আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৭ টি

হাদীস নং: ১৫৪২৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عمر کا بیان جس میں عورت کو حیض آنا ممکن ہے

امام شافعی فرماتے ہیں : سب سے زیادہ جلد میں نے جس کے بارے میں سنا ہے وہ تہامہ علاقے کی عورتیں ہیں وہ نو سال کی عمر میں حائضہ ہوجاتی ہیں۔
(١٥٤١٨) لیث سے روایت ہے ابو صالح نے اس کو ایک آدمی سے حدیث بیان کی اور کہا کہ اس کو اس نے خبر دی کہ اس کی بیٹی حاملہ ہوگئی اور اس کی عمر دس سال تھی۔
(۱۵۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَہُ عَنْ رَجُلٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ ابْنَۃً لَہُ حَمَلَتْ وَہِیَ ابْنَۃُ عَشْرِ سِنِینَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عمر کا بیان جس میں عورت کو حیض آنا ممکن ہے

امام شافعی فرماتے ہیں : سب سے زیادہ جلد میں نے جس کے بارے میں سنا ہے وہ تہامہ علاقے کی عورتیں ہیں وہ نو سال کی عمر میں حائضہ ہوجاتی ہیں۔
(١٥٤١٩) ابو سعید خولانی فرماتے ہیں : مجھے ابن وہب نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : مجھے لیث نے حدیث بیان کی لیث فرماتے ہیں : مجھے میرے کاتب عبداللہ بن صالح نے حدیث بیان کی کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت حاملہ ہوگئی اور اس کی عمر نو سال تھی اور ہم نے ان ساری حکایات کو کتاب الحیض میں ذکر کردیا ہے۔
(۱۵۴۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو سَعِیدٍ الأَحْدَبُ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی کَاتِبِی عَبْدُاللَّہِ بْنُ صَالِحٍ: أَنَّ امْرَأَۃً فِی جِوَارِہِمْ حَمَلَتْ وَہِیَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ۔ وَقَدْ ذَکَرْنَا سَائِرَ الْحِکَایَاتِ فِیہِ فِی کِتَابِ الْحَیْضِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ حاملہ عورت کی عدت کا بیان

طلاق شدہ عورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : { وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } ” اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ “
(١٥٤٢٠) ام کلثوم بنت عقبہ سے روایت ہے کہ وہ زبیر کے نکاح میں تھی۔ وہ آئی اور وہ وضو کررہا تھا۔ اس نے کہا، میں پسند کرتی ہوں کہ اپنے آپ کو طلاق کے ساتھ پاک کرلوں اس نے دے دی اور وہ حاملہ تھی۔ وہ مسجد کی طرف چلا گیا اور جب وہ آیا تو وہ اس کو جنم دے چکی تھی جو اس کے پیٹ میں تھا۔ پس وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے اس معاملے کا ذکر کیا جو ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتاب اس کی مدت کو پہنچ گئی ہے یعنی اس کی عدت ختم ہوگئی ہے۔ اس نے کہا : اس نے مجھے دھوکا دیا، اللہ اس کے ساتھ دھوکا کرے۔
(۱۵۴۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ الْہَیْثَمِ أَنَّ إِبْرَاہِیمَ بْنَ أَبِی اللَّیْثِ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَۃَ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَائَ تْہُ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَقَالَتْ: إِنِّی أُحِبُّ أَنْ تَطِیبَ نَفْسِی بِتَطْلِیقَۃٍ فَفَعَلَ وَہِیَ حَامِلٌ فَذَہَبَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَجَائَ وَقَدْ وَضَعَتْ مَا فِی بَطْنِہَا فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ لَہُ مَا صَنَعَ فَقَالَ: بَلَغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ فَاخْطُبْہَا إِلَی نَفْسِہَا۔ فَقَالَ: خَدَعَتْنِی خَدَعَہَا اللَّہُ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ الرَّقِّیِّ عَنْ عَبْدِالْمَلَکِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ وَرُوِیَ فِی مَعْنَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو نامکمل بچہ جن دے
(١٥٤٢١) عبداللہ سے روایت ہے کہ صادق مصدوق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہاری تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر وہ لوتھڑا بن جاتا ہے اسی طرح پھر وہ ہڈی اور گوشتبن جاتا ہے۔ پھر اللہ فرشتے کو بھیجتے ہیں وہ اس میں اس کی روح کو پھونکتا ہے۔ پھر وہ چار کلمات کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے : اس کے رزق کے لکھنے کا اور اس کے عمل کے اور اس کی موت کے لکھنے کا اور وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے بیشک تمہارا کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا ہے اور اس کے جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، پھر اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل کے ساتھ کردیا جاتا ہے وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے اور بیشک تمہارا کوئی شخص اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے اور اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے اور اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل کے ساتھ کردیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔

اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِی بَطْنِ أُمِّہِ أَرْبَعِینَ یَوْمًا ثُمَّ تَکُونُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ تَکُونُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ الْمَلَکَ فَیَنْفُخُ فِیہِ الرُّوحَ ثُمَّ یُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ کَتْبِ رِزْقِہِ وَعَمَلِہِ وَأَجَلِہِ وَشَقِیٌّ ہُوَ أَمْ سَعِیدٌ فَوَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتَّی مَا یَکُونُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتَّی مَا یَکُونُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو نامکمل بچہ جن دے
(١٥٤٢٢) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے رحم کو فرشتے کے حوالہ کردیا ہے۔ وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! نطفہ ہے، اے میرے رب ! لوتھڑا ہے، اے میرے رب ! بوٹی ہے۔ پس جب اللہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب ! کیا مذکر یا مونث ؟ کیا بدبخت ہو یا نیک بخت ہو، پس اس کا رزق کتنا ہو، اس کی موت کا کیا وقت ہو ؟ یہ سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔
(۱۵۴۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ وَکَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَکًا یَقُولُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃً أَیْ رَبِّ عَلَقَۃً أَیْ رَبِّ مُضْغَۃً فَإِذَا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقَہَا قَالَ : یَا رَبِّ أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثَی أَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو نامکمل بچہ جن دے
(١٥٤٢٣) حذیفہ بن اسید (رض) سے روایت ہے، وہ اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچاتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے کو نطفے پر نگران مقرر کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب وہ رحم میں چالیس یا پینتالیس دن تک قرار پکڑتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب ! کیا ہے یہ بدبخت ہے یا نیک بخت ؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : پھر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ بدبخت ہے یا نیک بخت ؟ پھر وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! مرد ہو یا عورت ہو، پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت۔ پھر اس کا عمل اور اس کی موت کا وقت بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا رزق اور اس نے جو اثرات پیچھے چھوڑنے ہیں، یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر صحیفے اٹھا دیے جاتے ہیں اور نہ اس میں کچھ کمی ہوتی ہے اور نہ کچھ زیادتی۔

اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : یُوَکَّلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَۃِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِی الرَّحِمِ بِأَرْبَعِینَ یَوْمًا أَوْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ مَاذَا أَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیدٌ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَیَکْتُبَانِ ثُمَّ یَقُولُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَمْ أُنْثَی فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَیَکْتُبَانِ فَیُکْتَبُ عَمَلُہُ وَأَجَلُہُ وَرِزْقُہُ وَأَثَرُہُ ثُمَّ تُرْفَعُ الصُّحُفُ فَلاَ یُزَادُ فِیہَا وَلاَ یُنْقَصُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو نامکمل بچہ جن دے
(١٥٤٢٤) ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ عامر بن واثلہ نے اس کو حدیث بیان کی کہ اس نے عبداللہ بن مسعود سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت ہے اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جس کو اس کے علاوہ نصیحت کی جائے۔ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے آیا، اس کا نام حذیفہ بن اسید غفاری تھا۔ اس نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے اس قول کو بیان کیا اور کہا کہ کس طرح آدمی بغیر عمل کیے بدبخت ہوسکتا ہے ؟ اس کو ایک شخص نے کہا : کیا تو اس پر تعجب کرتا ہے ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : جب نطفہ پر بیالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ اس کی صورت بناتا ہے اس کے کان بناتا ہے اس کی آنکھیں بناتا ہے اور اس کی کھال اس کی ہڈیاں اور اس کا گوشت بناتا ہے۔ پھر کہتا ہے : اے میرے رب ! مذکر ہو یا مونث، تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! اس کی موت کا وقت ؟ تیرا رب فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ پھر فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب ! اس کا رزق کتنا ہے ؟ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ (اس کو) لکھ دیتا ہے۔ پھر صحیفہ کو اس کے ہاتھ میں اٹھا دیا جاتا ہے، پس اس معاملے پر نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے۔

اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : الشَّقِیُّ مَنْ شَقِیَ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَالسَّعِیدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہِ فَأَتَی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُقَالُ لَہُ حُذَیْفَۃُ بْنُ أَسِیدٍ الْغِفَارِیُّ فَحَدَّثَہُ بِذَلِکَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ : کَیْفَ یَشْقَی رَجُلٌ بِغَیْرِ عَمَلِہِ؟ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَۃِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَیْلَۃً بَعَثَ اللَّہُ إِلَیْہَا مَلَکًا فَصَوَّرَہَا وَخَلَقَ سَمْعَہَا وَبَصَرَہَا وَجِلْدَہَا وَلَحْمَہَا وَعَظْمَہَا ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثَی فَیَقْضِی رَبُّکَ مَا شَائَ اللَّہُ وَیَکْتُبُ الْمَلَکُ فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ أَجَلُہُ فَیَقُولُ رَبُّکَ مَا شَائَ وَیَکْتُبُ الْمَلَکُ فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ رِزْقُہُ فَیَقْضِی رَبُّکَ مَا شَائَ وَیَکْتُبُ ثُمَّ یَخْرُجُ بِالصَّحِیفَۃِ فِی یَدِہِ فَلاَ یَزِیدُ عَلَی أَمْرِہِ وَلاَ یَنْقُصُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو نامکمل بچہ جن دے
(١٥٤٢٥) اور ذکر کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کی عدت یہ ہے کہ وہ اس کو جنم دے جو اس کے پیٹ میں ہے۔
(۱۵۴۲۵) وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : أَجَلُ کُلِّ حَامِلٍ أَنْ تَضَعَ مَا فِی بَطْنِہَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٢٦) عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا، اس کو ایک دوسرے شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے اس سے شادی کرلی، وہ ٹھہری رہی ساڑھے چار مہینے، پھر اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ پس یہ معاملہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس پہنچا، انھوں نے عورت کی طرف (قاصد) بھیجا اور اس سے سوال کیا، اس نے کہا : اللہ کی قسم یہ میرا بچہ ہے، عمر (رض) نے عورت کے بارے میں سوال کیا اور ان کو اس عورت کے بارے میں خیر کی خبر دی گئی۔ پھر انھوں نے جاہلیت کی طرف عورتوں کی پیغام بھیجا، ان کو جمع کیا اور ان سے اس کے معاملے اور اس کی خبر کے بارے میں سوال کیا تو ایک عورت نے ان میں سے اس عورت سے کہا : کیا تو حائضہ ہوئی تھی، اس نے کہا : ہاں میں حائضہ ہوئی تھی۔ اس عورت نے کہا کب تیرے خاوند کے ہوتے ہوئے تیرے ساتھ یہ معاملہ ہوا اس نے کہا : اس کے وفات پانے سے پہلے، اس عورت نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں آپ کو اس کی خبر دیتی ہوں، یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے حاملہ ہوئی اور یہ اس پر خون کو بہاتی تھی اس کا بچہ خون کے بہہ جانے کی وجہ سے سوکھ گیا حتیٰ کہ جب اس نے دوسرے خاوند سے شادی کی اس کو اس خاوند سے پانی پہنچا، یہ پھر سے تر و تازہ ہوگیا اور حرکت کرنے لگا اور اس وجہ سے اس کا خون بھی بند ہوگیا، پس جب اس نے بچہ جنا ہے تو بچہ مکمل چھ ماہ کا جنم دیا ہے۔ عورتوں نے کہا : اس نے اس کے معاملے کو سچا بیان کیا ہے۔ پس عمر (رض) ان دونوں کو جدا کردیا۔
(۱۵۴۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ زَوْجُہَا فَعَرَّضَ لَہَا رَجُلٌ بِالْخِطْبَۃِ حَتَّی إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجَہَا فَلَبِثَتْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَنِصْفًا ثُمَّ وَلَدَتْ فَبَلَغَ شَأْنُہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی الْمَرْأَۃِ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ : ہُوَ وَاللَّہِ وَلَدُہُ۔ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنِ الْمَرْأَۃِ فَلَمْ یُخْبَرْ عَنْہَا إِلاَّ خَیْرًا ثُمَّ إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلَی نِسَائِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَجَمَعَہُنَّ ثُمَّ سَأَلَہُنَّ عَنْ شَأْنِہَا وَخَبَرِہَا فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ لَہَا : ہَلْ کُنْتِ تَحِیضِینَ؟ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَتْ : مَتَی عَہْدُکِ بِزَوْجِکِ؟ قَالَتْ : قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔ قَالَتْ : أَنَا أُخْبِرُکَ خَبَرَ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ حَمَلَتْ مِنْ زَوْجِہَا وَکَانَتْ تُہَرَاقُ عَلَیْہِ فَحَشَّ وَلَدُہَا عَلَی الْہِرَاقَۃِ حَتَّی إِذَا تَزَوَّجَتْ وَأَصَابَہُ الْمَاء ُ مِنْ زَوْجِہَا انْتَعَشَ وَتَحَرَّکَ عِنْدَ ذَلِکَ فَانْقَطَعَ عَنْہَا الدَّمُ فَہِیَ حِینَ وَلَدَتْ وَلَدَتْہُ لِتَمَامِ سِتَّۃِ أَشْہُرٍ قَالَتِ النِّسَاء ُ : صَدَقَتْ ہَذَا شَأْنُہَا فَفَرَّقَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَہُمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٢٧) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں بیٹھی ہوئی اون کات رہی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے جوتے کو پیوند لگا رہے تھے آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگنے لگا اور آپ کے پسینے سے روشنی پھوٹ رہی تھی ۔ میں حیرانی سے خاموش ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے عائشہ ! کس چیز نے تجھے حیران کیا ہے ؟ میں نے کہا : آپ کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے اور اس پسینے سے نکلنے والی روشنی نے اور اگر آپ کو ابو کبیر ذہلی دیکھ لیتا تو وہ جان جاتا کہ آپ اس کے شعر کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو کبیر نے کیا کہا ہے ؟ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ کہتا ہے :

” اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔ “

عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔
(۱۵۴۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الْمُحْتَسِبُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ خُزَیْمَۃَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّی التَّیْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنْتُ قَاعِدَۃً أَغْزِلُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یَخْصِفُ نَعْلَہُ فَجَعَلَ جَبِینُہُ یَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُہُ یَتَوَلَّدُ نُورًا فَبُہِتُّ فَنَظَرَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا لَکِ یَا عَائِشَۃُ بُہِتِّ؟ ۔ قُلْتُ : جَعَلَ جَبِینُکَ یَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُکَ یَتَوَلَّدُ نُورًا وَلَوْ رَآکَ أَبُو کَبِیرٍ الْہُذَلِیُّ لَعَلِمَ أَنَّکَ أَحَقُّ بِشِعْرِہِ۔ قَالَ : وَمَا یَقُولُ أَبُو کَبِیرٍ؟ ۔ قَالَتْ قُلْتُ یَقُولُ :

وَمُبَرَّأً مِنْ کُلِّ غُبَّرِ حَیْضَۃٍ وَفَسَادِ مُرْضِعَۃٍ وَدَائٍ مُغْیِلِ

فَإِذَا نَظَرْتَ إِلَی أَسِرَّۃِ وَجْہِہِ بَرَقَتْ کَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَہَلِّلِ

قَالَتْ فَقَامَ إِلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَبَّلَ بَیْنَ عَیْنَیَّ وَقَالَ: جَزَاکِ اللَّہُ یَا عَائِشَۃُ عَنِّی خَیْرًا مَا سُرِرْتِ مِنِّی کَسُرُورِی مِنْکِ ۔ فَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ ابْتِدَائَ الْحَمْلِ قَدْ یَکُونُ فِی حَالِ الْحَیْضِ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- لَمْ یُنْکِرْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٢٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ عائشہ (رض) سے روایت ہے، ان سے اس حاملہ عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو خون کو دیکھتی ہے کیا وہ نماز پڑھے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں جب تک اس کا خون بند نہ ہوجائے وہ نماز نہ پڑھے۔
(۱۵۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ

(ح) وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ لَہِیعَۃَ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أُمِّ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنِ الْحَامِلِ تَرَی الدَّمَ أَتُصَلِّی؟ فَقَالَتْ : لاَ حَتَّی یَذْہَبَ عَنْہَا الدَّمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٢٩) عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب حاملہ عورت خون کو دیکھے تو وہ نماز سے رک جائے۔
(۱۵۴۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ وَرَوَی إِسْحَاقُ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ عَدِیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِذَا رَأَتِ الْحَامِلُ الدَّمَ تَکُفُّ عَنِ الصَّلاَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٠) عائشہ (رض) سے روایت ہے حاملہ عورت جب خون کو دیکھے تو نماز سے رک جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے۔
(۱۵۴۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : لاَ یَخْتَلِفُ عِنْدَنَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی أَنَّ الْحَامِلَ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَنَّہَا تُمْسِکُ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَطْہُرَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣١) انس (رض) سے حاملہ عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب وہ خون کو دیکھے تو نماز کو چھوڑ سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
(۱۵۴۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ أَبِی عِقَالٍ عَنْ أَنَسٍ : وَسُئِلَ عَنِ الْحَامِلِ أَتَتْرُکُ الصَّلاَۃَ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٢) عائشہ (رض) سے حاملہ عورت کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ خون کو دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔
(۱۵۴۳۲) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ وَحَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ فِی الْحَامِلِ إِذَا رَأَتْ دَمًا : فَإِنَّہَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّی۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৩৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٣) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہا : میں حائضہ ہوں اور میں حاملہ بھی ہوں۔ عائشہ (رض) نے فرمایا : تو غسل کر اور نماز پڑھ، حاملہ عورت حائضہ نہیں ہوتی۔
(۱۵۴۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْہَا فَقَالَتْ : إِنِّی أَحِیضُ وَأَنَا حُبْلَی۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : اغْتَسِلِی وَصَلِّی فَإِنَّ الْحُبْلَی لاَ تَحِیضُ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৪০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٤) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حاملہ کو حیض نہیں آتا جب وہ خون کو دیکھے تو وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
(۱۵۴۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ وَالْحَوْضِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : الْحَامِلُ لاَ تَحِیضُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّی۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৪১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٥) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے ذکر کی، انھوں نے اس کا انکار کیا۔
(۱۵۴۳۵) فَہَکَذَا رَوَاہُ مَطَرٌ الوَرَّاقُ وَسُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَدْ ضَعَّفَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ ہَاتَیْنِ الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ عَطَائٍ ۔أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْمُطَرِّزُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔

قَالَ ہَمَّامٌ : ذَکَرْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ لِیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَأَنْکَرَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৪২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٦) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حاملہ عورت حائضہ نہیں ہوتی، جب وہ خون دیکھے تو نماز پڑھے۔
(۱۵۴۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عِصْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ : أَحْمَدُ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ حَدِیثِ ہَمَّامٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : الْحَامِلُ لاَ تَحِیضُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ صَلَّتْ۔ قَالَ : کَانَ یَحْیَی یَعْنِی الْقَطَّانَ یُضَعِّفُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی وَمَطَرًا عَنْ عَطَائٍ یَعْنِی کَانَ یُضَعِّفُ رِوَایَتَہُمَا عَنْ عَطَائٍ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৪৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت حمل میں عورت کو حیض آنے کا بیان
(١٥٤٣٧) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں : مجھے احمد بن حنبل نے کہا : آپ حاملہ عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو خون کو دیکھتی ہے۔ میں نے کہا : وہ نماز پڑھے گی اور میں نے اس خبر کو دلیل بنایا ہے جو عطاء عن عائشہ کی سند سے آئی ہے۔ فرماتے ہیں : مجھے احمد بن حنبل نے کہا : تو کہاں (پھر رہا) ہے مدنیین کی خبر سے جو عن علقمہ عن عائشہ کی سند سے آئی ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ اسحاق فرماتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کے قول کی طرف رجوع کرلیا۔
(۱۵۴۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْمُؤَذِّنَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ یَقُولُ سَمِعْتُ عُبَیْدَۃَ بْنَ الطَّیِّبِ یَقُولُ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیَّ یَقُولُ قَالَ لِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : مَا تَقُولُ فِی الْحَامِلِ تَرَی الدَّمَ؟ قُلْتُ : تُصَلِّی وَاحْتَجَجْتُ بِخَبَرِ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔

قَالَ فَقَالَ لِی أَحْمَدُ : أَیْنَ أَنْتَ عَنْ خَبَرِ الْمَدَنِیِّینَ خَبَرِ أُمِّ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَإِنَّہُ أَصَحُّ۔

قَالَ إِسْحَاقُ فَرَجَعْتُ إِلَی قَوْلِ أَحْمَدَ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَأَمَّا رِوَایَۃُ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ عَطَائٍ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ یَتَفَرَّدُ بِہَا عَنْہُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعِیفٌ۔ وَقَدْ رَوَی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ فِی الْحَامِلِ تَرَی الدَّمَ قَالَ : ہِیَ بِمَنْزِلَۃِ الْمُسْتَحَاضَۃِ وَرَوَی الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِذَا رَأَتِ الْحَامِلُ الدَّمَ فَإِنَّہَا تَتَوَضَّأُ وَتُصَلِّی وَلاَ تَغْتَسِلُ۔ وَہَذَا یُخَالِفُ رِوَایَۃَ مَنْ رَوَی عَنْہُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی الْغُسْلِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: