আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৭ টি

হাদীস নং: ১৫৪৬৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کی عدت کا بیان
(١٥٤٥٨) مالک سے روایت ہے کہ اس کو یہ بات پہنچی کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار فرماتے ہیں : لونڈی کی عدت جب اس کا خاوند ہلاک ہوجائے تو دو ماہ اور پانچ راتیں ہے۔
(۱۵۴۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ کَانَا یَقُولاَنِ : عِدَّۃُ الأَمَۃِ إِذَا ہَلَکَ عَنْہَا زَوْجُہَا شَہْرَانِ وَخَمْسُ لَیَالٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کی عدت کا بیان
(١٥٤٥٩) امام بیہقی فرماتے ہیں : ہمیں مالک نے ابن شہاب سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور وہ حدیث ہم کو ایک دوسری سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ سعید بن مسیب ، حسن اور شعبی سے اور اللہ بہتر جاننے والا ہے۔
(۱۵۴۵۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَیْضًا مِثْلَ ذَلِکَ۔ وَرُوِّینَاہُ من وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالْحَسَنِ وَالشَّعْبِیِّ رَحِمَہُمُ اللَّہُ تَعَالَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٠) ابو ملیکہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر نے کہا : میں نے عثمان بن عفان (رض) کے لیے کہا : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا } اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے تو کس لیے اس کو لکھ رہا ہے یا تو اس کو چھوڑ رہا ہے ؟ اس نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں کسی چیز کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کرسکتا اور علی (رض) کی ایک روایت میں ہے کہ آپ اس کو کیوں لکھ رہے ہیں اور اس کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا } ” اور وہ تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں یعنی عدت گزاریں۔ “[البقرۃ ٢٣٤]

اس کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں امیہبن بسطام سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاء ُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ الشَّہِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ قُلْتُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَدْ نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الأُخْرَی فَلِمَ تَکْتُبُہَا أَوْ تَدَعُہَا قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی لاَ أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْہُ مِنْ مَکَانِہِ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَلِیٍّ لِمَ تَکْتُبُہَا وَقَدْ نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الأُخْرَی {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ بِسْطَامَ۔ [صحیح۴۵۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦١) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ } [البقرۃ ٢٤٠] یہ آیت وراثت کی آیات سے منسوخ ہوچکی ہے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے ربع اور ثمن، یعنی چوتھا حصہ اور آٹھواں حصہ اور سال کی عدت کو منسوخ کردیا گیا ہے اس کے ساتھ کہ اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کی گئی ہے۔
(۱۵۴۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِیَّۃً لأَزْوَاجِہِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ} فَنُسِخَ ذَلِکَ بِآیَۃِ الْمَوَارِیثِ مَا فُرِضَ لَہُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٢) ابن عباس (رض) اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : جب آدمی فوت ہوجاتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے تو وہ ایک سال اسی کے گھر میں عدت گزارتی وہ اس پر خرچ کرتے ہیں اسی کے مال سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا } [البقرۃ ٢٣٤] نازل فرمائی : ” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں۔ “

یہ عدت اس عورت کی مقرر ہوئی جس کا خاوند فوت ہوجائے مگر حاملہ عورت کی عدت وہ ہے کہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو جن دے۔

اس کی وراثت کے بارے میں فرمایا : { وَ لَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ } ” اور ان کے لیے چھوتھائی حصہ ہے، اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی وراثت کو بیان کردیا اور وصیت اور نفقے کو چھوڑ دیا۔ “
(۱۵۴۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ وَتَرَکَ امْرَأَتَہُ اعْتَدَّتِ السَّنَۃَ فِی بَیْتِہِ یُنْفِقُ عَلَیْہَا مِنْ مَالِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ بَعْدَ ذَلِکَ {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنْ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا} فَہَذِہِ عِدَّۃُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا إِلاَّ أَنْ تَکُونَ حَامِلاً فَعِدَّتُہَا أَنْ تَضَعَ مَا فِی بَطْنِہَا وَقَالَ فِی مِیرَاثِہَا {وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ} فَبَیَّنَ اللَّہُ مِیرَاثَ الْمَرْأَۃِ وَتَرَکَ الْوَصِیَّۃَ والنَّفَقَۃَ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৬৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٣) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو وہاں خطاب کیا اور سورة بقرۃ کی ان پر تلاوت کی اور ان کے لیے کھول کر بیان کیا اور جب اس آیت پر پہنچے : { اِنْ تَرَکَ خَیْرَ نِ الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ } [البقرۃ ١٨٠] ” اگر وہ مال چھوڑیں تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت ہے۔ “ فرمایا : ” یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ “ پھر تلاوت کی حتی کہ اس آیت پر پہنچے : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ } [البقرۃ ٢٤٠] پھر فرمایا : یہ آیت بھی منسوخ ہوچکی ہے۔
(۱۵۴۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ وَہُوَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ہَا ہُنَا فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَبَیَّنَ لَہُمْ مِنْہَا فَأَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِینَ} فَقَالَ: نُسِخَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ ثُمَّ قَرَأَ حَتَّی أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ ( وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا) إِلَی قَوْلِہِ {غَیْرَ إِخْرَاجٍ} فَقَالَ وَہَذِہِ الآیَۃُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٤) زینب بنت ام سلمہ (رض) اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ انھوں نے اس کی آنکھوں کے بارے میں خوف محسوس کیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت چاہی کہ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ سرمہ نہ لگائے۔ تمہاری ایک برے کمبل اور بدترین گھر میں ٹھہری رہتی اور جب سال ہوجاتا تو ایک کتا گزرتا اس کی لید اس کو مارتے تو وہ سرمہ نہ لگائے جب تک اس پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔

؁ً اس کو امام بخاری (رح) نے آدم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے ایک دوسری سند سے نقل فرمایا ہے۔
(۱۵۴۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ عَنَہْا زَوْجُہَا فَرَمِدَتْ فَخَشُوا عَلَی عَیْنِہَا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَاسْتَأْذَنُوہُ فِی الْکُحْلِ فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ تَکْتَحِلُ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَمْکُثُ فِی شَرِّ أَحْلاَسِہَا أَوْ فِی شَرِّ أَبْنِیَتِہَا فَإِذَا کَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَۃٍ فَلاَ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٥) زینب بنت ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے اس نے ام سلمہ (رض) اور ام حبیبہ (رض) سے سنا، وہ دونوں ذکر کر رہی تھیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے ذکر کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئی ہیں کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری ایک تو سال کے اختتام پر لید سے رمی کی جاتی تھی اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔

اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ حُمَیْدَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَہُ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّہَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأُمَّ حَبِیبَۃَ تَذْکُرَانِ : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ أَنَّ زَوْجَ ابْنَتِہَا تُوُفِّیَ وَاشْتَکَتْ عَیْنَہَا أَفَأَکْحُلُہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ فَإِنَّمَا ہِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٧۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کا بیان

” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جاتے ہیں ایک سال کے نفقے کی ان کو نکالے بغیر ۔ اگر وہ خود چاہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے جو وہ کریں اپنے نفسو
(١٥٤٦٦) حمید بن نافع انصاری سے روایت ہے، اس نے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کیا ہے۔ حمید نے کہا : میں نے زینب کو کہا : سال کی ابتداء کیا ہے ؟ زینب (رض) فرماتی ہیں جاہلیت میں جب عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ بدترین گھر کا قصد کرتی جو اس کے لیے ہوتا، وہ اس میں بیٹھ جاتی یہاں تک کہ جب اس پر سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور لید کا ٹکڑا مارتی ، یعنی اپنے جسم سے لگا کر پھینکتی اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔
(۱۵۴۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ قَالَ حُمَیْدٌ فَقُلْتُ لِزَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَمَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَیْنَبُ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذَا ہَلَکَ زَوْجُہَا عَمَدَتْ إِلَی شَرِّ بَیْتٍ لَہَا فَجَلَسَتْ فِیہِ حَتَّی إِذَا مَرَّتْ بِہَا سَنَۃٌ خَرَجَتْ وَرَمَتْ بِبَعْرَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٦٧) مسور بن مخرمہ سے روایت ہے سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد زچگی کی حالت کو پہنچی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کرنے کے بارے میں اجازت طلب کی آپ نے اس کو اجازت دے دی اور جعفر کی روایت میں ہے کہ سبیعہ اسلمیہ کا خاوند فوت ہوگیا، وہ چند راتیں ٹھہری پھر وہ زچگی کو پہنچی جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئی تو اس نے یہ معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو آپ نے اس کو نکاح کی اجازت دے دی ۔ اس نے نکاح کرلیا۔

اس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ : أَنَّ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَأْذَنَتْہُ فِی أَنْ تَنْکِحَ فَأَذِنَ لَہَا وَفِی رِوَایَۃِ جَعْفَرٍ قَالَ: تُوُفِّیَ زَوْجُ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃِ فَلَمْ تَمْکُثْ إِلاَّ لَیَالِیَ یَسِیرَۃً حَتَّی نُفِسَتْ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِہَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَذِنَ لَہَا فِیہِ فَنَکَحَتْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ قَزَعَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٦٨) ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبیداللہ نے اس کو حدیث بیان کیا، اس کے والدعبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کی طرف خط لکھا، وہ اس کو حکم دے رہے تھے کہ وہ سبیعہ اسلمیہ پر داخل ہو اور وہ اس سے سوال کرے اس کی حدیث کے بارے میں اور اس کے بارے میں سوال کرے جو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جب اس نے آپ سے فتویٰ طلب کیا۔ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کی طرف خط لکھا اس کو خبر دیتے ہوئے کہ سبیعہ اسلمیہ نے اس کو بتایا کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی اور وہ بنی عامر بن لوی قبیلے سے تھا۔ وہ ان میں سے تھا جو بدر میں حاضر ہوئے۔ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر فوت اور وہ حاملہ تھی ۔ وہ نہ چمٹی رہی کہ وہ اپنے حمل کو وضع کرے اس کی وفات کے بعد۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے شادی کے امید والوں کے لیے زینت اختیار کی۔ اس پر بنو عبدالدارکا ایک شخص ابو سنابل بن بعکک داخل ہوا ۔ اس نے اس کو کہا : تجھے کیا ہوگیا ؟ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو زینت اختیارکیے ہوئے ہے شاید کہ تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے۔ اللہ کی قسم ! تو نکاح نہیں کرسکتی حتی کہ تجھ پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔ سبیعہ کہتی ہے : جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، جب شام ہوئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں حلال ہوچکی ہوں۔ جب میں وضع حمل کرچکی اور آپ نے مجھے نکاح کا حکم دیا۔
(۱۵۴۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُتْبَۃَ : کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّہْرِیِّ یَأْمُرُہُ أَنْ یَدْخُلَ عَلَی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِیَّۃِ فَیَسْأَلَہَا عَنْ حَدِیثِہَا وَعَمَّا قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ اسْتَفْتَتْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ یُخْبِرُہُ أَنَّ سُبَیْعَۃَ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّیَ عَنْہَا فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَہِیَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَہَا بَعْدَ وَفَاتِہِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِہَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَہَا : مَا لِی أَرَاکِ مُتَجَمِّلَۃً لَعَلَّکِ تُرِیدِینَ النِّکَاحَ إِنَّکِ وَاللَّہِ مَا أَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتَّی یَمُرَّ عَلَیْکِ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ۔ قَالَتْ سُبَیْعَۃُ فَلَمَّا قَالَ لِی ذَلِکَ جَمَعْتُ ثِیَابِی حِینَ أَمْسَیْتُ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَأَفْتَانِی بِأَنِّی قَدْ حَلَلْتُ حِینَ وَضَعْتُ حَمْلِی فَأَمَرَنِی بِالتَّزْوِیجِ إِنْ بَدَا لِی۔

زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِی رِوَایَتِہِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَلاَ أَرَی بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِینَ وَضَعَتْ وَإِنْ کَانَتْ فِی دَمِہَا غَیْرَ أَنَّہُ لاَ یَقْرَبُہَا زَوْجُہَا حَتَّی تَطْہُرَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ حَرْمَلَۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یُونُسَ ثُمَّ قَالَ وَتَابَعَہُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔

[صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٦٩) یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے اس کی طرف لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اس کو اپنے والد سے خبر دی اس نے ابن ارقم کی طرف لکھا کہ تو سبیعہ اسلمیہ سے سوال کر کہ کیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فتویٰ دیا جب اس کا خاوند فوت ہوا فرماتی ہیں : مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں وضع حمل سے فارغ ہو جاؤں تو نکاح کرلوں۔

اس کو امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنِ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ کَتَبَ إِلَیْہِ یَذْکُرُ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی ابْنِ الأَرْقَمِ سَلْ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃَ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَفْتَاہَا حِینَ تُوُفِّیَ زَوْجُہَا قَالَتْ أَفْتَانِی إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْکِحَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٠) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد بچے کو جنم دیاپس اس پر ابو سنابل بن بعکک کا گزر ہوا۔ تو اس نے کہا : تو نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے خوبصورتی اختیار کی ہوئی ہے، عدت تو چار ماہ دس دن ہے۔ یہ معاملہ سبیعہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو سنابل نے جھوٹ کہا ہے یا یہ کہا کہ اس طرح نہیں ہے جس طرح ابو سنابل کہتا ہے، تو حلال ہوگئی ہے تو شادی کرسکتی ہے۔ یہ الفاظ امام شافعی (رح) کی حدیث کے ہیں۔

حدیث سعدان مختصر ہے ، سبیعہ بنت حارث نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک ماہ بعد یا اس سے بھی کم میں بچے کو جنم دیا۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تو نکاح کرلے۔ [صحیح ]
(۱۵۴۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سُبَیْعَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ الأَسْلَمِیَّۃَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ فَمَرَّ بِہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ فَقَالَ : قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلأَزْوَاجِ إِنَّہَا أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ۔ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ سُبَیْعَۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: کَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ أَوْ لَیْسَ کَمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِی ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَحَدِیثُ سَعْدَانَ مُخْتَصَرٌ : أَنَّ سُبَیْعَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِشَہْرٍ أَوْ أَقَلَّ فَأَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَنْکِحَ۔ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مُرْسَلَۃٌ وَفِیمَا قَبْلَہَا مِنَ الْمَوْصُولَۃِ کِفَایَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧١) ابو سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ (رض) نے اس آدمی کے بارے میں بحث کی جو فوت (اپنی بیوی کو چھوڑ کر) ہوجائے اور وہ اس کی وفات کے چند دن بعد وضع حمل کر دے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں : میں نے کہا : جب اس نے وضع حمل کردیا تو وہ حلال ہوگئی اور ابن عباس نے کہا : اس کی عدت دو حیض ہے۔ وہ دونوں اس سے ایک دوسرے کی طرف پلٹے۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا : میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ تھا، انھوں نے ابن عباس کے غلام کریب کو ام سلمہ (رض) کی طرف بھیجا۔ ام سلمہ (رض) نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس راتوں بعد بچے کو جنم دیا اور بنی عبدالدار میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابوسنابل تھی، اس نے منگنی کا پیغام بھیجا اور اس کو خبر دی کہ وہ حلال ہوگئی ہے اور وہ ارادہ کرتی ہے کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔ اس کو ابو سنابل نے کہا : تو حلال نہیں ہوئی۔ سبیعہ نے یہ معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ تو شادی کرلے۔
(۱۵۴۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ فَتَذَاکَرْنَا الرَّجُلَ یَمُوتُ عَنِ الْمَرْأَۃِ فَتَضَعُ بَعْدَ وَفَاتِہِ بِیَسِیرٍ فَقُلْتُ : إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَجَلُہَا آخِرُ الأَجَلَیْنِ۔ فَتَرَاجَعَا بِذَلِکَ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِی یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ فَبَعَثُوا کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أَمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : إِنَّ سُبَیْعَۃَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً وَإِنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ یُکْنَی أَبَا السَّنَابِلِ خَطَبَہَا وَأَخْبَرَہَا أَنَّہَا قَدْ حَلَّتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَیْرَہُ فَقَالَ لَہَا أَبُو السَّنَابِلِ : إِنَّکِ لَمْ تَحِلِّینَ۔

فَذَکَرَتْ ذَلِکَ سُبَیْعَۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَہَا أَنْ تَزَوَّجَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) نے ہم کو حدیث بیان کی کہ زینب بنت ام سلمہ (رض) نے اس کو اپنی والدہ ام سلمہ (رض) سے خبرجو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ہیں کہ ایک عورت کو سبیعہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی۔ اس کا خاوند فوت ہوگیا اور وہ حاملہ تھی۔ اس کو ابو سنابل نے نکاح کا پیغام بھیجا، اس نے انکار کردیا۔ ابو سنابل نے کہا : اللہ کی قسم نہیں درست کہ تو نکاح کرے یہاں تک کہ تو دو علاقوں میں سے آخری اختیارکر لے، وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اس کو زچگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نکاح کرلے۔ فاطمہ بنت قیس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی، جب اس کو طلاق دی گئی۔ آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجائے، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے تو اپنی عدت ختم ہونے سے پہلے اس کے پاس اپنے کپڑے بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ محمد بن اسامہ بن زید کہتے ہیں : اسامہ بن زید سے جب بھی فاطمہ بنت قیس کسی چیز کا ذکر کرتی تو اس کا ہاتھ میں جو بھی چیز ہوتی وہ اس کو مار دیتے۔
(۱۵۴۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَعْفَرٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْ عَنْ أُمِّہَا أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ امْرَأَۃً یُقَالُ لَہَا سُبَیْعَۃُ کَانَتْ تَحْتَ زَوْجِہَا فَتُوُفِّیَ عَنْہَا وَہِیَ حُبْلَی فَخَطَبَہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ فَأَبَتْ أَنْ تُنْکَحَ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ یَصْلُحُ أَنْ تَنْکِحِی حَتَّی تَعْتَدِّی آخِرَ الأَجَلَیْنِ فَمَکُثَتْ قَرِیبًا مِنْ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : انْکَحِی ۔ فَکَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ طُلِّقَتِ الْبَتَّۃَ أَنَّہُ أَمَرَہَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ عِنْدَہُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ یَقُولُ : کَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ إِذَا ذَکَرَتْ فَاطِمَۃُ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ رَمَاہَا بِمَا کَانَ فِی یَدِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৭৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٣) محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھی اس کی تعظیم کر رہے تھے گویا کہ وہ ان کا امیر ہے۔ انھوں نے دوسری دو عدتوں کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ حدیث ذکر کردی جو عبداللہ بن عتبہ کی ہے۔ سبیعہ بنت حارث کے بارے میں۔ ابن سیرین کہتے ہیں : انھوں نے مجھے گھورا تو میں سمجھ گیا اور میں نے کہا : میں جھوٹ پر حریص نہیں ہوں۔ اگر میں عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹ کہوں تو عبداللہ بن عتبہ کوفہ کے ایک جانب ہیں۔ ابن سیرین کہتے ہیں : انھوں نے کچھ حیا محسوس کیا اور کہا لیکن اس کے چچا نے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا۔ ابن سیرین کہتے ہیں : میں کھڑا ہوا اور میں ابو عطیہ مالک بن حارث کو ملا۔ میں نے اس سے سوال کیا، وہ شروع ہوا، مجھے سبعیہ حدیث بیان کرنے لگا۔ میں نے کہا : میں نے اس بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا، کیا آپ نے اس بارے میں عبداللہ سے کچھ سنا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! ہم عبداللہ کے ساتھ تھے ہم نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار ماہ اور دس دن سے پہلے وضع حمل کر دے تو۔ ہم نے کہا : نہیں یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دے۔ عبداللہ نے کہا : تم اس پر سختی کر رہے ہو اور اس کے لیے رخصت نہیں دے رہے۔ سو رہ نساء چھوٹی طویل کے بعد نازل ہوئی : { وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } ” اور حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ “

اس کو بخاری نے نکالا ہے۔
(۱۵۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی وَأَصْحَابُہُ یُعَظِّمُونَہُ کَأَنَّہُ أَمِیرٌ فَذَکَرُوا آخِرَ الأَجَلَیْنِ فَذَکَرْتُ حَدِیثَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ فِی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ فَغَمَزَ إِلَیَّ بَعْضُ أَصْحَابِہِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ : إِنِّی لَحَرِیصٌ عَلَی الْکَذِبِ إِنْ کَذَبْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَہُوَ بِنَاحِیَۃِ الْکُوفَۃِ قَالَ فَاسْتَحَی وَقَالَ وَلَکِنَّ عَمَّہُ لَمْ یَکُنْ یَقُولُ ذَلِکَ قَالَ : وَلَمْ أَکُنْ سَمِعْتُ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ شَیْئًا قَالَ : فَقُمْتُ فَلَقِیتُ أَبَا عَطِیَّۃَ : مَالِکَ بْنَ الْحَارِثِ فَسَأَلْتُہُ فَذَہَبَ یُحَدِّثُنِی حَدِیثَ سُبَیْعَۃَ قُلْتُ : إِنِّی لَسْتُ عَنْ ہَذَا أَسْأَلُکَ وَلَکِنْ ہَلْ سَمِعْتَ فِیہِ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ شَیْئًا؟ قَالَ : نَعَمْ کُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ فَسَأَلْنَا عَنْہَا فَقَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ وَضَعَتْ مِنْ قَبْلِ الأَرْبَعَۃِ الأَشْہُرِ وَعَشْرٍ؟ قُلْنَا : حَتَّی تَمْضِیَ۔ قَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ الأَشْہُرِ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ ۔ قَالَ قُلْنَا : حَتَّی تَضَعَ۔ قَالَ فَقَالَ : تَجْعَلُونَ عَلَیْہَا التَّغْلِیظَ وَلاَ تَجْعَلُونَ لَہَا الرُّخْصَۃَ لَنَزَلَتْ سُورَۃُ النِّسَائِ الْقُصْرَی بَعْدَ الطُّولَی (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ) أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح ۴۹۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৮০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٤) مسروق سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم ! جو شخص چاہے میں اس کو اعلان کرتا ہوں کہ سورة نساء (قصار مفصل) نازل ہوئی ہے۔ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا (آیت) کے بعد اور مسلم ابی الضحیٰ سے روایت ہے کہ علی (رض) فرماتے تھے کہ دو عدتوں میں سے آخروالی ۔
(۱۵۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : وَاللَّہِ مَنْ شَائَ لاَعَنْتُہُ لأُنْزِلَتْ سُورَۃُ النِّسَائِ الْقُصْرَی بَعْدَ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِی الضُّحَی قَالَ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : آخِرَ الأَجَلَیْنِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৮১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٥) علقمہ بن قیس سے روایت ہے عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جو چاہے میں اس کو اعلان کرتا ہوں وہ کہے : ہوئی یہ آیت نہیں نازل { وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } مگر اس آیت کے بعد جس میں خاوند کی وفات کا ذکر ہے۔ جب وہ عورت وضع حمل کر دے جس کا خاوند فوت ہوچکا ہے تو اس کی عدت ختم ہوگئی۔ آیت متوفی عنہا زوجہا سے آپ یہ آیت مراد لیتے تھے، { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا } [البقرہ ٢٣٤]
(۱۵۴۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی ابْنُ شُبْرُمَۃَ الْکُوفِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ شَائَ لاَعَنْتُہُ قَالَ مَا نَزَلَتْ {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} إِلاَّ بَعْدَ آیَۃِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا فَقَدْ حَلَّتْ یُرِیدُ بِآیَۃِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا} ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৮২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ١٨۔ خاوند کی وفات کے بعد حاملہ عورت کی عدت کا بیان
(١٥٤٧٦) نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے۔ عبداللہ بن عمر نے فرمایا : جب وہ اپنے حمل کو وضع کر دے تو وہ حلال ہوگئی، اس کو ایک انصاری شخص نے خبر دی کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اگر وہ بچے کو جنم دے دے اور اس کا خاوند ابھی چارپائی پر پڑا ہو اس کو دفن نہ کیا گیا ہو تو وہ حلال ہوگئی یعنی اس کی عدت ختم ہوگئی اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
(۱۵۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ حَامِلٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَقَدْ حَلَّتْ۔ فَأَخْبَرَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُہَا عَلَی السَّرِیرِ لَمْ یُدْفَنْ لَحَلَّتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪৮৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے حاملہ ہو یا نہ ہو
(١٥٤٧٧) جابر (رض) سے روایت ہے کہ جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے بلکہ اس کو میراث ہی کافی ہے۔

اس کو محمد بن عبداللہ قرشی نے روایت کیا ہے فرماتے ہیں : ہم کو حرب بن ابی عالیہ نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی وہ جابر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حمل والی جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔
(۱۵۴۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ لِلْمُتَوفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا نَفَقَۃٌ حَسْبُہَا الْمِیرَاثُ۔ ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ۔ وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فِی الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا : لاَ نَفَقَۃَ لَہَا ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: