আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৯০৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ امام کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور نمازیوں کی کثرت سے میت کی بخشش ہونے کی امید کا بیان
(٦٩٠٤) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنا کہ جب کوئی مسلمان جب فوت ہوتا ہے اور اس کے جنازے میں چالیس افراد شامل ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تو ان کی سفارش قبول کرلی جاتی۔
(۶۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّکُونِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو صَخْرٍ عَنْ شَرِیکِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوتُ فَیَقُومُ عَلَی جَنَازَتِہِ أَرْبَعُونَ رَجُلاً لاَ یُشْرِکُونَ بِاللَّہِ شَیْئًا إِلاَّ شُفِّعُوا فِیہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٍ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ ، وَالْوَلِیدِ بْنِ شُجَاعٍ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٍ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ ، وَالْوَلِیدِ بْنِ شُجَاعٍ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ امام کے نمازِ جنازہ پڑھانے اور نمازیوں کی کثرت سے میت کی بخشش ہونے کی امید کا بیان
(٦٩٠٥) مالک بن ہبیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کی نماز جنازہ مسلمانوں کی تین صفوں میں کھڑے ہونے والے پڑھتے ہیں اور اس کے لیے توبہ و استغفار کرتے ہیں تو اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے۔
(۶۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُوالأَزْہَرِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا صَلَّی ثَلاَثَۃُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَسْتَغْفِرُونَ لَہُ إِلاَّ أَوْجَبَ))۔ فَکَانَ مَالِکٌ إِذَا صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ یَعْنِی فَتَقَالَّ أَہْلَہَا صَفَّہُمْ صُفُوفًا ثَلاَثَۃً ثُمَّ یُصَلِّی عَلَیْہَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ وَفِی رِوَایَۃِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ : إِلاَّ غُفِرَ لَہُ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُوالأَزْہَرِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا صَلَّی ثَلاَثَۃُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَسْتَغْفِرُونَ لَہُ إِلاَّ أَوْجَبَ))۔ فَکَانَ مَالِکٌ إِذَا صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ یَعْنِی فَتَقَالَّ أَہْلَہَا صَفَّہُمْ صُفُوفًا ثَلاَثَۃً ثُمَّ یُصَلِّی عَلَیْہَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ وَفِی رِوَایَۃِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ : إِلاَّ غُفِرَ لَہُ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس جماعت کا بیان جو جنازہ علیحدہ علیحدہ جنازہ پڑھتے ہیں
(٦٩٠٦) سالم بن عبید جو اصحابِ صفہ میں سے تھے ، بیان فرماتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو ابوبکر (رض) کے پاس تشریف لائے پھر نکلے تو کہا گیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں تو انھوں نے کہا : ہاں تو سب نے یقین کرلیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں پھر کہا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ کیسے پڑھائیں گے ؟ انھوں نے کہا : تھوڑے تھوڑے لوگ داخل ہوں گے اور درود پڑھیں گے اور لوگوں نے وہی جانا جو صدیق نے کہا، پھر انھوں نے پوچھا : کیا دفن کیا جائے گا اور کب دفن کیا جائے گا ؟ تو صدیق نے فرمایا : اللہ نے جہاں ان کی روح قبض کی، اسی مکان میں دفن کیا جائے گا اور اللہ روح کو پاکیزہ جگہ میں ہی نکالتے تو لوگوں نے جان لیا کہ بات ایسے ہی ہے جیسے وہ فرما رہے ہیں۔
(۶۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ عَنْ أَبِیہِ نُبَیْطِ بْنِ شَرِیطٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَیْدٍ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّۃِ قَالَ: دَخَلَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ مَاتَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقِیلَ لَہُ : تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ : نَعَمْ۔ فَعَلِمُوا أَنَّہُ کَمَا قَالَ قِیلَ: وَیُصَلَّی عَلَیْہِ؟ وَکَیْفَ یُصَلَّی عَلَیْہِ؟ قَالَ: یَجِیئُونَ عُصَبًا عُصَبًا فَیُصَلُّونَ۔ فَعَلِمُوا أَنَّہُ کَمَا قَالَ فَقَالُوا: ہَلْ یُدْفَنُ؟ وَأَیْنَ؟ فَقَالَ: حَیْثُ قَبَضَ اللَّہُ رُوحَہُ وَإِنَّہُ لَمْ یَقْبِضِ رُوحَہُ إِلاَّ فِی مَکَانٍ طَیِّبٍ فَعَلِمُوا أَنَّہُ کَمَا قَالَ۔[حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس جماعت کا بیان جو جنازہ علیحدہ علیحدہ جنازہ پڑھتے ہیں
(٦٩٠٧) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ کے لیے دعا کی گئی تو لوگ تھوڑے تھوڑے داخل ہوتے اور بغیر امام کے اکیلے دعا کرتے ، یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے۔ پھر عورتیں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا، پھر بچے داخل ہوئے اور انھوں نے درود پڑھا، پھر غلام داخل ہوئے اور انھوں نے بھی درود پڑھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جنازے کی کسی نے امامت نہ کروائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کی بات تھی میرے ماں والد آپ پر فدا ہوں اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بار بار درود پڑھا گیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کی بات تھی میرے ماں والد آپ پر فدا ہوں اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بار بار درود پڑھا گیا۔
(۶۹۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا صُلِّیَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أُدْخِلَ الرِّجَالُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ بِغَیْرِ إِمَامٍ أَرْسَالاً حَتَّی فَرَغُوا ، ثُمَّ أُدْخِلَ النِّسَائُ فَصَلَّیْنَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الصِّبْیَانُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْعَبِیدُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ أَرْسَالاً لَمْ یَؤُمَّہُمْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحَدٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ لِعَظَمِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی وَتَنَافُسِہِمْ فِی أَنْ لاَ یَتَوَّلَی الإِمَامَۃَ فِی الصَّلاَۃ عَلَیْہِ وَاحِدٌ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ لِعَظَمِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی وَتَنَافُسِہِمْ فِی أَنْ لاَ یَتَوَّلَی الإِمَامَۃَ فِی الصَّلاَۃ عَلَیْہِ وَاحِدٌ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جنازے میں کم سے کم کتنی تعداد کافی ہے
(٦٩٠٨) اسحاق بن عبداللہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمیر بن طلحہ کے لیے بلایاجب وہ فوت ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور ان کے گھر ہی میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے کھڑے ہوئے اور ابو طلحہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھے اور ام سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں اور ان کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا۔
(۶۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُہَاجِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطَاہِرٍ وَہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ دَعَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عُمَیْرِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ حِینَ تُوُفِّیَ فَأَتَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی عَلَیْہِ فِی مَنْزِلِہِمْ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ وَرَائَ ہُ وَأُمُّ سُلَیْمٍ وَرَائَ أَبِی طَلْحَۃَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ غَیْرُہُمُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم]
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক: