আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৭ টি

হাদীস নং: ১৫৫২৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٨۔ ١٥٥١٧) زینب بنت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ جب ابو سفیان کی وفات کا اعلان کرنے والا آیا توام حبیبہ نے زردی منگوائی اور تیسرے دن اس کو اپنے رخساروں اور بازؤ وں پر لگایا اور فرمایا : میں اس سے بے پروا ہوں اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔

اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۱۸) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَء ً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ غَالِبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَتْ : لَمَّا جَائَ نَعْیُ أَبِی سُفْیَانَ دَعَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا بِصُفْرَۃٍ فَمَسَحَتْ عَارِضَیْہَا وَذِرَاعَیْہَا الْیَوْمَ الثَّالِثَ وَقَالَتْ إِنْ کُنْتُ لَغَنِیَّۃً عَنْ ہَذَا لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫২৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٥٥١٩) ام حبیبہ (رض) سے روایت ہے اس کا دیور جب فوت ہوگیا تو اس زردی کو پکڑا اور اپنی کلائیوں پر لگا لیا اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلم عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
(۱۵۵۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّیرَازِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنِی حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہُ مَاتَ لَہَا حَمِیمٌ فَأَخَذَتْ صُفْرَۃً فَمَسَحَتْ بِہَا ذِرَاعَیْہَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ الْمَرْأَۃُ عَلَی زَوْجِہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۔

قَالَ شُعْبَۃُ وَحَدَّثَنِی حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا وَعَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِہِ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫২৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٥٥٢٠) حفصہ (رض) یا عائشہ (رض) یا دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔

اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
(۱۵۵۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَتْہُ عَنْ حَفْصَۃَ أَوْ عَنْ عَائِشَۃَ أَوْ عَنْہُمَا کِلْتَیْہِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجِہَا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَغَیْرِہِ۔

وَکَذَلِکَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنْ نَافِعٍ۔ [صحیح۔۱۴۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫২৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٥٥٢١) صفیہ بنت ابی عبید (رض) نے حفصہ بنت عمر (رض) سے سنا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا یُحَدِّثُ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّہَا سَمِعَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫২৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٥٥٢٢) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
(۱۵۵۲۲) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ۔

وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫২৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہا استعمال کرنے کا بیان
(١٥٥٢٣) اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت ہے کہ جب جعفر (رض) شہید ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ تو تین دن سوگ گزار پھر جو چاہے کر۔
(۱۵۵۲۳) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُصِیبَ جَعْفَرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : تَسَلَّبِی ثَلاَثًا ثُمَّ اصْنَعِی مَا شِئْتِ ۔

فَلَمْ یَثْبُتْ سَمَاعُ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ أَسْمَائَ وَقَدْ قِیلَ فِیہِ عَنْ أَسْمَائَ فَہُوَ مُرْسَلٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَالأَحَادِیثُ قَبْلَہُ أَثْبَتُ فَالْمَصِیرُ إِلَیْہَا أَوْلَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٤) شعبہ بن حجاج سے روایت ہے کہ حمید بن نافع نے مجھے خبر دی کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ اس کا خاوند فوت ہوگیا، اس نے اپنی آنکھوں کی شکایت کی اور انھوں نے اس کی آنکھوں پر (بیماری کا) خوف محسوس کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تمہاری عورتیں بدترین لباس اور بدترین گھر میں ایک سال تک رہتیں۔ جب کتا گزرتا تولید کے ساتھ مارتی۔ پھر وہ نکلتی۔ اب صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اور اس کے آخر میں فرمایا : نہیں یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن گزارے۔

اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ عَنَہْا زَوْجُہَا فَاشْتَکَتْ عَیْنَہَا وَخَشُوا عَلَی عَیْنِہَا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَمْکُثُ فِی شَرِّ أَحْلاَسِہَا فِی بَیْتِہَا إِلَی الْحَوْلِ فَمَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَۃٍ ثُمَّ خَرَجَتْ لاَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۔

لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ : فَسُئِلَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَتَکْحَلُ؟ فَقَالَ : لاَ ۔ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : لاَ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٥) ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ کنگھی کرے اور نہ خوشبو لگائے مگر اپنی طہارت کے وقت اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے باندھنے والا کپڑا۔

اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِیُّ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا لاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمْتَشِطُ وَلاَ تَتَطَیَّبُ إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرَتِہَا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ مُخْتَصَرًا ثُمَّ قَالَ وَقَالَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٦) ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا کہ عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ اس پر چار ماہ ، دس دن سوگ تک کرے اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے اور نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب، جب وہ پاک ہوجائے تو ایک پھوہاکستوری کا لے۔
(۱۵۵۲۶) فَذَکَر مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الْوَزِیرِ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَتْنَا حَفْصَۃُ بِنْتُ سِیرِینَ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی أُمُّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ تُحِدَّ الْمَرْأَۃُ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ إِلَی أَدْنَی طُہْرَتِہَا إِذَا طَہُرَتْ بِنُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٧) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے نہیں حلال ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پرچار ماہ اور دس دن سوگ کرے، وہ نہ رنگ دار کپڑے پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب جب وہ غسل کرے اپنے حیض سے تو ایک پھوہاکستوری سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرِہَا إِذَا اغْتَسَلَتْ منِ حَیْضِہَا مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ ہِشَامٍ۔

وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ : وَلاَ تَخْتَضِبُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٨) ہشام بن حسان نے اس کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
(۱۵۵۲۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٢٩) یحییٰ بن بکیرنے بھی اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
(۱۵۵۲۹) وَرَوَاہُ یَعْقُوبُ الدَّوْرَقِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی بُکَیْرٍ فَقَالَ مَکَانَ عَصْبٍ إِلاَّ ثَوْبًا مَغْسُولاً أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ فَذَکَرَہُ۔

وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٠) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی ہلاک ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے اور نہ وہ رنگ دار لباس پہنے اور نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے اور نہ ہی خضاب لگائے مگر اپنے طہر کے وقت جب وہ اپنے حیض سے غسل کرے تو کستوری کا ایک پھوہا لے لے ۔
(۱۵۵۳۰) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَء ً أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی ہَالِکٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَلاَ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ بِالإِثْمِدِ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرِہَا إِذَا تَطَہَّرَتْ مِنْ حَیْضِہَا بِنُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔

کَذَا قَالَ وَلاَ ثَوْبَ عَصْبٍ۔ وَبَلَغَنِی عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ أَنَّہُ رَوَاہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ کَذَلِکَ وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ بِخِلاَفِ ذَلِکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣١) ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ باندھنے والے کپڑے کے علاوہ اور انھوں نے خضاب کا ذکر نہیں کیا۔
(۱۵۵۳۱) وَقَدْ رَوَاہُ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ نَحْوَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ فَذَکَرَہُ نَحْو رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ وَقَالَ : إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ الْخِضَابَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٢) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں منع کیا جاتا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں اور ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبہ لگائیں اور نہ ہی رنگ دار کپڑے پہنیں مگر اس کے طہر میں رخصت ہے جب اپنے حیض سے غسل کرے تو اپنے کستوری کا ایک پھوہاپکڑے۔

اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنَّا نُنْہَی أَنْ نُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ نَکْتَحِلُ وَلاَ نَتَطَیَّبُ وَلاَ نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِّصَ فِی طُہْرِہَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِیضِہَا فِی نُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْحَجَبِیِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৩৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٣) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے وہ زرد رنگ کے کپڑے نہ پہنے اور نہ ہی کنگھی کرے نہ زیور پہنے اور نہ ہی خضاب لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔

یہ ابراہیم بن حارث کی حدیث کے الفاظ ہیں اور صنعانی نے اپنی روایت میں کچھ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ مجھے بدیل بن میسرۃ نے حدیث بیان کی کہ حسن بن مسلم فرماتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ صَبِر بوٹی کے لگانے میں کوئی حرج محسوس کرتے ہوں۔
(۱۵۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَء ً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : الْمُتَوَفَّی عَنْہَا لاَ تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّیَابِ وَلاَ الْمُمَشَّقَۃَ وَلاَ الْحُلِیَّ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَکْتَحِلُ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ وَزَادَ الصَّغَانِیُّ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَحَدَّثَنِی بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ : لَمْ أَرَہُمْ یَرَوْنَ بِالصَّبِرِ بَأْسًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٤) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ رنگ دار کپڑوں میں سے کوئی بھی نہ پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوبصورتی اختیار کرے اور نہ وہ زیور پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے۔
(۱۵۵۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بُدَیْلٍ الْعُقَیْلِیِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لاَ تَلْبَسُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا مِنَ الثِّیَابِ الْمُصْبَغَۃِ شَیْئًا وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَزَیَّنُ وَلاَ تَلْبَسُ حُلِیًّا وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَطَیَّبُ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٥) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ نہ سرمہ لگائے نہ خوشبو لگائے نہ خضاب لگائے نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنے مگر سیاہ کپڑے پہنے اور کسی دوسرے کے گھر میں رات نہ گزارے، لیکن زیارت دین میں کرسکتی ہے۔
(۱۵۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا نُمَیْرٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا لاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَطَیَّبُ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ السود الْمعصب وَلاَ تَبِیتُ فِی غَیْرِ بَیْتِہَا وَلَکِنْ تَزُورُ بِالنَّہَارِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٦) مالک فرماتے ہیں : ان کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : اپنے خاوند پر سوگ گزارنے والی عورت کی انکھیں خراب ہوئیں اور یہ بات آپ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : تو کحل جلآء کے ساتھ سرمہ لگارات کو اور دن کے وقت صاف کر دے۔
(۱۵۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ لاِمْرَأَۃٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِہَا اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْہَا : اکْتَحِلِی بِکُحْلِ الْجِلاَئِ بِاللَّیْلِ وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৫৪৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوگ کیسے کیا جائے
(١٥٥٣٧) مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ (رض) پر داخل ہوئے اور وہ ابو سلمہ پر سوگ کرنے والی تھی ۔ انھوں نے اپنی آنکھوں پر (صبر بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! صبر بوٹی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کو رات کے وقت لگا اور دن کے وقت اس کو صاف کر دے۔
(۱۵۵۳۷) وَبِالإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہِیَ حَادٌّ عَلَی أَبِی سَلَمَۃَ وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَی عَیْنَیْہَا صَبِرًا فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ ۔ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا ہُوَ صَبِرٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اجْعَلِیہِ بِاللَّیْلِ وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ ۔

وَہَذَانِ مُنْقَطِعَانِ وَقَدْ رُوِیَا بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: