আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৭ টি
হাদীস নং: ১৫৪৮৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے حاملہ ہو یا نہ ہو
(١٥٤٧٨) عمرو بن دینار سے روایت ہے ابن زبیر اپنی بیوی کو خرچہ دیتے تھے حتی کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا، یعنی جس حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے اس کے لیے خرچہ ہے۔ اس کو عطاء بن ابی رباح نے عبداللہ بن عباس (رض) روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں : اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، وراثت واجب ہے۔
(۱۵۴۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ صُبَیْحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ : أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یُعْطِی لَہَا النَّفَقَۃَ حَتَّی بَلَغَہُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ نَفَقَۃَ لَہَا۔ فَرَجَعَ عَنْ قَوْلِ ذَلِکَ یَعْنِی فِی نَفَقَۃِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا۔ وَرَوَاہُ عَطَاء ُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لاَ نَفَقَۃَ لَہَا وَجَبَتِ الْمَوَارِیثُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
(١٥٤٧٩) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجا۔ اسحاق کہتے ہیں : جب اس کو شعبی نے بیان کیا اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا : تیرے لیے ہلاکت ہو تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے۔ وہ عمر (رض) کے پاس آئی، عمر (رض) نے کہا : اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے وگرنہ ہم کتاب ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کو نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے : { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١]” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر وہ واضح گمراہی کو آئیں۔ “
(۱۵۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ : طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَۃَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : انْتَقِلِی إِلَی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ۔ قَالَ إِسْحَاقُ فَلَمَّا حَدَّثَ بِہِ الشَّعْبِیُّ حَصَبَہُ الأَسْوَدُ وَقَالَ : وَیْحَکَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِی بِمِثْلِ ہَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ : إِنْ جِئْتِ بِشَاہِدَیْنِ یَشْہَدَانِ أَنَّہُمَا سَمِعَاہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُکْ کِتَابَ اللَّہِ بِقَوْلِ امْرَأَۃٍ وَہُوَ قَوْلُ اللَّہِ {وَلاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
(١٥٤٨٠) نافع سے روایت ہے سعید بن زید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی۔ اس نے اس کو طلاقبتہ دے دی۔ وہ گھر سے نکل گئی ۔ اس کے اس فعل کو عبداللہ بن عمر (رض) نے برا سمجھا۔
(۱۵۴۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَۃَ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَخَرَجَتْ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا ابْنُ عُمَرَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
(١٥٤٨١) عبداللہ بن عمر (رض) نے { إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } کے بارے میں فرمایا : اس کا اپنے گھر سے نکلناواضح بےحیائی ہے۔
(۱۵۴۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ { إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } قَالَ : خُرُوجُہَا مِنْ بَیْتِہَا فَاحِشَۃٌ مُبَیِّنَۃٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
(١٥٤٨٢) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ نکل جائے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اس کو روک۔ اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا : اس کو قید کر دو ۔ اس نے کہا : میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ اس کے بھائی ہیں ان کی موٹی موٹی گردنیں ہیں۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا : تو امیر سے ان کے خلاف اس کو لوٹانے کی درخواست کر۔
(۱۵۴۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلاً جَائَ ہُ فَقَالَ إِنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَتِی ثَلاَثًا وَہِیَ تُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ۔ قَالَ : احْبِسْہَا۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ۔ قَالَ : فَقَیِّدْہَا۔ فَقَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ إِنَّ لَہَا إِخْوَۃً غَلِیظَۃً رِقَابُہُمْ۔ قَالَ : اسْتَعْدِ عَلَیْہِمُ الأَمِیرَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی
(١٥٤٨٣) حارث بن سوید سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود کی طرف آیا، اس نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! تیرا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی ؟ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے اس کا دین ایک کھجور کے عوض ہو۔
(۱۵۴۸۳) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَی فِی امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِیَۃً إِلَی أَہْلِہَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی دِینَہَا بِتَمْرَۃٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٤) عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت ہے { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } [النساء ١٩] کہ اگر وہ اپنے اہل پر فحش گوئی کرے، جب وہ ان پر فحش گوئی کرے تو ان کے لیے اس کا نکالنا حلال ہوگیا ہے۔
(۱۵۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ و أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} قَالَ: أَنْ تَبْذُوَ عَلَی أَہْلِہَا فَإِذَا بَذَتْ عَلَیْہِمْ فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ إِخْرَاجُہَا۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} قَالَ: أَنْ تَبْذُوَ عَلَی أَہْلِہَا فَإِذَا بَذَتْ عَلَیْہِمْ فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ إِخْرَاجُہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٥) عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت { وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : { بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } سے مراد یہ ہے کہ عورت آدمی کے اہل کے بارے میں فحش گوئی کرے اور ان کو تکلیف دے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] قاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] قاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔
(۱۵۴۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ {لاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنْ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : الْفَاحِشَۃُ الْمُبَیِّنَۃُ أَنْ تَفْحُشَ الْمَرْأَۃُ عَلَی أَہْلِ الرَّجُلِ وَتُؤْذِیہِمْ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : سُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَدِیثِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ مَا تَأَوَّلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} ہُوَ الْبَذَاء ُ عَلَی أَہْلِ زَوْجِہَا کَمَا تَأَوَّلَ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٦) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ شام میں غائب ہوگیا۔ اس نے اس کی طرف اپنا وکیل جو دے کر بھیجا وہ اس پر سخت ناراض ہوئی۔ ابو عمرو بن حفص نے کہا : اللہ کی قسم ! نہیں ہے تیرے لیے ہمارے ذمے کچھ بھی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاسآئی، اس نے یہ تمام ماجرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر عدت گزارے۔ پھر فرمایا : یہ عورت ہے اس کو میری صحابی ڈھانب لیں گے ۔ تو ابن مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے اور تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔
اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلُہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ ۔ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔ وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : تِلْکَ امْرَأَۃٌ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی فَاعْتَدِّی عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۱۴۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٧) ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے اس کو خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس نے اس کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے پاس تھی۔ اس نے اسے تین طلاقوں میں آخری طلاق دے دی ۔ اس نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ ابن ام مکتوم نابینا کی طرف منتقل ہوجائے۔ ابو مروان نے فاطمہ کی طلاق شدہ عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں تصدیق کی اور عروہ نے کہا : عائشہ (رض) نے فاطمہ بنت قیس پر اس کا انکار کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَہُ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ أَبِی عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَطَلَّقَہَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّہَا جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی خُرُوجِہَا مِنْ بَیْتِہَا فَأَمَرَہَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ الأَعْمَی فَأَبَی مَرْوَانُ أَنْ یُصَدِّقَ فَاطِمَۃَ فِی خُرُوجِ الْمُطَلَّقَۃِ مِنْ بَیْتِہَا۔
وَقَالَ عُرْوَۃُ إِنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ یَعْقُوبَ۔ [صحیح]
وَقَالَ عُرْوَۃُ إِنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ یَعْقُوبَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٨) ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے فاطمہ بنت قیس نے اس کو خبر دی کہ وہ ابو حفص عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی۔ اس نے اسب کو طلاق دے دی۔ اس نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ سے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ طلب کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجائے اور ابو مروان نے فاطمہ کی حدیث کی تصدیق کی جو طلاق شدہ کی نکلنے کے بارے میں ہے اور عروہ کہتے ہیں : عائشہ (رض) نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث پر انکار کیا ہے۔
(۱۵۴۸۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ أَبِی عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَطَلَّقَہَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّہَا جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَفْتَتْہُ فِی خُرُوجِہَا مِنْ بَیْتِہَا فَأَمَرَہَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ الأَعْمَی۔ وَأَبَی مَرْوَانُ أَنْ یُصَدِّقَ حَدِیثَ فَاطِمَۃَ فِی خُرُوجِ الْمُطَلَّقَۃِ وَقَالَ عُرْوَۃُ : وَأَنْکَرَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٨٩) عروۃ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ اس نے عائشہ (رض) سے کہا : آپ کا کیا فلان بنت حکم کے بارے میں خیال ہے اس کو طلاق بتۃ دی گئی، پھر وہ نکل گئی۔ عائشہ (رض) فرماتیں ہیں : اس نے جو کیا برا کیا، میں نے کہا : کیا آپ فاطمہ بنت قیس کے قول کی طرف نہیں دیکھتیں ؟ انھوں نے فرمایا : اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی خیر نہیں۔
(۱۵۴۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی وَیُوسُفُ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ قَالَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَلاَ تَرَیْنَ إِلَی فُلاَنَۃَ بِنْتِ الْحَکَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّۃَ ثُمَّ خَرَجَتْ؟ قَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ۔ قُلْتُ : أَلاَ تَرَیْنَ إِلَی قَوْلِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ۔ قَالَتْ : أَمَا إِنَّہُ لاَ خَیْرَ لَہَا فِی ذِکْرِ ذَلِکَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی وَیُوسُفُ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ قَالَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَلاَ تَرَیْنَ إِلَی فُلاَنَۃَ بِنْتِ الْحَکَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّۃَ ثُمَّ خَرَجَتْ؟ قَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ۔ قُلْتُ : أَلاَ تَرَیْنَ إِلَی قَوْلِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ۔ قَالَتْ : أَمَا إِنَّہُ لاَ خَیْرَ لَہَا فِی ذِکْرِ ذَلِکَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٠) ہشام سے روایت ہے کہ مجھے والد نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن الحکم کی بیٹی سے شادی کی۔ پھر اسے طلاق دے دی اور اس کو اپنے پاس سے نکال دیا ۔ اس پر اس معاملے میں عروۃ نے عیب لگایا۔ انھوں نے کہا : فاطمہ تحقیق نکل گئی تھی۔ عروہ نے کہا : میں عائشہ (رض) کے پاس آیا، میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انھوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کے لیے کوئی خیر ہیں کہ وہ اس حدیث کا ذکر کرے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِیرُوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : تَزَوَّجَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ ابْنَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ وَطَلَّقَہَا فَأَخْرَجَہَا مِنْ عِنْدِہِ فَعَابَ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ عُرْوَۃُ فَقَالُوا : إِنَّ فَاطِمَۃَ قَدْ خَرَجَتْ۔ قَالَ عُرْوَۃُ فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَخْبَرْتُہَا بِذَلِکَ فَقَالَتْ : مَا لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ خَیْرٌ فِی أَنْ تَذْکُرَ ہَذَا الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩١) یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، وہ قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا۔ کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے طلاق بتۃ دے دی ہے عبدالرحمن بن الحکم کی بیٹی کو اور عبدلرحمن بن الحکم نے اس کو منتقل کرلیا ہے۔ عائشہ (رض) مروان بن الحکم کی طرف پہنچی اور وہ مدینے کا امیر تھا۔ عائشہ (رض) نے کہا : اے مروان ! اللہ سے ڈر اور عورت کو واپس لوٹا دے ۔ مروان نے کہا : سلیمان کی حدیث کے بارے میں کہ عبدالرحمن نے مجھ پر غلبہ پایا ہے اور قاسم کی حدیث کے بارے میں کہا : آپ کو فاطمہ بنت قیس کے معاملے کی خبر نہیں ہوئی ؟ عائشہ (رض) نے فرمایا : تیرے لیے کوئی حرج ہے کہ تو فاطمہ بنت قیس کا معاملہ ذکر نہ کر۔ اس نے کہا : اگر اس میں تیرے ساتھ شرہو تو وہ تجھے کافی ہیں ان کے درمیان شر سے۔
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَہُمَا یَذْکُرَانِ : أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیِد بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَتَّۃَ فَانْتَقَلَہَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَکَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فَقَالَتِ : اتَّقِ اللَّہَ یَا مَرْوَانُ فَارْدُدِ الْمَرْأَۃَ إِلَی بَیْتِہَا۔ فَقَالَ مَرْوَانُ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِی۔ وَقَالَ مَرْوَانُ فِی حَدِیثِ الْقَاسِمِ : أَوَمَا بَلَغَکِ شَأْنُ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لاَ عَلَیْکَ أَنْ لاَ تَذْکُرَ فِی شَأْنِ فَاطِمَۃَ۔ فَقَالَ : إِنْ کَانَ إِنَّمَا بِکِ الشَّرُّ فَحَسْبُکِ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ مِنَ الشَّرِّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٢) محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ عائشہ (رض) فرماتی تھیں اے فاطمہ ! اللہ سے ڈر تو جانتی ہے کہ کس چیز کے میں ہے۔
(۱۵۴۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تَقُولُ : اتَّقِی اللَّہَ یَا فَاطِمَۃُ فَقَدْ عَلِمْتِ فِی أَیِّ شَیْئٍ کَانَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٣) عمرو بن میمون وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے کہا : طلاق ثلاثہ والی عورت عدت کہاں گزارے ؟ فرمایا : اپنے گھر میں عدت گزارے۔ میں نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ بنت قیس کو حکم نہیں دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارے۔ فرمایا : یہ وہ عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے جیٹھ پر بدزبانی کرتی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) مروان اور ابن مسیب یہ جانتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کو اجازت دی تھی کہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب اور دوسرے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سبب بیان نہیں ہوا ۔ اس لیے یہ خاوند کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت گزارنے کو ناپسند کرتے ہیں اس ڈر سے کہ جو بھی اسے سنے گا وہ یہی کہے گا کہ وہ جہاں مرضی عدت گزار لے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) مروان اور ابن مسیب یہ جانتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کو اجازت دی تھی کہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب اور دوسرے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سبب بیان نہیں ہوا ۔ اس لیے یہ خاوند کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت گزارنے کو ناپسند کرتے ہیں اس ڈر سے کہ جو بھی اسے سنے گا وہ یہی کہے گا کہ وہ جہاں مرضی عدت گزار لے۔
(۱۵۴۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَیْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَۃُ ثَلاَثًا؟ قَالَ : تَعْتَدُّ فِی بَیْتِہَا۔ قَالَ قُلْتُ : أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ؟ قَالَ : تِلْکَ الْمَرْأَۃُ الَّتِی فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّہَا اسْتَطَالَتْ عَلَی أَحْمَائِہَا بِلِسَانِہَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلاً مَکْفُوفَ الْبَصَرِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَعَائِشَۃُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَیَّبِ یَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِیثَ فَاطِمَۃَ فِی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ کَمَا حَدَّثَتْ وَیَذْہَبُونَ إِلَی أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا کَانَ لِلشَّرِّ وَیَزِیدُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ تَبْیِینَ اسْتِطَالَتِہَا عَلَی أَحْمَائِہَا وَیَکْرَہُ لَہَا ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَغَیْرُہُ أَنَّہَا کَتَمَتْ فِی حَدِیثِہَا السَّبَبَ الَّذِی بِہِ أَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا خَوْفًا أَنْ یَسْمَعَ ذَلِکَ سَامِعٌ فَیَرَی أَنَّ لِلْمَبْتُوتَۃِ أَنْ تَعْتَدَّ حَیْثُ شَائَ تْ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَعَائِشَۃُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَیَّبِ یَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِیثَ فَاطِمَۃَ فِی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ کَمَا حَدَّثَتْ وَیَذْہَبُونَ إِلَی أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا کَانَ لِلشَّرِّ وَیَزِیدُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ تَبْیِینَ اسْتِطَالَتِہَا عَلَی أَحْمَائِہَا وَیَکْرَہُ لَہَا ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَغَیْرُہُ أَنَّہَا کَتَمَتْ فِی حَدِیثِہَا السَّبَبَ الَّذِی بِہِ أَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا خَوْفًا أَنْ یَسْمَعَ ذَلِکَ سَامِعٌ فَیَرَی أَنَّ لِلْمَبْتُوتَۃِ أَنْ تَعْتَدَّ حَیْثُ شَائَ تْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٤) سلیمان بن یسار نے فاطمہ کے نکلنے کے بارے میں فرمایا : یہ برے اخلاق میں سے ہے۔
(۱۵۴۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ فِی خُرُوجِ فَاطِمَۃَ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ مِنْ سُوئِ الْخُلُقِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٥) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : عائشہ (رض) نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث پر شدید عیب لگایا اور فرمایا : فاطمہ ویران مکان میں تھی اس کے کنارے پر خوف محسوس کیا گیا اس لیے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت دی۔
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
(۱۵۴۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَقَدْ عَابَتْ ذَلِکَ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَشَدَّ الْعَیْبِ یَعْنِی حَدِیثَ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَۃَ کَانَتْ فِی مَکَانٍ وَحْشٍ فَخِیفَ عَلَی نَاحِیَتِہَا فَلِذَلِکَ أَرْخَصَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ } کا بیان
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
بےشک اس کے لیے خروج میں اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ رکھی ہے اگر وہ واضح برائی کو آئے اور عذر کی صورت میں استثنیٰ ہے۔
(١٥٤٩٦) فاطمہ بنت قیس (رض) فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ وہ مجھ پر حقارت کرے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا پھر وہ منتقل ہوگئی۔
(۱۵۴۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ لَقَدْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ زَوْجِی طَلَّقَنِی ثَلاَثًا فَأَخَافُ أَنْ یُقْتَحَمَ عَلَیَّ۔ قَالَ : فَأَمَرَہَا فَتَحَوَّلَتْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ یَکُونُ الْعُذْرُ فِی نَقْلِہَا کِلاَہُمَا ہَذَا وَاسْتِطَالَتُہَا عَلَی أَحْمَائِہَا جَمِیعًا فَاقْتَصَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ نَاقِلِیہِمَا عَلَی نَقْلِ أَحَدِہِمَا دُونَ الآخَرِ لِتَعَلُّقِ الْحُکْمِ بِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلَی الاِنْفِرَادِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَمْ یَقُلْ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- اعْتَدِّی حَیْثُ شِئْتِ لَکِنَّہُ حَصَّنَہَا حَیْثُ رَضِیَ إِذْ کَانَ زَوْجُہَا غَائِبًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَکِیلٌ بِتَحْصِینِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خاوند فوت ہوجائے اس کو رہائش دینے کا بیان
(١٥٤٩٧) سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے اپنی پھوپھی زینب بنت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ فریعہ بنت مالک بن سنان نے اس کو خبر دی کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے اہل (بنی خدرۃ) کی طرف پلٹنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ اس کا خاوند اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلا جو بھاگ گئے تھے یہاں تک کہ جب وہ قدوم کی جانب تھے وہ ان کو ملا۔ انھوں نے اس کو قتل کردیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا ، میں اپنے اہل کی طرف لوٹ سکتی ہوں ؟ میرے خاوند نے مجھے کسی مکان میں نہیں چھوڑاجس کا مالک ہو۔ وہ کہتی ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں تو لوٹ سکتی ہے، میں مڑی، یہاں تک کہ جب میں حجرہ میں یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا یا میرے لیے حکم دیا، مجھے ان کی طرف بلایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کیا کہتی ہے ؟ میں نے آپ پر وہ قصہ لوٹا دیا جو میں نے اپنے خاوند کے بارے میں ذکر کیا تھا ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : تو اپنے گھر میں ٹھہری رہ حتی کہ تیری عدت پوری ہوجائے۔ فرماتی ہیں : میں نے چار ماہ اور دس دن اس میں (عدت) شمار کی۔ جب عثمان (رض) نے میری طرف قاصد بھیجا، اس نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے اس کو خبر دی، اس نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔
(۱۵۴۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ عَنْ عَمَّتِہِ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبٍ أَنَّ فُرَیْعَۃَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْہَا : أَنَّہَا جَائَ تِ النَّبِیَّ -ﷺ- تَسْأَلُہُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہَا فِی بَنِی خُدْرَۃَ وَأَنَّ زَوْجَہَا خَرَجَ فِی طَلَبِ أَعْبُدٍ لَہُ أَبَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَہُمْ فَقَتَلُوہُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنِّی أَرْجِعَ إِلَی أَہْلِی فَإِنَّ زَوْجِی لَمْ یَتْرُکْنِی فِی مَسْکَنٍ یَمْلِکُہُ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ۔ فَانْصَرَفْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِی الْحُجْرَۃِ أَوْ فِی الْمَسْجِدِ دَعَانِی أَوْ أَمَرَ بِی فَدُعِیتُ لَہُ قَالَ : فَکَیْفَ قُلْتِ؟ ۔ فَرَدَّدْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ الَّتِی ذَکَرْتُ لَہُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِی فَقَالَ : امْکُثِی فِی بَیْتِکِ حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ ۔ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِیہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَسَأَلَنِی عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرْتُہُ فَاتَّبَعَہُ وَقَضَی بِہِ۔ [صحیح]
তাহকীক: