আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

عدت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৭ টি

হাদীস নং: ১৫৪০৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے قروء سے مراد حیض ہیں
(١٥٣٩٨) ہم کو حجاج نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں ابن جریج نے کہا تین قروء اور ابن جریج، عطاء الخراسانی سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس سے ابن عباس نے ثاث حیض، یعنی تین حیض (تین قروء سے مراد تین حیض)
(۱۵۳۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ ثَلاَثَۃُ قُرُوئٍ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ثَلاَثُ حِیَضٍ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے قروء سے مراد حیض ہیں
(١٥٣٩٩) عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ قروء سے مراد اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں حیض ہے، رہا عبداللہ بن عمر کا قول تو انھوں نے یہ قول کہ قروء سے مراد طہر ہے زید بن ثابت (رض) سے لیا ہے۔
(۱۵۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : الأَقْرَاء ُ الْحِیَضُ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنَّمَا أَخَذَہُ مِنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے قروء سے مراد حیض ہیں
(١٥٤٠٠) نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) زید اور عائشہ (رض) کے قول کی طرح ہی فرمایا کرتے تھے۔
(۱۵۴۰۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ زَیْدٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہتا ہے قروء سے مراد حیض ہیں
(١٥٤٠١) ہم کو علی بن عبدالعزیز نے خبر دی کہ ابو عبید فرماتے ہیں کہ اصمعی اور دوسروں نے کہا کہ اقرات المرأۃ اس وقت ہی کہا جاتا ہے جب حیض کا وقت قریب ہو اور اس وقت بھی کہا جاتا ہے جب طہر قریب ہو۔ ابو عبید فرماتے ہیں : اصل میں اقرأ کسی چیز کے وقت کا حاضر ہونا ہے۔ جیسے ایک شاعر ایک آدمی کی غزوہ میں تعریف کرتا ہے :

مُوَرَّثَۃٍ مَالاً وَفِی الذِّکْرِ رِفْعَۃً لِمَا ضَاعَ فِیہَا مِنْ قُرُوئٍ نِسَائِکَا

مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہوگئے ان کی عورتوں کے قروء تو یہاں قروء سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔
(۱۵۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ وَغَیْرُہُ یُقَالُ قَدْ أَقْرَأَتِ الْمَرْأَۃُ إِذَا دَنَا حَیْضُہَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُہْرُہَا قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فَأَصْلُ الأَقْرَائِ إِنَّمَا ہِیَ وَقْتُ الشَّیْئِ إِذَا حَضَرَ قَالَ الأَعْشَی یَمْدَحُ رَجُلاً بِغَزْوَۃٍ غَزَاہَا :

مُوَرَّثَۃٍ مَالاً وَفِی الذِّکْرِ رِفْعَۃً لِمَا ضَاعَ فِیہَا مِنْ قُرُوئٍ نِسَائِکَا فَالْقُرُوء ُ ہَا ہُنَا الأَطْہَارُ لأَنَّ النِّسَائَ لاَ یُوطَأْنَ إِلاَّ فِیہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس حیض میں طلاق واقع ہوئی ہے اسے (عدت میں) شمار نہیں کیا جائے گا
(١٥٤٠٢) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب اس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو انھوں نے اس حیض کو (عدت) میں شمار نہیں کیا۔ یحییٰ فرماتے ہیں : یہ غریب ہے اس کو صرف عبدالوہاب ثقفی نے ہی بیان کیا ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں : اس کا معنی یحییٰ ایوب مصری نے عبیداللہ سے بیان کیا ہے اور ہم کو زید بن ثابت سے حدیث بیان کی گئی کہ انھوں نے فرمایا : کہ جب آدمی اپنی عورت کو حالت نفاس میں طلاق دے تو نفاس کا خون عدت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
(۱۵۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِذَا طَلَّقَہَا وَہِیَ حَائِضٌ لَمْ تَعْتَدَّ بِتِلْکَ الْحَیْضَۃِ قَالَ یَحْیَی : وَہَذَا غَرِیبٌ لَیْسَ یُحَدِّثُ بِہِ إِلاَّ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَی مَعْنَاہُ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ الْمِصْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ وَرُوِّینَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ نُفَسَاء ُ لَمْ تَعْتَدَّ بِدَمِ نِفَاسِہَا فِی عِدَّتِہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪০৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس حیض میں طلاق واقع ہوئی ہے اسے (عدت میں) شمار نہیں کیا جائے گا
(١٥٤٠٣) فقہاء اہل مدینہ سے روایت ہے کہ جو شخص اپنی عورت کو حالتِ حیض یا حالتِ نفاس میں طلاق دے دے تو اس عورت پر تین حیض عدت ہے اس خون کے علاوہ جس میں اس کو طلاق دی گئی۔
(۱۵۴۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاء ُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ : کَانُوا یَقُولُونَ: مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ أَوْ ہِیَ نُفَسَاء ُ فَعَلَیْہَا ثَلاَثُ حِیَضٍ سِوَی الدَّمِ الَّذِی ہِیَ فِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی تصدیق کا بیان اس بارے میں جس حیض میں اس کی عدت کے ختم ہونے کا امکان ہے
(١٥٤٠٤) ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ یہ امانت میں سے ہے۔ عورت اپنی شرمگاہ کی امین ہے اور امام شافعی (رح) نے سفیان سے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ عبید بن عمیر نے فرمایا : عورت اپنی شرمگاہ پر امین مقرر کی گئی ہے۔
(۱۵۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَیْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : إِنَّ مِنَ الأَمَانَۃِ أَنَّ الْمَرْأَۃَ ائْتُمِنَتْ عَلَی فَرْجِہَا۔ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : اؤْتُمِنَتِ الاِمْرَأَۃُ عَلَی فَرْجِہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی تصدیق کا بیان اس بارے میں جس حیض میں اس کی عدت کے ختم ہونے کا امکان ہے
(١٥٤٠٥) شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص علی بن ابی طالب (رض) کے پاس آیا ، اس نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ وہ دو مہینوں بعد آئی اور اس نے کہا : میری عدت ختم ہوگئی ہے اور علی (رض) کے پاس قاضی شریح بھی موجود تھے، انھوں نے کہا : تو اس کے بارے میں کہہ (جو تو کہنا چاہتا ہے) اس شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا آپ گواہ ہیں ؟ شریح نے کہا یا علی (رض) نے کہا : ہاں میں گواہ ہوں۔ اس نے کہا : یہ بطانہ سے اپنے اہل کے پاس سے لوٹ کر آئی ہے اور وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ تیسرے حیض کو گزار رہی ہے مگر یہ جھوٹی ہے۔ علی (رض) نے کہا : تم نے درست کہا۔
(۱۵۴۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَتِی فَجَائَ تْ بَعْدَ شَہْرَیْنَ فَقَالَتْ : قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِی وَعِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شُرَیْحٌ فَقَالَ : قُلْ فِیہَا قَالَ وَأَنْتَ شَاہِدٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنْ جَائَ تْ بِبِطَانَۃٍ مِنْ أَہْلِہَا مِنَ الْعُدُولِ یَشْہَدُونَ أَنَّہَا حَاضَتْ ثَلاَثَ حِیَضٍ وَإِلاَّ فَہِیَ کَاذِبَۃٌ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَالُونْ بِالرُّومِیَّۃِ أَیْ أَصَبْتَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی تصدیق کا بیان اس بارے میں جس حیض میں اس کی عدت کے ختم ہونے کا امکان ہے
(١٥٤٠٦) حسن عرفی سے روایت ہے شریح کی طرف ایک عورت لائی گئی، اس کو اس کے خاوند نے طلاق دی تھی وہ حائضہ ہوئی پینتیسویں رات تیسرے حیض کو انھوں نے شعبی کی حدیث کی طرح اس کا ذکر کیا، اس (معاملے) کو شریح نے علی (رض) کی طرف اٹھایا۔ انھوں نے کہا : اس کے بارے میں اس کی ہمسایوں سے سوال کرو۔ پس اگر اس کا حیض اسی طرح ہے تو اس کی عدت ختم ہوگئی ہے۔
(۱۵۴۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ : أَنَّ شُرَیْحًا رُفِعَتْ إِلَیْہِ امْرَأَۃٌ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَحَاضَتْ فِی خَمْسٍ وَثَلاَثِینَ لَیْلَۃً ثَلاَثَ حِیَضٍ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ الشَّعْبِیِّ فَرَفَعَ ذَلِکَ شُرَیْحٌ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : سَلُوا عَنْہَا جَارَاتِہَا فَإِنْ کَانَ حَیْضُہَا کَذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی تصدیق کا بیان اس بارے میں جس حیض میں اس کی عدت کے ختم ہونے کا امکان ہے
(١٥٤٠٧) عطاء سے روایت ہے کہ زیادہ سے زیادہ حیض (کے ایام) پندرہ دن ہیں۔
(۱۵۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : أَکْثَرُ الْحَیْضِ خَمْسَۃَ عَشَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৪
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی تصدیق کا بیان اس بارے میں جس حیض میں اس کی عدت کے ختم ہونے کا امکان ہے
(١٥٤٠٨) عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ حیض کا کم سے کم وقت ایک دن ہے۔ ابو ابراہیم نے فرمایا : ان دونوں حدیثوں کی طرف امام التقوی احمد بن حنبل گئے ہیں۔
(۱۵۴۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاہِیمَ الزَّاہِدِیُّ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : أَدْنَی وَقْتِ الْحَیْضِ یَوْمٌ۔ قَالَ أَبُو إِبْرَاہِیمَ إِلَی ہَذَیْنِ الْحَدِیثَیْنِ کَانَ یَذْہَبُ الإِمَامُ الْوَرِعُ الإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৫
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا حیض اس سے دوری اختیار کر جائے اس کی عدت کا بیان
(١٥٤٠٩) محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے حبان کے دادا کے پاس اس کی دو عورتیں تھیں : ایک ہاشمیہ اور دوسری انصاریہ۔ اس نے انصاریہ کو طلاق دے دی اور وہ حالت رضاع میں تھی ۔ اس پر سال گزر گیا اور وہ حائضہ نہ ہوئی اور وہ ہلاک ہوگیا۔ اس انصاریہ نے کہا : میں اس کی وارث ہوں، کیونکہ میں حائضہ نہیں ہوئی۔ ان دونوں نے عثمان (رض) کی طرف جھگڑا پیش کیا۔ عثمان (رض) نے دونوں کے لیے وراثت کا فیصلہ کردیا۔ ہاشمیہ عورت نے عثمان (رض) کو ملامت کی۔ عثمان (رض) نے کہا : وہ تیرے چچا کا بیٹا ہے وہ ہماری طرف اس کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے، یعنی علی (رض) کی طرف۔
(۱۵۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّہُ قَالَ : کَانَتْ عِنْدَ جَدِّہِ حَبَّانَ امْرَأَتَانِ لَہُ ہَاشِمِیَّۃٌ وَأَنْصَارِیَّۃٌ فَطَلَّقَ الأَنْصَارِیَّۃَ وَہِیَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِہَا سَنَۃٌ ثُمَّ ہَلَکَ عَنْہَا وَلَمْ تَحِضْ فَقَالَتْ : أَنَا أَرِثُہُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَضَی لَہُمَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمِیرَاثِ فَلاَمَتِ الْہَاشِمِیَّۃُ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ابْنُ عَمِّکِ ہُوَ أَشَارَ إِلَیْنَا بِہَذَا یَعْنِی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৬
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا حیض اس سے دوری اختیار کر جائے اس کی عدت کا بیان
(١٥٤١٠) عبداللہ بن ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں ایک شخص کو حبان بن منقذ کہا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اس حالت میں کہ وہ تندرست تھا اور وہ اس کی بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی۔ وہ سترہ مہینے رکی رہی۔ اس کو حیض نہ آیا اور اس کے حیض کو دودھ پلانے نے روکا ہوا تھا۔ پھر حبان اس کو طلاق دینے کے بعد سترہ یا اٹھارہ مہینے بیمار رہا۔ اس کو کہا گیا : تیری بیوی چاہتی ہے کہ وہ تیری وارث بنے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا : مجھے عثمان (رض) کے پاس لے چلوپس انھوں نے اس کو عثمان (رض) کی طرف اٹھایا۔ اس نے اپنی بیوی کا معاملہ عثمان (رض) سے ذکر کیا اور اس کے پاس علی اور زید بن ثابت (رض) تھے۔ ان دونوں کو عثمان نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے ؟ ان دونوں نے کہا : ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث بنے گی اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو وہ اس کا وارث بنے گا، یہ ان میں سے نہیں ہے جو حیض سے ناامید ہوجاتی ہیں اور نہ ہی یہ ان باکرہ میں سے ہے جو حیض کو نہیں پہنچی۔ پھر اس عدت پر ہوئی جو حیض زیادہ ہے یا کم۔ پھر حبان نے اپنے اہل کی طرف رجوع کیا اور اپنی بیٹی کو پکڑا، پھر جب رضاعت ختم ہوئی تو وہ حائضہ ہوئی، پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوئی پھر حبان اس کے تیسرا حیض آنے سے پہلے فوت ہوگئے۔ پس اس نے وہ عدت گزاری جو عدت خاوند کے فوت ہونے پر ہے۔ اور وہ اس کی وراثت کی حقدار بنی۔
(۱۵۴۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ صَحِیحٌ وَہِیَ تُرْضِعُ ابْنَتَہُ فَمَکَثَتْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا لاَ تَحِیضُ یَمْنَعُہَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِیضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَہَا سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ ثَمَانِیَۃً فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ امْرَأَتَکَ تُرِیدُ أَنْ تَرِثَ فَقَالَ لأَہْلِہِ : احْمِلُونِی إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَمَلُوہُ إِلَیْہِ فَذَکَرَ لَہُ شَأْنَ امْرَأَتِہِ وَعِنْدَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ لَہُمَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا تَرَیَانِ؟ فَقَالاَ : نَرَی أَنَّہَا تَرِثُہُ إِنْ مَاتَ وَیَرِثُہَا إِنْ مَاتَتْ فَإِنَّہَا لَیْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ الَّلاتِی قَدْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ وَلَیْسَتْ مِنَ الأَبْکَارِ الَّلاتِی لَمْ یَبْلُغْنَ الْمَحِیضَ ثُمَّ ہِیَ عَلَی عِدَّۃِ حَیْضِہَا مَا کَانَ مِنْ قَلِیلٍ أَوْ کَثِیرٍ فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَی أَہْلِہِ فَأَخَذَ ابْنَتَہُ فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَیْضَۃً ثُمَّ حَاضَتْ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ تُوُفِّیَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِیضَ الثَّالِثَۃَ فَاعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَوَرِثَتْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৭
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا حیض اس سے دوری اختیار کر جائے اس کی عدت کا بیان
(١٥٤١١) علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دیں۔ پھر وہ حائضہ ہوگئی ایک یا دو حیض پھر اس کا حیض سترہ مہینے یا اٹھارہ بندرہا۔ پھر وہ فوت ہوگئی، وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اس نے اس سے سوال کیا، پس اس نے کہا : اللہ نے اس کی وراثت کو تجھ پر روک لیا ہے۔ اس کو اس کی وراثت کا وارث بنایا۔
(۱۵۴۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَمَّادٍ وَالأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً أَوْ تَطَلِیقَتَیْنِ ثُمَّ حَاضَتْ حَیْضَۃً أَوْ حَیْضَتَیْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَ حَیْضُہَا سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ثُمَّ مَاتَتْ فَجَائَ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : حَبَسَ اللَّہُ عَلَیْکَ مِیرَاثَہَا فَوَرَّثَہُ مِنْہَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৮
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا حیض اس سے دوری اختیار کر جائے اس کی عدت کا بیان
(١٥٤١٢) ابن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کو بھی طلاق دی جائے۔ پھر وہ حائضہ ہوجائے وہ ایک حیض یا دو حیض عدت گزارے پھر اس کا حیض بند ہوجائے۔ اور وہ نو مہینے انتظار کرے تو اگر اس کا حمل واقع ہوجائے تو یہ ہے، ورنہ وہ عدت نو مہینے گزارے پھر حلال ہوجائے۔
(۱۵۴۱۲) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَیَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَیْضَۃً أَوْ حَیْضَتَیْنِ ثُمَّ رَفَعَتْہَا حَیْضَۃٌ فَإِنَّہَا تَنْتَظِرُ تِسْعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ بَانَ بِہَا حَمْلٌ فَذَاکَ وَإِلاَّ اعْتَدَّتْ بَعْدَ التَّسْعَۃِ ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ۔ فَإِلَی ظَاہِرِ ہَذَا کَانَ یَذْہَبُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْہُ فِی الْجَدِیدِ إِلَی قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَحَمَلَ کَلاَمَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی کَلاَمِ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ : قَدْ یُحْتَمَلُ قَوْلُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَکُونَ فِی الْمَرْأَۃِ قَدْ بَلَغَتِ السِّنَّ الَّتِی مَنْ بَلَغَہَا مِنْ نِسَائِہَا یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ فَلاَ یَکُونُ مُخَالِفًا لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَذَلِکَ وَجْہٌ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪১৯
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٩] کا بیان

” ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے “

امام شافعی فرماتے ہیں :

نازل ہونے والی
(١٥٤١٣) ابراہیم سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : { وَ لَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ } فرماتے ہیں : اس سے اکثر جو مراد لیا گیا ہے وہ حیض ہے۔
(۱۵۴۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ فِی قَوْلِہِ {وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ} قَالَ : أَکْثَرُ مَا عُنِیَ بِہِ الْحَیْضُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২০
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٩] کا بیان

” ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے “

امام شافعی فرماتے ہیں :

نازل ہونے والی
(١٥٤١٤) عکرمہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ حیض ہے۔
(۱۵۴۱۴) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : الْحَیْضُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২১
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : { وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِی أَرْحَامِہِنَّ } [البقرۃ ٢٢٩] کا بیان

” ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے “

امام شافعی فرماتے ہیں :

نازل ہونے والی
(١٥٤١٥) مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کہے : میں حائضہ ہوں اور حائضہ نہ ہو یا وہ کہے کہ میں حائضہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حائضہ ہو یا وہ یہ کہے میں حاملہ ہوں اور وہ حاملہ نہ ہو۔ یا وہ کہے میں حاملہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حاملہ ہو۔ یہ تمام (عمل) دلالت کرتا ہے عورت کے اپنے خاوند سے بغض و نفرت پر اور خاوند کی اس سے محبت پر۔
(۱۵۴۱۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ جَرِیرٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَنْ تَقُولَ إِنِّی حَائِضٌ وَلَیْسَتْ بِحَائِضٍ أَوْ تَقُولَ إِنِّی لَسْتُ بِحَائِضٍ وَہِیَ حَائِضٌ أَوْ تَقُولَ إِنِّی حُبْلَی وَلَیْسَتْ بِحُبْلَی أَوْ تَقُولَ إِنِّی لَسْتُ بِحُبْلَی وَہِیَ حُبْلَی وَکُلُّ ذَلِکَ فِی بُغْضِ الْمَرْأَۃِ زَوْجَہَا وَحُبِّہِ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২২
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کی عدت کا بیان جو حیض سے ناامید ہوگئی اور اس کا جس کو حیض نہ آتا ہو
(١٥٤١٦) ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہو جو سورة بقرۃ میں ہے جو عورتوں کی تعداد میں کے بارے میں ہے تو انھوں نے کہا : تحقیق باقی رہ گئی عورتوں کی تعداد میں سے کچھ تعداد غیر بالغ عورتیں اور وہ بوڑھیاں جن کا حیض آنا ختم ہوچکا ہے اور حمل والیاں حاملہ عورتیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جو عورتوں کے بارے میں ہے : { وَاللَّائِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِّسَائِکُمْ اِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ اَشْہُرٍ وَّاللَّائِی لَمْ یَحِضْنَ وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [طلاق ٤] امام شافعی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان ارتبتم) سے مراد ہے اگر تم نہ جانو کہ قروء والی عورتیں کیا شمار کریں یعنی کتنی عدت گزاریں۔
(۱۵۴۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِیفٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَالِمٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ الَّتِی فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی عِدَدٍ مِنْ عِدَدِ النِّسَائِ قَالُوا : قَدْ بَقِیَ عِدَدٌ مِنْ عِدَدِ النِّسَائِ لَمْ یُذْکَرْنَ الصِّغَارُ وَالْکِبَارُ اللاَّئِی انْقَطَعَ عَنْہُنَّ الْحَیْضُ وَذَوَاتُ الأَحْمَالِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الآیَۃَ الَّتِی فِی النِّسَائِ { وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَالَّلائِی لَمْ یَحِضْنَ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلَہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَقَوْلُہُ { إِنِ ارْتَبْتُمْ} فَلَمْ تَدْرُوا مَا تَعْتَدُّ غَیْرُ ذَوَاتِ الأَقْرَائِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৪২৩
عدت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس عمر کا بیان جس میں عورت کو حیض آنا ممکن ہے

امام شافعی فرماتے ہیں : سب سے زیادہ جلد میں نے جس کے بارے میں سنا ہے وہ تہامہ علاقے کی عورتیں ہیں وہ نو سال کی عمر میں حائضہ ہوجاتی ہیں۔
(١٥٤١٧) عباد بن عباد مھلّبی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے علاقے یعنی مہالبہ میں ایک عورت کو پایا وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔ اس نے نو سال کی عمر میں لڑکی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، پس وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی۔
(۱۵۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَحْمُودٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنِی عُمَیْرُ بْنُ الْمُتَوَکِّلِ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُوسَی الضَّبِّیُّ حَدَّثَنِی عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُہَلَّبِیُّ قَالَ : أَدْرَکْتُ فِینَا یَعْنِی الْمَہَالِبَۃَ امْرَأَۃً صَارَتْ جَدَّۃً وَہِیَ ابْنَۃُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ وَلَدَتْ لِتِسْعِ سِنِینَ ابْنَۃً فَوَلَدَتِ ابْنَتُہَا لِتِسْعِ سِنِینَ فَصَارَتْ جَدَّۃً وَہِیَ ابْنَۃُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: