আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৮২৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اہل بغاوت کی تلوار سے قتل ہونے والے کا حکم
(٦٨٢٤) عیزار بن حریث بیان کرتے ہیں کہ زید بن صوحان نے کہا : میرا خون نہ دھونا اور موزوں کے سوا میرا لباس نہ اتارنا اور مجھے زمین میں دفن کردینا ۔ بیشک میں لڑائی کرنے والا ہوں۔
(۶۸۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ وَقَبِیصَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مِخْوَلٍ عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ قَالَ زَیْدُ بْنُ صُوحَانَ : لاَ تَغْسِلُوا عَنِّی دَمًا ، وَلاَ تَنْزِعُوا عَنِّی ثَوْبًا إِلاَّ الْخُفَّیْنِ ، وَارْمِسُونِی فِی الأَرْضِ رَمْسًا فَإِنِّی رَجُلٌ مُحَاجٌّ۔ زَادَ أَبُو نُعَیْمٍ : أُحَاجُّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَذَا قَالَ عَمَّارٌ وَزَیْدُ بْنُ صُوحَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اہل بغاوت کی تلوار سے قتل ہونے والے کا حکم
(٦٨٢٥) شعبی بیان کرتے ہیں کہ بیشک علی (رض) نے عمار بن یاسر اور ہاشم بن عتبہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ عمار کو اپنے پاس رکھا اور ہاشم کو اس سے آگے ۔ سو جب قبر میں اتارا تو پہلے عمار اور پھر ہاشم کو اتارا جو اس کے پاس تھا۔
(۶۸۲۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ أَشْعَثَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُمْ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ عَلِیًّا صَلَّی عَلَی عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ وَہَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ ، فَجَعَلَ عَمَّارًا مِمَّا یَلِیہِ وَہَاشِمًا أَمَامَہُ فَلَمَّا أَدْخَلَہُ الْقَبْرَ جَعَلَ عَمَّارًا أَمَامَہُ وَہَاشِمًا مِمَّا یَلِیہِ۔ [ضعیف۔ الطبرانی فی الکبیر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مقتول کے کچھ اعضاء کے دھونے کس بیان جب وہ مقتول حالت میں ملے کافروں کے ساتھ لڑائی کے بغیر اور اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
(٦٨٢٦) خالد بن معران بیان کرتے ہیں : ابو عبیدہ بن جراح نے کچھ لوگوں کی نماز جنازہ ادا کی۔
امام شافعی (رح) کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک پرندے نے ایک ہاتھ کو ہوا میں پھینکا جنگ جمل کے موقع پر تو لوگوں نے اس کی انگوٹھی سے اسے پہچانا تو اسے غسل دیا اور جنازہ پڑھا۔
امام شافعی (رح) کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک پرندے نے ایک ہاتھ کو ہوا میں پھینکا جنگ جمل کے موقع پر تو لوگوں نے اس کی انگوٹھی سے اسے پہچانا تو اسے غسل دیا اور جنازہ پڑھا۔
(۶۸۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ صَلَّی عَلَی رُئُ وسٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَبَلَغَنَا أَنَّ طَائِرًا أَلْقَی یَدًا بِمَکَّۃَ فِی وَقْعَۃِ الْجَمَلِ فَعَرَفُوہَا بِالْخَاتَمِ فَغَسَّلُوہَا وَصَلَّوْا عَلَیْہَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَبَلَغَنَا أَنَّ طَائِرًا أَلْقَی یَدًا بِمَکَّۃَ فِی وَقْعَۃِ الْجَمَلِ فَعَرَفُوہَا بِالْخَاتَمِ فَغَسَّلُوہَا وَصَلَّوْا عَلَیْہَا۔
[ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر قوم کو سیلاب ، مکانوں کا گرنا یا جلانے کا عذاب پہنچا اور ان میں مشرک بھی ہوں تو اس صورت میں ان کی نماز جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کی نماز جنازہ کی نیت کرنا ان پر قیاس کرتے ہوئے جو اسلام پر ثابت قدم تھے
(٦٨٢٧) اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گدھے پر سوار ہوئے قطیفہ فدکید کی طرف اور ان کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سعد بن عبادہ کی تیمار داری کیلئے گئے واقعہ بدر سے قبل تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس سے گزرے ، جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بیٹھا تھا ۔ یہ بات اس کے اسلام لانے سے پہلے کی ہے جبکہ اس مجلس میں مسلمان اور مشرک ملے جلے تھے اور بتوں کی پوجا کرنے والے اور یہودی بھی تھے اور اس میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب انھیں گدھے کے اڑائے ہوئے غبار نے ڈھانپا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا ۔ پھر اس نے کہا : ہم پر گردو غبار نہ اڑاؤ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا اور رک گئے۔ اپنی سواری سے اترے اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دی اور قرآن کریم کی تلاوت کی اور پوری حدیث بیان کی۔
(۶۸۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَکِبَ عَلَی حِمَارٍ عَلَی إِکَافٍ عَلَی قَطِیفَۃٍ فَدَکِیَّۃٍ فَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ وَرَائَ ہُ یَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ قَبْلَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ فَسَارَ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیِّ ابْنِ سَلُولَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُسْلِمَ عَبْدُ اللَّہِ ، فَإِذَا فِی الْمَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الأَوْثَانِ وَالْیَہُودِ ، وَفِی الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَلَمَّا غَشِیَتْہُمْ عَجَاجَۃُ الدَّابَّۃِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ أَنْفَہُ بِرِدَائِہِ ، ثُمَّ قَالَ : لاَ تُغَبِّرُوا عَلَیْنَا فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْہِمْ وَوَقَفَ۔ فَنَزَلَ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَرَأَ عَلَیْہِمُ الْقُرْآنَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اگر قوم کو سیلاب ، مکانوں کا گرنا یا جلانے کا عذاب پہنچا اور ان میں مشرک بھی ہوں تو اس صورت میں ان کی نماز جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کی نماز جنازہ کی نیت کرنا ان پر قیاس کرتے ہوئے جو اسلام پر ثابت قدم تھے
(٦٨٢٨) اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس کے پاس سے گزرے ، جس میں مسلم ‘ مشرک ‘ یہودی اور بتوں کی پوجا کرنے والے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کہا۔
(۶۸۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِیہِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْیَہُودِ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الأَوْثَانِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جن کو حدود کے ساتھ قتل کیا گیا ان کے جنازے کا بیان
(٦٨٢٩) عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سر پر پرستوں کو اس سے حسن سلوک کا حکم دیا اور فرمایا : جب وہ وضع حمل کرلے تو اسے میرے پاس لاؤ تو انھوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کے کپڑوں کو اس پر باندھ دیا گیا ۔ پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ رجم کردی گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جنازہ پڑھا تو عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھیں گے ، اس نے زنا کیا ہے ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ پر تقسیم کردیا جائے تو وہ ان پر وافر ہوجائے ۔ کیا تو نے کوئی چیز اس سے بہتر پائی ہے ، یعنی توبہ میں اس نے اپنی جان قربان کردی ہے۔
(۶۸۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ أَبَا قِلاَبَۃَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَہِیَ حُبْلَی مِنَ الزِّنَا فَأَمَرَ -ﷺ- وَلِیَّہَا أَنْ یُحْسِنَ إِلَیْہَا ، ((فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَأْتِنِی بِہَا)) فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَا فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُصَلِّی عَلَیْہَا وَقَدْ زَنَتْ۔ فَقَالَ : ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ ، وَہَلْ وَجَدَتْ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جن کو حدود کے ساتھ قتل کیا گیا ان کے جنازے کا بیان
(٦٨٣٠) عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں۔ اس غامدیہ کے قصے میں جسے زنا کی حد میں رجم کیا گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کونا جائز ٹیکس لینے والوں پر تقسیم کیا جاتا تو انھیں بھی معاف کردیا جاتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اس کا جنازہ پڑھا گیا اور دفن کردیا گیا۔
(۶۸۳۰) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فِی قِصَّۃِ الْغَامِدِیَّۃِ الَّتِی رُجِمَتْ فِی الزِّنَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ))۔ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ بَشِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ بَشِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جن کو حدود کے ساتھ قتل کیا گیا ان کے جنازے کا بیان
(٦٨٣١) ابو بردہ بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک کی نماز جنازہ ادا نہ کی اور نہ ہی ادا کرنے سے منع کیا اور ہمیں علی بن طالب سے یہ بیان کیا گیا کہ جب انھوں نے شراحہ ہمدانیہ کو رجم کیا تو کہا : تم اس کے ساتھ وہی کچھ کرو جو اپنے فوت ہونے والوں کے ساتھ کرتے ہو۔
(۶۸۳۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ عَنْ أَبِی بُرْزَۃَ قَالَ : لَمْ یُصَلِّ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ ، وَلَمْ یَنْہَ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ لَمَّا رَجَمَ شُرَاحَۃَ الْہَمَدَانِیَّۃِ قَالَ : افْعَلُوا بِہَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاکُمْ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسے شخص کی نماز جنازہ جس نے اپنے کو ایسے طریقے سے قتل کیا جو جائز نہیں تھا
(٦٨٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نماز پڑھو ہر نیک اور بدکے پیچھے اور ہر بد اور نیک کا جنازہ ادا کرو اور ہر نیک وبد کے ساتھ جہاد کرو۔
شیخ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بارے میں کہ ہر نیک وفاجر کی نماز جنازہ ہے اور ہر اس شخص کی جس نے کہا : ” لا الہ الا اللہ “۔
شیخ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بارے میں کہ ہر نیک وفاجر کی نماز جنازہ ہے اور ہر اس شخص کی جس نے کہا : ” لا الہ الا اللہ “۔
(۶۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صَلُّوا خَلْفَ کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَصَلُّوا عَلَی کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَجَاہِدُوا مَعَ کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ))۔
قَالَ عَلِیٌّ : مَکْحُولٌ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَنْ دُونَہُ ثِقَاتٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِیَ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلاَۃِ عَلَی مَنْ قَالَ ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ)) أَحَادِیثُ کُلُّہَا ضَعِیفَۃٌ غَایَۃَ الضَّعْفِ وَأَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ حَدِیثُ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَدْ أَخْرَجَہُ أَبُودَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ إِرْسَالاً کَمَا ذَکَرَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی
[ضعیف۔ معنی تخریجہ بالجزء الفط]
قَالَ عَلِیٌّ : مَکْحُولٌ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَنْ دُونَہُ ثِقَاتٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِیَ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلاَۃِ عَلَی مَنْ قَالَ ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ)) أَحَادِیثُ کُلُّہَا ضَعِیفَۃٌ غَایَۃَ الضَّعْفِ وَأَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ حَدِیثُ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَدْ أَخْرَجَہُ أَبُودَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ إِرْسَالاً کَمَا ذَکَرَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی
[ضعیف۔ معنی تخریجہ بالجزء الفط]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسے شخص کی نماز جنازہ جس نے اپنے کو ایسے طریقے سے قتل کیا جو جائز نہیں تھا
(٦٨٣٣) حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایسے شخص کو لایا گیا جس نے اپنے کو قتل کیا تیر کے ساتھ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنازہ نہ پڑھا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہوگیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : وہ شخص (مریض) فوت ہوگیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ فوت نہیں ہوا۔ پھر وہ آدمی چلا تاکہ وہ دیکھے۔ تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبحہ کرلیا ہے۔ پھر وہ چلا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دے کہ وہ فوت ہوچکا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیسے علم ہوا تو اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہوگیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : وہ شخص (مریض) فوت ہوگیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ فوت نہیں ہوا۔ پھر وہ آدمی چلا تاکہ وہ دیکھے۔ تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبحہ کرلیا ہے۔ پھر وہ چلا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دے کہ وہ فوت ہوچکا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیسے علم ہوا تو اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
(۶۸۳۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔
ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ۔
وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ قَالَ : مَرِضَ رَجُلٌ فَصِیحَ عَلَیْہِ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّہُ مَاتَ قَالَ: ((مَا یُدْرِیکَ؟)) قَالَ : إِنَّہُ صِیحَ عَلَیْہِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ : ((إِنَّہُ لَمْ یَمُتْ))۔ ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآَہُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ فَانْطَلَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ مَاتَ فَقَالَ : ((مَا یُدْرِیکَ؟))۔ قَالَ : رَأَیْتُہُ نَحَرَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ قَالَ : ((إِذًَا لاَ أُصَلِّی عَلَیْہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ مُخْتَصَرًا۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیِّ : أَنَّہُ -ﷺ- إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لِیُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْکِ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ فَلاَ یَرْتَکِبُوا کَمَا ارْتَکَبَ۔ [صحیح۔ المسلم]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔
ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ۔
وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ قَالَ : مَرِضَ رَجُلٌ فَصِیحَ عَلَیْہِ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّہُ مَاتَ قَالَ: ((مَا یُدْرِیکَ؟)) قَالَ : إِنَّہُ صِیحَ عَلَیْہِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ : ((إِنَّہُ لَمْ یَمُتْ))۔ ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآَہُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ فَانْطَلَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ مَاتَ فَقَالَ : ((مَا یُدْرِیکَ؟))۔ قَالَ : رَأَیْتُہُ نَحَرَ نَفْسَہُ بِمَشَاقِصَ قَالَ : ((إِذًَا لاَ أُصَلِّی عَلَیْہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ مُخْتَصَرًا۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیِّ : أَنَّہُ -ﷺ- إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لِیُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْکِ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ فَلاَ یَرْتَکِبُوا کَمَا ارْتَکَبَ۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چاروں اطراف میں گھوما
(٦٨٣٤) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی جنازے کے پیچھے جائے تو اسے چاہیے کہ وہ چارپائی کی چاروں اطراف کو پکڑے ۔ پھر اس کے بعد اضافی نیکی کے طورپر کرے یا چھوڑ دے۔ بیشک یہ سنت ہے۔
(۶۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذَا اتَبِعَ أَحَدُکُمُ الْجَنَازَۃَ فَلْیَأْخُذْ بِجِوَانِبِ السَّرِیرِ الأَرْبَعَۃِ ، ثُمَّ لْیَتَطَوَّعْ بَعْدُ أَوْ لیَذَرْ فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الطیالسی]
[ضعیف۔ أخرجہ الطیالسی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٣٥) ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص کو عبد الرحمن بن عوف کے جنازے میں دیکھا کہ وہ سامنے والے دونوں بانسوں کے درمیان کھڑے تھے اور چارپائی کو اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔
(۶۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ فِی جَنَازَۃِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَائِمًا بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْمُقَدَّمَیْنِ وَاضِعًا السَّرِیرَ عَلَی کَاہِلِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَحَدِیثُ الْعَسْقَلاَنِیُّ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی فی الام]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ فِی جَنَازَۃِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَائِمًا بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْمُقَدَّمَیْنِ وَاضِعًا السَّرِیرَ عَلَی کَاہِلِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَحَدِیثُ الْعَسْقَلاَنِیُّ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی فی الام]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٣٦) عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں : میں نے عثمان بن عفان کو دیکھا، وہ اٹھائے ہوئے تھے اپنی ماں کی چار پائی کے بانسوں کو اور وہ اس سے جدا نہ ہوئے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا۔
(۶۸۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَمِّہِ عِیسَی بْنُ طَلْحَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَحْمِلُ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ أُمَّہِ فَلَمْ یُفَارِقْہُ حَتَّی وَضَعَہُ۔
[ضعیف جداً۔ أخرجہ الشافعی]
[ضعیف جداً۔ أخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٣٧) یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو ایک جنازے میں دیکھا کہ وہ اٹھائے ہوئے کھڑے تھے دونوں بانسوں کو۔
(۶۸۳۷) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ : أَنَّہُ رَأَی ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی جَنَازَۃِ رَافِعٍ قَائِمًا بَیْنَ قَائِمَتَیِ السَّرِیرِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی فی مسندہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٣٨) عبداللہ بن ثابت اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو دیکھا ، وہ سعد بن ابی وقاص کی چارپائی کو اٹھائے ہوئے تھے دونوں بانسوں کے درمیان سے۔
(۶۸۳۸) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَحْمِلُ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৩৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٣٩) شرجیل بن ابی عون اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر (رض) کو دیکھا کہ وہ مسور بن محزمہ کی چارپائی کو اٹھائے ہوئے تھے دونوں بانسوں کے درمیان سے۔
(۶۸۳۹) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ أَبِی عَوْنٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَحْمِلُ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৪০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٤٠) ہارون قریشی کا غلام کہتا ہے : میں نے مطلب کو جابربن عبداللہ کی چارپائی کو اٹھائے دیکھا۔
(۶۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا ہَارُونُ مَوْلَی قُرَیْشٍ قَالَ : رَأَیْتُ الْمُطَّلِبِ بَیْنَ عَمُودَیْ سَرِیرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔
قَالَ یَعْقُوبُ : کَانَ عِنْدَنَا خَارِجَۃَ فَقَالَ ہِشَامٌ : جَابِرٌ۔ [ضعیف]
قَالَ یَعْقُوبُ : کَانَ عِنْدَنَا خَارِجَۃَ فَقَالَ ہِشَامٌ : جَابِرٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৪১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے جنازے کو اٹھایا اور چارپائی کو اپنے کندھے پر رکھا سامنے والے دونوں اطراف کے درمیان
(٦٨٤١) یوسف بن ماھک کہتے ہیں : میں حاضرہوا رافع بن خدیج کے جنازے میں اور ابن عمر اور ابن عباس اس میں تھے تو ابن عباس چلے حتیٰ کہ چار پائی کے سامنے والے بانسوں کو پکڑا اور اپنے کندھے پر رکھا اور چل دیے۔
(۶۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ قَالَ : شَہِدْتُ جَنَازَۃَ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ وَفِیہَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّی أَخَذَ بِمُقَدَّمِ السَّرِیرِ بَیْنَ الْقَائِمَتَیْنِ فَوَضَعَہُ عَلَی کَاہِلِہِ ثُمَّ مَشَی بِہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৪২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو ہاتھوں اور گردنوں پر اٹھانے کا بیان جب چارپائی یا تختہ میسر نہ ہو
(٦٨٤٢) ابو برزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوے میں تھے۔ جب آپ لڑائی سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا کسی کو گم پاتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم فلاں فلاں کو گم پاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن میں جلیب کو نہیں پاتا تو صحابہ نے انھیں سات آدمیوں کے پاس پایا جنہیں اس نے قتل کیا تھا۔ پھر انھوں نے اسے قتل کردیا۔ اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور فرمایا : اس نے سات کو قتل کیا۔ پھر انھوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ اس نے سات کو قتل کیا اور انھوں نے اسے قتل کردیا ۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی ۔ پھر انھوں نے اپنے بازؤں سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بازؤں کے علاوہ کوئی چارپائی نہیں تھی ۔ یہاں تک کہ اسے دفن کردیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : ان کے غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۶۸۴۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ فِی مَغْزًی لَہُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ قَالَ : ((ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟))۔ قَالُوا : نَفْقِدُ وَاللَّہِ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((انْظُرُوا ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟))۔ قَالُوا : نَفْقِدُ فُلاَنًا وَفُلاَنًا قَالَ : ((لَکِنِّی أَفْقِدُ جُلَیْبِیبًا))۔ فَوَجَدُوہُ عِنْدَ سَبْعَۃٍ قَدْ قَتَلَہُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوہُ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأُخْبِرَ فَانْتَہَی إِلَیْہِ فَقَالَ : ((قَتَلَ سَبْعَۃً ، ثُمَّ قَتَلُوہُ ، ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ ، قَتَلَ سَبْعَۃً وَقَتَلُوہُ ، ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ))۔ قَالَہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ بِذِرَاعَیْہِ ہَکَذَا فَبَسَطَہُمَا فَوُضِعَ عَلَی ذِرَاعَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی حُفِرَ لَہُ فَما کَانَ لَہُ سَرِیرٌ إِلاَّ ذِرَاعَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی دُفِنَ قَالَ وَمَا ذَکَرَ غُسْلاً۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِیطٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِیطٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮৪৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو ہاتھوں اور گردنوں پر اٹھانے کا بیان جب چارپائی یا تختہ میسر نہ ہو
(٦٨٤٣) محمد بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم کے جنازے کو اٹھایا گیا گھوڑے کی گردن پر۔
(۶۸۴۳) وَفِیمَا رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ : أَنَّ إِبْرَاہِیمَ ابْنَ النَّبِیِّ -ﷺ- حُمِلَتْ جَنَازَتُہُ عَلَی مِنْسَجِ فَرَسٍ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক: