আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৯৯৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٨) ایضاً
(۱۵۹۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو : لاَ أَخْبَرَنَی ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ : شَکَّکْتَنِی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٩) ابو سعیدخدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ چیز تقسیم کر رہے تھے ایک شخص آیا اور اس چیز پر جھپٹا تو آپ نے اسے کھجور کی چھڑی سے مارا تو وہ آدمی زخمی ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : آؤ قصاص لے لو۔ وہ شخص کہنے لگا : میں نے معاف کیا : یا رسول اللہ۔
(۱۵۹۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عَبِیدَۃَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْسِمُ شَیْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَکَبَّ عَلَیْہِ فَطَعَنَہُ بِعُرْجُونٍ کَانَ مَعَہُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَعَالَ فَاسْتَقِدْ ۔ فَقَالَ : بَلْ عَفَوْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩٠) زیادہ بن علاقہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بہت سارے شیوخ جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا نے بیان کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر سے زخمی کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے قصاص لے کردیا۔
(۱۵۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بنُ زِیَادٍ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ أَخْبَرَنَا أَشْیَاخُنَا الَّذِینَ أَدْرَکُوا النَّبِیَّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً رَمَی رَجُلاً بِحَجَرٍ فَأَقَادَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩١) زیادہ بن علاقہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بہت سارے شیوخ کہ جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا نے بیان کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر سے زخمی کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے قصاص لے کردیا۔
(۱۵۹۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ عن زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ مِرْدَاسٍ : أَنَّ رَجُلاً رَمَی رَجُلاً بِحَجَرٍ فَقَتَلَہُ فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَقَادَہُ مِنْہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩٢) مرداس بن عروہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے قبیلہ سے اپنے ایک بھائی کو قتل کیا اور بھاگ گیا تو ہم نے اسے حضرت ابوبکر (رض) کے پاس پایا۔ ہم اسے لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تو آپ نے ہمیں اس سے قصاص لے کردیا۔
(۱۵۹۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ : رَمَی رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ أَخًا لِی فَقَتَلَہُ فَفَرَّ فَوَجَدْنَاہُ عِنْدَ أَبِی بَکْر الصِّدِّیقِ فَانْطَلَقْنَا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَقَادَنَا مِنْہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩٣) یزید بن براء اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو کسی کو جلائے گا ہم اسے جلائیں گے اور جو کسی کو غرق کرے گا ہم اسے غرق کریں گے۔
(۱۵۹۹۳) ورُوِّینَا عَنْ بِشْرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ الْبَرَائِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ عَرَّضَ عَرَّضْنَا لَہُ وَمَنْ حَرَّقَ حَرَّقْنَاہُ وَمَنْ غَرَّقَ غَرَّقْنَاہُ ۔

وَہُوَ فِیمَا أَنْبَأَنِیہِ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیِّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر کوئی اپنے مسلمان بھائی کو ہلکا سا بھی زخم پہنچائے اور پھر یہ سوچے کہ میں اس سے قصاص نہیں لوں گا۔ میں اس سے ضرور اس کا قصاص لوں گا۔

ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔
(۱۵۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ جَرْوَۃَ بْنِ حُمَیْلٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَیَضْرِبَنَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ بِمِثْلِ آکِلَۃِ اللَّحْمِ ثُمَّ یَرَی أَنِّی لاَ أُقِیدُہُ وَاللَّہِ لأُقِیدَنَّہُ مِنْہُ۔ تَابَعَہُ إِسْرَائِیلُ عَنْ زَیْدِ بْنِ جُبَیْر عَنْ جَرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ یَزِیدُ قَالَ الْحَجَّاجُ : آکِلَۃُ اللَّحْمِ یَعْنِی عَصًا مُحَدَّدَۃً۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ مِنَ الْحُکْمِ أَنَّہُ رَأَی الْقَوَدَ فِی الْقَتْلِ بِغَیْرِ حَدِیدَۃٍ وَذَلِکَ إِذَا کَانَ مِثْلُہُ یَقْتُلُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٩٥) عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیرلیثی سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک صاحب حیثیت آدمی ایک شخص کو لاٹھیاں مار مار کر قتل کر دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تو بتاؤ اس سے بڑھ کر جان بوجھ کر اور کیا ہوگا ؟
(۱۵۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیَّ قَالَ: یَنْطَلِقُ الرَّجُلُ الأَیِّدُ إِلَی رَجُلٍ یَضْرِبُہُ بِالْعَصَا حَتَّی یَقْتُلَہُ ثُمَّ یَقُولُ لَیْسَ بِعَمْدٍ وَأَیُّ الْعَمْدِ أَعْمَدُ مِنْ ذَلِکَ۔

[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٥٩٩٦) عبداللہ بن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قتل خطا میں جو کوڑے یا لکڑی سے ہوجائے ١٠٠ اونٹ دیت مغلظہ ہے جن میں ٤٠ ایسی اونٹنیاں ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔
(۱۵۹۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَلاَ إِنَّ فِی قَتِیلِ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَۃٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَۃً مِنْہَا أَرْبَعُونَ خَلِفَۃً فِی بُطُونِہَا أَوْلاَدُہَا ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٥٩٩٧) محمد بن اسحاق بن خزیمہ فرماتے ہیں کہ میں مزنی کی مجلس میں حاضر ہوا تو ایک عراقی سائل نے قتل خطاء (شبہ العمد) کے بارے میں سوال کیا۔ سائل نے کہا کہ اللہ نے اپنی اپنی کتاب میں قتل کو دو قسموں میں بیان کیا، ایک قتل عمد اور دوسرا قتل خطا تو تم یہ کیوں کہتے ہو کہ اس کی تین قسمیں ہیں اور تم شبہ العمد کے نام سے تیسری قسم کیوں بناتے ہو ؟ یعنی مزنی نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی تھی تو مزنی کا جو مناظر تھا وہ کہنے لگا کہ کیا تو علی بن زید بن جدعان سے دلیل پکڑتا ہے۔ مزنی خاموش ہوگئے تو میں نے ان کے مد مقابل کو کہا کہ علی بن زید کے علاوہ اس حدیث (شبہ العمد والی) کو اور بھی روایت کرنے والے ہیں تو وہ کہنے لگا : کون ہیں ؟ میں نے کہا : ایوب سختیانی، خالدحذاء تو وہ مجھے کہنے لگا : عقبہ بن اوس کون ہے ؟ میں نے کہا : عقبہ بن اوس اہل بصرہ میں سے ایک شخص ہے جس سے ابن سیرین اپنی جلالتِ علمی کے باوجود روایت کرتے ہیں۔ وہ شخص لا جواب ہوگیا اور مزنی سے کہنے لگا کہ آپ مجھ سے مناظرہ کر رہے ہیں یا یہ ؟ تو امام مزنی نے جواب دیا کہ جب حدیث آجائے تو وہی مناظر ہے اور یہ چونکہ حدیث کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اسی لیے مناظر بھی یہی ہے۔ پھر میں نے ہی اس باقی ہر گفتگو کی۔
(۱۵۹۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ السُّکَّرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ یَقُولُ حَضَرْتُ مَجْلِسَ الْمُزَنِیِّ یَوْمًا وَسَأَلَہُ سَائِلٌ مِنَ الْعِرَاقِیِّینَ عَنْ شِبْہِ الْعَمْدِ فَقَالَ السَّائِلُ إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَصَفَ الْقَتْلَ فِی کِتَابِہِ صِفَتَیْنِ عَمْدًا وَخَطَأً فَلِمَ قُلْتُمْ إِنَّہُ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَصْنَافٍ وَلِمَ قُلْتُمْ شِبْہُ الْعَمْدِ یَعْنِی فَاحْتَجَّ الْمُزَنِیُّ بِہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ لَہُ مُنَاظِرُہُ أَتَحْتَجُّ بِعَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ فَسَکَتَ الْمُزَنِیُّ فَقُلْتُ لِمُنَاظِرِہِ قَدْ رَوَی ہَذَا الْخَبَرَ غَیْرُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ فَقَالَ وَمَنْ رَوَاہُ غَیْرُ عَلِیٍّ قُلْتُ رَوَاہُ أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ وَخَالِدٌ الْحَذَّاء ُ قَالَ لِی فَمَنْ عُقْبَۃُ بْنُ أَوْسٍ فَقُلْتُ عُقْبَۃُ بْنُ أَوْسٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ وَقَدْ رَوَاہُ عَنْہُ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ مَعَ جَلاَلَتِہِ فَقَالَ لِلْمُزَنِیِّ أَنْتَ تُنَاظِرُ أَوْ ہَذَا فَقَالَ إِذَا جَائَ الْحَدِیثُ فَہُوَ یُنَاظِرُ لأَنَّہُ أَعْلَمُ بِالْحَدِیثِ مِنِّی ثُمَّ أَتَکَلَّمُ أَنَا۔

قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا حَدِیثُ أَیُّوبَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٥٩٩٨) عبداللہ بن عمرو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ قتل خطاء (شبہ العمد) میں جو کوڑے یا عصا سے قتل ہوجائے اونٹ دینا ہے اور ان میں ٤٠ جو حاملہ اونٹنیاں ہوں۔
(۱۵۹۹۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفٍ الصُّوفِیُّ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : قَتْلُ الْخَطَإِ شِبْہِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا فِیہَا مِائَۃٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْہَا أَرْبَعُونَ فِی بُطُونِہَا أَوْلاَدُہَا ۔ کَذَا قَالَ أَیُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٥٩٩٩) عقبہ بن اوس صحابہ کرام میں سے کسی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ قتل خطاء (شبہ العمد) میں جو کوڑے یا عصا سے ہوجائے دیت مغلظہ ہے۔ ان میں ٤٠ جانور ایسے ہوں کہ جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔
(۱۵۹۹۹) وَأَمَّا حَدِیثُ خَالِدٍ الْحَذَّائِ فَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : أَلاَ إِنَّ فِی قَتِیلِ الْخَطَإِ شِبْہِ الْعَمْدِ قَتِیلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا الدِّیَۃَ مُغَلَّظَۃً مِنْہَا أَرْبَعُونَ فِی بُطُونِہَا أَوْلاَدُہَا ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ۔

وَقَدْ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ فَأَقَامَ إِسْنَادَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٦٠٠٠) عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر لمبی حدیث بیان کی، جس میں یہ بھی تھا : ” خبردار ! قتل خطائ ( شبہ العمد) کوڑے یا عصا کے ساتھ ہو ١٠٠ اونٹ دیت ہے جن میں ٤٠ حاملہ ہوں۔

اسی طرح عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ بھی ایک مرفوع روایت قتل عمد شبہ العمد اور خطاء کے بارے میں ہے، وہ ان شاء اللہ کتاب الدیات میں آئے گی۔
(۱۶۰۰۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْن حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَ یَوْمَ الْفَتْحِ بِمَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إِنَّ دِیَۃَ الْخَطَإِ شِبْہِ الْعَمْدِ مَا کَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَۃٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْہَا أَرْبَعُونَ فِی بُطُونِہَا أَوْلاَدُہَا ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ وَرُوِّینَا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قَتْلِ الْعَمْدِ وَشِبْہِ الْعَمْدِ وَقَتْلِ الْخَطَإِ وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ فِی کِتَابِ الدِّیَاتِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٦٠٠١) طاؤس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو غلطی سے قتل ہوجائے یا تیر لگ جائے کسی آڑ کی وجہ سے پتہ نہ چلا ہو یا کوڑے سے مارتے ہوئے یا عصا سے مارتے ہوئے قتل ہوجائے تو یہ قتل خطاء ہے اور اس میں دیت ہے اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس میں قصاص ہے اور جو حدود کے درمیان حائل ہوگیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو اور اس کا کوئی عمل چاہے فرضی یا نفلی ہو قبول نہیں ہوگا۔
(۱۶۰۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِی عِمِّیَّۃٍ فِی رِمِّیَّا تَکُونُ بَیْنَہُمْ بِحِجَارَۃٍ أَوْ جَلْدٍ بِالسَّوْطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصَا فَہُوَ خَطَأٌ عَقْلُہُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَہُوَ قَوَدُ یَدِہِ فَمَنْ حَالَ دُونَہُ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَغَضَبُہُ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف۔ مرسل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٦٠٠٢) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو غلطی سے قتل ہوجائے ، یعنی غلطی سے اسے تیر لگ جائے یا کوڑے یا عصا سے مرجائے تو یہ قتل خطاء ہے، اس میں دیت ہے اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس میں قصاص ہے اور جو حدود کے درمیان حائل ہوا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اس کا فرضی ، نفلی کوئی بھی عمل قبول نہیں ہوگا۔
(۱۶۰۰۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قُتِلَ فِی عِمِّیَّا أَوْ رِمِّیَّا تَکُونُ بَیْنَہُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصَا فَعَقْلُہُ عَقْلُ خَطَإٍ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَقَوَدُ یَدَیْہِ فَمَنْ حَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ۔ قَوْلُہُ فَعَقْلُہُ عَقْلُ خَطَإٍ یُرِیدُ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ شِبْہَ الْخَطَإِ وَہُوَ شِبْہُ الْعَمْدِ وَقَوْلُہُ فَہُوَ خَطَأٌ یُرِیدُ بِہِ شِبْہَ خَطَإٍ حَتَّی لاَ یَجِبَ بِہِ الْقَوَدُ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِہِ الْخَطَأَ الْمَحْضَ وَذَلِکَ أَنْ یَرْمِیَ شَیْئًا فَیُصِیبَ غَیْرَہُ فَیَکُونُ عَقْلُہُ عَقْلَ الْخَطَإِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ منکر۔ العلل للدارقطنی ۲۱۰۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٦٠٠٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شبہ العمد میں دیت مغلظہ ہے اس میں قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا یہ تو شیطان ان قبیلوں کے درمیان لڑائی کروانا چاہتا ہے۔ یہ ایسے ہوتا ہے کہ کوئی تیر غلطی سے آ کر کسی کو لگ جائے اور اس کا بالکل بھی مارنے کا ارادہ نہ ہو۔
(۱۶۰۰۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَکِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَشِبْہُ الْعَمْدِ مُغَلَّظَۃٌ وَلاَ یُقْتَلُ بِہِ صَاحِبُہُ وَذَلِکَ أَنْ یَنْزُوَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ الْقَبِیلَۃِ فَیَکُونُ بَیْنَہُمْ رِمِّیَّا بِالْحِجَارَۃِ فِی عِمِّیَّا فِی غَیْرِ ضَغِینَۃٍ وَلاَ حَمْلِ سِلاَحٍ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০১০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شبہ العمد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ہلکا عصا یا کوڑے یا ایسی چیز سے مارے کہ جس سے غالب گمان یہ ہے کہ اس سے قتل نہیں ہوتا
(١٦٠٠٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کسی کو کوڑے سے ظلم کرتے ہوئے مارے گا تو اللہ اس سے قیامت کے دن قصاص لیں گے۔
(۱۶۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ ضَرَبَ بِسَوْطٍ ظُلْمًا اقْتُصَّ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০১১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠٠٥) انس فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بکری کا زہریلا گوشت لائی۔ آپ نے اس سے کھالیا۔ بعد میں اسے لایا گیا تو آپ کو عرض کیا گیا : کہا ہم اسے قتل کردیں تو آپ نے فرمایا : نہیں۔ انس فرماتے ہیں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس زہر کا اثر ہمیشہ دیکھتا تھا۔
(۱۶۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً یَہُودِیَّۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- بِشَاۃٍ مَسْمُومَۃٍ فَأَکَلَ مِنْہَا فَجِیئَ بِہَا فَقِیلَ أَلاَ تَقْتُلُہَا قَالَ لاَ قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُہَا فِی لَہَوَاتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০১২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠٠٦) خالد بن حارث نے اپنی سند سے گزشتہ مکمل روایت بیان کی لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ اسے آپ کے پاس لایا گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی : میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کبھی تجھ کو مجھ پر مسلط نہیں کرے گا تو لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ اسے قتل کردیں۔ آپ نے منع فرما دیا۔
(۱۶۰۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ ابْنُ النَّضْرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَبِیبِ بْنِ عَرَبِیٍّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ إِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَجِیئَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہَا عَنْ ذَلِکَ قَالَتْ : أَرَدْتُ لأَقْتُلَکَ فَقَالَ مَا کَانَ اللَّہُ لِیُسَلِّطَکِ عَلَی ذَلِکَ ۔ أَوْ قَالَ عَلَیَّ قَالُوا أَلاَ تَقْتُلُہَا قَالَ لاَ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَجَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَبِیبِ بْنِ عَرَبِیٍّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০১৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی کسی کو زہر پلا دے
(١٦٠٠٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بکری کا زہریلا گوشت کھلا دیا۔ لیکن آپ نے اسے معاف فرما دیا۔
(۱۶۰۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ وَحَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ وَأَبِی سَلَمَۃَ قَالَ ہَارُونُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنَ الْیَہُودِ أَہْدَتْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- شَاۃً مَسْمُومَۃً قَالَ فَمَا عَرَضَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ-۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: