আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৭ টি
হাদীস নং: ১৫৫৬৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کی اکثر مدت کا بیان
(١٥٥٥٨) ابو سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے ہمارے بزرگوں میں کسی نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص عمر بن خطاب کے پاس آیا، اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں اپنے عورت سے دو سال تک غائب رہا ہوں۔ میں آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے۔ عمر (رض) نے لوگوں سے اس کے رجم کرنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ معاذ بن جبل (رض) نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! اگر آپ کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو جو اس کے پیٹ میں ہے اس کے خلاف آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ آپ اس کو چھوڑ دیجیے حتی کہ وہ وضع حمل کرلے۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس نے بچے کو جنم دیا۔ اس کے سامنے والے دو دانت نکل چکے تھے۔ آدمی نے اپنی مشابہت اس بچے میں پہچان لی۔ فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ میرا بیٹا ہے۔ عمر (رض) نے فرمایا : عورتیں عاجز آگئی ہیں کہ وہ معاذ بن جبل جیسوں کو جنم دیں۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے تو اس میں دلیل ہے کہ حمل دو سالوں سے زیادہ دیر تک پیٹ میں باقی رہ سکتا ہے اور عمر (رض) کا قول اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند گم ہوجائے یہ ہے کہ وہ چار سال تک انتظار کرے، یہ اس کے مشابہہ ہے کہ شاید وہ حمل کے چار سال تک باقی رہنے کی وجہ سے کہتے ہوں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
(۱۵۵۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَشْیَاخٌ مِنَّا قَالُوا : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِی سَنَتَیْنِ فَجِئْتُ وَہِیَ حُبْلَی فَشَاوَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَاسًا فِی رَجْمِہَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنْ کَانَ لَکَ عَلَیْہَا سَبِیلٌ فَلَیْسَ لَکَ عَلَی مَا فِی بَطْنِہَا سَبِیلٌ فَاتْرُکْہَا حَتَّی تَضَعَ فَتَرَکَہَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَایَاہُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَہَ فِیہِ فَقَالَ : ابْنِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَجَزَتِ النِّسَاء ُ أَنْ یَلِدْنَ مِثْلَ مُعَاذٍ لَوْلاَ مُعَاذٌ لَہَلَکَ عُمَرُ۔ وَہَذَا إِنْ ثَبَتَ فَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْحَمْلَ یَبْقَی أَکْثَرَ مِنْ سَنَتَیْنِ وَقَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا قَالَہُ لِبَقَائِ الْحَمْلِ أَرْبَعَ سِنِینَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کسی عورت سے شادی کرے وہ عورت یوم نکاح سے لے کر چھ ماہ سے بھی کم میں بچہ کو جنم دے اور چار سال سے کم میں اس دن سے جس وقت اس کی پہلی جدائی ہوئی
(١٥٥٥٩) عبداللہ بن عبداللہ بن ابو امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے چار ماہ اور دس دن عدت کے گزارے پھر جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے شادی کرلی۔ وہ اپنے خاوند کے پاس ساڑھے چار ماہ رہی، پھر اس نے مکمل بچے کو جنم دے دیا۔ اس کا خاوند عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان کے سامنے معاملے کا ذکر کیا۔ عمر بن خطاب (رض) نے پہلی جاہلیت کی عورتوں کو بلایا۔ ان سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا : میں آپ کو اس عورت کے بارے میں بتاتی ہوں۔ اس کا خاوند فوت ہوگیا جس سے وہ حاملہ ہوئی اور پھر اس کا خون بہتا تھا۔ اس کا بچہ اس کے پیٹ میں خشک ہوگیا۔ جب اس کا وہ خاوند جس سے اس نے نکاح کیا اس کو پہنچا اور بچے کو پانی پہنچا۔ بچے نے پیٹ میں حرکت کی اور بڑا ہوا۔ عمر بن خطاب (رض) نے اس کی تصدیق کی اور ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تم دونوں کے بارے میں سوائے خیر کے کوئی خبر نہیں ملی اور بچے کو پہلے کی طرف لوٹا دیا۔
(۱۵۵۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً ہَلَکَ عَنْہَا زَوْجُہَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِینَ حَلَّتْ فَمَکَثَتْ عِنْدَ زَوْجِہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَنِصْفَ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَائَ زَوْجُہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَدَعَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِسْوَۃً مِنْ نِسَائِ الْجَاہِلِیَّۃِ قُدَمَائَ فَسَأَلَہُنَّ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ : أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ ہَلَکَ زَوْجُہَا حِینَ حَمَلَتْ فَأُہْرِیقَتِ الدِّمَاء ُ فَحَشَّ وَلَدُہَا فِی بَطْنِہَا فَلَمَّا أَصَابَہَا زَوْجُہَا الَّذِی نَکَحَتْ وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاء ُ تَحَرَّکَ الْوَلَدُ فِی بَطْنِہَا وَکَبِرَ فَصَدَّقَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَبْلُغْنِی عَنْکُمَا إِلاَّ خَیْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأَوَّلِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس مطلقہ کی عدت کا باب جس کا خاوند اس سے رجوع کا مالک ہو
(١٥٥٦٠) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر اس سے رجوع کرتا۔ یہ معاملہ اس کے لیے ختم نہ ہوتا کہ وہ اس کو ختم کرے۔ انصار میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا : اللہ کی قسم ! میں تجھے اپنی طرف کبھی بھی جگہ نہیں دوں گا اور نہ ہی اپنے غیر کے لیے تجھے حلال ہونے دوں گا۔ اس عورت نے کہا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب تیری مدت عدت مکمل ہونے کے قریب ہوگی تو میں تجھ سے رجوع کرلوں گا۔ ہشام بن عروہ نے فرمایا : اس نے یہ معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا شکایت کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩] ” طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔ پھر اس کو معروف انداز میں روک لینا ہے یا احسان کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ “ پس نئے انداز میں لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ بھی جس نے طلاق دی اور وہ بھی جس نے طلاق نہیں دی۔
(۱۵۵۶۰) أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثُمَّ یُرَاجِعُہَا لَیْسَ لِذَلِکَ مُنْتَہَی یُنْتَہَی إِلَیْہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاِمْرَأَتِہِ وَاللَّہِ لاَ آوِیکِ إِلَیَّ أَبَدًا وَلاَ تَحِلِّینَ لِغَیْرِی قَالَ فَقَالَتْ کَیْفَ ذَاکَ قَالَ أُطَلِّقُکِ فَإِذَا دَنَا أَجْلُکِ رَاَجَعْتُکِ قَالَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَشْکُو فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} فَاسْتَقْبَلَہُ النَّاسُ جَدِیدًا مَنْ کَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ طَلَّقَ۔
وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا فِیمَا مَضَی مَوْصُولاً وَفِیہِ کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ تَعْتَدُّ مِنَ الطَّلاَقِ الآخِرِ عِدَّۃً مُسْتَقْبِلَۃً وَہَذَا قَوْلُ أَبِی الشَّعْثَائِ وَطَاوُسٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَغَیْرِہِمْ۔ [صحیح]
وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا فِیمَا مَضَی مَوْصُولاً وَفِیہِ کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ تَعْتَدُّ مِنَ الطَّلاَقِ الآخِرِ عِدَّۃً مُسْتَقْبِلَۃً وَہَذَا قَوْلُ أَبِی الشَّعْثَائِ وَطَاوُسٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَغَیْرِہِمْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ آدمی کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک اس کی وفات کی یقینی خبر نہ آجائے
(١٥٥٦١) علی (رض) سے اس عورت کے بارے میں روایت ہے جس کا خاوند گم ہوجائے کہ وہ شادی نہ کرے گی۔
(۱۵۵۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَسَدِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : إِنَّہَا لاَ تَتَزَوَّجُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ آدمی کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک اس کی وفات کی یقینی خبر نہ آجائے
(١٥٥٦٢) حضرت علی (رض) اس عورت کے متعلق فرماتے ہیں جس کا خاوند گم ہوجائے کہ جب وہ آئے اور عورت نے شادی کرلی ہو تو اگر چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو روک اور عورت کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔
(۱۵۵۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ عَنْ ہُشَیْمِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : إِذَا قَدِمَ وَقَدْ تَزَوَّجَتِ امْرَأَتُہُ ہِیَ امْرَأَتُہُ إِنْ شَائَ طَلَّقَ وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَ وَلاَ تُخَیَّرُ۔ وَرَوَاہُ أَبُو عُبَیْدٍ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ سَیَّارٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ آدمی کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک اس کی وفات کی یقینی خبر نہ آجائے
(١٥٥٦٣) حنش سے روایت ہے کہ علی (رض) نے فرمایا : وہ بات جو عمر (رض) نے کہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے یعنی گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں یہ اسی کی بیوی ہے جو غائب ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے یا اس کی طلاق کی یقینی خبر آجائے اور اس کے لیے حق مہر ہوگا اس مرد سے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے اور اس کا نکاح باطل ہے۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر عن علی سے روایت بیان کی گئی کہ علی (رض) نے فرمایا : یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر عن علی سے روایت بیان کی گئی کہ علی (رض) نے فرمایا : یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
(۱۵۵۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ زَائِدَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ عَنْ حَنَشٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ الَّذِی قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِشَیْئٍ یَعْنِی فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ ہِیَ امْرَأَۃُ الْغَائِبِ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ أَوْ طَلاَقُہَا وَلَہَا الصَّدَاقُ مِنْ ہَذَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا وَنِکَاحُہُ بَاطِلٌ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: ہِیَ امْرَأَۃُ الأَوَّلِ دَخَلَ بِہَا الآخِرُ أَوْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا۔
وَہُوَ قَوْلُ النَّخَعِیِّ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِمَا۔ [ضعیف]
وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: ہِیَ امْرَأَۃُ الأَوَّلِ دَخَلَ بِہَا الآخِرُ أَوْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا۔
وَہُوَ قَوْلُ النَّخَعِیِّ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِمَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ آدمی کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک اس کی وفات کی یقینی خبر نہ آجائے
(١٥٥٦٤) ابن شبرمہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں لکھا کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کرے اور صبر کرے۔
(۱۵۵۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ ہُوَ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ تَلَوَّمُ وَتَصَبَّرُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ آدمی کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک اس کی وفات کی یقینی خبر نہ آجائے
(١٥٥٦٥) مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عورت جس کا خاوند گم ہوجائے وہ اسی کی بیوی ہے حتیٰ کہ اس کے بارے میں وضاحت آجائے۔
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔
(۱۵۵۶۵) وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ فِی إِسْنَادِہِ مِنْ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِکٍ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ الْہَمْدَانِیُّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ امْرَأَتُہُ حَتَّی یَأْتِیَہَا الْبَیَانُ ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الْوَاسِطِیُّ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ۔ وَسَوَّارٌ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی الْوَاسِطِیُّ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ۔ وَسَوَّارٌ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ خاوند والی عورت چار سال اس کا انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر حلال ہوجائے
(١٥٥٦٦) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند گم ہوجائے اور اسے علم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن انتظار کرے (یعنی عدت گزارے) ۔
(۱۵۵۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَیُّمَا امْرَأَۃٍ فَقَدَتْ زَوْجَہَا فَلَمْ تَدْرِ أَیْنَ ہُوَ فَإِنَّہَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَنْتَظِرُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔[حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ خاوند والی عورت چار سال اس کا انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر حلال ہوجائے
(١٥٥٦٧) ہم کو مالک نے حدیث بیان کی انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انھوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہوجائے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر (رض) کے بعد عثمان (رض) نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر (رض) کے بعد عثمان (رض) نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔
(۱۵۵۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ۔
وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَزَادَ فِیہِ قَالَ: وَقَضَی بِذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔
وَرَوَاہُ أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالاَ: امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَنْکِحُ۔[حسن لغیرہ]
وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَزَادَ فِیہِ قَالَ: وَقَضَی بِذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔
وَرَوَاہُ أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالاَ: امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَنْکِحُ۔[حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ خاوند والی عورت چار سال اس کا انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر حلال ہوجائے
(١٥٥٦٨) ابو عمرو الشیبانی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی کی مدت (انتظار) چار سال ہے۔
(۱۵۵۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجَلَّ امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ أَرْبَعَ سِنِینَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے کہ گم شدہ خاوند والی عورت چار سال اس کا انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر حلال ہوجائے
(١٥٥٦٩) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا خاوند گم ہوجائے کہ وہ چار سال انتظار کرے۔ پھر خاوند کا ولی اس کو طلاق دے۔ پھر وہ اس کے بعد چار ماہ اور دس دن انتظار کرے، پھر شادی کرلے۔ اس کو عاصم احول نے ابو عثمان سے روایت کیا ہے اور ابو عثمان عمر (رض) سے اسی کے مثل ولی کی طلاق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور اس کو خلاس بن عمرو اور ابو ملیح نے علی (رض) سے اسی طرح روایت کیا ہے اور خلاس کی روایت علی (رض) سے ضعیف ہے اور ابو ملیح کی روایت علی (رض) سے مرسل ہے اور مشہور علی (رض) سے اس کے خلاف ہے اور ابو عبید نے اپنی کتاب یزید سے، سعید بن ابی عروبہ سے، جعفر بن ابو وحشیہ سے، عمرو بن ہزم سے اور جابر بن زید سے روایت کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تھا، ان دونوں نے آپس میں گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے مذاکرہ کیا۔ ان دونوں نے کہا : وہ اپنے نفس کے ساتھ چار سال انتظار کرے پھر وہ وفات کی عدت گزارے۔ پھر انھوں نے خرچے کا ذکر کیا۔ ابن عمر نے کہا : اس کے لیے خرچہ ہوگا۔ اس کے اپنے آپ کو اس مرد پر روکنے کی وجہ سے۔
ابن عباس نے کہا : جب اسے اہل میراث کے ساتھ مجبور کیا جائے اور وہ خرچ کرے ۔ اگر اس کا خاوند آجائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
ابن عباس نے کہا : جب اسے اہل میراث کے ساتھ مجبور کیا جائے اور وہ خرچ کرے ۔ اگر اس کا خاوند آجائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
(۱۵۵۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ شُعْبَۃُ سَمِعْتُ مَنْصُورًا یُحَدِّثُ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : قَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُہُ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ یُطَلِّقُہَا وَلِیُّ زَوْجِہَا ثُمَّ تَرَبَّصُ بَعْدَ ذَلِکَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجُ۔
وَرَوَاہُ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ فِی طَلاَقِ الْوَلِیِّ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُجَاہِدٌ عَنِ الْفَقِیدِ الَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الْجِنُّ فِی قَضَائِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ۔
وَرَوَاہُ خِلاَسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ ضَعِیفَۃٌ وَرِوَایَۃُ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ مُرْسَلَۃٌ وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِلاَفَ ہَذَا۔
وَرَوَی أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ شَہِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَذَاکَرَا امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ فَقَالاَ تَرَبَّصُ بِنَفْسِہَا أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّۃَ الْوَفَاۃِ ثُمَّ ذَکَرُوا النَّفَقَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَہَا نَفَقَتُہَا لِحَبْسِہَا نَفْسَہَا عَلَیْہِ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا یُضِرَّ ذَلِکَ بِأَہْلِ الْمِیرَاثِ وَلَکِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْہُ مِنْ مَالِہِ وَإِنْ لَمْ یَقْدَمْ فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔ [حسن لغیرہ]
وَرَوَاہُ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ فِی طَلاَقِ الْوَلِیِّ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُجَاہِدٌ عَنِ الْفَقِیدِ الَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الْجِنُّ فِی قَضَائِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ۔
وَرَوَاہُ خِلاَسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ ضَعِیفَۃٌ وَرِوَایَۃُ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ مُرْسَلَۃٌ وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِلاَفَ ہَذَا۔
وَرَوَی أَبُوعُبَیْدٍ فِی کِتَابِہِ عَنْ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ شَہِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَذَاکَرَا امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ فَقَالاَ تَرَبَّصُ بِنَفْسِہَا أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّۃَ الْوَفَاۃِ ثُمَّ ذَکَرُوا النَّفَقَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَہَا نَفَقَتُہَا لِحَبْسِہَا نَفْسَہَا عَلَیْہِ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا یُضِرَّ ذَلِکَ بِأَہْلِ الْمِیرَاثِ وَلَکِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْہُ مِنْ مَالِہِ وَإِنْ لَمْ یَقْدَمْ فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔ [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧٠) عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اپنی قوم کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے نکلا اس کو جن نے قیدی بنا لیا۔ اسے گم پایا گیا، اس کی بیوی عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئی اور اس کا قصہ بیان کیا عمر (رض) نے اس کی قوم سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : جی ہاں ! وہ عشاء کی نماز کے لیے نکلاتو اس کو گم پایا گیا۔ عمر (رض) نے اس کو حکم دیا کہ وہ چار سال تک انتظار کرے۔ جب چار سال گزر گئے تو وہ عمر (رض) کے پاس آئی اور ان کو خبر دی اور عمر (رض) نے ان سے سوال کیا۔ انھوں نے کہا : جی ہاں ! اس کو عمر (رض) نے حکم دیا کہ وہ شادی کرلے ۔ اس نے شادی کرلی پھر اس کا خاوند آگیا۔ اس نے اس کے بارے میں عمر بن خطاب (رض) کی طرف جھگڑا پیش کیا۔ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : تمہارا ایک لمبا عرصہ گم ہوجاتا ہے اس کے اہل نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہے۔ اس نے عمر بن خطاب کو کہا : اے امیر المؤمنین ! میرے پاس عذر ہے۔ آپ نے کہا : تیرا کیا عذر ہے ؟ اس نے کہا : میں عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو مجھے جن نے قید کرلیا۔ میں ان میں طویل عرصہ رہا۔ مؤمن یا مسلم جنوں نے ان سے لڑائی کی۔ اس کے بارے میں سعید نے شک کیا ہے۔ انھوں نے ان سے قتال کیا اور ان پر غلبہ پایا۔ مومن جنوں نے ان کے جنوں کو قید کیا اور مجھے بھی قیدی بنایا۔ انھوں نے کہا : ہم تجھے مسلمان آدمی سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے تجھے قیدی بنانا حلال نہیں ہے۔ انھوں نے مجھے وہاں رہنے اور اپنے گھر کی طرف لوٹنے کے درمیان اختیار دیا۔ میں نے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کو اختیار کیا اور وہ میرے ساتھ آئے۔ رات کو آئے یا دن کو آئے۔ انھوں نے مجھے یہ بیان نہیں کیا۔ میں نے ان کی ہوا کی پیروی کی۔ اس کو عمر (رض) نے کہا : تیرا ان میں کھانا کیا تھا ؟ اس نے کہا : لوبیا اور وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا تھا۔ عمر (رض) نے فرمایا : اس میں تیرا پینا کیا تھا ؟ اس نے کہا : جدف۔ قتادہ فرماتے ہیں : جدف وہ شراب ہے جو سکر پیدا ہونے سے پہلے استعمال کرتے ہیں۔ عمر (رض) نے اس کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا۔ سعید فرماتے ہیں اور مجھے مطر نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے وہ عمر (رض) سے قتادہ کی حدیث کی طرح نقل فرماتے ہیں۔ مگر مطر نے اس میں کچھ زیادہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں : اس کو حکم دیا کہ وہ چار سال چار ماہ اور دس دن انتظار کرے۔
(۱۵۵۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی : أَنَّ رَجُلاً مِنْ قَوْمِہِ مِنَ الأَنْصَارِ خَرَجَ یُصَلِّی مَعَ قَوْمِہِ الْعِشَائَ فَسَبَتْہُ الْجِنُّ فَفُقِدَ فَانْطَلَقَتِ امْرَأَتُہُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَصَّتْ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَسَأَلَ عَنْہُ عُمَرُ قَوْمَہُ فَقَالُوا : نَعَمْ خَرَجَ یُصَلِّی الْعِشَائَ فَفُقِدَ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِینَ فَلَمَّا مَضَتِ الأَرْبَعُ سِنِینَ أَتَتْہُ فَأَخْبَرَتْہُ فَسَأَلَ قَوْمَہَا فَقَالُوا نَعَمْ فَأَمَرَہَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَائَ زَوْجُہَا یُخَاصِمُ فِی ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَغِیبُ أَحَدُکُمُ الزَّمَانَ الطَّوِیلَ لاَ یَعْلَمُ أَہْلُہُ حَیَاتَہُ۔ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ لِی عُذْرًا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ : وَمَا عُذْرُکَ؟ قَالَ خَرَجْتُ أُصَلِّی الْعِشَائَ فَسَبَتْنِی الْجِنُّ فَلَبِثْتُ فِیہِمْ زَمَانًا طَوِیلاً فَغَزَاہُمْ جِنٌّ مُؤْمِنُونَ أَوْ قَالَ مُسْلِمُونَ شَکَّ سَعِیدٌ فَقَاتَلُوہُمْ فَظَہَرُوا عَلَیْہِمْ فَسَبَوْا مِنْہُمْ سَبَایَا فَسَبَوْنِی فِیمَا سَبَوْا مِنْہُمْ فَقَالُوا نَرَاکَ رَجُلاً مُسْلِمًا وَلاَ یَحِلُّ لَنَا سَبْیَکَ فَخَیَّرُونِی بَیْنَ الْمُقَامِ وَبَیْنَ الَقُفُولِ إِلَی أَہْلِی فَاخْتَرْتُ الْقُفُولَ إِلَی أَہْلِی فَأَقْبَلُوا مَعِی أَمَّا بِاللَّیْلِ فَلَیْسَ یُحَدِّثُونِی وَأَمَّا بِالنَّہَارِ فَعِصَارُ رِیحٍ أَتْبَعُہَا۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَمَا کَانَ طَعَامُکَ فِیہِمْ؟ قَالَ : الْفُولَ وَمَا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ۔ قَالَ : فَمَا کَانَ شَرَابُکَ فِیہِمْ؟ قَالَ : الْجَدَفَ۔ قَالَ قَتَادَۃُ: وَالْجَدَفُ مَا لاَ یُخَمَّرُ مِنَ الشَّرَابِ۔ قَالَ : فَخَیَّرَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ۔
قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنِی مَطَرٌ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَ حَدِیثِ قَتَادَۃَ إِلاَّ أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِیہِ قَالَ : أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِینَ وَأَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ [ضعیف]
قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنِی مَطَرٌ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَ حَدِیثِ قَتَادَۃَ إِلاَّ أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِیہِ قَالَ : أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِینَ وَأَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧١) عمر (رض) سے اسی طرح روایت ہے جس طرح قتادہ نے ابو نضرہ سے روایت کیا ہے اور اس کو ثابت بنانی نے عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ سے مختصر طور پر روایت کیا ہے اور اس میں اضافہ کیا ہے کہ اس کو عمر (رض) نے حق مہر اور اس کی بیوی کے مابین اختیار دیا۔ اس نے حق مہر کو اختیار کیا۔ حماد فرماتے ہیں : میں سمجھتا ہوں کہ اس کو حق مہر بیت المال سے دیا۔
اس کو مجاہد نے اس گم شدہ شخص سے روایت کیا ہے جس کو جن نے قیدی بنا لیا تھا، عمر (رض) سے روایت ہے اور یونس بن یزید کی روایت میں ہے، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب سے روایت ہے، وہ عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں : اگر اس کا خاوند آجائے اور وہ شادی کرچکی ہے تو اس کو اس کی بیوی اور اس کی بیوی کے حق مہر کے درمیان اختیار دیا جائے گا اور اگر وہ حق مہر کو اختیار کرے تو وہ اس عورت کے دوسرے خاوند کے پاس ہوگی اور اگر وہ اپنی بیوی کو اختیار کرے تو وہ عدت گزارے گی حتی کہ وہ حلال ہوجائے۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرے گی اور اس کے لیے اس کے دوسرے خاوند سے حق مہر ہوگا، اس لیے کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا اور ابن شہاب نے فرمایا : اسی کے ساتھ عمر بن خطاب کے بعد عثمان (رض) نے فیصلہ کیا اور مالک بن انس اس کی روایت کا انکار کرتے ہیں جس نے عمر (رض) سے اختیار کے بارے میں روایت کیا ہے۔
اس کو مجاہد نے اس گم شدہ شخص سے روایت کیا ہے جس کو جن نے قیدی بنا لیا تھا، عمر (رض) سے روایت ہے اور یونس بن یزید کی روایت میں ہے، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب سے روایت ہے، وہ عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں : اگر اس کا خاوند آجائے اور وہ شادی کرچکی ہے تو اس کو اس کی بیوی اور اس کی بیوی کے حق مہر کے درمیان اختیار دیا جائے گا اور اگر وہ حق مہر کو اختیار کرے تو وہ اس عورت کے دوسرے خاوند کے پاس ہوگی اور اگر وہ اپنی بیوی کو اختیار کرے تو وہ عدت گزارے گی حتی کہ وہ حلال ہوجائے۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرے گی اور اس کے لیے اس کے دوسرے خاوند سے حق مہر ہوگا، اس لیے کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا اور ابن شہاب نے فرمایا : اسی کے ساتھ عمر بن خطاب کے بعد عثمان (رض) نے فیصلہ کیا اور مالک بن انس اس کی روایت کا انکار کرتے ہیں جس نے عمر (رض) سے اختیار کے بارے میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۵۷۱) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَ مَا رَوَی قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ۔
وَرَوَاہُ ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی مُخْتَصَرًا وَزَادَ فِیہِ قَالَ : فَخَیَّرَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ۔ قَالَ حَمَّادٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : فَأَعْطَاہُ الصَّدَاقَ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ فَذَکَرَہُ۔
وَرَوَاہُ مُجَاہِدٌ عَنِ الْفَقِیدِ الَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الْجِنُّ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ
وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ قَالَ : إِنْ جَائَ زَوْجُہَا وَقَدْ تَزَوَّجَتْ خُیِّرَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَبَیْنَ صَدَاقِہَا فَإِنِ اخْتَارَ الصَّدَاقَ کَانَ عَلَی زَوْجِہَا الآخِرِ وَإِنِ اخْتَارَ امْرَأَتَہُ اعْتَدَّتْ حَتَّی تَحِلَّ ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَکَانَ لَہَا مِنْ زَوْجِہَا الآخِرِ مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَقَضَی بِذَلِکَ عُثْمَانُ بَعْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا وَکَانَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ یُنْکِرُ رِوَایَۃَ مَنْ رَوَی عَنْ عُمَرَ فِی التَّخْیِیرِ۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی مُخْتَصَرًا وَزَادَ فِیہِ قَالَ : فَخَیَّرَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ۔ قَالَ حَمَّادٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : فَأَعْطَاہُ الصَّدَاقَ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ فَذَکَرَہُ۔
وَرَوَاہُ مُجَاہِدٌ عَنِ الْفَقِیدِ الَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الْجِنُّ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ
وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ قَالَ : إِنْ جَائَ زَوْجُہَا وَقَدْ تَزَوَّجَتْ خُیِّرَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَبَیْنَ صَدَاقِہَا فَإِنِ اخْتَارَ الصَّدَاقَ کَانَ عَلَی زَوْجِہَا الآخِرِ وَإِنِ اخْتَارَ امْرَأَتَہُ اعْتَدَّتْ حَتَّی تَحِلَّ ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَکَانَ لَہَا مِنْ زَوْجِہَا الآخِرِ مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَقَضَی بِذَلِکَ عُثْمَانُ بَعْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا وَکَانَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ یُنْکِرُ رِوَایَۃَ مَنْ رَوَی عَنْ عُمَرَ فِی التَّخْیِیرِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧٢) مالک نے ہم کو حدیث بیان کی، فرمایا : میں لوگوں کو پاتا وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے عمر (رض) کے بارے میں کہا ہے کہ انھوں نے کہا : اس کے خاوند کو اختیار دیا جائے گا جب وہ آجائے۔ اگر وہ نکاح کرچکی تو اسے حق مہر میں اور عورت میں اختیار دیا جائے۔ مالک فرماتے ہیں : جب وہ اپنی عدت کے ختم ہونے کے بعد شادی کرے ، اگرچہ اس نے اس کے ساتھ دخول کیا ہے یا نہیں کیا، اس کے پہلے خاوند کے لیے اس کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے اور یہی مسئلہ ہمارے لیے بھی ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں : اگر اس کا خاوند اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے آجائے تو وہی اس کا حق دار ہے۔
(۱۵۵۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ قَالَ : أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَہُمْ یُنْکِرُونَ الَّذِی قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : یُخَیَّرُ زَوْجُہَا إِذَا جَائَ وَقَدْ نَکَحَتْ فِی صَدَاقِہَا وَفِی الْمَرْأَۃِ
قَالَ مَالِکٌ : إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَائِ الْعِدَّۃِ فَإِنْ دَخَلَ بِہَا أَوْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَلاَ سَبِیلَ لِزَوْجِہَا الأَوَّلِ إِلَیْہَا وَذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنْ جَائَ زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔ [صحیح]
قَالَ مَالِکٌ : إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَائِ الْعِدَّۃِ فَإِنْ دَخَلَ بِہَا أَوْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَلاَ سَبِیلَ لِزَوْجِہَا الأَوَّلِ إِلَیْہَا وَذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنْ جَائَ زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧٣) ہم کو ربیع نے خبردی میں نے امام شافعی سے کہا : ہمارے ساتھی نے کہا ہے : میں پاتا ہوں جو انکار کرتے ہیں جو بعض لوگوں نے عمر (رض) کے بارے میں کہا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : ہم نے دیکھا ہے جو عمر (رض) کے فیصلے کا انکار کرتا ہے ان تمام کا گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں اور وہ کہتا ہے : یہ اس کے مشابہ نہیں ہے کہ وہ عمر (رض) کے فیصلے میں سے ہو۔ ثقہ راویوں نے جب اس کو عمر (رض) سے بیان کیا ہو، پھر ان کو تہمت نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح حجت آپ پر ہوگی اور یہ کیسے جائز ہے کہ ثقہ راوی عمر (رض) سے ایک حدیث روایت کریں اور ہم اس کے بعض کو لیں اور بعض کو چھوڑ دیں۔
(۱۵۵۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنَّ صَاحِبَنَا قَالَ أَدْرَکْتُ مَنْ یُنْکِرُ مَا قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَقَدْ رَأَیْنَا مَنْ یُنْکِرُ قَضِیَّۃَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّہَا فِی الْمَفْقُودِ وَیَقُولُ ہَذَا لاَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ مِنْ قَضَائِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَہَلْ کَانَتِ الْحُجَّۃُ عَلَیْہِ إِلاَّ أَنَّ الثِّقَاتَ إِذَا حَمَلُوا ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یُتَّہَمُوا فَکَذَلِکَ الْحُجَّۃُ عَلَیْکَ وَکَیْفَ جَازَ أَنْ یَرْوِیَ الثِّقَاتُ عَنْ عُمَرَ حَدِیثًا وَاحِدًا فَنَأْخُذُ بِبَعْضِہِ وَنَدَعُ بَعْضًا۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧٤) شعبی مسروق سے روایت کرتے ہیں یا فرمایا : میں گمان کرتا ہوں کہ مسروق سے روایت ہے کہ اگر عمر (رض) نے گم شدہ خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار نہ دیا ہوتا۔ تو میں سمجھتا وہ اس کا زیادہ حق دارہوتا جب وہ آجاتا۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی ایسی عورت ہے جس کی آزمائش کی گئی ہے، وہ صبر کرے وہ نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہی ہم کہتے ہیں۔
امام بیہقی نے فرمایا : اور روایت کیا ہے قتادہ نے خلاس بن عمرو سے، ابوملیح سے اور علی (رض) سے فرماتے ہیں : جب اس کا پہلا خاوند آجائے تو اسے دوسرے حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔
اور خلاس کی روایت علی سے ضعیف ہے اور ابوملیح نے علی (رض) سے نہیں سنا۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : گم شدہ خاوند کی بیوی ایسی عورت ہے جس کی آزمائش کی گئی ہے، وہ صبر کرے وہ نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہی ہم کہتے ہیں۔
امام بیہقی نے فرمایا : اور روایت کیا ہے قتادہ نے خلاس بن عمرو سے، ابوملیح سے اور علی (رض) سے فرماتے ہیں : جب اس کا پہلا خاوند آجائے تو اسے دوسرے حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔
اور خلاس کی روایت علی سے ضعیف ہے اور ابوملیح نے علی (رض) سے نہیں سنا۔
(۱۵۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ أَوْ قَالَ أَظُنُّہُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : لَوْلاَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَیَّرَ الْمَفْقُودَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَالصَّدَاقِ لَرَأَیْتُ أَنَّہُ أَحَقُّ بِہَا إِذَا جَائَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : امْرَأَۃٌ ابْتُلِیَتْ فَلْتَصْبِرْ لاَ تَنْکِحُ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ۔ قَالَ : وَبِہَذَا نَقُولُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَی قَتَادَۃُ عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو وَعَنْ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا جَائَ الأَوَّلُ خُیِّرَ بَیْنَ الصَّدَاقِ الأَخِیرِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ۔
وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ ضَعِیفَۃٌ وَأَبُو الْمَلِیحِ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : امْرَأَۃٌ ابْتُلِیَتْ فَلْتَصْبِرْ لاَ تَنْکِحُ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ۔ قَالَ : وَبِہَذَا نَقُولُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَی قَتَادَۃُ عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو وَعَنْ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا جَائَ الأَوَّلُ خُیِّرَ بَیْنَ الصَّدَاقِ الأَخِیرِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ۔
وَرِوَایَۃُ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ ضَعِیفَۃٌ وَأَبُو الْمَلِیحِ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا : گم شدہ کو اختیار ہے جب وہ اس کے اور حق مہر کے درمیان آجائے اور جس نے اس کا انکار کیا ہے
(١٥٥٧٥) یحییٰ بن ابو طالب نے حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ ابو نصر عبدالوہاب بن عطاء نے کہا : میں نے سعید سے گم شدہ خاوند کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے ہم کو قتادہ سے خبر دی کہ ابو ملیح ہذلی نے کہا : مجھے حکم بن ایوب سہمیہ کی طرف بھیجا۔ میں نے اس سے سوال کیا، اس نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس کا خاوند صیفی بن قتیل کے فوت ہونے کا قندابل سے اس کے لیے اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد عباس بن طریف قیسی نے اس سے شادی کرلی ۔ پھر اس کا پہلا خاوند بھی آگیا۔ ہم عثمان بن عفان (رض) کے پاس آئے اور وہ قید میں تھے۔ انھوں نے ہمارے اوپر جھانکا اور فرمایا : میں تمہارے درمیان کیسے فیصلہ کروں اور میں اس حال میں ہوں۔ ہم نے کہا : ہم آپ کے فرمان کے ساتھ راضی ہوجائیں گے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خاوند کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پھر عثمان (رض) نے فرمایا : پہلے خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار دیا گیا ہے۔ اس نے حق مہر کو اختیار کیا ۔ اس نے مجھ سے دو ہزار لیے اور میرے خاوند سے بھی دو ہزار لیے اور وہ اس کا حق مہر تھا جو اس نے عورت کو دیا تھا۔ فرماتے ہیں : وہ اس کے لیے ام ولد رہی ۔ اس نے اس کے بعد شادی کرلی۔ اس نے اس کے لیے اولاد کو جنم دیا۔ اس نے اس کو اس پر لوٹا دیا اور عبدالوہاب نے فرمایا : سعید نے کہا : ہم کو ایوب نے ابو الملیح سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ اس کے علاوہ ایوب نے کہا : کیا اس کی اولاد کو ان کے باپ کے لیے فرمایا : قتادہ فرماتے تھے : وہ دوسرے کا حق مہر لے اور قتادہ سے عن حسن سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : وہ پہلے کا حق مہر لے۔
(۱۵۵۷۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ قَالَ أَبُو نَصْرٍ یَعْنِی عَبْدَ الْوَہَّابِ بْنَ عَطَائٍ سَأَلْتُ سَعِیدًا عَنِ الْمَفْقُودِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ الْہُذَلِیِّ أَنَّہُ قَالَ : بَعَثَنِی الْحَکَمُ بْنُ أَیُّوبَ إِلَی سُہَیْمَۃَ بِنْتِ عُمَیْرٍ الشَّیْبَانِیَّۃِ أَسْأَلُہَا فَحَدَّثَتْنِی أَنَّ زَوْجَہَا صَیْفِیَّ بْنَ قَتِیلٍ نُعِیَ لَہَا مِنْ قَنْدَابِلَ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِیفٍ الْقَیْسِیَّ ثُمَّ إِنَّ زَوْجَہَا الأَوَّلَ قَدِمَ فَأَتَیْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مَحْصُورٌ فَأَشْرَفَ عَلَیْنَا فَقَالَ : کَیْفَ أَقْضِی بَیْنَکُمْ وَأَنَا عَلَی ہَذِہِ الْحَالِ؟ فَقُلْنَا : قَدْ رَضِینَا بِقَوْلِکَ فَقَضَی أَنْ یُخَیَّرَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَیْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَضَی بِمَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خُیِّرَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَبَیْنَ الصَّدَاقِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّی أَلْفَیْنِ وَمِنْ زَوْجِی أَلْفَیْنِ وَہُوَ صَدَاقُہُ الَّذِی کَانَ جَعَلَ لِلْمَرْأَۃِ۔ قَالَ : وَکَانَتْ لَہُ أُمُّ وَلَدٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ مِنْ بَعْدِہِ وَوَلَدَتْ لِزَوْجِہَا أَوْلاَدًا فَرَدَّہَا عَلَیْہِ وَوَلَدَہَا وَجَعَلَ لأَبِیہِمْ أَنْ یَفْتَکَّہُمْ۔
قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرَ أَنَّ أَیُّوبَ قَالَ قَالَ : جَعَلَ أَوْلاَدَہَا لأَبِیہِمْ۔قَالَ وَکَانَ قَتَادَۃُ یَقُولُ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الآخِرَ۔وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الأَوَّلَ۔ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ لَمْ تُعْرَفْ بِمَا تَثْبُتُ بِہِ رِوَایَتُہَا ہَذِہِ وَإِنْ ثَبَتَتَ تُضَعِّفُ رِوَایَۃَ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلَۃٌ فِی الْمَفْقُودِ فَإِنَّ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی امْرَأَۃٍ نُعِیَ لَہَا زَوْجُہَا وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرَ أَنَّ أَیُّوبَ قَالَ قَالَ : جَعَلَ أَوْلاَدَہَا لأَبِیہِمْ۔قَالَ وَکَانَ قَتَادَۃُ یَقُولُ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الآخِرَ۔وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الأَوَّلَ۔ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ لَمْ تُعْرَفْ بِمَا تَثْبُتُ بِہِ رِوَایَتُہَا ہَذِہِ وَإِنْ ثَبَتَتَ تُضَعِّفُ رِوَایَۃَ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلَۃٌ فِی الْمَفْقُودِ فَإِنَّ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی امْرَأَۃٍ نُعِیَ لَہَا زَوْجُہَا وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کے استبرائے رحم کا بیان
(١٥٥٧٦) ابن عمر (رض) نے ام ولد کے بارے میں فرمایا : اس کا مالک فوت ہوگیا ہے وہ ایک حیض عدت گزارے۔
(۱۵۵۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ فِی أُمِّ الْوَلَدِ یُتَوَفَّی عَنْہَا سَیِّدُہَا : تَعْتَدُّ بِحَیْضَۃٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کے استبرائے رحم کا بیان
(١٥٥٧٧) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ام ولد (وہ لونڈی جو بچے کی ماں ہو) کی عدت ایک حیض ہے۔
(۱۵۵۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عِدَّۃُ أُمِّ الْوَلَدِ بِحَیْضَۃٍ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক: