আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২৯ টি
হাদীস নং: ১৬০১৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠٠٨) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک خیبر کی یہودیہ نے زہر میں بجھا ہوا گوشت آپ کو ہدیہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دستی والا گوشت لیا اور کھالیا اور آپ کے ساتھ ایک جماعت نے بھی کھایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً فرمایا، اپنے ہاتھ روک لو۔ آپ نے اس یہودیہ کو بلا لیا اور پوچھا : کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے ؟ عورت کہنے لگی : آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس دستی نے بتایا ہے۔ کہنے لگی : جی ملایا ہے۔ پوچھا : کیوں ؟ کہنے لگی کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم آپ سے سکون میں آجائیں گے۔ آپ نے اسے معاف کردیا اور اس گوشت کی وجہ سے کچھ صحابہ فوت بھی ہوگئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے انپے کندھوں کے درمیان میں سینگیلگوائی۔
(۱۶۰۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَہْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ کَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ : أَنَّ یَہُودِیَّۃً مِنْ أَہْلِ خَیْبَرَ سَمَّتْ شَاۃً مَصْلِیَّۃً ثُمَّ أَہْدَتْہَا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الذِّرَاعَ فَأَکَلَ مِنْہَا وَأَکَلَ رَہْطٌ مِنْ أَصْحَابِہِ مَعَہُ ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ارْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْیَہُودِیَّۃِ فَدَعَاہَا فَقَالَ لَہَا أَسَمَمْتِ ہَذِہِ الشَّاۃَ قَالَتِ الْیَہُودِیَّۃُ مَنْ أَخْبَرَکَ قَالَ أَخْبَرَتْنِی ہَذِہِ فِی یَدِی لِلذِّرَاعِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَمَا أَرَدْتِ إِلَی ذَلِکَ قَالَتْ قُلْتُ إِنْ کَانَ نَبِیًّا فَلَنْ یَضُرَّہُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَبِیًّا اسْتَرَحْنَا مِنْہُ فَعَفَا عَنْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یُعَاقِبْہَا وَتُوُفِّیَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ الَّذِینَ أَکَلُوا مِنَ الشَّاۃِ وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی کَاہِلِہِ مِنْ أَجْلِ الَّذِی أَکَلَ مِنَ الشَّاۃِ حَجَمَہُ أَبُو ہِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَۃِ وَہُوَ مَوْلًی لِبَنِی بَیَاضَۃَ مِنَ الأَنْصَارِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠٠٩) ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک یہودیہ نے ایک زہر میں بجھی ہوئی بکری ہدیہ کی۔ پھر پچھلی مکمل حدیث بیان کی اور مزید فرمایا کہ بشر بن معرور اس سے فوت ہوگئے۔ آپ نے اس یہودیہ کو بلا کر ایسا کرنے کا سبب پوچھا۔ پھر مکمل حدیث جابر بیان کی اور فرماتے ہیں کہ آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر اس کو قصاصاً قتل کردیا گیا تھا۔ ان کی روایت میں سینگیکا ذکر نہیں ہے۔
(۱۶۰۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَہْدَتْ لَہُ یَہُودِیَّۃٌ بِخَیْبَرَ شَاۃً مَصْلِیَّۃً نَحْوَ حَدِیثِ جَابِرٍ قَالَ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَائِ بْنِ مَعْرُورٍ فَأَرْسَلَ إِلَی الْیَہُودِیَّۃِ مَا حَمَلَکِ عَلَی الَّذِی صَنَعْتِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ جَابِرٍ قَالَ فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُتِلَتْ وَلَمْ یَذْکُرْ أَمْرَ الْحِجَامَۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠١٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک یہودیہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے کچھ صحابہ کی ایک بھنی ہوئی بکری سے دعوت کی۔ جب سب بیٹھ کر کھانے لگے۔ آپ نے بھی ایک لقمہ لے کر منہ میں رکھا تو فرمایا : رک جاؤ، اس بکری میں زہر ملا ہوا ہے۔ اس یہودیہ سے پوچھا گیا : تو برباد ہو ! یہ تو نے کیوں کیا ؟ کہنے لگی : اس لیے کہ تاکہ واضح ہوجائے کہ آپ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس گوشت کے کھانے کی وجہ سے بشر بن البرائ (رض) فوت ہوگئے تو آپ نے اس یہودیہ کو قصاصاً قتل کردیا۔
(۱۶۰۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً یَہُودِیَّۃً دَعَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَصْحَابًا لَہُ عَلَی شَاۃٍ مَصْلِیَّۃٍ فَلَمَّا قَعَدُوا یَأْکُلُونَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لُقْمَۃً فَوَضَعَہَا ثُمَّ قَالَ لَہُمْ : أَمْسِکُوا إِنَّ ہَذِہِ الشَّاۃَ مَسْمُومَۃٌ ۔ فَقَالَ لِلْیَہُودِیَّۃِ : وَیْلَکِ لأَیِّ شَیْئٍ سَمَمْتِنِی قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ کُنْتَ نَبِیًّا فَإِنَّہُ لاَ یَضُرُّکَ وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ أَنْ أُرِیحَ النَّاسَ مِنْکَ فَأَکَلَ مِنْہَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَائِ فَمَاتَ فَقَتَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠١١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا جس نے زہر ملایا تھا۔
(۱۶۰۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ الْوَلِیدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَتَلَہَا یَعْنِی الَّتِی سَمَّتْہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠١٢) یحییٰ بن عبدالرحمن بن ابی لبیبہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک زہریلی بھنی ہوئی بکری خیبر کے دن لائی گئی جو ایک یہودیہ نے دی تو اس سے آپ نے اور بشر بن البرانے کھالیا۔ دونوں سخت بیمار ہوئے، بشر تو فوت ہوگئے۔ جب بشر فوت ہوگئے تو آپ نے اس یہودیہ کو بلایا اور پوچھا : یہ تو نے کیوں کیا ؟ کہنے لگی : تاکہ فیصلہ ہوجائے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اللہ آپ کو بچا لیں گے اور اگر نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ سے راحت میں آجائیں گے تو آپ کے حکم سے اسے سولی پر لٹکا دیا گیا۔
(۱۶۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَبِیبَۃَ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ خَیْبَرَ أُتِیَ بِشَاۃٍ مَسْمُومَۃٍ مَصْلِیَّۃٍ أَہْدَتْہَا لَہُ امْرَأَۃٌ یَہُودِیَّۃٌ فَأَکَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَائِ فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِیدًا عَنْہَا ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا تُوُفِّیَ فَلَمَّا تُوُفِّیَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْیَہُودِیَّۃِ فَأُتِیَ بِہَا فَقَالَ : وَیْحَکِ مَاذَا أَطْعَمْتِینَا؟ ۔ قَالَتْ : أَطْعَمْتُکَ السُّمَّ عَرَفْتُ إِنْ کُنْتَ نَبِیًّا أَنَّ ذَلِکَ لاَ یَضُرُّکَ وَأَنَّ اللَّہَ سَیَبْلُغُ فِیکَ أَمْرَہُ وَإِنْ کُنْتَ عَلَی غَیْرِ ذَلِکَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُرِیحَ النَّاسَ مِنْکَ فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصُلِبَتْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠١٣) محمد بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو سولی پر لٹکوا دیا۔
واقدی فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ اس کو قتل کردیا گیا تھا اور بکری کے گوشت کو جلا دیا گیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کے قتل کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے۔ اس میں سب سے اصح روایت انس بن مالک کی ہے، جس میں ذکر ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن ہم اسے اس بات پر محمول کریں گے کہ جب تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آپ نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی اور جب بشر بن البراء فوت ہوگئے تو اسے بھی قتل کردیا گیا اور ہر راوی نے اپنا اپنا مشاہدہبیان کیا ہے۔ واللہ اعلم
واقدی فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ اس کو قتل کردیا گیا تھا اور بکری کے گوشت کو جلا دیا گیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کے قتل کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے۔ اس میں سب سے اصح روایت انس بن مالک کی ہے، جس میں ذکر ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن ہم اسے اس بات پر محمول کریں گے کہ جب تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آپ نے اس عورت کو کوئی سزا نہ دی اور جب بشر بن البراء فوت ہوگئے تو اسے بھی قتل کردیا گیا اور ہر راوی نے اپنا اپنا مشاہدہبیان کیا ہے۔ واللہ اعلم
(۱۶۰۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بُطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِیبَۃَ عَنْ جَدِّہِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ بِہَا فَصُلِبَتْ بَعْدَ أَنْ قَتَلَہَا۔ [ضعیف]
قَالَ الْوَاقِدِیُّ الثَّبَتُ عِنْدَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَتَلَہَا وَأَمَرَ بِلَحْمِ الشَّاۃِ فَأُحْرِقَ۔
(ق) قَالَ الشَّیْخُ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَاتُ فِی قَتْلِہَا وَرِوَایَۃُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَصَحُّہَا وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ -ﷺ- فِی الاِبْتِدَائِ لَمْ یُعَاقِبْہَا حِینَ لَمْ یَمُتْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ مِمَّا أَکَلَ فَلَمَّا مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَائِ أَمَرَ بِقَتْلِہَا فَأَدَّی کُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاۃِ مَا شَاہَدَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ الْوَاقِدِیُّ الثَّبَتُ عِنْدَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَتَلَہَا وَأَمَرَ بِلَحْمِ الشَّاۃِ فَأُحْرِقَ۔
(ق) قَالَ الشَّیْخُ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَاتُ فِی قَتْلِہَا وَرِوَایَۃُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَصَحُّہَا وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ -ﷺ- فِی الاِبْتِدَائِ لَمْ یُعَاقِبْہَا حِینَ لَمْ یَمُتْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ مِمَّا أَکَلَ فَلَمَّا مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَائِ أَمَرَ بِقَتْلِہَا فَأَدَّی کُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاۃِ مَا شَاہَدَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی کو کوئی قتل کر دے تو اس کو قصاص دیا جائے گا
(١٦٠١٤) عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو زخمی ہونے سے چند دن قبل مدینہ میں دیکھا تھا، وہ حضرت حذیفہ اور عثمان بن حنیف پر کھڑے تھے اور فرمایا : کیا تم دونوں ڈرتے نہیں ہو کہ تم نے زمین کو اس پر محمول کردیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی۔ وہ دونوں کہنے لگے : ہم نے اسے اس کی طاقت پر ہی محمول رکھا ہے۔ حذیفہ کہنے لگے : اگر میں اسے محمول کرتا تو کم کردیتا اور عثمان بن حنیف کہنے لگے : میں نے اس یعنی زمین کو کوئی بھاری چیز پر محمول نہیں کیا۔ تو عمر نے فرمایا : تم ایسے نہ ہوجانا کہ زمین پر ایسا بوجھ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکے۔ کہا : نہیں۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں تمہیں عراق کی ریت کو ضرور بلاؤں گا کہ وہ میرے بعد کس کے محتاج نہیں رہیں گے۔ ابھی چار دن ہی گزرے تھے کہ یہ واقعہ پیش آگیا۔ کہتے ہیں : میرے اور ان کے درمیان صرف عبداللہ بن عباس ہی تھے، جس صبح ان کو وہ تکلیف پہنچی۔ وہ صفوں کے درمیان پھر کر خلال پر کروا رہے تھے، جب خلال پر ہوگئے تو آگے بڑھے اور تکبیر کہی اور پہلی رکعت میں سورة یوسف یا النحل کی تلاوت کی یہاں تک کہ لوگ جمع ہوگئے۔ کہتے ہیں : آپ قریب تھے کہ رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے کہ میں نے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے کتے نے قتل کردیا، مجھے کتے نے کاٹ لیا تو وہ شخص بھاگا۔ اس کے پاس دو دھاری چھری تھی اور ادھر ادھر مارتے ہوئے وہ بھاگا تو اس نے ١٣ آدمیوں کو زخمی کیا، ان میں سے ٩ فوت ہوگئے تھے۔ جب ایک مسلمان نے اسے دیکھا تو اس پر چادر ڈال دی۔ جب اس کو یقین ہوگیا کہ اب پکڑا جاؤں گا تو اپنا بھی گلا کاٹ لیا تو حضرت عمر نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا۔ مسجد کے کونوں میں جو لوگ تھے انھیں اس واقعہ کا پتہ نہ چلا تو انھوں نے حضرت عمر کی قرآت کی آواز نہ آنے کی وجہ سے سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کہنا شروع کردیا تو عبدالرحمن بن عوف نے ہلکی سی نماز پڑھائی۔ جب واپس لوٹے تو ابن عباس کو فرمایا : دیکھا مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ تو وہ کچھ دیر کے بعد آئے اور بتایا : مغیرہ کے غلام نے۔ پوچھا الصنع نے ؟ کہا : ہاں، فرمایا : الحمدللہ کہ اللہ نے مجھے کسی مسلمان کے ہاتھوں نہیں مروایا اور کہا : تم اور تیرے والد پسند کرتے تھے کہ مدینہ میں کافر زیادہ ہوجائے حضرت عباس سب سے زیادہ غلاموں والے تھے تو کہنے لگے اگر آپ چاہیں تو ہم ان کو قتل کردیں تو فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے کہ جب انھوں نے تمہاری زبان کے ساتھ بات کرلی، تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی اور تمہارا حج کرلیا۔ اب قتل نہ کریں۔ اس کے بعد آپ کو گھر لایا گیا اور لوگوں کی حالت یہ تھی کہ گویا جتنی بڑی مصیبت آج انھیں پہنچی ہے کبھی نہیں پہنچی۔ کچھ ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا اور کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم حضرت عمر پر خوف کھاتے ہیں تو آپ کے پاس نبیذ لایا گیا، وہ آپ نے پیا تو پیٹ کے زخم سے باہر نکل گیا تو لوگ سمجھ گئے کہ اب آپ فوت ہوجائیں گے۔
(۱۶۰۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ أَنْ یُصَابَ بِأَیَّامٍ بِالْمَدِینَۃِ وَقَفَ عَلَی حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ فَقَالَ : کَیْفَ فَعَلْتُمَا تَخَافَانِ أَنْ تَکُونَا قَدْ حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ؟ قَالاَ : حَمَّلْنَاہَا أَمْرًا ہِیَ لَہُ مُطِیقَۃٌ۔ وَقَالَ حُذَیْفَۃُ : لَوْ حَمَّلْتُ عَلَیْہَا أَضْعَفْتُ وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ حَمَّلْتُہَا أَمْرًا ہِیَ لَہُ مُطِیقَۃٌ مَا فِیہَا کَبِیرُ فَضْلٍ۔ قَالَ انْظُرَا لاَ تَکُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ۔ قَالاَ : لاَ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَئِنْ سَلَّمَنِیَ اللَّہُ لأَدَعَنَّ أَرَامِلَ الْعِرَاقِ لاَ یَحْتَجْنَ إِلَی رَجُلٍ بَعْدِی قَالَ : فَمَا أَتَتْ عَلَیْہِ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ حَتَّی أُصِیبَ قَالَ وَإِنِّی لَقَائِمٌ مَا بَیْنِی وَبَیْنَہُ إِلاَّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ غَدَاۃَ أُصِیبَ قَالَ وَکَانَ إِذَا مَرَّ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ قَامَ فَإِنْ رَأَی خَلَلاً قَالَ اسْتَوُوا حَتَّی إِذَا لَمْ یَرَ فِیہِمْ خَلَلاً تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ قَالَ وَرُبَّمَا قَرَأَ بِسُورَۃِ یُوسُفَ أَوِ النَّحْلِ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی حَتَّی یَجْتَمِعَ النَّاسُ قَالَ فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ کَبَّرَ قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ قَتَلَنِی الْکَلْبُ أَوْ أَکَلَنِی الْکَلْبُ حِینَ طَعَنَہُ فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّکِّینِ ذَاتِ طَرَفَیْنِ لاَ یَمُرُّ عَلَی أَحَدٍ یَمِینًا وَلاَ شِمَالاً إِلاَّ طَعَنَہُ حَتَّی طَعَنَ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً فَمَاتَ مِنْہُمْ تِسْعَۃً فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ طَرَحَ عَلَیْہِ بُرْنُسًا فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّہُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَہُ قَالَ وَتَنَاوَلَ عُمَرُ یَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَدَّمَہُ قَالَ فَمَنْ یَلِی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدْ رَأَی الَّذِی رَأَی وَأَمَّا نَوَاحِی الْمَسْجِدِ فَإِنَّہُمْ لاَ یَدْرُونَ غَیْرَ أَنَّہُمْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُمْ یَقُولُونَ سُبْحَانَ اللَّہِ سُبْحَانَ اللَّہِ قَالَ فَصَلَّی بِہِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلاَۃً خَفِیفَۃً فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِی فَجَالَ سَاعَۃً ثُمَّ جَائَ فَقَالَ غُلاَمُ الْمُغِیرَۃِ فَقَالَ الصَّنَعُ۔ قَالَ نَعَمْ قَالَ قَاتَلَہُ اللَّہُ لَقَدْ کُنْتُ أَمَرْتُ بِہِ مَعْرُوفًا فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلْ مِیتَتِی بِیَدِ رَجُلٍ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ وَقَالَ قَدْ کُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوکَ تُحِبَّانِ أَنْ تَکْثُرَ الْعُلُوجُ بِالْمَدِینَۃِ قَالَ وَکَانَ الْعَبَّاسُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَکْثَرَہُمْ رَقِیقًا فَقَالَ إِنْ شِئْتَ فَعَلْنَا أَیْ إِنْ شِئْتَ قَتَلْنَا قَالَ کَذَبْتَ بَعْدَ مَا تَکَلَّمُوا بِلِسَانِکُمْ وَصَلَّوْا قِبْلَتَکُمْ وَحَجُّوا حَجَّکُمْ فَاحْتُمِلَ إِلَی بَیْتِہِ فَانْطَلَقْنَا مَعَہُ قَالَ وَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْہُمْ مُصِیبَۃٌ قَبْلَ یَوْمَئِذٍ فَقَائِلٌ یَقُولُ لاَ بَأْسَ وَقَائِلٌ یَقُولُ نَخَافُ عَلَیْہِ فَأُتِیَ بِنَبِیذٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ثم أُتِیَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ فَعَرَفُوا أَنَّہُ مَیِّتٌ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی وَصَایَاہُ وَأَمْرِ الشُّورَی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی کو کوئی قتل کر دے تو اس کو قصاص دیا جائے گا
(١٦٠١٥) ابو رافع فرماتے ہیں کہ ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ (رض) کا غلام تھا، پھر مکمل قصہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ اس نے دو دھاری خنجر تیار کیا، اسے زہر آلود کیا۔ فرماتے ہیں : حضرت عمر نے تکبیر کہی اور حضرت عمر اقامت کے بعد کچھ بولتے، پھر تکبیر کہا کرتے تھے۔ آپ کہنے لگے : اپنی صفیں سیدھی کرلو۔ تو یہ وہیں صف میں کھڑا تھا، جب آپ نے نمازِ فجر کے لیے تکبیر کہی تو اس نے آپ پر حملہ کردیا آپ کے کندھے اور آپ کے پہلو کو زخمی کردیا تو حضرت عمر گرپڑے، اس نے ١٣ تیرہ لوگوں کو اور زخمی کیا جن میں سے ٦ چھ فوت ہوگئے۔ حضرت عمر کو اٹھایا گیا اور لے کر چلے گئے۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں : پھر حضرت عمر نے کچھ پینے کے لیے منگایا تاکہ اپنے زخم کی گہرائی دیکھیں۔ نبیذ لایا گیا تو وہ آپ کے زخم سے نکل گیا۔ پتہ نہیں وہ نبیذ تھا یا آپ کا خون۔ پھر دودھ منگایا وہ پیا تو وہ بھی آپ کے زخم سے بہہ کر نکل گیا۔ تو لوگ کہنے لگے : اے امیر المٔومنین ! فکر نہ کریں، کچھ نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا : اگر قتل میں کوئی حرج ہے تو میں تو قتل کردیا گیا ہوں۔
(۱۶۰۱۵) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ : کَانَ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ لِلْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ فَذَکَرَ قِصَّتَہُ قَالَ فَصَنَعَ خِنْجَرًا لَہُ رَأْسَانِ قَالَ فَشَحَذَہُ وَسَمَّہُ قَالَ وَکَبَّرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ لاَ یُکَبِّرُ إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ حَتَّی یَتَکَلَّمَ وَیَقُولَ أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ فَجَائَ فَقَامَ فِی الصَّفِّ بِحِذَائِہِ مِمَّا یَلِی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ فَلَمَّا کَبَّرَ وَجِئَہُ عَلَی کَتِفِہِ وَعَلَی مَکَانٍ آخَرَ وَفِی خَاصِرَتِہِ فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَوَجِئَ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً مَعَہُ فَأَفْرَقَ مِنْہُمْ سَبْعَۃً وَمَاتَ سِتَّۃٌ وَاحْتُمِلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذُہِبَ بِہِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَدَعَا بِشَرَابٍ لِیَنْظُرَ مَا مَدَا جُرْحِہِ فَأُتِیَ بِنَبِیذٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ فَلَمْ یَدْرِ أَدَمٌ ہُوَ أَوْ نَبِیذٌ فَدَعَا بِلَبَنٍ فَأُتِیَ بِہِ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ قَالُوا لاَ بَأْسَ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ إِنْ یَکُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا فَقَدْ قُتِلْتُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی کو کوئی قتل کر دے تو اس کو قصاص دیا جائے گا
(١٦٠١٦) عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد حضرت عمر (رض) ٣ تین دن زندہ رہے، پھر فوت ہوگئے۔ آپ کو غسل بھی دیا گیا اور کفن بھی۔ تین دن کے ذکر کے علاوہ باقی روایت صحیح ہے۔
(۱۶۰۱۶) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَلاَّبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عَاشَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَلاَثًا بَعْدَ أَنْ طُعِنَ ثُمَّ مَاتَ فَغُسِّلَ وَکُفِّنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠١٧) ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب (رض) نے خطبہ دیا اور فرمایا : لوگو ! مجھے تمہاری طرف ایسا عامل نہیں بنایا گیا جو تمہارے لوگوں کو مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ بلکہ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں تمہیں تمہارا دین اور اس کی سنتیں سکھاؤں۔ اگر اس کے علاوہ میں کسی پر زیادتی کروں تو وہ مجھ سے قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ عمرو بن عاص (رض) کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے : اے امیر المؤمنین ! اگر کوئی اپنی رعایا کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا ؟ فرمایا : ہاں اللہ کی قسم ! میں اس سے قصاص لوں گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے اپنے آپ سے قصاص دیا تھا۔
(۱۶۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ یَعْنِی مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَی حَدَّثَنَا الْفَزَارِیُّ یَعْنِی أَبَا إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی فِرَاسٍ قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ فِی خُطْبَتِہِ : أَلاَ وَإِنِّی لَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکُمْ عُمَّالِی لِیَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ وَلاَ لِیَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ وَلَکِنْ بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَسُنَنَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِہِ غَیْرُ ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ فَأُقِصَّہُ مِنْہُ۔ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَدَّبَ بَعْضَ رَعِیَّتِہِ أَکُنْتَ مُقْتَصَّہُ مِنْہُ فَقَالَ : إِی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لأُقِصَّنَّہُ مِنْہُ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- أَقَصَّ مِنْ نَفْسِہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠١٨) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور آپ کچھ اشیاء تقسیم کر رہے تھے تو ایک آدمی آیا اور وہ جلد بازی کرنے لگا تو آپ نے اپنے کھجور کے ڈنڈے سے اسے مارا، جس سے اسے زخم لگ گیا تو آپ نے فرمایا : قصاص لے لو تو وہ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں نے معاف کردیا۔
(۱۶۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِمَا وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ إِمْلاَئً قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عَبِیدَۃَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْسِمُ شَیْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَکَبَّ عَلَیْہِ فَطَعَنَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعُرْجُونٍ کَانَ مَعَہُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَعَالَ فَاسْتَقِدْ ۔ فَقَالَ : بَلْ عَفَوْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠١٩) ابو النضر اور ان کے دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا گیا کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ وہ شخص کہنے لگا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے، آپ نے وہ لکڑی اسے دی اور فرمایا : قصاص لے لو۔ وہ شخص کہنے لگا : آپ نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا، آپ نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ سے چمٹ گیا اور آپ کا بوسہ لیا۔
(۱۶۰۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ وَغَیْرِہِ أَخْبَرُوہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی رَجُلاً مُتَخَلِّقًا فَطَعَنَہُ بِقِدْحٍ کَانَ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَالَ أَلَمْ أَنْہَکُمْ عَنْ مِثْلِ ہَذَا فَقَالَ الرَّجُلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ قَدْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّکَ قَدْ عَقَرْتَنِی فَأَلْقَی إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْقِدْحَ فَقَالَ لَہُ : اسْتَقِدْ ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّکَ طَعَنْتَنِی وَلَیْسَ عَلَیَّ ثَوْبٌ وَعَلَیْکَ قَمِیصٌ فَکَشَفَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَطْنِہِ فَأَکَبَّ عَلَیْہِ الرَّجُلُ فَقَبَّلَہُ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً۔ [ضعیف]
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٠) سواد بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا : اے سواد ! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا تو آپ نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہوگیا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قصاص۔ آپ نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا، پھر میں نے کہا : یا رسول اللہ میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔
(۱۶۰۲۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنِی سَوَادُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ لِی : یَا سَوَادُ بْنَ عَمْرٍو خَلُوقُ وَرْسٍ أَوَلَمْ أَنْہَ عَنِ الْخَلُوقِ؟ ۔ وَنَخَسَنِی بِقَضِیبٍ فِی یَدِہِ فِی بَطْنِی فَأَوْجَعَنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ الْقِصَاصَ قَالَ الْقِصَاصَ فَکَشَفَ لِی عَنْ بَطْنِہِ فَجَعَلْتُ أُقَبِّلُہُ ثُمَّ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَدَعُہُ شَفَاعَۃً لِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(ت) تَابَعَہُ عُمَرُ بْنُ سُلَیْطٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح]
(ت) تَابَعَہُ عُمَرُ بْنُ سُلَیْطٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢١) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد نقل فرماتے ہیں کہ اسید بن حضیر بڑے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ ایک مرتبہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ کو ہنسا رہے تھے تو آپ نے اس کے پہلو میں انگلی ماری تو وہ کہنے لگے : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ فرمایا : قصاص لے لو۔ تو وہ فرمانے لگے : آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ کے جسم سے چمٹ گئے اور چومنے لگے اور فرمانے لگے : یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا۔
(۱۶۰۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ الْمُغِیرَۃِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ رَجُلاً ضَاحِکًا مَلِیحًا قَالَ فَبَیْنَمَا ہُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَیُضْحِکُہُمْ فَطَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِإِصْبَعِہِ فِی خَاصِرَتِہِ فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِی۔ قَالَ : اقْتَصَّ ۔
قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَلَیْکَ قَمِیصًا وَلَمْ یَکُنْ عَلَیَّ قَمِیصٌ۔ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَمِیصَہُ فَاحْتَضَنَہُ ثُمَّ جَعَلَ یُقَبِّلُ کَشْحَہُ فَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ ہَذَا۔ [صحیح]
قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَلَیْکَ قَمِیصًا وَلَمْ یَکُنْ عَلَیَّ قَمِیصٌ۔ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَمِیصَہُ فَاحْتَضَنَہُ ثُمَّ جَعَلَ یُقَبِّلُ کَشْحَہُ فَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ ہَذَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٢) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کردیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یہ یہ لے لو۔ وہ نہ مانے پھر آپ نے فرمایا : یہ یہ بھی لے لو، وہ پھر بھی نہ مانے۔ پھر آپ نے فرمایا : یہ یہ بھی لے لو، وہ راضی ہوگئے۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انھیں بتادوں گا۔ انھوں نے کہا : ٹھیک ہے۔ آپ نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انھیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہوگئے کیا تم راضی ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں۔ اس سے ان کی مراد مہاجرین تھے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان سے روک دو تو روک لیا گیا۔ پھر انھیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہوگئے۔ آپ نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انھیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا : کیا تم راضی ہو تو انھوں نے جواب دیا : جی ہاں ہم راضی ہیں۔
(۱۶۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ أَبَا جَہْمِ بْنَ حُذَیْفَۃَ مُصَدِّقًا فَلاَجَّہُ رَجُلٌ فِی صَدَقَتِہِ فَضَرَبَہُ أَبُو جَہْمٍ فَشَجَّہُ فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالُوا الْقَوَدَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَکُمْ کَذَا وَکَذَا ۔ فَلَمْ یَرْضَوْا فَقَالَ لَکُمْ کَذَا وَکَذَا فَلَمْ یَرْضَوْا فَقَالَ لَکُمْ کَذَا وَکَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنِّی خَاطِبٌ الْعَشِیَّۃَ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاکُمْ ۔ فَقَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ اللَّیْثِیِّینَ أَتَوْنِی یُرِیدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِمْ کَذَا وَکَذَا فَرَضُوا أَفَرَضِیتُمْ ۔ قَالُوا : لاَ۔ فَہَمَّ الْمُہَاجِرُونَ بِہِمْ فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ یَکُفُّوا عَنْہُمْ فَکَفُّوا عَنْہُمْ ثُمَّ دَعَاہُمْ فَزَادَہُمْ فَقَالَ : أَرَضِیتُمْ؟ ۔ قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنِّی خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُہُمْ بِرِضَاکُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَرَضِیتُمْ؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٣) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو جہم کو صدقہ پر عامل بنایا تو انھوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو مارا اور اسے سخت زخمی کردیا تو انھوں نے قصاص کا مطالبہ کردیا تو آپ نے انھیں دیت پر راضی کرلیا اور قصاص نہیں لیا۔
(۱۶۰۲۳) خَالَفَہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ الأَیْلِیُّ فَرَوَاہُ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ بَلَغَنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعْمَلَ أَبَا جَہْمٍ عَلَی صَدَقَۃٍ فَضَرَبَ رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ فَشَجَّہُ ذَا الْمُغْلَظَتَیْنِ فَسَأَلُوہُ الْقَوَدَ فَأَرْضَاہُمْ وَلَمْ یُقِدْ مِنْہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٤) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی حضرت ابوبکر کے پاس آتا تھا، جو قرآن کا اچھا قاری تھا۔ حضرت ابوبکر نے اسے ایک سریہ میں بھیج دیا اور اسے خیر کی وصیت کی۔ ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ شخص واپس آگیا اور اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ جب حضرت ابوبکر نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور پوچھا : تمہیں کیا ہوگیا ؟ وہ کہنے لگا کہ مجھے کسی کام پر انھوں نے عامل بنادیا تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑی سی خیانت کردی تھی تو میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ابوبکر فرمانے لگے کہ ایک خیانت پر تیرا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور خود ٢٠، ٢٠ خیانتیں کرتے ہیں۔ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے اس سے ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ پھر وہ ابوبکر (رض) کا قریبی بن گیا اور آپ کی نظر میں اس کی قدر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرآن پڑھتا تھا۔ جب ابوبکر نے اس کی قرآت سنی تو کہنے لگے : ہائے افسوس ! اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت ابوبکر کے گھر سے کچھ زیورات اور سامان چوری ہوگیا تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : رات کو زندہ کرنے والا خاموش ہوگیا تو وہ شخص کھڑا ہوا اور اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ بلند کیا اور دعا کرنے لگا کہ اے اللہ ! چور کو ظاہر فرما دے۔ ابھی آدھا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کے پاس سے سامان مل گیا تو ابوبکر (رض) فرمانے لگے : تو برباد ہو کہ کیا اللہ کے بارے میں تیرا علم اتنا تھوڑا ہے اور حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے ابن عمر (رض) کے طریق سے بیان کیا کہ جب ابوبکر نے اس کی آواز کو سنا تو فرمایا : اے رات کو چوری کرنے والے ! تیری رات چور کی ہے اور اس حدیث میں جو محل استشہاد ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے قصاص لے کر دوں گا۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے ابن عمر (رض) کے طریق سے بیان کیا کہ جب ابوبکر نے اس کی آواز کو سنا تو فرمایا : اے رات کو چوری کرنے والے ! تیری رات چور کی ہے اور اس حدیث میں جو محل استشہاد ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے قصاص لے کر دوں گا۔
(۱۶۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ یَأْتِی أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَیُدْنِیہِ وَیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ حَتَّی بَعَثَ سَاعِیًا أَوْ قَالَ سَرِیَّۃً فَقَالَ أَرْسِلْنِی مَعَہُ قَالَ بَلْ تَمْکُثْ عِنْدَنَا فَأَبَی فَأَرْسَلَہُ مَعَہُ وَاسْتَوْصَی بِہِ خَیْرًا فَلَمْ یَغْبُرْ عَنْہُ إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی جَائَ قَدْ قُطِعَتْ یَدُہُ فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ : مَا زِدْتُ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یُوَلِّینِی شَیْئًا مِنْ عَمَلِہِ فَخُنْتُہُ فَرِیضَۃً وَاحِدَۃً فَقَطَعَ یَدِی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَجِدُونَ الَّذِی قَطَعَ ہَذَا یَخُونُ أَکْثَرَ مِنْ عِشْرِینَ فَرِیضَۃً وَاللَّہِ لَئِنْ کُنْتَ صَادِقًا لأُقِیدَنَّکَ بِہِ قَالَ ثُمَّ أَدْنَاہُ وَلَمْ یُحَوِّلْ مَنْزِلَتَہُ الَّتِی کَانَتْ لَہُ مِنْہُ فَکَانَ الرَّجُلُ یَقُومُ اللَّیْلَ فَیَقْرَأُ فَإِذَا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَوْتَہُ قَالَ یَا لَلَّہِ لِرَجُلٍ قَطَعَ ہَذَا قَالَتْ فَلَمْ یَغْبُرْ إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی فَقَدَ آلُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حُلِیًّا لَہُمْ وَمَتَاعًا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طُرِقَ الْحَیُّ اللَّیْلَۃَ فَقَامَ الأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَرَفَعَ یَدَہُ الصَّحِیحَۃَ وَالأُخْرَی الَّتِی قُطِعَتْ فَقَالَ اللَّہُمَّ أَظْہِرْ عَلَی مَنْ سَرَقَہُمْ أَوْ نَحْوَ ہَذَا وَکَان مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ اللَّہُمَّ أَظْہِرْ عَلَی مَنْ سَرَقَ أَہْلَ ہَذَا الْبَیْتِ الصَّالِحِینَ قَالَ فَمَا انْتَصَفَ النَّہَارُ حَتَّی عَثَرُوا عَلَی الْمَتَاعِ عِنْدَہُ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَیْلَکَ إِنَّکَ لَقَلِیلُ الْعِلْمِ بِاللَّہِ فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَتْ رِجْلُہُ۔ [صحیح]
قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِی أَیُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ کَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ صَوْتَہُ قَالَ مَا لَیْلُکَ بِلَیْلِ سَارِقٍ۔ وَالاِسْتِدْلاَلُ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلِۃِ وَقَعَ بِقَوْلِہِ وَاللَّہِ لَئِنْ کُنْتَ صَادِقًا لأُقِیدَنَّکَ بِہِ۔
قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِی أَیُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ کَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ صَوْتَہُ قَالَ مَا لَیْلُکَ بِلَیْلِ سَارِقٍ۔ وَالاِسْتِدْلاَلُ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلِۃِ وَقَعَ بِقَوْلِہِ وَاللَّہِ لَئِنْ کُنْتَ صَادِقًا لأُقِیدَنَّکَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٥) عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن حضرت ابوبکر فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انھیں تقسیم کردیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کردیا۔ جب دوسرے دن حضرت ابوبکر اور عمر کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہوگیا۔ حضرت ابوبکر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب ابوبکر اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہوگئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا : قصاص لے لو۔ حضرت عمر فرمانے لگے : آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ نے فرمایا : کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا ؟ حضرت عمر فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کرلو تو حضرت ابوبکر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے اپنی اور آپ کی سواری بھی دے دے۔ ایک چادر اور پانچ دینار بھی دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہوگیا۔
(۱۶۰۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَسَمِعْتُ حُیَیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمَعَافِرِیَّ یَقُولُ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَامَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ فَقَالَ إِذَا کَانَ بِالْغَدَاۃِ فَأَحْضِرُوا صَدَقَاتِ الإِبِلِ تُقْسَمُ وَلاَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا أَحَدٌ إِلاَّ بِإِذْنٍ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ لِزَوْجِہَا خُذْ ہَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللَّہَ یَرْزُقُنَا جَمَلاً فَأَبَی الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَکْر وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَدْ دَخَلُوا إِلَی الإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَہُمَا فَالْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ مَا أَدْخَلَکَ عَلَیْنَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْہُ الْخِطَامَ فَضَرَبَہُ فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَکْرٍ مِنْ قَسْمِ الإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاہُ الْخِطَامَ وَقَالَ اسْتَقِدْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ وَاللَّہِ لاَ یَسْتَقِیدُ لاَ تَجْعَلْہَا سُنَّۃً قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَمَنْ لِی مِنَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَرْضِہِ۔ فَأَمَرَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غُلاَمَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ بِرَاحِلَتِہِ وَرَحْلِہَا وَقَطِیفَۃٍ وَخَمْسَۃِ دَنَانِیرَ فَأَرْضَاہُ بِہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٦) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ ابو بکر، عمر اور عثمان (رض) نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا لیکن آپ سے قصاص نہیں لیا گیا اور آپ اس وقت امیر تھے۔ لیکن زہری تک صحیح ہے۔
(۱۶۰۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَعْطُوا الْقَوَدَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ فَلَمْ یُسْتَقَدْ مِنْہُمْ وَہُمْ سَلاَطِینُ۔ [ضعیف۔ مرسل، زہری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قتل کرنے اور زخمی کرنے کا بیان
(١٦٠٢٧) جریر فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو دشمنوں پر بہت رعب اور دبدبے والا تھا وہ ابو موسیٰ کے ساتھ تھا، غنیمت کا مال تقسیم ہوا تو ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ دے دیا لیکن پورا نہیں دیا۔ اس نے لینے سے انکار کردیا اور پورے کا مطالبہ کیا تو ابو موسیٰ نے اسے ٢٠ کوڑے مارے اور اس کا سر مونڈدیا۔ وہ شخص اپنے بال لے کر حضرت عمر کے پاس آگیا۔ اس نے وہ بال جیب سے نکالے تو حضرت عمر نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو اس نے سارا قصہ سنایا تو حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا : اما بعد ! مجھے فلاں بن فلاں نے اس طرح خبر دی ہے تو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس کے ساتھ یہ سلوک لوگوں کے سامنے کیا ہے تو لوگوں کے سامنے، اگر اکیلے میں کیا ہے تو اکیلے میں اسے قصاص دوتو لوگ اس شخص کو کہنے لگے کہ معاف کر دو ۔ تو وہ کہنے لگا : ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! جب ابو موسیٰ (رض) کو اس نے خط دیا تو آپ قصاص کے لیے بیٹھ گئے تو اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگا : میں نے اللہ کے لیے معاف کردیا۔
(۱۶۰۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عَطَاء ُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ جَرِیرٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ ذَا صَوْتٍ وَنِکَایَۃٍ عَلَی الْعَدُوِّ مَعَ أَبِی مُوسَی فَغَنِمُوا مَغْنَمًا فَأَعْطَاہُ أَبُو مُوسَی نَصِیبَہُ وَلَمْ یُوَفِّہِ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہُ إِلاَّ جَمِیعًا فَضَرَبَہُ عِشْرِینَ سَوْطًا وَحَلَقَ رَأْسَہُ فَجَمَعَ شَعَرَہُ وَذَہَبَ بِہِ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ جَرِیرٌ وَأَنَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْہُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْہُ فَأَخْرَجَ شَعَرًا مِنْ جَیْبِہِ فَضَرَبَ بِہِ صَدْرَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا لَکَ؟ فَذَکَرَ قِصَّتَہُ قَالَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی مُوسَی : سَلاَمٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ أَخْبَرَنِی بِکَذَا وَکَذَا وَإِنِّی أُقْسِمُ عَلَیْکَ إِنْ کُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِی مَلأٍ مِنَ النَّاسِ جَلَسْتَ لَہُ فِی مَلأٍ مِنَ النَّاسِ فَاقْتَصَّ مِنْکَ وَإِنْ کُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِی خَلاَئٍ فَاقْعُدْ لَہُ فِی خَلاَئٍ فَلْیَقْتَصَّ مِنْکَ۔ قَالَ لَہُ النَّاسُ : اعْفُ عَنْہُ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ لاَ أَدَعُہُ لأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ۔ فَلَمَّا دَفَعَ إِلَیْہِ الْکِتَابَ قَعَدَ لِلْقَصَاصِ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ : قَدْ عَفَوْتُ عَنْہُ لِلَّہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক: