আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৭ টি

হাদীস নং: ১৫৫৪৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٨) مغیرہ بن ضحاک فرماتے ہیں کہ مجھے ام حکیم بنت اسید نے اپنی والدہ سے خبر دی کہ اس کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں ۔ اس نے کحل جلاء کے ساتھ سرمہ لگایا۔ احمد کہتے ہیں : درست کہ کحل جلاء ہے۔ اس نے اپنی لونڈی کو ام سلمہ کی طرف بھیجا ۔ اس نے کحل جلاء کے بارے میں اس سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں : وہ یہ سرمہ نہ لگائے مگر کسی ایسے معاملے میں جس میں نہایت ضروری ہو۔ تو رات کو سرمہ لگا اور دن کو اس کو صاف کر دے پھر فرمایا : میرے پاس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جس وقت ابو سلمہ (رض) فوت ہوئے اور میں نے اپنی آنکھوں پر صبر (بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو صبر (بوٹی) ہے۔ اس میں خوشبو نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ چہرے کو چمکاتی ہے ، تو اس کو رات کو لگا اور دن کو اتار دے اور تو کنگھی خوشبو کے ساتھ نہ کر اور نہ ہی مہندی لگا ۔ یہ خضاب ہے۔ فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیری کے ساتھ کنگھی کر اور اس کے ساتھ اپنے سر کو ڈھانپ لے۔
(۱۵۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِیرَۃَ بْنَ الضَّحَّاکِ یَقُولُ أَخْبَرَتْنِی أُمُّ حَکِیمٍ بِنْتُ أَسِیدٍ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ زَوْجَہَا تُوُفِّیَ وَکَانَتْ تَشْتَکِی عَیْنَہَا فَتَکْتَحِلُ بِکُحْلِ الْجِلاَئِ قَالَ أَحْمَدُ الصَّوَابُ بِکُحْلِ الحلاء فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَۃً لَہَا إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَسَأَلَتْہَا عَنْ کُحْلِ الْجِلاَئِ فَقَالَتْ : لاَ تَکْتَحِلُ بِہِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْہُ یَشْتَدُّ عَلَیْکِ فَتَکْتَحِلِینَ بِاللَّیْلِ وَتَمْسَحِینَہُ بِالنَّہَارِ۔ ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِکَ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَ أَبُو سَلَمَۃَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَی عَیْنَیَّ صَبِرًا فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ ۔ فَقُلْتُ : إِنَّمَا ہُوَ الصَّبِرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَیْسَ فِیہِ طِیبٌ۔ قَالَ : إِنَّہُ یَشُبُّ الْوَجْہَ فَلاَ تَجْعَلِیہِ إِلاَّ بِاللَّیْلِ وَتَنْزَعِینَہُ بِالنَّہَارِ وَلاَ تَمْتَشِطِی بِالطِّیبِ وَلاَ بِالْحِنَّائِ فَإِنَّہُ خِضَابٌ۔ قَالَتْ قُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ أَمْتَشِطُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِینَ بِہِ رَأْسَکِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو عدتوں کے جمع ہونے کا بیان
(١٥٥٣٩) سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ طلیحہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھی ۔ اس نے اس کو طلاق بتۃ دی ۔ اس نے اپنی عدت میں نکاح کرلیا۔ اس کو عمر بن خطاب (رض) نے مارا اور اس کی بیوی کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی ڈال دی۔ پھر عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جو بھی عورت اپنی عدت میں نکاح کرے تو اگر اس کا خاوند جس نے اس کے ساتھ شادی کی ہے اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا تو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی عدت گزارے اور وہ منگنی کا پیغام دینے والوں کے لیے خاطبہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ اس نے دخول کیا تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت گزارے گی۔ پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی، پھر وہ اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کرسکے سکتی۔

سعید فرماتے ہیں : اس کے لیے اس کا مہر ہوگا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔
(۱۵۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ طُلَیْحَۃَ کَانَتْ تَحْتَ رُشَیْدٍ الثَّقَفِیِّ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَنَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا فَضَرَبَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَضَرَبَ زَوْجَہَا بِالْمِخْفَقَۃِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا فَإِنْ کَانَ زَوْجُہَا الَّذِی تَزَوَّجَ بِہَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنْ زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَکَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ فَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنْ زَوْجِہَا الأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الآخَرِ ثُمَّ لَمْ یَنْکِحْہَا أَبَدًا۔

قَالَ سَعِیدٌ : وَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْہَا۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو عدتوں کے جمع ہونے کا بیان
(١٥٥٤٠) حضرت علی (رض) نے اس عورت کے بارے میں جس نے اپنی عدت کے دوران شادی کرلی فیصلہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اس کے لیے حق مہر ہو گا؛کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھا گیا اور وہ اپنی عدت مکمل کرے گی ۔ پھر دوسری عدت بھی گزارے گی۔
(۱۵۵۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ عَنْ جَرِیرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ قَضَی فِی الَّتِی تَزَوَّجُ فِی عِدَّتِہَا أَنَّہُ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَلَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا وَتُکْمِلُ مَا أَفْسَدَتْ مِنْ عِدَّۃِ الأَوَّلِ وَتَعْتَدُّ مِنَ الآخَرِ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو عدتوں کے جمع ہونے کا بیان
(١٥٥٤١) علی (رض) نے اس عورت کے بارے میں جس نے اپنی عدت میں شادی کرلی فرمایا : وہ پہلی بقیہ عدت کو مکمل کرے، پھر نئی عدت دوسرے خاوند سے جو ہے اس کو گزارے۔
(۱۵۵۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الَّتِی تَزَوَّجُ فِی عِدَّتِہَا قَالَ : تُکْمِلُ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنَ الأَوَّلِ ثُمَّ تَعْتَدُّ مِنَ الآخَرِ عِدَّۃً جَدِیدَۃً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٢) مسروق سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اس عورت کے بارے میں فرمایا : جو اپنی عدت میں شادی کرلے فرمایا : اس کا نکاح حرام ہے، اس کا حق مہر حرام ہے۔ انھوں نے اس کے حق مہر کو بیت المال میں ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا : جب تک یہ زندہ رہیں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
(۱۵۵۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ فِی عِدَّتِہَا قَالَ : النِّکَاحُ حَرَامٌ وَالصَّدَاقُ حَرَامٌ وَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَقَالَ : لاَ یَجْتَمِعَانِ مَا عَاشَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٣) عبید بن نضلہ نضیلہ سے روایت ہے داؤد نے اس بارے میں شک کیا ہے کہ عمر بن خطاب کی طرف ایک عورت کو لایا گیا، آپ نے اس سے فرمایا : کیا تجھے علم تھا کہ تو عدت کے دوران شادی کر رہی ہے۔ اس نے کہا : نہیں (مجھے معلوم نہ تھا) اس کے خاوند سے کہا : کیا تو جانتا تھا، اس نے کہا : نہیں مجھے بھی علم نہ تھا۔ آپ نے فرمایا : اگر تمہیں معلوم ہوتا تو میں تم دونوں کو رجم کردیتا۔ ان کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کے حق مہر کو لے لیا اور اس کو اللہ کے راستے میں صدقہ کردیا۔ آپ نے فرمایا : اس کا مہر بھی جائز نہیں ہے اور اس کا نکاح بھی جائز نہیں ہے اور فرمایا : وہ عورت تیرے لیے ہمیشہ کے لیے حلال نہیں ہے۔
(۱۵۵۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نَضْلَۃَ أَوْ قَالَ نُضَیْلَۃَ شَکَّ دَاوُدُ قَالَ : رُفِعَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ امْرَأَۃٌ تَزَوَّجَتْ فِی عِدَّتِہَا فَقَالَ لَہَا : ہَلْ عَلِمْتِ أَنَّکِ تَزَوَّجْتِ فِی الْعِدَّۃِ؟ قَالَتْ : لاَ۔ فَقَالَ لِزَوْجِہَا : ہَلْ عَلِمْتَ؟ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : لَوْ عَلِمْتُمَا لَرَجَمْتُکُمَا فَجَلَدَہُمَا أَسْیَاطًا وَأَخَذَ الْمَہْرَ فَجَعَلَہُ صَدَقَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَ : لاَ أُجِیزُ مَہْرًا لاَ أُجِیزُ نِکَاحَہُ وَقَالَ : لاَ تَحِلُّ لَکَ أَبَدًا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٤) شعبی سے روایت ہے کہ علی (رض) نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور اس کے لیے حق مہر مقرر کر دیا؛کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا اور فرمایا : جب اس کی عدت ختم ہوجائے تو اگر وہ اس شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ کرلے۔

امام شافعی فرماتے ہیں : ہم علی (رض) کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔

اور امام بیہقی فرماتے ہیں : عمر بن خطاب (رض) نے اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کردیا۔
(۱۵۵۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ : عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَجَعَلَ لَہَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا وَقَالَ : إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَإِنْ شَائَ تْ تَزَوَّجُہُ فَعَلَتْ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الشَّعْبِیِّ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبِقَوْلِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَقُولُ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہِ الأَوَّلِ وَجَعَلَ لَہَا مَہْرَہَا وَجَعَلَہُمَا یَجْتَمِعَانِ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٥) شعبی سے روایت ہے کہ ایک عورت کو عمر بن خطاب (رض) کے پاس لایا گیا، جس نے دوران عدت نکاح کرلیا تھا۔ آپ نے اس کے حق مہر کو لیا اور بیت المال میں ڈال دیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا : یہ دونوں اکٹھے نہیں ہوسکتے اور یہ ان کی سزا ہے۔ شعبی کہتے ہیں : علی (رض) نے کہا : یہ اس طرح نہیں ، یہ لوگوں کی جہالت ہے اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت مکمل کرے گی۔ پھر وہ دوسری عدت کی طرف متوجہ ہوگی اور علی (رض) نے اس کے لیے حق مہر مقرر کیا اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے۔ شعبی فرماتے ہیں : عمر (رض) نے اللہ کی، تعریف کی اس کی حد بیان کی، پھر فرمایا : اے لوگو ! جہالتوں کو سنت کی طرف لوٹاؤ۔
(۱۵۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِامْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ فِی عِدَّتِہَا فَأَخَذَ مَہْرَہَا فَجَعَلَہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَقَالَ : لاَ یَجْتَمِعَانِ وَعَاقَبَہُمَا۔قَالَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ ہَکَذَا وَلَکِنْ ہَذِہِ الْجَہَالَۃُ مِنَ النَّاسِ وَلَکِنْ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا ثُمَّ تَسْتَکْمِلُ بَقِیَّۃَ الْعِدَّۃِ مِنَ الأَوَّلِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ عِدَّۃً أُخْرَی۔ وَجَعَلَ لَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَہْرَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا قَالَ فَحَمِدَ اللَّہَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ رُدُّوا الْجَہَالاَتِ إِلَی السُّنَّۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٦) مسروق سے روایت ہے کہ عمر (رض) حق مہر کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کیا اور اس کے لیے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے حق مہر مقرر کیا۔
(۱۵۵۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہِ فِی الصَّدَاقِ وَجَعَلَہُ لَہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے حق مہر کے بارے میں اختلاف کا بیان اور دوسرے مرد پر اس کے نکاح کی حرمت کا بیان
(١٥٥٤٧) سفیان سے روایت ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
(۱۵۵۴۷) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَشْعَثَ بِإِسْنَادِہِ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجَعَ عَنْ ذَلِکَ وَجَعَلَ لَہَا مَہْرَہَا وَجَعَلَہُمَا یَجْتَمِعَانِ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اقل مدت کا بیان
(١٥٥٤٨) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب عورت نو مہینوں کا بچہ جنے اس کو اکیس مہینے رضاعت کافی ہے اور جب سات ماہ کا بچہ جنم دے تو اس کو تیس مہینے رضاعت (یعنی بچے کو دودھ پلانا) کافی ہے اور جب چھ ماہ کے بچے کو جنم دے تو اس کو چوبیس ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا } [الاحقاف ١٥] ” اور اس کے حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ “
(۱۵۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَۃُ لَتِسْعَۃِ أَشْہُرٍ کَفَاہَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرِینَ شَہْرًا وَإِذَا وَضَعَتْ لِسَبْعَۃِ أَشْہُرٍ کَفَاہَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلاَثَۃٌ وَعِشْرِینَ شَہْرًا وَإِذَا وَضَعَتْ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ کَفَاہَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَۃٌ وَعِشْرِینَ شَہْرًا کَمَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَعْنِی قَوْلَہُ {وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہْرًا}۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اقل مدت کا بیان
(١٥٥٤٩) ابو حرب بن ابو اسود دیلی سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا تھا۔ عمر (رض) نے اس کے رجم کرنے کا ارادہ فرمایا۔ یہ بات علی (رض) کو پہنچی۔ انھوں نے فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ یہ بات عمر (رض) کو پہنچی تو آپ نے ان کی طرف قاصد کو بھیجا کہ وہ اس سے سوال کرے اور فرمایا : { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ } ” اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں مکمل دو سال جو ارادہ کریں رضاعت کو مکمل کرنے کا۔ [البقرۃ ٢٣٣] اور فرمایا : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا } ” اور حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ “ [الاحقاف ١٥] چھ ماہ اس کے حمل کی مدت اور دو سال اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت ہے۔ اس پر حد نہیں ہی یا فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ چنانچہ اس کو عمر (رض) نے چھوڑ دیا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا۔
(۱۵۵۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ : شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْقَصَّافِ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ وَلَدَتْ لِسِتَّۃِ أَشْہُرٍ فَہَمَّ بِرَجْمِہَا فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہَا رَجْمٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُ فَقَالَ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} وَقَالَ { وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہْرًا } فَسِتَّۃُ أَشْہُرٍ حَمْلُہُ حَوْلَیْنِ تَمَامٌ لاَ حَدَّ عَلَیْہَا أَوْ قَالَ لاَ رَجْمَ عَلَیْہَا قَالَ فَخَلَّی عَنْہَا ثُمَّ وَلَدَتْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اقل مدت کا بیان
(١٥٥٤٩) ایضاً ۔
(۱۵۵۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِیرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْقَصَّافِ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رُفِعَتْ إِلَیْہِ امْرَأَۃٌ فَذَکَرَہُ۔

کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عُمَرُ۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلاً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اقل مدت کا بیان
(١٥٥٥١) مالک فرماتے ہیں کہ ان کو حدیث پہنچی کہ عثمان بن عفان (رض) کے پاس ایک عورت کو لایا گیا۔ اس نے چھ ماہ میں بچے کو جنم دیا۔ عثمان بن عفان (رض) نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا تو علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا } [الاحقاف ١٥] ” اور حمل اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ “ [الاحقاف ١٥] اور فرمایا : وَفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ” اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت دو سال ہے اور فرمایا : { وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ } [البقرۃ ٢٣٣] مدت رضاعت چوبیس ماہ ہے اور مدت حمل چھ ماہ ہے۔ عثمان (رض) نے اس کے بارے میں حکم دیا، اس کو لوٹایا گیا اور اس کو پایا گیا تو اسے رجم کردیا گیا تھا اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
(۱۵۵۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ وَلَدَتْ فِی سِتَّۃِ أَشْہُرٍ فَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ ذَلِکَ عَلَیْہَا قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہْرًا} وَقَالَ {وَفِصَالُہُ فِی عَامَیْنِ} وَقَالَ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ} فَالرَّضَاعَۃُ أَرْبَعَۃٌ وَعِشْرُونَ شَہْرًا وَالْحَمْلُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ فَأَمَرَ بِہَا عُثْمَانُ أَنْ تُرَدَّ فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٢) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ عورت حمل میں دو سال سے نہ زیادہ کرے اور وہ تکلے کی لکڑی کے سائے کے گھومنے کا اندازہ نہ لگائے۔
(۱۵۵۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ جَمِیلَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا تَزِیدُ الْمَرْأَۃُ فِی الْحَمْلِ عَلَی سَنَتَیْنِ وَلاَ قَدْرَ مَا یَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ الْمِغْزَلِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৫৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٣) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ عورت اپنے حمل پر دو سال سے زیادہ تکلے کے سائے کے برابر مقدار بھی زیادہ نہ کرے۔ فرماتے ہیں : سبحان اللہ یہ بات کون کہتا ہے ؟ یہ ہماری ہمسائی لڑکی محمد بن عجلان کی بیوی سچی عورت ہے اور اس کا خاوند بھی سچا آدمی ہے۔ یہ بارہ سالوں میں تین بار حاملہ ہوئی اور ہر حمل اس کے پیٹ میں چار سال رہا۔
(۱۵۵۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْوَلِیدَ بْنَ مُسْلِمٍ یَقُولُ قُلْتُ لِمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ إِنِّی حُدِّثْتُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لاَ تَزِیدُ الْمَرْأَۃُ عَلَی حَمْلِہَا عَلَی سَنَتَیْنِ قَدْرَ ظِلِّ الْمِغْزَلِ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّہِ مَنْ یَقُولُ ہَذَا؟ ہَذِہِ جَارَتُنَا امْرَأَۃُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ امْرَأَۃُ صِدْقٍ وَزَوْجُہَا رَجُلُ صِدْقٍ حَمَلَتْ ثَلاَثَۃَ أَبْطُنٍ فِی اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ سَنَۃً تَحْمِلُ کُلَّ بَطْنٍ أَرْبَعَ سِنِینَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৬০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٤) مبارک بن مجاہد فرماتے ہیں : ہمارے ہاں مشہور ہوگیا کہ محمد بن عجلان کی بیوی نے اپنے حمل کو چار سال تک اٹھائے رکھا اور اس کا نام ہاتھی کے حمل والی رکھا گیا۔
(۱۵۵۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی رِزْمَۃَ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ شَدَّادِ بْنِ دَاوُدَ الْمَخْرَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رِزْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ بْنُ مُجَاہِدٍ قَالَ : مَشْہُورٌ عِنْدَنَا امْرَأَۃُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ تَحْمِلُ وَتَضَعُ فِی أَرْبَعِ سِنِینَ وَکَانَتْ تُسَمَّی حَامِلَۃَ الْفِیلِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৬১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٥) محمد بن عمر واقدی فرماتے ہیں : میں نے مالک بن انس سے سنا کہ حمل دو سال تک رہتا ہے اور میں اس کو پہنچانتا ہوں جس کے ساتھ اس کی والدہ دو سال سے زیادہ حاملہ ہوئی یعنی مالک بن انس خود۔
(۱۵۵۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ہُوَ الْوَاقِدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ یَقُولُ : قَدْ یَکُونُ الْحَمْلُ سِنِینَ وَأَعْرِفُ مَنْ حَمَلَتْ بِہِ أُمُّہُ أَکْثَرَ مِنْ سَنَتَیْنِ یَعْنِی نَفْسَہُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৬২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٦) محمد بن عمر بن واقد مالک بن انس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کو پیٹ میں تین سال تک اٹھائے رکھا، یعنی مالک بن انس اپنی والدہ کے پیٹ میں تین سال تک رہے۔
(۱۵۵۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بُطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَکُونِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ وَاقِدٍ فِی ذِکْرِ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّہُ حَمَلَتْ بِہِ فِی الْبَطْنِ ثَلاَثَ سِنِینَ ہَذَا مَعْنَی کَلاَمِہِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৬৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٧) ہاشم بن یحییٰ فرّاء مجاشعی فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مالک بن دینار بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا : اے ابو یحییٰ ! میری بیوی کے لیے دعا کرو وہ چار سالوں سے حاملہ ہے اور آج وہ شدید تکلیف میں ہے۔ مالک بن دینار غضب ناک ہوئے اور مصحف یعنی قرآن کو بند کردیا۔ پھر فرمایا : یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم انبیاء ہیں۔ پھر دعا کی کہ اے اللہ ! اگر اس عورت کے پیٹ میں ہوا ہے تو اس کو اسی گھڑی نکال دے اور اگر اس کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اس کو لڑکے کے ساتھ بدل دے، بیشک تو ہی جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے باقی ثابت رکھتا ہے۔ پھر مالک نے اپنے ہاتھ کو اٹھایا اور لوگوں نے بھی اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور قاصد اس شخص کی طرف آیا اور کہا : تو اپنی بیوی کو پا، یعنی اپنی بیوی کے پاس جا۔ آدمی گیا۔ مالک نے ابھی اپنے ہاتھ کو نیچے نہیں کیا تھا کہ آدمی مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور اس کے کندھے پر چھوٹے گنگھریالے بالوں والا چار سال کا لڑکا تھا۔ اس کے دانت بھی برابر ہوچکے تھے، اس کی ناف ابھی کاٹی نہیں گئی تھی۔
(۱۵۵۵۷) أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ : صَالِحُ بْنُ عِمْرَانَ الدَّعَّاء ُ حَدَّثَنِی أَحْمَدَ بْنُ غَسَّانَ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ یَحْیَی الفَرَّاء ُ الْمُجَاشِعِیُّ قَالَ : بَیْنَمَا مَالِکُ بْنُ دِینَارٍ یَوْمًا جَالِسٌ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا أَبَا یَحْیَی ادْعُ لاِمْرَأَۃٍ حُبْلَی مُنْذُ أَرْبَعِ سِنِینَ قَدْ أَصْبَحَتْ فِی کَرْبٍ شَدِیدٍ فَغَضِبَ مَالِکٌ وَأَطْبَقَ الْمُصْحَفَ ثُمَّ قَالَ : مَا یَرَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمُ إِلاَّ أَنَّا أَنْبِیَاء ُ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ اللَّہُمَّ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ إِنْ کَانَ فِی بَطْنِہَا رِیحٌ فَأَخْرِجْہَا عَنْہَا السَّاعَۃَ وَإِنْ کَانَ فِی بَطْنِہَا جَارِیَۃٌ فَأَبْدِلْہَا بِہَا غُلاَمًا فَإِنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَاء ُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتَابِ

ثُمَّ رَفَعَ مَالِکٌ یَدَہُ وَرَفَعَ النَّاسُ أَیْدِیَہُمْ وَجَائَ الرَّسُولُ إِلَی الرَّجُلِ فَقَالَ : أَدْرِکِ امْرَأَتَکَ۔ فَذَہَبَ الرَّجُلُ فَمَا حَطَّ مَالِکٌ یَدَہُ حَتَّی طَلَعَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عَلَی رَقَبَتِہِ غُلاَمٌ جَعْدٌ قَطَطٌ ابْنُ أَرْبَعِ سِنِینَ قَدِ اسْتَوَتْ أَسْنَانُہُ مَا قُطِعَتْ أَسْرَارُہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: