوں نے چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں تھیں۔
(۱۶۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ أَبِی الثَّلْجِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَنَسٍ : إِنَّمَا سَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَعْیُنَہُمْ لأَنَّہُمْ سَمَرُوا أَعْیُنَ الرِّعَائِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ غَیْلاَنَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار کے بغیر میں قصاص لینا
(١٦٠٨٧) عمر بن حسین کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ایک شخص کو دوسرے سے قصاص دلایا کہ اس نے لاٹھی سے قتل کیا تھا تو اسے بھی لاٹھی سے مارا گیا اور شعبی کی ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ مثلہ کر کے قتل کرے تو اس کا بھی مثلہ کر کے قتل کیا جائے۔
(۱۶۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَیْنٍ : أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلاً مِنْ رَجُلٍ قَتَلَہُ بِعَصًا فَقَتَلَہُ بِعَصًا۔ ورُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا مَثَّلَ بِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ مُثِّلَ بِہِ ثُمَّ قُتِلَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: