আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৬০৩৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مالک اپنے غلام سے قتل کروائے
(١٦٠٢٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے غلام کو حکم دے کر کسی کو قتل کروائے تو وہ غلام اس کی تلوار یا کوڑے کی مانند ہے۔ مالک کو قصاصاً قتل کیا جائے گا اور غلام کو قید میں ڈال دیا جائے گا۔
(۱۶۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا أَمَرَ الرَّجُلُ عَبْدَہُ أَنْ یَقْتُلَ رَجُلاً فَإِنَّمَا ہُوَ کَسَیْفِہِ أَوْ کَسَوْطِہِ یُقْتَلُ الْمَوْلَی وَیُحْبَسُ الْعَبْدُ فِی السِّجْنِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو اپنے پاس قید میں رکھے تاکہ دوسرا شخص اسے قتل کر دے
(١٦٠٢٩) عبداللہ بن عمر (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی آدمی دوسرے آدمی کو روکے تاکہ تیسرا شخص اسے قتل کر دے تو قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا اور قید میں رکھنے والے کو قید کردیا جائے گا۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔
(۱۶۰۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الدَّامَغَانِیُّ بِبَیْہَقَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ وَإِبْرَاہِیمُ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ جَعْفَرٍ الصَّیْرَفِیَّانِ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أَمْسَکَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَقَتَلَہُ الآخَرُ یُقْتَلُ الَّذِی قَتَلَ وَیُحْبَسُ الَّذِی أَمْسَکَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا غَیْرُ مَحْفُوظٍ وَقَدْ قِیلَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[منکر]
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا غَیْرُ مَحْفُوظٍ وَقَدْ قِیلَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو اپنے پاس قید میں رکھے تاکہ دوسرا شخص اسے قتل کر دے
(١٦٠٣٠) اسماعیل فن امیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جس کو ایک شخص نے اس لیے روکا تھا کہ دوسرا شخص اسے قتل کر دے اور وہ قتل کردیا گیا کہ قاتل کو قتل کردیا جائے اور روکنے والے کو قید کردیا جائے۔
حضرت علی (رض) سے بھی ایسا ہی ایک فیصلہ منقول ہے۔
حضرت علی (رض) سے بھی ایسا ہی ایک فیصلہ منقول ہے۔
(۱۶۰۳۰) وَالصَّوَابُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی رَجُلٍ أَمْسَکَ رَجُلاً وَقَتَلَ الآخَرُ قَالَ یُقْتَلُ الْقَاتِلُ وَیُحْبَسُ الْمُمْسِکُ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَضَی بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَضَی بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو اپنے پاس قید میں رکھے تاکہ دوسرا شخص اسے قتل کر دے
(١٦٠٣١) اسماعیل بن امیہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ قاتل کو قتل کر دو اور قید میں رکھنے والے کو قید کر دو ۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، وہ معمر سے اور وہ اسماعیل بن امیہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ روکنے والے کو قید کر دو ۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، وہ معمر سے اور وہ اسماعیل بن امیہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ روکنے والے کو قید کر دو ۔
(۱۶۰۲۱) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ یَرْفَعُہُ قَالَ : اقْتُلُوا الْقَاتِلَ وَاصْبِرُوا الصَّابِرَ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یُحَدِّثُہُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ یَرْفَعُہُ۔
(غ) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ : اصْبِرُوا الصَّابِرَ ۔ یَعْنِی احْبِسُوا الَّذِی حَبَسَہُ۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یُحَدِّثُہُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ یَرْفَعُہُ۔
(غ) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ : اصْبِرُوا الصَّابِرَ ۔ یَعْنِی احْبِسُوا الَّذِی حَبَسَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٢) مقاتل بن حبان فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان بہت سارے مفسرین سے سنی جنہوں نے حضرت معاذ سے حفظ کی۔ ان میں مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم ہیں۔ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :{ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨] اہلِ توراۃ پر قصاص ہی تھا، معافی یا دیت نہیں اور اصل انجیل پر قصاص اور معافی فرض کی گئی۔ امت محمدیہ پر یہ رخصت دی گئی کہ وہ چاہیں تو قتل کردیں، چاہیں دیت لے لیں، چاہیں تو معاف کردیں اور یہ اللہ کے اس فرمان میں ہے : { ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ} [البقرۃ ١٧٨]” یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تخفیف اور رحمت ہے۔ “ دیت کو اللہ نے تخفیف بنادیا اور دیت کے بعد اسے قتل نہیں کیا جاسکتا اور پھر فرمایا : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } [البقرۃ ١٧٨] ” جس نے دیت لینے کے بعد بھی قتل کردیا تو اس کے لیے عذاب الیم ہے “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ} [البقرۃ ١٧٩]” تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ یعنی کوئی شخص کسی کو قتل نہیں کرے گا کہ جب اسے پتہ ہوگا کہ بدلے میں مجھے بھی قتل کردیا جائے گا۔
(۱۶۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَی عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ مُقَاتِلٌ أَخَذْتُ ہَذَا التَّفْسِیرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْہُمْ مُجَاہِدًا وَالْحَسَنَ وَالضَّحَّاکَ بْنَ مُزَاحِمٍ فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} الآیَۃُ قَالَ کَانَ کُتِبَ عَلَی أَہْلِ التَّوْرَاۃِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ حُقَّ أَنْ یُقَادَ بِہَا وَلاَ یُعْفَی عَنْہُ وَلاَ تُقْبَلَ مِنْہُ الدِّیَۃُ وَفُرِضَ عَلَی أَہْلِ الإِنْجِیلِ أَنْ یُعْفَی عَنْہُ وَلاَ یُقْتَلَ وَرُخِّصَ لأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِنْ شَائَ قَتَلَ وَإِنْ شَائَ أَخَذَ الدِّیَۃَ وَإِنْ شَائَ عَفَا فَذَلِکَ قَوْلُہُ {ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} یَقُولُ الدِّیَۃُ تَخْفِیفٌ مِنَ اللَّہِ إِذْ جَعَلَ الدِّیَۃَ وَلاَ یُقْتَلُ ثُمَّ قَالَ {فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ وَقَالَ فِی قَوْلِہِ {وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ} یَقُولُ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَنْتَہِی بِہَا بَعْضُکُمْ عَنْ بَعْضٍ أَنْ یُصِیبَ مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَلَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٣) مقاتل بن حیان اللہ کے اس فرمان : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت لے لی جائے { فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ١٧٨] کہ وہ اچھے طریقے سے دیت طلب کرے { وَ اَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ١٧٨] دیت اچھے طریقے اور احسان سے ادا کر دے فرمایا کہ اہل التورۃ پر قصاص ہی فرض تھا۔ پھر مکمل سابقہ حدیث بیان فرمائی۔
امام شافعی (رح) { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے تو اس کے لیے یہ عذاب ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے اور قاتل مقتول کے ولیوں سے بات کر کے انھیں دیت پر راضی کرلے، جب وہ دیت دینے آئے تو ولی المقتول اسے قتل کر دے اور کہے کہ میں نے دیت اس لیے قبول کی تھی کہ یہ میرے پاس آجائے تاکہ میں اسے قتل کر دوں تو یہ ہے : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } یعنی دیت کے قبول کرنے کے بعد۔
امام شافعی (رح) { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے تو اس کے لیے یہ عذاب ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے اور قاتل مقتول کے ولیوں سے بات کر کے انھیں دیت پر راضی کرلے، جب وہ دیت دینے آئے تو ولی المقتول اسے قتل کر دے اور کہے کہ میں نے دیت اس لیے قبول کی تھی کہ یہ میرے پاس آجائے تاکہ میں اسے قتل کر دوں تو یہ ہے : { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } یعنی دیت کے قبول کرنے کے بعد۔
(۱۶۰۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ} یَقُولُ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ بَعَمْدٍ فَعَفَا عَنْہُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ وَلَمْ یَقْتَصَّ مِنْہُ وَقَبِلَ الدِّیَۃَ {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} یَقُولُ لِیُحْسِنِ الطَّلَبَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْمَطْلُوبِ فَقَالَ {وَأَدَائٌ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ} یَقُولُ لِیُؤَدِّی الْمَطْلُوبُ إِلَی الطَّالِبِ الدِّیَۃَ بِإِحْسَانٍ قَالَ وَکَانَ کَتَبَ عَلَی أَہْلِ التَّوْارَۃِ فَذَکَرَہُ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ وَقَالَ فِی قَوْلِہِ {فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مَنْ قَبِلَ الدِّیَۃَ ثُمَّ قَتَلَ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} یَقُولُ مُوجِعٌ وَذَلِکَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا قُتِلَ حَمِیمٌ لَہُ تَوَارَی الْقَاتِلُ فَیَقُولُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ إِنِّی أَقْبَلُ الدِّیَۃَ فَیَقْبَلُہَا حَتَّی یَرْجِعَ الْقَاتِلُ فَیَقْتُلُہُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ وَقَدْ قَبِلَ الدِّیَۃَ قَبْلَ ذَلِکَ وَکَانَ یَقُولُ إِنَّمَا قَبِلْتُ الدِّیَۃَ لِیَرْجِعَ الْقَاتِلُ فَأَقْتُلُہُ إِذَا ظَہَرَ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنِ اعْتَدَی} فَقَتَلَ بَعْدَ أَخَذِہِ {فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ}
[حسن]
[حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٤) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا، ان میں دیت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے فرمایا : { کُتِب عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ} [البقرۃ ١٧٨] عفو کا معنیٰ یہ ہے کہ دیت لے لیں قتل نہ کریں، { فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ} [البقرۃ ١٧٨] یعنی اس سے جو تم سے پہلوں پر فرض کی گئی { فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْم } [البقرۃ ١٧٨]
(۱۶۰۲۴) أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : کَانَ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَکُنْ فِیہِمُ الدِّیَۃُ فَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِہَذِہِ الأُمَّۃِ {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَی بِالأُنْثَی فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ} قَالَ الْعَفْوُ أَنْ یَقْبَلَ الدِّیَۃَ فِی الْعَمْدِ {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَائٌ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ} مِمَّا کُتِبَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ {فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیمٌ} ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۴۹۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٥) ایضاً
(۱۶۰۲۵) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ حَدَّثَنِی مُجَاہِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٦) ابن عباس (رض) { کُتِب عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی۔۔۔} الی آخر الآیۃ [البقرۃ ١٧٨] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر قصاص ہی فرض تھا اور تمہارے لیے دیت کی رخصت دی گئی ہے۔ { فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ } (البقرۃ : ١٧٨) یعنی جب قتل عمد میں ولی المقتول دیت پر راضی ہوجائے تو دیت احسان سے ادا کر دو ۔ { ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} [البقرۃ ١٧٨] یعنی بنی اسرائیل کے مقابلے میں۔
(۱۶۰۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ) إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَ کُتِبَ عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ الْقِصَاصُ وَأُرْخِصَ لَکُمْ فِی الدِّیَۃِ {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَائٌ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ} قَالَ ہُوَ الْعَمْدُ یَرْضَی أَہْلُہُ بِالدِّیَۃِ فَیَتَّبِعُ الطَّالِبُ بِمَعْرُوفٍ وَیُؤَدِّی یَعْنِی الْمَطْلُوبَ إِلَیْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ { تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ} قَالَ مِمَّا کَانَ عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٧) ابو شریح کعبی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرمت والا بنایا ہے لوگوں نے نہیں تو جس کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے وہ نہ یہاں خون بہائے نہ یہاں کے درخت کاٹے۔ اگر کسی کے لیے اس میں رخصت ہے تو وہ اللہ کے رسول ہیں۔ میرے لیے اللہ نے اسے حلال کیا ہے لوگوں کے لیے نہیں۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا۔ پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جیسے کل تھا۔ اے بنو خزاعہ ! تم نے بنو ہذیل کے اس شخص کو قتل کردیا اور میں اللہ کی قسم اس کی دیت دینے والا تھا۔ آج کے بعد کوئی بھی قتل کر دے تو اولیاء مقتول کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو قصاص لے لیں چاہیں تو دیت لے لیں۔
(۱۶۰۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْکَعْبِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلاَ یَحِلُّ لِمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ بِہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ فَقَالَ أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنَّ اللَّہَ أَحَلَّہَا لِی وَلَمْ یُحِلَّہَا لِلنَّاسِ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ کَحُرْمَتِہَا بِالأَمْسِ ثُمَّ أَنْتُمْ یَا خُزَاعَۃُ قَدْ قَتَلْتُمْ ہَذَا الْقَتِیلَ مِنْ ہُذَیْلٍ وَأَنَا وَاللَّہِ عَاقِلُہُ مِنْ قَتَلَ بَعْدَہُ قَتِیلاً فَأَہْلُہُ بَیْنَ خِیَرَتَیْنِ إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٨) ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جس کا کوئی قتل کردیا جائے یا زخمی کردیا جائے تو وہ تین چیزوں میں جو چاہے پسند کرلے چوتھی کوئی چیز کرے تو اس کے ہاتھ روک لو۔ وہ تین اشیاء یہ ہیں : 1 قصاص لے لے 2 دیت وصول کرلے 3 معاف کر دے۔ اگر ان میں سے کوئی چیز قبول کرنے کے بعد زیادتی کرے تو وہ جہنمی ہے۔
(۱۶۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَیْلِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أَبِی الْعَوْجَائِ السُّلَمِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أُصِیبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ إِحْدَی ثَلاَثٍ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَۃَ فَخُذُوا عَلَی یَدَیْہِ بَیْنَ أَنْ یَقْتَصَّ أَوْ یَعْفُوَ أَوْ یَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ قَبِلَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِکَ فَإِنَّ لَہُ النَّارَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٣٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کے ایک شخص کو فتح مکہ کے دن قصاصاً قتل کردیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا پتہ چلا تو آپ سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا : ” اللہ نے مکہ کو ہاتھیوں سے بچایا اور اپنے پیغمبر اور مؤمنوں کو اس کا وارث بنادیا سن لو مکہ نہ پہلے کسی لیے حلال تھا اور نہ کبھی ہوگا، ہاں میرے لیے دن کا کچھ حصہ اسے حلال کیا گیا ہے اور اب اس گھڑی پھر اس کی حرمت قائم و دائم ہے نہ کوئی اس کا کانٹا توڑے، نہ درخت اکھاڑے اور یہاں کی گری ہوئی (گمشدہ) چیز کوئی نہ اٹھائے علاوہ اس کے جو اعلان کرے اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو وہ دو بہترین چیزوں میں اختیار کے ساتھ ہے چاہے دیت لے لے یا قصاص۔ ایک شخص اہل یمن سے ابو شاہ نامی آیا اور کہنے لگا : یہ چیزیں مجھے لکھ دو ، آپ نے فرمایا : ابو شاہ کو لکھ دو ۔ قریش کا ایک آدمی کہنے لگا : یا رسول اللہ ! اذخر گھاس کی اجازت تو دے دیں؛کیونکہ اسے ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا : چلو اذخر گھاس اکھاڑ سکتے ہو۔ “
اور صحیح بخاری میں ابو نعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ چاہے وہ ادائیگی کردے یا قصاص دے دے۔
اور صحیح بخاری میں ابو نعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ چاہے وہ ادائیگی کردے یا قصاص دے دے۔
(۱۶۰۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّہَ -ﷺ- فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَخَطَبَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی وَلَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِی أَلاَ وَإِنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ أَلاَ وَإِنَّہَا سَاعَتِی ہَذِہِ حَرَامٌ لاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِمَّا أَنْ یُعْطَی الدِّیَۃَ وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ أَہْلُ الْقَتِیلِ ۔ قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ یُقَالُ لَہُ أَبُو شَاہٍ فَقَالَ : اکْتُبْ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ اکْتُبُوا لأَبِی شَاہٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّا نَجْعَلُہُ فِی بُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ شَیْبَانَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِمَّا أَنْ یُودَی وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : إِمَّا أَنْ یُقَادَ أَہْلُ الْقَتِیلِ ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ شَیْبَانَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِمَّا أَنْ یُودَی وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ : إِمَّا أَنْ یُقَادَ أَہْلُ الْقَتِیلِ ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٤٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن بنو خزاعہ کے ایک شخص نے بنو لیث کے ایک آدمی کو قصاصاً قتل کردیا، جو انھوں نے جاہلیت میں کیا تھا۔ پھر سابقہ مکمل حدیث بیان فرمائی۔
(۱۶۰۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ قَتَلَتْ خُزَاعَۃُ رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ بِقَتِیلٍ لَہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَمَن قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِمَّا أَنْ یُودَی وَإِمَّا أَنْ یُقَادَ ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٤١) ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہذیل نے بنو لیث کے ایک شخص کو جاہلیت کے زمانہ کے قصاص کے فتح مکہ کے وقتقتل کردیا۔ پھر مکمل سابقہ حدیث بیان فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو اسے اختیار ہے چاہے قصاص لے لے یا دیت لے لے۔
(۱۶۰۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَکَّۃُ قَتَلَتْ ہُذَیْلٌ رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ بِقَتِیلٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِمَّا أَنْ یُقَادَ وَإِمَّا أَنْ یُفَادَی ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
[صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٤٢) ایضاً ۔
(۱۶۰۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : إِمَّا أَنْ یُفْدَی وَإِمَّا أَنْ یُقْتَلَ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص میں اختیار کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دے تو معروف طریقے سے اتباع کرے اور احسان کرتے ہوئے ادائیگی کر دے۔ “ [البقرۃ ١٧٨]
(١٦٠٤٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قتل عمد کرے تو قاتل اولیاء مقتول کے حوالے کیا جائے۔ چاہے وہ قصاص لیں یا دیت اور وائل بن حجر کی حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قاتل کو لایا گیا تو آپ نے ولی المقتول سے پوچھا : اسے معاف کرتے ہو ؟ کہا : نہیں۔ پوچھا دیت لو گے ؟ کہا : نہیں۔ پوچھا : قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے اسے لے جاؤ۔
(۱۶۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَی أَوْلِیَائِ الْقَتِیلِ فَإِنْ شَاء ُوا قَتَلُوہُ وَإِنْ شَاء ُوا أَخَذُوا الدِّیَۃَ ۔ وَفِی حَدِیثِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ جِیئَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ یُقَادُ فِی نِسْعَۃٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِوَلِیِّ الْمَقْتُولِ : أَتَعْفُو؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَتَأْخُذُ الدِّیَۃَ؟ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَتَقْتُلُہُ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : اذْہَبْ بِہِ ۔
وَذَلِکَ فِی بَابِ الْعَفْوِ مَذْکُورٌ بِإِسْنَادِہِ۔ [حسن]
وَذَلِکَ فِی بَابِ الْعَفْوِ مَذْکُورٌ بِإِسْنَادِہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد میں قصاص ہی ہے اور دیت تب ہے جب ولی المقتول عفو سے کام لے
(١٦٠٤٤) عبداللہ بن عباس مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ جو پتھر یا کوڑے یا عصا کے لگنے سے قتل کرے تو اس میں قصاص ہے اور جو اس کے درمیان حائل ہوا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔
(۱۶۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِی عِمِّیَّۃٍ أَوْ رِمِّیَّۃٍ بَحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَقْلُہُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَہُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو دیت لے کر پھر قتل کرے اس کا بیان مجاہد فرماتے ہیں کہ جو دیت لینے کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے عذاب الیم ہے اور عطا فرماتے ہیں کہ دیت قبول کرنے کے بعد قتل کرنا۔
(١٦٠٤٥) حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : جو دیت لے کر پھر قتل کرے، اسے میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔
(۱۶۰۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ أُعَافِی رَجُلاً قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً۔ [ضعیف۔ منقطع، مرسل]
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً۔ [ضعیف۔ منقطع، مرسل]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو دیت لے کر پھر قتل کرے اس کا بیان مجاہد فرماتے ہیں کہ جو دیت لینے کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے عذاب الیم ہے اور عطا فرماتے ہیں کہ دیت قبول کرنے کے بعد قتل کرنا۔
(١٦٠٤٦) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اسے معاف نہیں کروں گا جو دیت لے کر پھر قتل کر دے۔
(۱۶۰۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ قَالَ وَأَحْسَبُہُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ أُعْفِی مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص سے درگزر کی ترغیب دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] جو صدقہ کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے۔
(١٦٠٤٧) عبداللہ فرماتے ہیں : { تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ } [المائدۃ ٤٥] یہ اس کے لیے ہے جو زخمی کیا گیا۔
(۱۶۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَیْسٍ عَنْ طَارِقٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ قَالَ فِی قَوْلِہِ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ} قَالَ لِلَّذِی جُرِحَ۔ [ضعیف]
তাহকীক: