আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نفقات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৯ টি

হাদীস নং: ১৫৯৭৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص اور غلاموں اور لونڈیوں کے درمیان قصاص ہے

امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز اور ابو الزناد اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن نے ایک
(١٥٩٦٨) انس (رض) سے لمبی روایت ہے، یہ اپنی جگہ پر ان شاء اللہ آئے گی اور حمید عن انس میں کچھ مخالفت ہے کہ انس فرماتے ہیں کہ ربیع نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا جس سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لیکن ثابت اور احفظ یہی ہے کہ یہ دو قصے میں اور اس میں ابن عباس اور زید بن ثابت (رض) کی روایات ہیں۔
(۱۵۹۶۸) وَأَمَّا حَدِیثُ أُخْتِ الرُّبَیِّعِ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ فَذَکَرَہُ وَذَلِکَ یَرِدُ بِتَمَامِہِ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَخَالَفَہُ حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ فَقَالَ : لَطَمَتِ الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ جَارِیَۃً فَکَسَرَتْ ثَنِیَّتَہَا۔ وَثَابِتٌ أَحْفَظُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُمَا قِصَّتَانِ وَہَذَا ہُوَ الأَظْہَرُ وَرُوِیَ فِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزِیدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص اور غلاموں اور لونڈیوں کے درمیان قصاص ہے

امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز اور ابو الزناد اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن نے ایک
(١٥٩٦٩) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام۔ مونث کے بدلے مونث “ کو قتل کیا جائے گا [البقرۃ ١٧٨] فرماتے ہیں کہ عورت کے بدلے مرد قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ مرد کے بدلے مرد اور عورت کے بدلے عورت قتل کردی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { اَلنَّفْسُ باِلنَّفْسِ } [المائدۃ ٧٥] ” جان کے بدلے جان ہے تو آزاد قصاص میں مرد و عورت برابر ٹھہرے اور غلام مرد اور عورت برابر ٹھہرے کہ جان کے بدلے جان ہی ہے۔
(۱۵۹۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {الْحَرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَی بِالأُنْثَی} قَالَ : کَانُوا لاَ یَقْتُلُونَ الرَّجُلَ بِالْمَرْأَۃِ وَلَکِنْ یَقْتُلُونَ الرَّجُلَ بِالرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃَ بِالْمَرْأَۃِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {النَّفْسُ بِالنَّفْسِ} قَالَ : فَجَعَلَ الأَحْرَارَ فِی الْقِصَاصِ سَوَائً فِیمَا بَیْنَہُمْ فِی الْعَمْدِ رِجَالَہُمْ وَنِسَائَ ہُمْ فِی النَّفْسِ وَفِیمَا دُونَ النَّفْسِ وَجَعَلَ الْعَبِیدَ مُسْتَوِینَ فِیمَا بَیْنَہُمْ فِی الْعَمْدِ فِی النَّفْسِ وَفِیمَا دُونَ النَّفْسِ رِجَالَہُمْ وَنِسَائَ ہُمْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص اور غلاموں اور لونڈیوں کے درمیان قصاص ہے

امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز اور ابو الزناد اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن نے ایک
(١٥٩٧٠) بکیر بن اشج فرماتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ آزاد چاہے مرد ہو یا عورت دونوں کا خون برابر ہے۔ اگر ایک عورت کی آنکھ پھوڑو دی جائے تو بدلے میں اس مرد کی بھی آنکھ پھوڑی جائے گی اور زید بن ثابت (رض) سے بھی مجھے یہبات پہنچی ہے کہ عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا، اس سے قصاص لیا جائے گا۔
(۱۵۹۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ : أَنَّ السُّنَّۃَ مَضَتْ فِیمَا بَلَغَہُ بِذَلِکَ إِذَا کَانَا حُرَّیْنِ یَعْنِی الرَّجُلَ وَالْمَرْأَۃَ فَإِنْ فَقَأَ عَیْنَہَا فُقِئَتْ عَیْنُہُ۔ قَالَ وَبَلَغَنِی عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلَ ذَلِکَ أَنَّہُ یُقْتَلُ بِہَا وَیُقْتَصُّ مِنْہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص اور غلاموں اور لونڈیوں کے درمیان قصاص ہے

امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز اور ابو الزناد اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن نے ایک
(١٥٩٧١) عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایسے ایسے فقہاء کرام سے ملاقات کی ہے کہ جن کی بات حرف آخر سمجھی جاتی تھی، ان میں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، سلیمان بن یسار اور ان کے علاوہ بڑے جلیل القدر اہل علم ہیں۔ بعض اوقات ان سب میں اختلاف ہوجاتا تو ہم جس طرف اکثر ہوتے ان کی بات کو لے لیتے۔ ان سے میں نے یہ بات یاد کی کہ یہ کہتے تھے کہ مرد کو قصاصاً عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا اور اگر کوئی زخم دیتا ہے تو مرد کو وہ زخم دیا جائے گا۔

سفیان ثوری مغیرہ سے اور وہ ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ قتل عمد میں مرد عورت کے درمیان بھی قصاص ہے۔

جابر عن شعبی بھی اسی طرح منقول ہے۔
(۱۵۹۷۱) وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنِ التَّابِعِینَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّاء ُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَا قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ فِی مَشْیَخَۃٍ جُلَّۃٍ سِوَاہُمْ مِنْ نُظَرَائِہِمْ أَہْلِ فَقْہٍ وَفَضْلٍ وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِی الشَّیْئِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَکْثَرِہِمْ وَأَفْضَلِہِمْ رَأْیًا وَکَانَ الَّذِی وَعَیْتُ عَنْہُمْ عَلَی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ : الْمَرْأَۃُ تُقَادُ مِنَ الرَّجُلِ عَیْنًا بِعَیْنٍ وَأُذُنًا بِأُذُنٍ وَکُلُّ شَیْئٍ مِنَ الْجِرَاحِ عَلَی ذَلِکَ وَإِنْ قَتَلَہَا قُتِلَ بِہَا۔ وَرُوِّینَاہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَغَیْرِہِ۔

وَرَوَی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : الْقِصَاصُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ فِی الْعَمْدِ۔وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ مِثْلَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردوں اور عورتوں کے درمیان قصاص اور غلاموں اور لونڈیوں کے درمیان قصاص ہے

امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا مرد سے قصاص لیا جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز اور ابو الزناد اپنے اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن نے ایک
سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے
(۱۵۹۷۲) وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ مِثْلَہُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُنَّ۔

وَرُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ بِخِلاَفِہِ فِیمَا دُونَ النَّفْسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بہت سے لوگ مل کر ایک شخص کو قتل کریں
(١٥٩٧٣) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا، جس کو انھوں نے دھوکے سے قتل کردیا تھا اور فرمایا : اگر تمام اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کردیتا۔
(۱۵۹۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ قَتَلُوہُ قُتِلَ غِیلَۃً وَقَالَ : لَوْ تَمَالأَ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیعًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بہت سے لوگ مل کر ایک شخص کو قتل کریں
(١٥٩٧٤) امام بخاری (رح) ترجمہ الباب میں فرماتے ہیں کہ مجھے ابن یسار نے بیان کیا، وہ یحییٰ عن عبید اللہ عن نافع عن ابن عمر بیان فرماتے ہیں کہ ایک لڑکا دھوکے سے قتل کردیا گیا تو عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ اگر اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کردیتا۔

اور یحییٰ بن سعید سے یہ بھی منقول ہے کہ ایک بچہ حمل میں یا زمانہ بچپن میں قتل کردیا گیا تو حضرت عمر نے اس کے قتل میں شریک ٥ یا ٧ لوگوں کو قتل کیا اور فرمایا : اگر سارا صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کردیتا۔
(۱۵۹۷۴) قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی تَرْجَمَۃِ الْبَابِ قَالَ لِیَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ غُلاَمًا قُتِلَ غِیلَۃً فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَوِ اشْتَرَکَ فِیہَا أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ صَبِیًّا قُتِلَ بِصَنْعَائَ غِیلَۃً فَقَتَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِہِ سَبْعَۃً وَقَالَ : لَوِ اشْتَرَکَ فِیہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بہت سے لوگ مل کر ایک شخص کو قتل کریں
(١٥٩٧٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر نے صنعاء کے سات آدمیوں کو جو ایک بچے کے قتل میں ملوث تھے قتل کروایا اور فرمایا : اگر سارے اہل صنعاء اس میں شریک ہوتیتو میں سب کو قتل کروا دیتا۔

شیخ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان تھے اور بخاری میں ٤ آدمیوں کا ذکر ہے۔
(۱۵۹۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَتَلَ سَبْعَۃً مِنْ أَہْلِ صَنْعَائَ اشْتَرَکُوا فِی دَمِ غُلاَمٍ وَقَالَ : لَوْ تَمَالأَ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیعًا۔ قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ وَالأَوَّلُ یَحْیَی الْقَطَّانُ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ مُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَرْبَعَۃً قَتَلُوا صَبِیًّا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بہت سے لوگ مل کر ایک شخص کو قتل کریں
(١٥٩٧٦) مغیرہ بن حکیم صنعانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صنعاء میں ایک عورت کا خاوند غائب ہوگیا۔ اس عورت کی گود میں ایک بچہ تھا۔ عورت نے خاوند کے گم ہونے کے بعد ایک دوسرے مرد سے تعلقات بنا لیے تو وہ عورت اپنے اس دوست مرد کو کہنے لگی : اس بچے کو قتل کر دو ، کیونکہ یہ ہمیں رسوا کر دے گا۔ اس نے انکار کیا تو اس عورت نے اس سے دوستی ختم کرنے کا کہا اور اسے مجبور کیا تو اس کو قتل کرنے کے لیے دو آدمی ایک عورت کا دوست اور دوسرا ایک آدمی اور عورت اور اس کا غلام تیار ہوئے۔ انھوں نے اسے قتل کردیا اور اس کے ٹکڑے کر کے ایک چمڑے کے تھیلے میں ڈالے اور اسے بستی کے قریب ایک کنویں میں پھینک دیا۔ جس میں پانی نہیں تھا اور عورت نے واویلا کرنا شروع کردیا کہ میرا بچہ غائب ہوگیا ہے۔ لوگ آئے اور بچے کی تلاش شروع کردی۔ ایک شخص کا کنویں کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اس کنویں سے سبز رنگ کی مکھیاں نکل رہی تھیں۔ جب اس سے وہ چمڑے کا تھیلا نکالا گیا تو اس عورت کے دوست پر کپکپی طاری ہوگئی۔ ہم نے اسے پکڑ لیا اور قید میں ڈال دیا تو اس مرد عورت اور دوسرے مرد نے اور ان کے غلام نے قتل کا اعتراف کرلیا تو یعلی (رض) جو اس وقت صنعاء کے امیر تھے۔ انھوں نے حضرت عمر (رض) کے پاس سب لکھ کر بھیجا تو آپ نے تمام کے قتل کا حکم دے دیا اور فرمایا : اگر سارا صنعاء اس میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کروا دیتا۔

اور سعید بن وہب فرماتے ہیں کہ قوم جب اس کی تلاش میں نکلی تو ایک شخص ان سے آکر ملا جو ان کے ساتھ پہلے نہیں تھا تو اس کے اہل نے اس کو مجرم سمجھا تو شریح فرمانے لگے کہ تمہاری گواہی یہ ہے کہ انھوں نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے، گواہ لاؤ۔ ورنہ تم قسم اٹھاؤ کہ ہم نے قتل نہیں کیا۔ حضرت علی کے پاس آگئے تو انھوں نے ان کو جدا جدا کر کے معلوم کیا تو انھوں نے اعتراف کرلیا تو حضرت علی کو میں نے یہ فرماتے سنا کہ میں حسن کا والد سردار ہوں اور انھیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
(۱۵۹۷۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ حَکِیمٍ الصَّنْعَانِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ امْرَأَۃً بِصَنْعَائَ غَابَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَتَرَکَ فِی حَجْرِہَا ابْنًا لَہُ مِنْ غَیْرِہَا غُلاَمٌ یُقَالُ لَہُ أُصَیْلٌ فَاتَّخَذَتِ الْمَرْأَۃُ بَعْدَ زَوْجِہَا خَلِیلاً فَقَالَتْ لِخَلِیلِہَا إِنَّ ہَذَا الْغُلاَمَ یَفْضَحُنَا فَاقْتُلْہُ فَأَبَی فَامْتَنَعَتْ مِنْہُ فَطَاوَعَہَا وَاجْتَمَعَ عَلَی قَتْلِہِ الرَّجُلُ وَرَجُلٌ آخَرُ وَالْمَرْأَۃُ وَخَادِمُہَا فَقَتَلُوہُ ثُمَّ قَطَّعُوہُ أَعْضَائً وَجَعَلُوہُ فِی عَیْبَۃٍ مِنْ أَدَمٍ فَطَرَحُوہُ فِی رَکِیَّۃٍ فِی نَاحِیَۃِ الْقَرْیَۃِ وَلَیْسَ فِیہَا مَائٌ ثُمَّ صَاحَتِ الْمَرْأَۃُ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَخَرَجُوا یَطْلُبُونَ الْغُلاَمَ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِالرَّکِیَّۃِ الَّتِی فِیہَا الْغُلاَمُ فَخَرَجَ مِنْہَا الذُّبَابُ الأَخْضَرُ فَقُلْنَا وَاللَّہِ إِنَّ فِی ہَذِہِ لَجِیفَۃً وَمَعَنَا خَلِیلُہَا فَأَخَذَتْہُ رِعْدَۃٌ فَذَہَبْنَا بِہِ فَحَبَسْنَاہُ وَأَرْسَلْنَا رَجُلاً فَأَخْرَجَ الْغُلاَمَ فَأَخَذْنَا الرَّجُلَ فَاعْتَرَفَ فَأَخْبَرَنَا الْخَبَرَ فَاعْتَرَفَتِ الْمَرْأَۃُ وَالرَّجُلُ الآخَرُ وَخَادِمُہَا فَکَتَبَ یَعْلَی وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ بِشَأْنِہِمْ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِقَتْلِہِمْ جَمِیعًا وَقَالَ : وَاللَّہِ لَوْ أَنَّ أَہْلَ صَنْعَائَ شَرَکُوا فِی قَتْلِہِ لَقَتَلْتُہُمْ أَجْمَعِینَ۔

ورُوِّینَا عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : خَرَجَ قَوْمٌ فَصَحِبَہُمْ رَجُلٌ فَقَدِمُوا وَلَیْسَ مَعَہُمْ فَاتَّہَمَہُمْ أَہْلُہُ فَقَالَ شُرَیْحٌ شُہُودَکُمْ أَنَّہُمْ قَتَلُوا صَاحِبَکُم وَإِلاَّ حَلَفُوا بِاللَّہِ مَا قَتَلُوہُ فَأَتَوْا بِہِمْ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَعِیدٌ وَأَنَا عِنْدَہُ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمْ فَاعْتَرَفُوا قَالَ فَسَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ۔ فَأَمَرَ بِہِمْ عَلَیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُتِلُوا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو یا زیادہ آدمی مل کر ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیں
(١٥٩٧٧) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس دو آدمی آئے اور انھوں نے گواہی دی کہ اس شخص نے چوری کی ہے۔ حضرت علی نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر وہ دوسرے شخص کو لے کر آئے اور کہنے لگے : چور اصل میں یہ ہے اس کے بارے میں غلط فہمی ہوگئی تھی تو حضرت علی نے ان کی گواہی کو دوسرے کے باریقبول نہیں کیا اور ان سے پہلے والے کو دیت لے کردی اور فرمایا : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ تم نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے تو میں تم دونوں کے ہاتھ کاٹ دوں۔

امام بخاری (رح) نے اسے ترجمہ الباب میں ذکر کیا ہے۔
(۱۵۹۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ یَعْنِی الشَّعْبِیَّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ رَجُلَیْنِ أَتَیَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَہِدَا عَلَی رَجُلٍ أَنَّہُ سَرَقَ فَقَطَعَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَہُ ثُمَّ أَتَیَاہُ بِآخَرَ فَقَالاَ ہَذَا الَّذِی سَرَقَ وَأَخْطَأْنَا عَلَی الأَوَّلِ فَلَمْ یُجِزْ شَہَادَتَہُمَا عَلَی الآخَرِ وَغَرَّمَہُمَا دِیَۃَ یَدِ الأَوَّلِ وَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُکُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُکُمَا۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی تَرْجَمَۃِ الْبَابِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৪
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں کس پر قصاص ہے اور کس پر نہیں
(١٥٩٧٨) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، پاگل سے کہ جب تک وہ صحیح نہ ہوجائے، سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار نہ ہوجائے۔
(۱۵۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَی قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ الصَّبِیِّ حَتَّی یَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَعْتُوہِ حَتَّی یَفِیقَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৫
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں کس پر قصاص ہے اور کس پر نہیں
(١٥٩٧٩) مروان بن حکم نے حضرت معاویہ کو لکھا کہ ایک مجنوں آدمی سے قتل ہوگیا ہے تو کیا کروں تو انھوں نے جواب میں لکھا کہ اسے قتل نہ کرو، دیت لے لو؛ کیونکہ مجنون پر قصاص نہیں ہے۔
(۱۵۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ قَالَ قَالَ مَالِکٌ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَتَبَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ أَنَّہُ أُتِیَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلاً فَکَتَبَ إِلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ أَنِ اعْقِلْہُ وَلاَ تُقِدْ مِنْہُ فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَجْنُونٍ قَوَدٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৬
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل میں کس پر قصاص ہے اور کس پر نہیں
(١٥٩٨٠) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے حضرت معاویہ کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں قتل کردیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اسے بھی قصاصا قتل کر دو ۔
(۱۵۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَتَبَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ یَذْکُرُ أَنَّہُ أُتِیَ بِسَکْرَانٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلاً فَکَتَبَ إِلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ أَنِ اقْتُلْہُ بِہِ۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৭
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد تلوار یا چھری یا وہ چیز جس کی دھار پھاڑ دے سے ہوتا ہے
(١٥٩٨١) نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں اس کا تاوان ہے۔
(۱۵۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا سَخْتُوَیْہِ بْنُ مَازِیَارَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَسُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِی عَازِبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کُلُّ شَیْئٍ خَطَأٌ إِلاَّ السَّیْفَ وَلِکُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَلَوِیِّ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৮
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد تلوار یا چھری یا وہ چیز جس کی دھار پھاڑ دے سے ہوتا ہے
(١٥٩٨٢) نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں اس کا تاوان ہے۔
(۱۵۹۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ لِکُلِّ شَیْئٍ خَطَأٌ إِلاَّ السَّیْفَ ۔ یَعْنِی الْحَدِیدَۃَ : وَلِکُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮৯
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد تلوار یا چھری یا وہ چیز جس کی دھار پھاڑ دے سے ہوتا ہے
(١٥٩٨٣) نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوہے کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہے اور ہر خطا میں تاوان ہے۔
(۱۵۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ الزَّاہِدُ وَأَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَخْبَرَنَا أَبُوجَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ابْنِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: کُلُّ شَیْئٍ سِوَی الْحَدِیدَۃِ خَطَأٌ وَلِکُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ ۔

مَدَارُ ہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی جَابِرٍ الْجُعْفِیِّ وَقَیْسِ بْنِ الرَّبِیعِ وَلاَ یُحْتَجُّ بِہِمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯০
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٤) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بچی گھر سے نکلی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور جو کچھ اس نے پہنا ہوا تھا وہ لے گیا۔ اس بچی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا، اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کس نے مارا ہے ؟ کیا فلاں نے ؟ اس نے سر سے اشارہ کیا : نہیں۔ تو لوگوں نے کہا : فلاں یہودی نے ؟ اس نے سر سے اشارہ کیا ہاں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی یہودی کو پکڑا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔
(۱۵۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ جَارِیَۃً خَرَجَتْ عَلَیْہَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَہَا یَہُودِیٌّ فَرَضَخَ رَأْسَہَا بِحَجَرٍ وَأَخَذَ مَا عَلَیْہَا فَأُتِیَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَبِہَا رَمَقٍ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قَتَلَکِ فُلاَنٌ؟ ۔ قَالَتْ بِرَأْسِہَا لاَ فَقَالُوا الْیَہُودِیُّ قَالَتْ بِرَأْسِہَا نَعَمْ فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَضَخَ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯১
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٥) انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ کیا فلاں فلاں نے کیا ہے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا۔ اس یہودی نے اس کا اعتراف کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان کچلا جائے تو کچل دیا گیا۔
(۱۵۹۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ وَأَبُو سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً وَجَدُوا رَأْسَہَا بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَقِیلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ بِکِ ہَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّی سُمِّیَ الْیَہُودِیُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَأُخِذَ فَجِیئَ بِہِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُضَّ رَأْسُہُ بِحِجَارَۃٍ وَقَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بَیْنَ حَجَرَیْنِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯২
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جنین کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں دو عورتوں کے درمیان تھا، دونوں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی تو وہ عورت بھی مرگئی اور بچہ بھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں فیصلہ فرمایا کہ بچے کی دیت دی جائے اور عورت کے بدلے عورت کو قتل کردیا جائے۔

اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، جیسا کہ امام ترمذی (رح) نے کتاب العلل میں ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری (رح) سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ صحیح ہے۔
(۱۵۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَأَلَ النَّاسَ فِی الْجَنِینِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِکِ بْنِ النَّابِغَۃِ فَقَالَ : کُنْتُ بَیْنَ امْرَأَتَیْنِ لِی فَضَرَبَتْ إِحْدَاہُمَا الأُخْرَی بِعَمُودٍ وَفِی بَطْنِہَا جَنِینٌ فَقَتَلَہُ فَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْجَنِینِ بِغُرَّۃٍ وَقَضَی أَنْ تُقْتَلَ الْمَرْأَۃُ بِالْمَرْأَۃِ۔

ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ فِی کِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ حَافِظٌ قَالَ الشَّیْخُ ہُوَ کَمَا قَالَ الْبُخَارِیُّ فِی وَصْلِ الْحَدِیثِ بِذِکْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیہِ إِلاَّ أَنَّ فِی لَفْظِہِ زِیَادَۃً لَمْ أَجِدْہَا فِی شَیْئٍ مِنْ طُرُقِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَہِیَ قَتْلُ الْمَرْأَۃِ بِالْمَرْأَۃِ وَفِی حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولاً وَحَدِیثُ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً وَحَدِیثُ جَابِرٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْصُولاً ثَابِتًا : أَنَّہُ قَضَی بِدِیَتِہَا عَلَی الْعَاقِلَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯৩
نفقات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد پتھر وغیرہ اور ہر اس چیز سے ہوتا ہے جس سے غالب گمان یہ ہو کہ اس سے مارنے کے بعد نہیں بچے گا
(١٥٩٨٧) ابن عباس (رض) سے روایت ہے۔۔۔ پچھلی روایت مکمل ذکر فرمائی۔ پھر مزید یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنین کے بارے میں فرمایا کہ اس کی دیت دو اور عورت کو قتل کر دو اور ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دیت کو چٹی کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو وہ فرمانے لگے : تو نے تو مجھے شک میں ہی ڈال دیا۔
(۱۵۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ طَاوُسًا یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ وَقَالَ فِیہِ : فَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی جَنِینِہَا بِغُرَّۃٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِہَا۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَخْبَرَنَی ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ قَضَی بِدِیَتِہَا وَبِغُرَّۃٍ فِی جَنِینِہَا فَقَالَ : لَقَدْ شَکَّکْتَنِی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: