আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৫৪৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٤) عبد الرحمن بن ازھب بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی مثال لوہے کی سی ہے جب اسے بخار یا تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا میل (خطائیں) ختم ہوجاتا ہے اور پاکیزگی باقی رہ جاتی ہے۔ ” یعنی جس طرح لوہے کو آگ میں ڈالنے سے میل کچیل ختم ہوجاتا ہے اور اصل لوہا بچ رہتا ہے “۔
(۶۵۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْہَرَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْہَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِنَّمَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حِینَ یُصِیبُہُ الْوَعْکُ أَوِ الْحُمَّی کَمَثَلِ حَدِیدَۃٍ تَدْخُلُ النَّارَ فَیَذْہَبُ خَبَثُہَا وَیَبْقَی طَیِّبُہَا))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٥) ابراہیم سلمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں اور ان کی صحبت پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھی، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : بیشک بندے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ لکھا جاتا ہے مگر انسان اپنے اعمال سے اس تک نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے جسم ‘ مال ‘ اولاد کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔ ابن نفیل نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں۔ پھر وہ اس پر خبر کرتا ہے ، اس بات میں وہ دونوں متفق ہیں ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس مقام پر پہنچاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جا چکا ہوتا ہے۔
(۶۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ الْمِصِّیصِیُّ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ السُلَمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَہٌ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَہُ مِنَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَنَلْہَا بِعَمَلِہِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ فِی جَسَدِہِ ، أَوْ فِی مَالِہِ ، أَوْ فِی وَلَدِہِ ۔ زَادْ ابْنُ نُفَیْلٍ : ثُمَّ صَبَرَ عَلَی ذَلِکَ ۔ ثُمَّ اتَّفَقَا : حَتَّی یُبْلِغَہُ الْمَنْزِلَۃَ الَّتِی سَبَقَتْ لَہُ مِنَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔

[صحیح لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٦) عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک بندہ جب عبادت کرتے ہوئے اچھے طریقے کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ بیمار ہو تو ” ملک موکل “ فرشتے کو کہا جاتا ہے : تو اس کے لیے ان اعمال کا اجرلکھ جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا اپنی طرف بلا لوں۔
(۶۵۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا کَانَ عَلَی طَرِیقَۃٍ حَسَنَۃٍ مِنَ الْعِبَادَۃِ ، ثُمَّ مَرِضَ قِیلَ لِلْمَلَکِ الْمُوَکَّلِ اکْتُبْ لَہُ مِثْلَ عَمَلِہِ إِذَا کَانَ طَلِقًا حَتَّی أُطْلِقَہُ أَوْ أُکْفِتَہُ إِلَیَّ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٧) ابو بردہ کہتے ہیں : میں نے ابو موسیٰ سے کئی مرتبہ سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر پر ہوتا ہے تو اس کیلئے اس کا اجر ایسا ہی لکھا جاتا ہے جیسے اعمال وہ مقیم ہوتے ہوئے کرتا ہے یا تندرست ہوتے ہوئے۔
(۶۵۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنِی أَبُو إِسْمَاعِیلَ : إِبْرَاہِیمُ السَّکْسَکِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَۃَ بْنَ أَبِی مُوسَی وَاصْطَحَبَ ہُوَ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی کَبْشَۃَ فِی سَفَرٍ فَکَانَ یَزِیدُ یَصُومُ فَقَالَ لَہُ أَبُو بُرْدَۃَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی مِرَارًا یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ کُتِبَ لَہُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ مَا کَانَ یَعْمَلُ مُقِیمًا صَحِیحًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٨) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : جب میں مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں ، پھر وہ مجھ سے شکایت نہیں کرتا آزمائش کے ختم کرنے کی کہ میں اسے ٹھیک کر دوں ۔ میں اسے اس کے غم سے آزاد کردیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو بہتر خون میں بدل دیتا ہوں تو پھر وہ نئے سرے سے اعمال صالحہ شروع کردیتا ہے۔
(۶۵۴۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِی الْمُؤْمِنَ فَلَمْ یَشْکُنِی إِلَی عُوَّادِہِ أَطْلَقْتُہُ مِنْ إِسَارِی ثُمَّ أَبْدَلْتُہُ لَحْمًا خَیْرًا مِنْ لَحْمِہِ وَدَمًا خَیْرًا مِنْ دَمِہِ ، ثُمَّ یَسْتَأْنِفُ الْعَمَلَ))۔

وَرَوَاہُ أَبُو صَخْرٍ : حُمَیْدُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٤٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں جب وہ اپنی خلاصی کی شکایت نہیں کرتا تو میں اس کی گرہ کھول دیتا ہوں اور اس کے خون کو اچھے خون میں بدل دیتا ہوں اور اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں، پھر میں اسے کہتا ہوں : اب خوب اعمال کر۔
(۶۵۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَیَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُ حَدَّثَنَا بَحْرٌ ہُوَ ابْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی أَبُو صَخْرٍ : حُمَیْدُ بْنُ زِیَادٍ أَنَّ سَعِیدًا الْمَقْبُرِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : أَبْتَلِی عَبْدِی الْمُؤْمِنَ فَإِذَا لَمْ یَشْکُ إِلَی عُوَّادِہِ ذَلِکَ حَلَلْتُ عَنْہُ عِقْدِی وَأَبْدَلْتُہُ دَمًا خَیْرًا مِنْ دَمِہِ وَلَحْمًا خَیْرًا مِنْ لَحْمِہِ ثُمَّ قُلْتُ لَہُ : ائْتَنِفِ الْعَمَلَ۔ [منکر۔ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥٠) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بخار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اجازت چاہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کون ہے ؟ تو اس نے کہا : میں بخار ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اہل قباء کو جانتا ہے ؟ تو اس نے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ان کی طرف جا تو وہ ان کی طرف چلا گیا ۔ انھوں نے اس کی سختی کو محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم سے اسے دور کر دے گا۔ اگر چاہو تو وہ تمہارے لیے طہور اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گا تو انھوں نے کہا : بلکہ کفارہ اور پاکیزگی کا باعث اچھا ہے۔
(۶۵۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَائَ تِ الْحُمَّی تَسْتَأْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : مَنْ أَنْتِ؟ ۔ قَالَتِ : الْحُمَّی قَالَ : ((أَتَعْرِفِینَ أَہْلَ قُبَائَ؟))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : اذْہَبِی إِلَیْہِمْ ۔ فَذَہَبَتْ إِلَیْہِمْ فَلَقُوا مِنْہَا شِدَّۃً فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّہَ فَکَشَفَہَا عَنْکُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ کَانَتْ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا ۔ فَقَالَ : بَلْ تَکُونُ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا؟))۔ [منکر۔ ابن حبان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥١) ام طارق سعد کی باندی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ۔۔۔ اور دوسرے کلام کے معنی کا ذکر کیا جو ان کی شکایت کے متعلق تھا، وہ اعمش سے بیان کرتے ہیں اور وہ ابو سفیان سے۔
(۶۵۵۱) وَرَوَاہُ یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَ الْکَلاَمَ الأَوَّلَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلاَۃِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَذَکَرَ مَعْنَی الْکَلاَمِ الثَّانِی فِی شِکَایَتِہِمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ

أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَعْلَی فَذَکَرَہُ۔ [منکر۔ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥٢) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب میں بندے کو آزماتا ہوں اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں ) سے پھر وہ صبر کرتا ہے تو اس کے عوض میں اسے جنت عطا کروں گا ۔
(۶۵۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَبِی وَشُعَیْبٌ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: قَالَ ((اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ:إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِی بِحَبِیبَتَیْہِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہُمَا الْجَنَّۃَ))۔یُرِیدُ عَیْنَیْہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥٣) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صحت و تندرستی والے قیامت کے دن پسند کریں گے کہ ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا اس وجہ سے جو وہ اہل مصائب کے اجر کو دیکھیں گے۔
(۶۵۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُہَیْرٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِغْرَائَ الدَّوْسِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَوَدُّ أَہْلُ الْعَافِیَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَّ جُلُودَہُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِیضِ مِمَّا یَرَوْنَ مِنْ ثَوَابِ أَہْلِ الْبَلاَئِ))۔ [ضعیف۔ ترمذی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥٤) حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کے لیے ہر حالت میں بہتری ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی ایک کے لیے بھی نہیں۔ اگر اسے بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ اس کے لیے اس کے عوض اجر ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کے لیے اجر ہے۔ غرض مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ بہتر ہے۔
(۶۵۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْمُؤْمِنُ کُلٌّ لَہُ فِیہِ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَہُ سَرَّائُ فَشَکَرَ اللَّہَ فَلَہُ أَجْرٌ ، وَإِنْ أَصَابَہُ ضَرَّائُ فَصَبْرَ فَلَہُ أَجْرٌ فَکُلُّ قَضَائِ اللَّہِ لِلْمُسْلِمِ خَیْرٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلم کو لائق ہے کہ اسے جو بھی بیماری ‘ بھوک اور غم و مصائب ملے تو وہ صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ اس میں اس کیلئے کفارات و درجات ہیں
(٦٥٥٥) حضرت سعد بن ابی وقاص اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں مومن پر تعجب کرتا ہوں کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد بجا لاتا ہے۔ اگر اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ سو مومن ہر حالت میں اجر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس لقمے میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔
(۶۵۵۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَہُ خَیْرٌ حَمِدَ اللَّہَ وَشَکَرَ ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ مُصِیبَۃٌ حَمِدَ اللَّہَ وَصَبَرَ ، فَالْمُؤْمِنُ یُؤْجَرُ فِی کُلِّ أَمْرِہِ حَتَّی یُؤْجَرَ فِی اللُّقْمَۃِ یَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِہِ))۔ وَفِی ہَذَا أَخْبَارٌ کَثِیرَۃٌ وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ لِمَنْ أُیِّدَ بِالتَّوْفِیقِ۔ [حسن۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی علاقے میں وباآ جائے تو آدمی فرار کی نیت سے وہاں سے نہ نکلے ، اسے چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے اور اگر کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو بندہ وہاں نہ جائے
(٦٥٥٦) عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی علاقے میں وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار کی نیت سے نہ نکلوتو عمر (رض) (سرغ) سے پلٹ آئے۔ ابن شھاب سالم بن عبداللہ سے اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) لوگوں کے ساتھ پلٹ آئے ۔ عبد الرحمن بن عوف ک حدیث کی وجہ سے۔
(۶۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ وَعَلِیُّ بْنُ عِیسَی قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا جَائَ سَرْغَ بَلَغَہُ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَیْہِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ))۔ فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ۔

قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی علاقے میں وباآ جائے تو آدمی فرار کی نیت سے وہاں سے نہ نکلے ، اسے چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے اور اگر کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو بندہ وہاں نہ جائے
(٦٥٥٧) حضرت سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی ہے تو اس میں داخل نہ ہونا اور جب ایسے علاقے میں طاعون کی وبا پھیلے جہاں پہلے سے تم موجود ہو تو پھر وہاں سے مت نکلو۔
(۶۵۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ یُحَدِّثُ سَعْدًا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوہَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْہَا))۔ فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَہُ یُحَدِّثُ بِہِ سَعْدًا وَلاَ یُنْکِرُہُ قَالَ نَعَمْ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی علاقے میں وباآ جائے تو آدمی فرار کی نیت سے وہاں سے نہ نکلے ، اسے چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے اور اگر کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو بندہ وہاں نہ جائے
(٦٥٥٨) حضرت شعبہ (رض) متن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں : یہ طاعون بقیہ عذل ہے، ان اقوام کا جن کو عذاب دیا گیا۔ جب کسی علاقے میں پھیلے تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسے علاقے میں ہو جہاں تم پہلے موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو فرار کرتے ہوئے اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیلے اور تم وہاں موجود نہیں تو اس میں داخل نہ ہوا کرو۔
(۶۵۵۸) وَرَوَاہُ وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ فِی مَتْنِہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((ہَذَا الطَّاعُونُ بَقِیَّۃُ رِجْزٍ وَعَذَابٍ عُذِّبَ بِہِ قَوْمٌ ، فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلاَ تَہْبِطُوا عَلَیْہِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلاَ تَخْرُجُوا عَنْہُ))۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی علاقے میں وباآ جائے تو آدمی فرار کی نیت سے وہاں سے نہ نکلے ، اسے چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے اور اگر کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو بندہ وہاں نہ جائے
(٦٥٥٩) اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ طاعون عذاب ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جو اقوام پر عذاب نازل ہوا۔ جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو فرار اختیار کرتے ہوئے اور جب واقع ہو اس زمین میں جہاں تم نہیں تھے تو پھر اس میں داخل نہ ہو۔
(۶۵۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ وَخُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ قَالُوا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ ہَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَبَقِیَّۃُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِہِ قَوْمٌ فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ فِیہَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْہَا فِرَارًا مِنْہُ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِہَا فَلاَ تَدْخُلُوہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی علاقے میں وباآ جائے تو آدمی فرار کی نیت سے وہاں سے نہ نکلے ، اسے چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے اور اگر کسی علاقے میں وبا پھیلی ہے تو بندہ وہاں نہ جائے
(٦٥٦٠) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک یہ عذاب ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے مگر اہل ایمان کیلئے اسے رحمت بناتا ہے۔ نہیں ہے کوئی بندہ جو اسی زمین میں ٹھہرا رہا جہاں طاعون واقع ہوا وہ صرف ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رکا رہا اور وہ جانتا ہے ہرگز اسے نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے لکھ دیا تو اس کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔
(۶۵۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاہِلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَتْ حَدَّثَنِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنَّہُ عَذَابٌ یَبْعَثُہُ اللَّہُ عَلَی مَنْ یَشَائُ فَجَعَلَہُ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِینَ فَلَیْسَ عَبْدٌ یَقَعُ الطَّاعُونُ فَیُقِیمُ بِبَلَدِہِ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَنْ یُصِیبَہُ إِلاَّ مَا کَتَبَ اللَّہُ لَہُ إِلاَّ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ شَہِیدٍ))۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْفُرَاتِ۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض بخار کو گالی نہ دے اور نہ ہی کسی تکلیف کے آنے پر موت کی خواہش کرے مگر چاہیے کہ وہ صبر کرے اور ثواب کی نیت رکھے
(٦٥٦١) جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سائب یا ام مسیب کے پاس داخل ہوئے اور وہ کانپ رہی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ہے اے ام سائب یا (ام مسیب) ؟ تو وہ کہنے لگی : یہ بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ کرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخار کو گالی نہ دے ، بیشک وہ بنی آدم کی خطاؤں کو مٹاتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو ختم کرتی ہے۔
(۶۵۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَیَّبِ وَہِیَ تُزَفْزِفُ فَقَالَ : ((مَا لَکِ یَا أُمَّ السَّائِبِ ۔ أَوْ : یَا أُمَّ الْمُسَیَّبِ؟)) قَالَتِ : الْحُمَّی لاَ بَارَکَ اللَّہُ فِیہَا۔ فَقَالَ : ((لاَ تَسُبِّی الْحُمَّی فَإِنَّہَا تُذْہِبُ خَطَایَا بَنِی آدَمَ کَمَا یُذْہِبُ الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْقَوَارِیرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض بخار کو گالی نہ دے اور نہ ہی کسی تکلیف کے آنے پر موت کی خواہش کرے مگر چاہیے کہ وہ صبر کرے اور ثواب کی نیت رکھے
(٦٥٦٢) قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں : ہم خباب (رض) کی عیادت کیلئے آئے اور انھوں نے جسم لوہے کے ساتھ داغ رکھا تھا۔ انھوں نے کہا : بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اسلام لائے اور چلے گئے مگر مال نے ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ کی اور ہم نے مال پایا مگر تصرف کیلئے مٹی کے بغیر کوئی جگہ نہ ملی ۔ پھر ہم ان کے پاس دوسری مرتبہ آئے ان کی تیمار داری کیلئے اور وہ دیوار بنا رہے تھے تو انھوں نے کہا : بیشک مسلمان ہر اس چیز میں اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے مگر اس میں نہیں جسے مٹی میں ملاتا ہے اور اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
(۶۵۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ بِالأَہْوَازِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی خَبَّابٍ نَعُودُہُ وَقَدِ اکْتَوَی سَبْعَ کَیَّاتٍ فَقَالَ : إِن أَصْحَابَ نَبِیِّنَا -ﷺ- الَّذِینَ أَسْلَمُوا مَضَوْا وَلَمْ یَنْقُصْہُمْ أَمْوَالٌ ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَالاً لَمْ نَجِدْ لَہُ مَوْضِعًا إِلاَّ التُّرَابَ ، ثُمَّ أَتَیْنَاہُ مَرَّۃً أُخْرَی نَعُودُہُ وَہْوَ یَبْنِی حَائِطًا لَہُ فَقَالَ : ((إِن الْمُسْلِمَ یُؤْجَرُ فِی کُلِّ شَیْئٍ یُنْفِقُہُ إِلاَّ فِی شَیْئٍ یَجْعَلُہُ فِی التُّرَابِ)) وَلَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مریض بخار کو گالی نہ دے اور نہ ہی کسی تکلیف کے آنے پر موت کی خواہش کرے مگر چاہیے کہ وہ صبر کرے اور ثواب کی نیت رکھے
(٦٥٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا : نہ ہی آپ کو اے اللہ کے رسول ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور نہ ہی مجھ کو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں چھپالے “ ۔ سو تم سیدھے رہو اور قریب قریب رہو اور کوئی تم میں سے موت کی خواہش نہ کرے ۔ اگر وہ نیکی کرنے والا ہے تو شاید اس کی نیکی میں اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو شاید توبہ کرلے۔
(۶۵۶۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَبُو عُبَیْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لَنْ یُدْخِلَ أَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہُ))۔ قَالُوا : وَلاَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ یَتَغَمَّدَنِی اللَّہُ مِنْہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَۃٍ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ۔یَتَمَنَّی أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہُ أَنْ یَزْدَادَ ، وَإِمَّا مُسِیئًا فَلَعَلَّہُ أَنْ یَسْتَعْتِبَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক: